گم شدہ
وہ ایک پہاڑی علاقے کا باسی تھا، جو دولت مند ہونے کے ساتھ ،تین عد بیٹیوں اور دو عدد بیٹوں کا باپ بھی تھا۔اُس کی عمر یہی کوئی ساٹھ برس کی ہوگی، جس میں سے دس برس اُس کے رنڈاپے کے تھے۔ دن کو وہ دوستوں میں بیٹھ کر وقت گزار لیتا، لیکن رات کو اُسے اپنی تنہائی بری طرح ستاتی۔ وہ اپنی جنسی ہوس کو دبائے زندگی کے ایام کاٹ رہا تھا، لیکن کچھ عرصے سے یہ دبی ہوئی خواہش ، اب خوفناک ناگ کی طرح پھن پھیلا کر ، اُسے اس کے حصول کیلئے اُکسا رہی تھی۔ وہ ہر بار ذہن کو جھٹک کر، کسی اور جانب لے جاتا، لیکن وہ باز گشت کی طرح پھر آکر، اُس کے ذہن کے ساتھ ٹکرا تی، اور اُسے اتنا بے قرار کرتی کہ اُس کا دل ایک بار پھر سب شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھ کر، اس کے حصول کیلئے کمر باندھ لیتا۔ وہ بار بار ایک ناصح ، ایک مصلح بن کر، اپنے اندر کے وحشی انسان کو سمجھاتا ، اُس کو روکتا، وعیدوں سے ڈراتا، حیلوں بہانوں سے بہلاتا ، لیکن وہ اندر کا وحشی ، ویسا ہی وحشی رہا اور اُس کے جذبات میں کوئی اتار نہ آیا۔
” کیا؟ ابا تیرا دماغ چل گیا ہے کیا، جو اس عمر میں بیوی مانگتا ہے؟”، بڑی بیٹی کے پاؤں تلے سے باپ کے یہ الفاظ سن کر زمین نکل گئی۔” لیکن اس میں آخر برائی ہی کیا ہے؟”، باپ نے لاچارگی سے پوچھا، مگر آگے سے کسی نے پلٹ کر کوئی جواب نہ دیا۔
” ارے کیا پوچھتی ہے نیک بخت۔ گھر والے ہیں کہ شادی نہیں کرواتے۔ اب تو بتا میں اس کے ہاتھوں کہاں جاؤں”، وہ اپنے بچپن کی سہیلی کے ساتھ، بیری کے درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں، اپنا اندر ، باہر لارہا تھا۔” دیکھ اگر تو اس چیز کیلئے شادی کرنا چاہتا ہے، تو نہ کر”، سہیلی نے ایک پتے کو مروڑتے ہوئے جواب دیا۔” پھر؟”، اُس نے ناگواری سے پوچھا، تو وہ معنی خیز نظروں سے اُسے دیکھ کر ہنس پڑی۔” اچھا! پھر تو میرا کام آسان ہوگیا”، یہ کہہ کر اُس کے اندر کے وحشی انسان نے انگڑائی لی اور پھر دونوں وہیں، اردگرد کے ماحول سے بے نیاز، ایک دوسرے کی بانہوں میں جھول گئے۔اور پھر ساون یوں ٹوٹ کر برسا کہ دونوں کے جسم و جاں ، پوری طرح سیراب ہوگئے۔
” پھر کب آوگی؟”، وہ چت لیٹا تیز تیز سانسیں لیتا ہوا، اپنی سہیلی سے پوچھ رہا تھا، جو کپڑے پہن کر، اب اپنا باقی حلیہ درست کر رہی تھی۔” ہوں۔۔کل۔۔ بلکہ ایک کام نہ کریں؟”، اُس کے ذہن میں کسی خیال کے سبب بجلی سی کوندی۔” کیا؟”، اُس نے زمین سے سر اٹھا کر پوچھا۔” میں کل اُس کو بھی ساتھ ہی لے آؤنگی”، وہ جسم کے اوپر سے گھاس پھونس جھاڑتے ہوئے بولی۔” کسے؟”، وہ باقاعدہ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔” ارے وہی۔۔ جس کے مُشکیں سونگھتا ہوا تو دریا تک جایا کرتا تھا۔ بھول گیا ہے؟”، وہ ہنستے ہوئے اُسے ماضی میں لے گئی، اور وہ کھسیانا سا ہوکر ہنس پڑا-” مگر اُس کی تو شادی نہیں ہوگئی؟ اور دو یا تین بچے بھی تو ہیں۔ اب کہاں آئے گی”، اُس نے متفکرانہ انداز میں جواب دیا۔” ارے پیسہ دکھا، کیسی بھاگتی ہوئی آئے گی۔ بس تو جیب ڈھیلا کر”، وہ اُس کی طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں بولی، تو اُس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اگلے دن وعدے کے عین مطابق، اُس کی سہیلی اُسی عورت کے ساتھ مقررہ جگہ پہ موجود تھی، جو پیسے کے لالچ میں بچوں سے جھوٹ بول کر، یہاں آئی تھی۔ اُس کے بعد یہ سلسلہ ایسا چل نکلا کہ وہ عورت ہر روز نئے چہرے کو ساتھ لائے، اُس شخص کی ہوس کو بجھانے کا سامان کرتی۔ اور یوں باہمی تعاون کے تحت ایک کی جنس اور دوسرے کی پیٹ کی آگ بجھانے کا معقول انتظام ہوگیا۔
ایک دن وہ شخص گھر پہ اکیلا تھا اور بچے وغیرہ سبھی کسی دوسرے گاؤں گئے ہوئے تھے۔اُس کے خیالوں میں پھر سے وہی امنگ جاگی اور اُس نے اپنی سہیلی کو جاکر، کسی نئے چہرے کو ڈھونڈ کر لانے اور اُسے بستر کی زینت بنانے کا کام سونپا۔ یہ کام نبٹانے کے بعد ، وہ خوشی سے سرشار اور جھومتا ہوا ، گھر واپس آگیا اور بے چینی سے مہمان کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ آج خوشی کا عالم دیدنی تھا، کیونکہ آج گھر میں کوئی بھی نہیں تھا۔ تاہم اُس کے ارمانوں پہ اوس اُس وقت پڑی جب ، وہ عورت نامراد ہوکر خالی ہاتھ واپس آئی اور اُس شخص کو بتایا کہ آج اُس کی ہوس بجھانے کا انتظام ، اُس سے نہیں ہوسکا۔ یہ سن کر اُس کی طبیعت سخت خراب ہوئی اور اُس نے سہیلی کو بہت جلی کٹی سنائیں، جنہیں سن کر وہ غصے سے واپس چلی گئی۔
گھر میں تنہائی اور جنس کی بھوک ، دونوں ہی اُسے کاٹنے کو دوڑتے تھے، اور وہ بستر پر لیٹا اس آگ کے ہاتھوں بے چین ، آہیں بھرتا ہوا، کبھی دائیں، کبھی بائیں کروٹیں لے رہا تھا۔ وہ انہی خیالوں میں گم تھا کہ باہر دستک ہوئی۔ وہ اس خیال سے بھاگتا ہوا گیا اور دروازہ کھولا کہ شائد ، انتظام ہوگیا ہے،مگر دروازے کے باہر اُس کی سگی نواسی کھڑی تھی، جو اپنے نانا کیلئے کھانا لے کر آئی تھی۔ تاہم اُسے اس وقت پیٹ کی بھوک سے زیادہ، جنس کی بھوک نے تنگ کر رکھا تھا، سو اُس نے نواسی کو اندر بلایا اور پھر دروازے کو کنڈی لگا دی۔ ادھر نواسی ، نانا کے کمرے میں داخل ہوئی اور ادھرنانا نے اپنے آپ کو بے لباس کرکے، بلا تاخیر نواسی کے ساتھ شیطانی کھیل شروع کردیا۔نواسی بہتیری چلائی، ہاتھ پیر مارے، لیکن ہوس کے شتر بے مہار کے آگے، ایک ننھی سی حوا کی بیٹی کہاں ٹھہر سکتی تھی۔” نانا ابا!”، وہ ایک پانچ چھ ماہ کی بکری طرح منمنائی، لیکن مست بیل اُس وقت تک، کھیت اجاڑ چکا تھا۔
نواسی کی عزت کا جنازہ اپنے ہی ہاتھوں نکالنے کے بعد، وہ گھر والوں اور معاشرے کے ڈر سے ، گھر سے ایسا بھاگا کہ ایک بڑے شہر میں جاکر پناہ ملی، جہاں اُس کا جاننے والا کوئی نہ تھا ۔ وہ کبھی فٹ پاتھ تو کبھی کسی تھڑے پہ بیٹھ کر وقت گزارتا، اور کوئی جو آکر اُس سے اُس کی بابت پوچھتا تو وہ دیوانوں کی طرح بس اتنا ہی کہتا ” بھائی میں ایک گمشدہ انسان ہوں۔ میں کہاں سے آیا، میرا اس دنیا میں کون کون ہے۔ یہ میں نہیں جانتا”۔


