دس ہزار جھیلوں کی سرزمین ۔ قسط دوم
اس عنوان کی پہلی قسط کے بعد کچھ قارئین کی فرمائش پر منیسوٹا کے شہر منیپلاس کے بارے میں کچھ اور سطور حاضر ہیں۔ دنیا کے زیادہ تر شہر ترتیب کے ساتھ یا بے ترتیب کنکریٹ کے جنگل ہیں جن میں روح ہمارے تجربات ڈالتے ہیں۔ اچھے تجربات کی یادیں ناسٹلجیا بن کر ہماری یادوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ کسی شہر میں طویل عرصے تک رہنے سے اچھی یادوں کے ساتھ کچھ اداس یادوں کا ہونا لازم و ملزوم ہے کیونکہ زندگی اسی کا نام ہے۔ خوش قسمتی سے منیپلاس کے ساتھ میری وابستگی مختصر عرصے کی خوشگوار یادوں کے ساتھ ہی ہے۔
جب میں پہلی دفعہ 1997 میں یہاں سائیکاٹری کی سپیشلایزیشن کی ریذیڈنسی ٹرینگ جو چار سال پر مشتمل ہوتی ہے کے انٹرویو کے سلسلے میں آئی تھی تو وہ نومبر کا مہینہ تھا۔ اگرچہ میں نے اس سے قبل نیوجرسی اور مسوری کا موسم سرما دیکھا تھا اور ایک سال قبل ہی میری چھوٹی بیٹی نیوجرسی کے تاریخی شدید برفانی طوفان کے دنوں میں پیدا ہوئی تھی لیکن جب میں نے منیپلاس میں قدم رکھا تو میرے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ اس سے قبل میں نے کہیں بھی نومبر کے مہینے میں اتنی سردی نہیں دیکھی تھی۔
اکثر سنٹرل ہیٹ کی وجہ سے سردیوں میں عمارات کے اندر زیادہ گرم کپڑے پہننے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن منیپلاس کی بات دوسری تھی۔ منیسوٹا ریاست آلاسکا کے بعد امریکہ کی سرد ترین ریاست ہے جہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی چالیس درجہ سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔ منیسوٹا کی ایک سرحد اپنے جیسے سرد ہمسائے کینیڈا سے بھی ملتی ہے۔
سردی کے ساتھ ساتھ دوسری فکر کی وجہ یہ تھی کہ ہر ایک نے یہ کہہ کر ڈرایا ہوا تھی کہ فارن میڈیکل گریجویٹس کو ریذیڈنسی ملنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے لیکن منیپلاس کے اس ہسپتال میں میرا انٹرویو اتنا اچھا ہوا اور میری صلاحیتوں کو جن کے بارے میں مجھے بھی علم نہیں تھا اتنا سراہا گیا کہ میرا سیروں خون بڑھ گیا۔ اس اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہماری ایم بی بی ایس کی ڈگری کی پورے امریکہ میں عزت تھی اور مجھ سے پہلے گزرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں نے اپنی کارکردگی سے اپنے بعد میں آنے والے پاکستانیوں کے لیے راستہ بنایا تھا۔
زندگی کے اس اگلے موڑ پر میں اپنے اردگرد بہت سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی ہی صلاحیتوں سے بے خبر عدم اعتمادی کا شکار پاتی ہوں تو مجھے اپنے وہ محسن اساتذہ یاد آتے ہیں جنہوں نے صحیح معنوں میں استاد ہونے کا حق ادا کر دیا تھا۔
زندگی کا سب سے مشکل دور جوانی کا ہوتا ہے اور اس دوران بزرگوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی شفقت اور ان کے درگزر کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ اعتماد حاصل کیے بغیر ان کی رہنمائی نہیں کی جا سکتی۔
مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میری نسل پر اب نئی نسل کا قرض ہے۔ ہمارے لیے یہ وقت کچھ لینے کی بجائے دینے کا ہے۔
لہٰذا اتنے سال کے بعد جب میں 2022 میں دوبارہ اسی شہر اور اسی ہسپتال میں آئی تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ اب ٹارچ میرے ہاتھ میں ہے جسے میں نے اگلی نسل کے حوالے کرنا ہے۔ اس بات کا احساس اس لئے ہوا کہ اس ٹیچنگ ہسپتال میں میرے اردگرد میڈیکل کے طلبہ وطالبات اور تربیت پانے والے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور لیڈی ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ وہ نوجوان بھی تھے جو عارضی طور پر سکراہب کا کام کر رہے تھے۔ سکراہب اپنے ساتھ ایک لیپ ٹاپ لے کر راؤنڈ پر ٹیم کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس معائنے اور گفت و شنید کی کارروائی کو براہ راست برق رفتاری سے ٹائپ کرتے ہیں۔ بعد میں ڈاکٹر کی تصحیح کے بعد یہ نوٹ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے۔ مریض کی میڈیکل ریکارڈ کی فائل ایک قانونی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان سکراہبز میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی تھی جنہوں نے پری میڈیکل کے مضامین کے ساتھ بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی اور ان کی اگلی منزل ڈاکٹری، نرسنگ، فارمیسی اور میڈیکل سائنس کے دوسرے شعبہ جات میں داخلہ لینا تھا۔ آج کی دنیا میں کیریئر میں آگے بڑھنے کے لیے صرف ڈگری ہی نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی دیکھا جاتا ہے۔ مزید برآں اس عمر کے نوجوانوں سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ والدین پر انحصار کرنے کی بجائے اپنا خرچ خود اٹھائیں اور اس میں لڑکوں اور لڑکیوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ ان میں سے ایک لڑکی نے اپنے تذبذب کا اظہار کر کے میرا مشورہ چاہا کہنے لگی
”میری عمر پینتیس سال ہے۔ مجھے بچپن سے ہی ڈاکٹر بننے کا شوق تھا لیکن زندگی کے حالات نے اس کا موقع نہیں دیا مجھے تعلیم چھوڑ کر نوکری کرنا پڑی اور پھر اب کئی سال کے بعد گریجویشن کی ہے۔ اب میرا داخلہ میڈیکل کالج میں یقینی ہے لیکن مجھے یہ کہا جا رہا ہے کہ جب میں ڈاکٹر بن کر نکلوں گی تو میری عمر چالیس سال ہو چکی ہوگی، آپ کا کیا خیال ہے؟“
میں نے اسے اپنا خیال پیش کیا ”عمر تو چالیس سال ویسے بھی ہونی ہے، اپنی چالیسویں سالگرہ پر اپنے خواب کی تعبیر سے اچھا اور کون سا تحفہ ہو سکتا ہے“
میرا جواب سنکر وہ کھل اٹھی اور بولی ”مجھے اپنے سوال کا جواب پہلے ہی معلوم تھا لیکن میں کسی اور سے بھی اس کی تصدیق چاہتی تھی جو مجھے مل گئی ہے۔ تھینک یو ویری مچ“
