انسانی رشتے اور سماجی دباؤ


انسانی رشتوں کی نازک ڈور سماج کے مضبوط ستون کی گرد بندھی ہوتی ہیں۔ عموماً وہ جب چاہے ان کو کسی بھی دوراہے پر چھوڑ دے اور کسی بھی خوبصورت رشتے میں بدظنی پیدا کر کے اس کو بگاڑ دے۔

اسی طرح انسانی جذبات اپنی ہیئت میں کس قدر سنبھلے ہوئے ہو سماجی پرتیں ان پر اپنے گہرا اثر و نقوش رکھتی ہیں۔

انسان کی سوچیں سماجی اداروں سے پروان چڑھتی ہیں۔ ان اداروں کے مزین پانی میں فرد واحد کے نئے عوامل بصورت لہر صریحاً بغاوت تصور کی جاتے ہیں اور یہ ان لہروں پر قابو پانے پر کاربند رہتے ہیں۔ ایک دلچسپ عنصر یہ ہے کہ انسانی سوچ کا ماخذ چونکہ معاشرہ ہوتا ہے لہذا اپنی ذات میں رچی خواہشات کو جواز اور موڑ سماجی اقدار ہی فراہم کرتی ہیں۔ آپ بیک وقت کی کرداروں میں ڈھل کر بھی کسی ایک میں حد عبور نہیں کر سکتے ورنہ وہی لہر اور دیوار کا کھیل۔

ٹھیک اسی طرح خوشیوں کا تعلق سماج کے طے کردہ اصولوں پر عمل اور ان کی شرائط پوری کرنے سے منسوب ہے۔ یہ سماجی اقدار ہی ہیں جو فرد واحد کو اپنے رشتوں میں توازن رکھنے کے لئے ملک کے طول وعرض سے سمندر پار سالوں ‘تلاش رزق’ میں بھٹکاتی اور طے کئے گئے عوامل کو حاصل کرتے رہنے کا جواز فراہم کرتی ہیں۔ بصورت دیگر آپ ایک ناکام انسان کے طور پر اپنی سماجی شناخت تلے زندگی کا بوجھ اٹھائے نظر آتے ہیں۔ شاید اسی حاصل کا تعلق غم سے منسوب ہے۔ محبت اور نفرت جیسے خالص انسانی سمجھے جانے والے جذبات بھی اسی شناخت سے پھوٹتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے مختلف حصوں میں ہر معاشرے کے مختلف معیار ہیں لیکن عام طور پر آپ کا خاندان ، نسب ، جنس ، پیشہ ، مذہب اور ان کی شرائط پر پورا اترنا آپ کے لئے عزت اور احترام کا معیار طے کرتا ہے۔ معاشرے کے سکھائے اطوار سے ہٹ کر عمل کرنا اور اپنے جذبات کو ترتیب دینا کسی بھی انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے۔

عمرانیاتی علوم کے مطابق انسان کا تعلق سماج کی کسی بھی پرت سے ہو اس پر مسلسل اپنے کردار کو عمل سے مزین کرنا لازم ہے۔ پھر چاہے وہ بطور خاندان کے سربراہ ہو یا حیاتیاتی اولاد یا پھر گھریلو ماں۔ آپ کا سماجی کردار یہی سے کشید کیا جاتا ہے اور انسان کو خاندانی اقدار اور ثقافت تلے اپنی زندگی کے فیصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ یہ ثقافتی اقدار زندگی کے ہر موڑ پر نئے کردار کی متلاشی رہتی ہیں۔ بچپن سے لڑکپن اور جوانی سے بڑھاپے تک انسان کو ان بندھنوں میں رہ کر معاشرے کے تقاضے پورے کرنے کا نام کامیاب زندگی ہے۔ اس میں بول چال سے لیکر پیشہ ورانہ امور میں پختگی تک سبھی مراحل شامل ہیں۔ بعض اوقات یہ ثقافتی اقدار اپنے آپ میں زیادتیوں کی شکل اختیار کرکے اپنی تسکین کا سامان پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی زندگی جہنم خیز بن جاتی ہے۔ بہت سے افراد اسی دباؤ تلے ان سے منہ موڑ کر کہیں دور روپوش ہونے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں سے اکثر واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ اس کی بہت واضح امثال ہمارے اردگرد بکھری نظر آتی ہیں۔

Facebook Comments HS