منے بھائی کی زندگی اور موت کا احوال


کل کراچی میں میرے چچا کا انتقال ہوگیا ہے، ان صاحب نے اداسی سے کہا! ہمارے گھر پر ان کے بچے آگئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جنازہ ان کے گھروں سے اٹھنا چاہیے کیونکہ وہ ان کے والد تھے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں ایسا کہنے کے لیے کہا ہو۔ لیکن ان کی طلاق ہوچکی تھی۔ اب نکاح ختم ہوگیا تو ان کو کیا فرق پڑتا ہے کہ میت کہاں سے اٹھے؟

مجھے یہ سن کر افسوس ہوا۔ اپنے چچا کے بارے میں کچھ بتائیں۔

ہمیں تو بہت کول لگتا تھا کہ منے بھائی ہمارے چچا ہیں۔ ان کے پاس ہر وقت کلاشنکوف ہوتی تھی، پستول بھی ہوتی تھی۔ سب لوگ ان کو جانتے تھے۔ کراچی کی ایک نمایاں سیاسی جماعت کے کارکن ہونے کی حیثییت سے سارا کراچی ان کو جانتا تھا۔ ہم نکڑ کی دکان سے جو چاہے جا کر لے لیتے تھے اور دکان دار سے کہتے تھے کہ منے بھائی کے کھاتے میں ڈال دیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں نائی کی دکان پر گیا اور اس سے کہا کہ میرے بال کاٹ دیں میں منے بھائی کا بھتیجا ہوں۔ اس نے ایسا ظاہر کیا کہ جیسے جانتا ہی نہیں ہے۔ کہنے لگا کہ میں کسی منے بھائی کو نہیں جانتا اور اس نے مجھ سے پندرہ روپے نکلوا لیے۔ پھر ایسے ہی اس علاقے میں رہنے والے کئی منے بھائیوں کے بارے میں دو چار سوال کرکے ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ جیسے اس کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔ میں نے اس بات کا زکر کسی سے نہیں کیا اور بات آئی گئی ہوگئی۔

واٹس ایپ پر فیملی گروپ کی چیٹ میں کل میرے بھائی نے لکھا کہ منے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے۔ جب سے ان کا پیر کٹا تھا تب سے وہ ٹھیک نہیں ہورہا تھا۔ ان کو کئی سال پہلے ذیابیطس ہوگئی تھی۔ پہلے کچھ انگلیاں کاٹی گئی تھیں پھر آدھا پیر کاٹنا پڑا۔ ان کا بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہورہا تھا۔ بہت کم ہوگیا تھا۔

کیا آپ کے چچا نے کبھی کسی کو جان سے مارا تھا؟

اس بات کا مجھے نہیں معلوم کہ چچا نے کبھی کسی کوقتل کیا ہو لیکن مڈل اسکول میں میرا ایک دوست تھا جس کا ایک کزن این ای ڈی میں پڑھتا تھا جو ایک اور سیاسی پارٹی کا ایک بدمعاش تھا جس کو اس کی پارٹی غنڈہ گردی میں استعمال کرتی تھی۔ ان کے کاموں میں ادھر ادھر جاکر فائرنگ کرنا، دکانیں بند کروانا اور ہڑتالیں کروانا شامل تھے۔ وہ کہتا تھا کہ میرے چچا نے اس کے کزن کو این ای ڈی کی سیڑھیوں پر مارا تھا۔ اب معلوم نہیں کہ اس بات میں کیا حقیقت ہے۔ چچا خود کہتے تھے کہ انہوں نے کبھی کسی کو قتل نہیں کیا۔ جب ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو وہ گریڈ 18 کے افسر بن گئے تھے۔

آپ کے چچا کیا کام کرتے تھے؟

چچا باقاعدگی سے کام پر تو نہیں جاتے تھے لیکن جس دن تنخواہ ملتی تھی تو جاکر وصول کرتے تھے۔ بہرحال سرکاری نوکری تب تک چلتی رہی جب تک ان کی پارٹی کا لیڈر لندن فرار ہوگیا۔ اس کے بعد چچا نے پارٹی بدلی تو ان کے قتل کا حکم صادر ہوا۔ پرانے تعلقات کا پاس رکھتے ہوئے ان کو درمیان میں موجود افراد نے بھاگنے ایک موقع دیا۔ اس کے بعد میرے چچا ملک سے باہر چلے گئے۔ نکاح فون پر پڑھایا گیا تھا کیونکہ حالات ابھی خراب تھے۔ جب وہ رخصتی کرنے کے لیے واپس آئے تو اپنے دوستوں کے ساتھ باہر بیٹھے تھے تو چند افراد گاڑی میں بیٹھ کر آئے اور ان کو مار پیٹ کر ادھ موا کرگئے۔ چچا پھر سے بیوی کو چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ کچھ سالوں بعد ان کو بھی باہر بلالیا۔ وہاں سے پھر وہ پنجاب چلے گئے جہاں وہ کوئی دس سال رہے۔ اس دوران ان کے دو بچے ہوئے۔ اپنی بیگم کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے بعد وہ واپس کراچی آگئے۔ اس کے بعد پھر سے ان کی بیگم نے صلح کرلی تھی۔ لیکن شادی کے پچیس سال بعد آخرکار ان کی طلاق ہوگئی تھی جس کے قریب ایک سال بعد وہ چل بسے۔

حال ہی میں انہوں نے الیکشن جیتا اور ایک تیسری پارٹی کے ممبر کی حیثیت سے انہیں یہ نیا عہدہ ملا تھا۔ ان کے ساتھ جو دیگر کارکن تھے انہوں نے ترقی کی، پیسہ کمایا، اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے اور چچا اپنی زندگی میں کچھ زیادہ کامیابی حاصل نہ کرپائے۔

آپ کیسا محسوس کررہے ہیں؟

منے چچا ہمارے دادا کی آخری اولاد تھے۔ ان کے ساتھ ایک عہد ختم ہوا۔ میں ابھی تک یہ سوچنے میں مصروف ہوں کہ کیا محسوس کروں؟ افسوس، اداسی، محبت، غصہ یا نفرت؟ چچا ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے۔ ماں باپ کے گیارہ بچے تھے۔ سب سے بڑے ہونے کی وجہ سے اپنے والد کی وفات کے بعد میرے والد کے کاندھوں پر تمام ذمہ داری آن پڑی تھی۔ انہوں نے اپنی جوانی کے کئی سال مڈل ایسٹ میں محنت میں بتائے اور اپنے خاندان کے سر پر چھت کھڑی کی جو ان کے سارے خاندان کے افراد کے لیے ایک پناہ گاہ رہی ہے۔ چچا کی عمر بمشکل بیاسٹھ سال ہوگی۔ سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے وہ دادی کے لاڈلے اور چلبلے تھے۔ انہوں نے زندگی کی ذمہ داری کو اس طرح محسوس نہیں کیا تھا جیسا میرے والد نے۔ ابھی میں نے فون ملایا تو معلوم ہوا کہ ان کو دفن کردیا گیا ہے۔ ان کی موت کے بعد ان کے دونوں بچے آدھمکے اور لڑائی شروع کی کہ ان کے باپ ہونے کی حیثیت سے چچا کا جنازہ ان کے گھر سے اٹھنا چاہیے۔ اب چچا کی آنکھیں بند ہوچکی ہیں۔ اب ان کو کیا فرق پڑتا ہے کہ جنازہ کس گھر سے اٹھایا جائے؟

Facebook Comments HS