ملک کے دوسروں ہسپتالوں کی طرح اس ہسپتال میں بھی کام کرنے والے عملے کی اکثریت خواتین کی تھی جن میں لیڈی ڈاکٹرز، فارماسسٹ، فارمیسی ٹیکنیشن، نرسیں، نرسنگ اسسٹنٹ، میڈیکل اسسٹنٹ، میڈیکل ٹیکنیشن، ریڈیالوجی ٹیکنیشن، میڈیکل ریکارڈ ایکسپرٹ، میڈیکل اکاؤنٹنگ، کچن اور ہسپتال کے دوسرے بے شمار شعبہ جات شامل ہیں۔ صرف کمپیوٹر، سیکورٹی، مکینیکل اور ڈاکٹری کے شعبوں میں مردوں کی قابل ذکر تعداد نظر آئی ورنہ جدھر نگاہ اٹھائی حسب معمول زنانہ عملہ ہی دکھائی دیا۔ ہسپتال میں کسی بھی طرح کی نوکری کا تجربہ جاب سیکورٹی کی علامت ہے۔ اور اس تجربے کے ساتھ بڑے شہروں سے لے کر دور دراز علاقوں تک میں اکثر کھڑے کھڑے ملازمت مل جاتی ہے۔ پاکستانی بچیوں کے لیے اس میں بہت سے اسباق ہیں۔ عورت کے اندر موجود فطری طور پر دوسروں کا خیال کرنے کی وجہ سے میڈیکل کے ہر شعبے میں اس کی صلاحیتیں کام آ سکتی ہیں۔ ایک لڑکی جو ایک دن میرے ساتھ سکراہب تھی گریجویشن کے بعد دو سال کی اور پڑھائی کے بعد فزیشن اسسٹنٹ بننے جا رہی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ اسے میڈیکل میں بھی داخلہ مل سکتا ہے تو وہ پوری فزیشن ہی کیوں نہیں بن جاتی ہے وہ اس پر بولی ”میری ماں بھی فزیشن اسسٹنٹ ہے جسے معقول تنخواہ ملتی ہے، اس پر میڈیکل کی نہ ختم ہونے والی لمبی پڑھائی کا بھاری قرضہ بھی نہیں ہے اور اس نے ہمیشہ زندگی کو انجوائے بھی کیا ہے۔ میں بھی اپنی ماں جیسی زندگی گزارنا چاہوں گی“ ۔
اپنے کام کے پہلے پھیرے میں تو میں نے ڈاؤن ٹاؤن میں واقع ہوٹل سے ہسپتال آ نے جانے کے لئے پیدل جانے کا انتخاب کیا لیکن پھر یہ ہمت جواب دے گئی اور اگلی دفعہ میں نے رینٹل گاڑی لینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اتنے بڑے شہر میں اس گاڑی کو چلائے گا کون؟
سال ہا سال سے چھوٹے شہر میں رہنے کی وجہ سے مجھے بڑے شہروں میں ڈرائیونگ کا تجربہ نہیں رہا اور جب کبھی کسی بڑے شہر میں جاتے ہیں تو شوہر صاحب ہی ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ اس فکر سے رات کو ٹھیک طرح سے نیند ہی نہیں آئی۔ فجر سے بھی پہلے آنکھ کھل گئی اور اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ میں کام پر جانے کے لیے تیار ہو گئی اور ہو پھٹنے سے پہلے ہی جب سارا شہر خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا میں نے سنسان سڑکوں پر جی پی ایس کی مدد سے ہسپتال کے آنے جانے کے راستے کی ڈرائیونگ کی مشق شروع کردی جو کوئی گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی جس نے میرا خوف دور کر دیا۔
منیپلاس میں خوشگوار موسم میں بھی سڑکوں پر لوگوں کے چلنے کی وہ تعداد نظر نہیں آتی جو دوسرے بڑے شہروں میں ہوتی ہے۔ اس کا راز یہ معلوم ہوا کہ سردیوں میں شدید سرد موسم کی وجہ سے ڈاؤن ٹاؤن میں عمارتوں کے درمیان راہداریوں کا جال بچھا ہوا ہے جسے سکائی وے سسٹم کہا جاتا ہے جو تقریباً دس میل کے برابر ہے۔ اس میں گرمیوں میں سنٹرل اے سی اور سردیوں میں ہیٹ کا انتظام ہے۔ اس کے علاوہ عمارات کے درمیان مختلف سمتوں پر پھیلی ہوئی ان راہداریوں میں طرح طرح کی دکانیں، دفاتر اور ریسٹورنٹ واقع ہیں۔ میں نے بھی اس سکائی وے کو استعمال کرنے کی کوشش کی بلکہ اپنی کمپنی سے فرمائش کر کے اپنے ایک دورے میں اس ہوٹل میں بکنگ کروائی جس کی عمارت سکائی وے سے متصل تھی۔ اس ہوٹل میں دو دن گزارنے محال ہو گئے کیونکہ رات کو ساری رات سڑک پر وہ غل غپاڑہ ہوتا کہ سونا محال تھا۔ اس کے علاوہ اس سکائی وے میں اتنی بھول بھلیاں ہیں کہ صرف مقامی لوگ ہی غالباً اس کا صحیح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور وہ شاید اس کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہر موسم میں اسے چلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
