جرائم پیشہ افراد کا نظام پر قبضہ


روزنامہ ڈان نے اپنی 24 دسمبر 2016 کی اشاعت میں ایک خبر شائع کی جس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے ایک معزز جج صاحب نے ماڈل ٹاؤن سوسائٹی لاہور کے رجسٹرار کو حکم دیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ ہی کے ایک اور جج صاحب کو سوسائٹی کی ممبرشپ نہ دیں۔ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے رجسٹرار کو ایسا کرنے کے لیے سرکل رجسٹرار( ہاؤزنگ) کواپریٹو سوسائٹیز نے حکم جاری کیا تھا جبکہ اسی معاملے میں اس سے پہلے رجسٹرار کواپریٹو سوسائٹیز ایک حکم جاری کر چکے تھے جس میں انہوں نے جج صاحب کی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کا ممبر بننے کی درخواست کو رد کر دیا تھا۔ وضاحت کے لیے میں یہ بتاتا چلوں کہ سرکل رجسٹرار( ہاؤزنگ) رجسٹرار کواپریٹو سوسائٹیز کا ایک ماتحت افسر ہوتا ہے۔ اخبار کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے سات صفحاتی فیصلے میں مذکور قصہ کچھ یوں ہے کہ فاضل جج صاحب نے 2014 میں دو کنال کا ایک قطعہ اراضی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے میں، جو کہ اس وقت کی مارکیٹ پرائس سے کافی کم تھی، ایک مبینہ قبضہ گروپ سے خریدا جبکہ اصل مالکان کی والدہ کو یہ زمین 1959 میں اپنی ہندوستان میں چھوڑی ہوئی جائیداد کے عوض الاٹ ہوئ تھی۔اصل مالکان کی ملکیت اتنی واضح تھی کہ رجسٹرار کواپریٹو سوسائٹی اور رجسٹرار ماڈل ٹاؤن سوسائٹی دونوں جج صاحب کی ملکیت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ آخر کار لاہور ہائی کورٹ کے ہی ایک جج کے فیصلے سے معاملہ نپٹا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جج صاحب اس فیصلے کے بعد بھی کئی سال اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ بطور جج اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ باعزت طریقے سے 16 مارچ 2018 کو اس وقت ریٹائر ہوئے جب وہ 62 سال کی عمر کو پہنچے یعنی سپر اینویشن کی عمر کو۔ ان کے اعزاز میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور دوسرے جج صاحبان نے ایک الوداعی تقریب بھی منعقد کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد موصوف کی تقرری بطور چیئرمین پنجاب سروسز ٹرائبونل کر دی گئی۔

ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی 25 جولائی 2023 کی اشاعت میں رپورٹ کیا ہے کہ اسلام اباد کے ایک سول جج کی زوجہ محترمہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی 14 سالہ خادمہ کو اس بری طرح مارا پیٹا ہے کہ اسے انتہائی مخدوش حالت میں ہسپتال میں داخل کروانا پڑا جہاں کئی روز کے علاج کے بعد اب اس کی حالت بمشکل سنبھلی ہے۔ بچی کی حالت دیکھ کر ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ تشدد کسی ایک دن نہیں ہوا بلکہ مسلسل ہوتا رہا ہے اور اس کے سر کے زخموں کا طویل عرصے تک علاج نہ ہونے کی وجہ سے ان میں کیڑے پڑ چکے تھے۔ مشہور قانون دان سلمان اکرم راجہ صاحب نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ جج صاحب اس تشدد سے ناواقف ہوں لہذا انہیں مجرم کے مددگار کے طور پر طلب کر کے تفتیش کی جانی چاہیے۔ تاہم ڈان اخبار کی 25 جولائی کی خبر کے مطابق پولیس سول جج صاحب کے خلاف مقدمہ درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ میڈیا کے پریشر کی وجہ سے جج صاحب کی اہلیہ محترمہ کو تو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کی ضمانت بھی منسوخ کر دی گئی ہے تاہم جج صاحب سے سوال و جواب کے لیے تاحال اجازت حاصل نہیں کی جا سکی۔

سپریم کورٹ کے ایک معزز جج صاحب کی کئی آڈیوز لیک ہوئیں جن میں کی جانے والی گفتگو بظاہر معزز جج صاحب کے کردار اور مالی معاملات کے بارے میں کئی گمبھیر سوالات اٹھاتی ہے۔ حکومت نے ان کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا ہے لیکن تا دم تحریر وہ اپنے فرائض منصبی معزز چیف جسٹس صاحب کی معیت میں ادا کر رہے ہیں۔

کسی قبضہ گروپ سے پلاٹ خریدنا، ایک کم عمر لڑکی کو ملازم رکھنا اور بیگم کے ساتھ مل کر اس پر تشدد کرنا یا بیگم کے ایسے افعال سے چشم پوشی کرنا، یا رشوت ستانی میں ملوث ہونا یہ تمام غیر قانونی کام ہیں اور غیر قانونی کام کرنے والوں کو ملزم یا مجرم کہا جاتا ہے۔کئ ملکوں کی عدلیہ میں ایسے واقعات وقوع پذیر ہو چکے ہیں جن میں جج صاحبان غیر قانونی کاموں میں ملوث پائے کئے۔ لہذا جو کچھ مندرجہ بالاتین مثالوں میں میں نے آپ کے سامنے رکھا کوئی ایسی انہونی نہیں۔ لیکن میرا جلاپا یہ ہے کہ ان عظیم مناصب پر فائز لوگوں کی بدعنوانیاں جب سامنے آجاتی ہیں اور اس کے بعد بھی اگر ان کا ادارہ ان واقعات سے چشم پوشی کرتا ہے تو کیا یہ پورے ادارے کے ان جرائم میں ملوث ہونے کی نشانی نہیں ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب لینا غلط ہوگا کہ جج صاحبان اپنے برادر ججز کو ان کے غیر قانونی کاموں پر بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں؟

لاہور ہائی کورٹ کے جس مقدمے کا میں نے اوپر ذکر کیا اس کے فیصلے میں جج صاحب نے رجسٹرار کواپریٹو سوسائٹیز کو حکم دیا کہ وہ سرکل رجسٹرار کے اس غیر قانونی اقدام کی تفتیش کریں لیکن نہ تو انہوں نے اپنے فیصلے میں ایک لفظ بھی اپنے رفیق جج کے بارے میں لکھا اور نہ ہی مبینہ طور پر معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل یا کم از کم اپنے چیف جسٹس کو بھیجا۔

میں ان تمام واقعات میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہتا۔ میں اس معاملے کو شائع شدہ حقائق تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں صرف دو سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
1. کیا ہمارا ججوں کے تقرر کا معیار اور طریقہ کار ہر سطح کی عدلیہ میں ناکام نہیں ہو چکا؟ اور
2. کیا مذکورہ بالا واقعات اور ان جیسے اور بھی متعدد واقعات کے پیش نظر عدلیہ کا خود احتسابی کا اختیار برقرار رہنا چاہیے؟

اگر اس ملک کا نظام جرائم پیشہ اور ذہنی طور پر بیمار افراد نے ہی چلانا ہے تو پھر عوام کو بھی جینے کا کوئی نیا طریقہ ہی تلاش کرنا ہوگا۔

Facebook Comments HS