بچوں کی پیدائش اور ہمارا رویہ


پچھلے سال ہم مونٹریال میں تھے۔ وہاں ہم نے چند راتیں ایک ائر بی این بی میں میں گزاریں۔ اُس کا مالک ایک نہایت ہی تیز اور قابل بندہ تھا۔ ساری دُنیا دیکھی تھی۔ اُس نے ائر بی این بی کھولا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارے۔ چُنانچہ وہ ہمارے ساتھ ناشتے پر اور رات کو سونے سے قبل گپ شپ لگاتا۔ اُسکی پہلی بیوی سے ایک بیٹی تھی جو جوان تھی۔ وہ بھی کبھی کبھی ملنے آجاتی۔ وہ ایک قریبی ہسپتال میں سائیکالوجسٹ تھی۔ ابھی اُسکی شادی کا پروگرام بن رہا تھا۔ یاد رہے کہ اس شادی کے خرچے میں اُسکے باپ نے صرف ایک تحفے کے سوا اور کچھ نہیں دینا تھا۔ ساری شادی کا خرچہ دولہا اور دُلہن کی اپنی کمائی سے ہی اُٹھانا تھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ صرف بیس لوگوں کو شادی پر بُلائیں گے۔ پھر ہم سے بچوں کے بارے پوچھا۔ خود سے کہنے لگیں کہ اُنہوں نے تو بڑا سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا ہے۔ کیونکہ ایک بچہ کم از کم اٹھارہ سال کا پراجیکٹ ہے۔

اب بھلے اس سے کینیڈا کی اپنی آبادی کم ہو لیکن کم از کم انفرادی طور پر تو ماں باپ کا فرض بنتا ہے کہ اپنے طور پر ہی اپنے لئے رستہ بنائے۔ ہمارے قباحت یہ ہے کہ ہر بچے کو تب تک گود میں اُٹھائے پھرتے ہیں جب تک اُس کے بچے نہ آ جائیں اور پھر پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کو بھی کھلانا پڑتا ہے۔ یہاں ماں باپ کی ذمہ داری اٹھارہ سال بعد ختم ہوجاتی ہے۔ اس دوران گھر اور سکول کالج میں ان کو اس قابل تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اکیلا رہ سکے۔ کچھ کما کر روپے پیسے کی قدر جانے۔ اس میں امیر اور غریب گھرانوں کی کوئی تمیز نہیں۔ چند سال قبل میں امریکہ میں کام کر رہا تھا۔ میرا باس ایک ملینئر تھا۔ اُس کا ایک ہی بیٹا تھا جو اٹھارہ سال کا ہو چکا تھا اور اب ایک سائیکل کے ورک شاپ میں کام کر رہا تھا کہ یہ اُس کا اپنا شوق تھا۔

اب بھی ہمارے ہاں کروڑوں بچے سکول سے باہر ہیں۔ بے شمار ماں باپ دن رات لگے ہوئے ہیں مڈل اور اپر کلاس کے لئے ”رضوانہ“ جیسے بچے پیدا کر رہے ہیں۔ مڈل ایسٹ کے لئے مزدور، ڈرائیور اور چوکیدار پیدا کر رہے ہیں۔ اب بھی موقع ہے کہ ہم تھوڑے دھیرج سے کام لیں۔ بچوں کی شادیوں سے پہلے کم از کم لڑکے کی اپنی کمائی کا بندوبست کر لیں۔ پھر شادی کے فوراً بعد بچے کا فوری مطالبہ نہ کریں۔ پچاسی فیصد جوڑوں کو اللہ ایک سال کے بعد بچے عطا کر دیتا ہے۔ اکثر ساسیں بہوؤں کو چند ماہ بعد ہی ہسپتال اور ڈاکٹر کی طرف دھکیل دیتی ہیں یا پیروں اور زیارتوں کا رُخ کر دیتی ہیں۔

یہ لڑکیاں جو بہت ہی کم عُمر میں بیاہی جاتی ہیں، ان کو حمل کے بارے کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا۔ نہ اُن کو کسی احتیاط، کسی غذا بارے یا کسی دوا کے مضر اثرات بارے معلوم ہوتا ہے۔ بس پے درپے بچے جنتی رہتی ہیں۔ اب اتنے بچوں کی تعلیم و تربیت تو چھوڑیں، ان کی حفاظت بھی نہیں ہو سکتی۔ کئی بچے گلی میں کھیلتے ہوئے یا سڑک پر زخمی ہو جاتے ہیں۔ کبھی گھر کے اندر ٹینکی میں گر گئے، کبھی بیماری سے نہ بچ سکے۔ ایک ماں آخر دل کتنے ٹکڑے کرے گی۔ اگر بڑے ہوتے بھی گئے تو کم عُمری میں دوسروں کے بچے پالنے پہ لگ جاتے ہیں۔

دوسری طرف ماں بھی اتنے حمل سے گزرتے ہوئے کمزور سے کمزور تر ہوتی جاتی ہے۔ چہرہ اُڑا اُڑا ہوتا ہے۔ خون کی کمی۔ حیاتین کی کمی، پروٹینز کی کمی اتنی ہوتی ہے کہ تیس سال کی عُمر میں ساٹھ سالہ لگتی ہے۔ شوہر بھی کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے۔ اور غربت کا ایک نہ رُکنے والا گھُن چکر شروع ہوجاتا ہے۔ یاد رہے کہ اپنے بچوں کی پرورش ماں باپ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر آپ نہیں پال سکتے تو اللہ نے من و سلویٰ نہیں بھیجنا۔ اکثر لوگ فوراً قرآن سے حوالہ دیتے کہ بچوں کو بھوک کے ڈر سے نہ مارو۔ خدا کا خوف کریں وہ تو عربوں کے بیٹیوں کو زندہ گاڑنے کے رواج پر وحی اُتری تھی۔ سورۃ بقرہ میں ماؤں کی ذمہ داری دو سال تک دودھ پلانے کی ہے اور اس کا معاوضہ بھی بیوی طلب کر سکتی ہے۔ اب اگر وہ دو سال تک دودھ پلاتی ہے تو ظاہر ہے اُس کا اگلا حمل بھی نہیں ٹھہرے گا۔ سورۃ کہف میں ہے کہ مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں ہیں آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بہتر ہیں اور آرزو کے لحاظ سے خوب تر ہیں۔ یوں ماں باپ کی ذمہ داری بچوں کی پرورش ہی ہوتی ہے۔ اپنی طاقت اور جیب کو دیکھ کر ہی خاندان بڑھائیں۔ اپنی اور خاندان کی عاقبت کا زیادہ خیال رکھیں۔

Facebook Comments HS