میں نے سکائی وے والے اس ہوٹل میں دو دن گزارنے کے بعد توبہ کی اور میری فرمائش پر مجھے اسی ریزیڈنس ان میں بھیج دیا گیا جہاں میں پچھلی دفعہ ٹھہری تھی جو سیکنڈ سٹریٹ پر واقع ہے۔ یہ غالباً منیپلاس شہر کا سب سے خوبصورت علاقہ ہے۔ کم ازکم میرا تجربہ یہی کہتا ہے۔ اسے منیپلاس کی تھیٹر ڈسٹرکٹ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں گھتری تھیٹر کے علاوہ فنون لطیفہ کے اور تھیٹر بھی ہیں۔ اسے مل ڈسٹرکٹ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہاں کبھی ملیں ہوتی تھیں جو کسی وجہ سے بند ہو گئیں اور ان کی کچھ عمارات کو ریسٹورنٹ اور کچھ کو اپارٹمنٹ بلڈنگز بنا دیا گیا لیکن کچھ تاریخی آثار رہنے دیے۔ ریزیڈنس ان ہوٹل جس عمارت میں ہے وہ کبھی ٹرین اسٹیشن تھا جس کے کچھ آثار اب بھی نظر آتے ہیں۔ اس کے سامنے شہر کے بارے میں ایک میوزیم ہے۔ اس میوزیم کے قریب ہی ایک ریسٹورنٹ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ ان کے کھانوں کی لذت کا راز یہ ہے کہ وہ اپنے کھانوں میں دور دراز کے سٹوروں کی بجائے آرگینک اور صرف مقامی کسانوں سے خریدی ہوئی تازہ سبزیاں، گوشت اور دوسرے اجزاء استعمال کرتے ہیں۔ ہوٹل کے سویٹ کے اندر چھوٹا سا کچن بھی ہے اور قریب ہی سودا سلف کا سٹور ”ٹریڈر جوز“ موجود ہے جو اپنی بہترین کوالٹی کی گروسری کے لیے مشہور ہے۔ گویا آپ اپنی پسند کا کھانا خود بھی بنا سکتے ہیں کیونکہ ہر روز باہر کا کھانا نہیں کھایا جا سکتا۔ ورکنگ لوگوں کی سہولت کے لیے کٹی کٹائی صاف ستھری سبزیوں جیسی اشیاء کے ساتھ ساتھ دیسی فروزن کھانے بھی یہاں دستیاب ہیں۔ اس ہوٹل سے کچھ منٹ کی واک پر بل کھاتا دریائے مسیسپی واقع ہے جس کے کنارے بنے ہوئے فٹ پاتھ پر چہل قدمی کی جا سکتی ہے۔ ان سب تاریخی اور قدرتی نظاروں کا اپنا حسن ہے جو کمرشل سکائی وے سے بہتر ہے لیکن صرف خوشگوار موسم میں ہی اس علاقے سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ سریوں میں اگر وقت کی قلت نہ ہو اور شہر کے اندر پیدل چلنے کا ارادہ ہو تو بے شک سکائی وے سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں۔ خؤش قسمتی سے یہاں میرے تقریباً سب ورکنگ دورے خوشگوار موسم میں ہی ہوئے۔ اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ دقت نہیں ہوئی جو برفباری کے دوران ہو سکتی ہے۔
منیپلاس شہر کے بارے میں ایک اور قسط کا قرض ابھی باقی ہے۔ اس قسط میں ایک بھارتی لڑکی سے دلچسپ گفتگو اور ’مال آف امریکہ ”کا ذکر ہو گا کیونکہ منیپلاس کا احوال“ مال آف امریکہ ”کے ذکر کے بغیر ادھورا رہے گا۔
منیپلاس شہر کی ذیل کی تصویر گوگل سے حاصل کی گئی ہے جو اسے مفت استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
(باقی آئندہ)



