ابنِ مریمؑ نے محمد ﷺ سے شکایت کی ہے


جڑانوالا اور اس کے گرد و نواح میں 20 کے قریب عیسائی گرجوں 100 سے زائد مسیحی گھروں اور درجنوں انجیل بائبل اور زبور کی کتب کو مجاہدین اسلام نے قاری یونس دامت برکاتہم کی قیادت میں آگ لگا کر مبینہ طور قرآن جلانے کے واقعے کا بدلہ آناً فاناً لے لیا ہے۔ یقین جانیں اگر قاری صاحب بروقت کارروائی نہ ڈالتے تو اسلام کا یہ قلعہ عالم اسلام کو قطعاً منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔

اپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ماسوائے دیگر عالم اسلام کے صرف پاکستان ہی تو اسلام کا قلعہ ہے اور یہاں کے سکہ بند مسلمان اس قلعے کی بنیادیں کس طرح سے کھوکھلی ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ صرف فتوے ہی تو ہیں جو یہاں خالص ملتے ہیں باقی تو ہر چیز میں ملاوٹ ہے۔ اور بھلا ہو پولیس و انتظامیہ کا جنہوں نے بت شکن محمود غزنوی اور اس کے غازیوں کو صلیب توڑنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔ اور ڈالتے بھی کیوں بالآخر وہ بھی تو مسلمان ہیں۔

سنتے ہیں کہ انتظامیہ نے قاری یونس سمیت سو کے قریب نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اب انتظامیہ کہتی ہے کہ دو روز قبل یعنی 14 اگست کو لہرائے گئے سبز ہلالی پرچم میں ڈنڈے کی سمت والا سفید حصہ اقلیتوں کا ہے اور آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں اس لیے مقدمہ درج کرنا مجبوری ہے۔ اب بھلا انتظامیہ کو کون سمجھائے کہ ملک میں دیگر کون سے کام آئین کے مطابق ہو رہے ہیں۔ آئین تو کاغذوں کا پلندا ہے جسے کسی بھی وقت پھاڑ کے پنجند اور ستلج برد کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اگر اقلیتیں پاکستان میں رہنا چاہتی ہیں تو انہیں بلا چون و چرا مسلمان ہونا پڑے گا۔ کیوں کہ وطن عزیز کا نام پاک ستان ہے جو پاک سے شروع ہوتا ہے اور یہاں صرف پاک لوگ ہی رہ سکتے ہیں۔ انتظامیہ کی اس کھلی بدمعاشی پر احتجاج تو بنتا ہے۔ اگر انتظامیہ اپنی رٹ قائم رکھنا چاہتی ہے اور آئندہ اس طرح کے واقعات روکنے کی خواہش مند ہے تو مسلمانان پاکستان کے متوقع مطالبات پورے کرے۔

پہلا مطالبہ
حضرت عیسی علیہ السلام کے پاکستان میں ظہور پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

دوسرا مطالبہ
پاک وطن میں مقیم عیسائی آبادی اپنے مذہبی وطن ویٹیکن سٹی کوچ کرے۔

تیسرا مطالبہ
اس ارض مقدس پر بسنے والے تمام ہندو فی الفور اپنے ابائی وطن ہندوستان کی راہ اختیار کریں۔

چوتھا مطالبہ
سکھ کمیونٹی گولڈن ٹیمپل کے آس پاس اپنی آباد کاری کریں۔
پانچواں مطالبہ

پاک وطن کے طول و عرض پر پھیلے ہوئے اہل تشیع گو کہ مسلمان ہیں مگر مسلکی اختلاف کی بنیاد فوراً تتر بتر ہو جائیں۔

چھٹا مطالبہ
اہل تشیع کے بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام ظہور کے بعد اگر پاکستان کا رخ کریں تو انہیں روکنے کے لیے موثر قوانین بنائے جائیں۔

ساتواں مطالبہ
کراچی اور گرد و نواح میں بسنے والے بوہرے اسماعیلی اور پارسی کمیونٹی کے افراد جو کہ چند درجن ہیں ہر صورت پاک وطن کی جان چھوڑ دیں۔

آٹھواں مطالبہ
ربوہ اور اس کے گرد و نواح میں بسنے والے احمدی و قادیانی وغیرہ جلد از جلد پتلی گلی سے ہوتے ہوئے قادیان یا انگلستان کی راہ ماپیں۔

یقیناً یہ مطالبات مذہبی جنونیوں کے دلوں کی خواہش ہے جسے وہ اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔ مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ محض سخت قوانین بنا کر یا سزائیں دے کر کبھی بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی شدت پسندی کو شکست دینے کے لیے مساجد کے منبر معتدل خطبا کے حوالے کرنا ہوں گے۔ تعلیمی نصاب میں پرائمری سے ماسٹرز تک مذہبی رواداری برداشت اور مساوات کے مضامین شامل کرنا ہوں گے۔ سیاسی اور سماجی شخصیات اپنی تقاریر میں رواداری اور مساوات کے موضوعات کو لازمی حصہ بنائیں۔ صحافی و نیوز اینکرز اپنی تحریروں اور پروگراموں میں مذہبی شدت پسندی کی حوصلہ شکنی کریں۔ عوام الناس میں مذہبی شدت پسندی کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے جلسے جلوس ریلیاں اور سیمینار سے منعقد کروانا ہوں گے۔ اس کے سوا کوئی اور راہ عمل نہ ہے۔ یا پھر اے کاش میں اور میرے ماں باپ کی جان قربان ہو جائے محمد عربی پر اور ان کے دین مشرب ناب پر آپ ﷺ صرف ایک بار ہی سہی اس خطہ ارض پر تشریف لے آتے اور اپنے خالص دین کی روح اس خطے کے باسیوں کے دلوں میں پھونک دیتے۔ یا کاش نبی مکرم کے چاند ستاروں کی مانند چمکتے اور دمکتے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں سے کوئی ایک صحابی اس خطے کا رخ فرماتا اور انہیں بتلاتا کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق کا کس قدر محافظ ہے۔ اور سمجھاتا کہ اقلیتی ماؤں کی اجڑی گودوں اقلیتی بہنوں کے مقتول بھائیوں اور اقلیتی باپ کے جوان بیٹوں کے قتل کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ اپنے ہی وطن میں بار بار اجڑنے کا الم سہنا کیسا ہے۔ اے کاش اس دین کامل سے ناکامل آشنا دین اسلام کی ٹھیکیداری اور چوکیداری سے باہر نکل کر اس کو اس کی اصل روح کے مطابق سمجھتے اور پورے عالم میں اس کے فخر اور بول بالا کا باعث بنتے ہیں۔ مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔

اے کاش یہ سمجھ سکتے کہ فرزند رسول امام مہدی کی اقتدا میں بطور امتی ادائیگی نماز کے منتظر چوتھے اسمان پہ اس طرح کے واقعات پہ نم انکھیں لیے روح اللہ رسول اللہ سے شکوہ کناں ہیں۔

تیری اُمت نے مرے گھر کی اہانت کی ہے
ابنِ مریم نے محمد ﷺ سے شکایت کی ہے

Facebook Comments HS