"یو ٹیومرز” کا کچھ کرنا ہو گا


گزشتہ روز منہ نہار ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی مگر ہینڈ فری دسترس سے پرے ہونے کے سبب یک دم فون بند کرنا پڑا۔ سین کچھ یوں تھا کہ ایک پولیس اہلکار مبینہ طور پر شراب کے سرور میں بنا نمبر پلیٹ بغیر ہیلمٹ روڈ پر رواں دواں تھا اور ایک ”یو ٹیومر“ (بنا معذرت کے ) یو ٹیوبر اسے بزور بازو روکنے کی تگ و دو میں تھا۔ خود ساختہ صحافی نما یو ٹیوبر پتا نہیں کس اتھارٹی سے ٹریفک اہلکار کو فورس کر رہا تھا کہ اس کا چالان کیا جائے اور بدلے میں ماں اور بہن کی شان میں مدلل گالیاں سن رہا تھا یقیناً اس یقین کے ساتھ کہ اس کو وائرل کلپ ملے گا۔ پولیس ہمارے ہاں سب سے بدنام محکمہ ہو گا مگر پتا نہیں کیوں میرے دماغ میں پہلا سوال یہی رہا کہ یہ بندہ کیسے اس قدر زور و شور سے کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہے۔ مگر افسوس! یہ ایک فرد کا عمل نہیں تھا اب یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مجھے اس ”ذہنی مریض“ اہلکار کے رویہ سے اور بھاری بھرکم الفاظ سے ذرہ برابر ہمدردی یا اتفاق نہیں ہے۔

قارئین کے سامنے اپنی بات رکھتے ہوئے ان چند ویڈیوز/پروگرامز کا ذکر کرنا چاہوں گی جو یقیناً ایک وائرل ویڈیو بنانے کی نیت سے فلمائے جاتے رہے اور اکثر سکرول کرتے ہوئے نظر سے گزرے، جو خاص طور پر اس واقعے کے بعد مجھے ایک ایک کر کے یاد آتے رہے۔ مثلاً ناظرین! ہم آپ کو دکھا رہے ہیں یہ ایسا جوڑا ہے جس نے پسند کی شادی کی اور جنگل میں جھگی لگا کر رہ رہے ہیں اور پھر آدھی رات کو بنا کسی لحاظ یا تمیز کے اس جھگی میں گھس گئے اور زبردستی انٹرویو نما سین شروع کر لیا، ناظرین! یہ دیکھیں آدھی رات ہو چکی ہے رات کے تقریباً دو بج رہے ہیں اور سگنل پے یہ لڑکیاں بدکاری کے لیے کھڑی ہیں ہمارے سوتے ہی شہر میں بے حیائی کا بازار سج جاتا ہے اوئے لڑکی سنو۔ بات سنو اور پھر کیمرہ مائیک لیے اس کے پیچھے بھاگ لیے، ناظرین آج ہم قوی صاحب کے گھر پر آئے ہیں (دروازہ کھلتے ہی) قوی صاحب بستر پے دو چادریں کیوں ہیں؟ آپ کا بھتیجا ساتھ سویا تھا؟ آپ کے برابر میں، یہ بستر پے تیل کے داغ کیوں نظر آ رہے ہیں؟ مطلب یہ ایک الگ لیول کی بے غیرتی نہیں تو کیا ہے ہے؟ یا پھر ناظرین! یہ دیکھیں یہ پیر صاحب کی جھگی ہے انہوں نے ایک مرید لڑکی سے پسند کی شادی کی ہے اور ادھر ہی رہتے ہیں آئیں جانتے ہیں ان کے بارے میں اور پھر منہ اٹھا کر سیدھا بستر میں پڑی خاتون کے سامنے مائیک لے گئے اس سب سے بھی دل نہیں بھرا تو سنیے ناظرین! یہ داتا دربار کے سامنے کا فٹ پاتھ ہے اور یہاں لڑکی اور لڑکا ایک ہی بستر میں پڑے ہیں انہوں نے بے حیائی پھلا رکھی ہے آئیے آپ کو تفصیل سے بے حیائی دکھائیں۔ مطلب یہ کیا ہے؟ Freedom of expression کی بھی کوئی حد ہے آپ کی خود معین کردہ آزادی اظہار رائے کسی کی پرائیویسی، عزت نفس، اور کردار سے زیادہ اہم ہے یا آپ کو لگام کی ضرورت ہے اگر آپ عدم احساس نامی بیماری میں مبتلا ہیں؟

ہمارے ہاں یہ رواج ہمیشہ سے نہ تھا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میڈیا رپورٹس میں ہم صحافتی اصول یکسر نظر انداز کر کے ہمیشہ یک طرفہ رپورٹنگ ہی کرتے ہے ہیں اور جس کے خلاف کرتے ہیں ہمیشہ اس کا نظریہ جاننے کی بجائے عوام کا مائنڈ میک اپ کرتے ہیں کہ اس رپورٹنگ پر ایمان کی حد تک اعتماد کیا جائے مگر یہ یو ٹیومرز والا طریقہ کار پچھلے چند سالوں میں ہی کووڈ کے جیسے پھیلا ہے۔ میری دانست میں ایک وجہ یہ ہے کہ پچھلے دور حکومت میں اکثر صحافیوں کو بوریا بستر لپیٹ کر یوٹیوب پر دکان کرنا پڑی اب وہ اور آزاد تھے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے تو یہ ٹرینڈ ہو گیا۔ ایسے میں کچھ پرانے صحافیوں کی لفظی گولا باری نے رپورٹنگ کا ایک نیا ٹرینڈ متعارف کروایا۔ کوئی بھی شخص اپنی ذاتی مصروفیات میں جیسے کھانا کھا رہا ہے، شاپنگ کر رہا ہے یا کہیں چہل قدمی کر رہا ہے اسے چمٹ جائیے سوال پے سوال داغتے جائیے چاہے اگلا بندہ بات کرنے یا جواب دینے سے صاف انکاری کیوں نہ ہو آپ نے باز نہیں آنا بس اپنی دھن پر سوار رہنا ہے کیونکہ وہ سوال آپ نے پوچھنے کی ہمت کی اس لیے جواب ضروری نہیں جو پوچھا حرف بحرف سچ ہی تو ہے ایسے میں اگر کسی چینل سے وابستہ ہو تو آپ کا چینل اسے بار بار چلائے گا جیسے کوئی جنگ جیتی ہو اور آپ کی جے جے کار اس کے برعکس اگر یوٹیومر ہو تو بھی گھاٹے کا سودا نہیں۔

اس طوفان بدتمیزی کو ہوا دینے میں ہمارے اقرار الحسن جیسے اہنکرز کا بھی ایک الگ مقام ہے۔ مانا بہت محنت کی ہو گی، سب سچ ہو گا زندگیاں داؤ پر لگائی ہوں گی کئی بار مگر! کس اتھارٹی؟ کس قانون کے تحت؟ سٹیٹ کی رٹ کو چیلنج کرنے والے ایسے دسیوں پروگرامز پیمرا کو برسوں سے نظر کیوں نہیں آ رہے؟ اب وقت ہے اس سلسے میں جامع قانون سازی اور پھر عملدرآمد کا کیونکہ اب یہ طوفان بدتمیزی ایک ٹرینڈ چل نکلا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کبھی بیشتر میٹرک پاس آئی کام کی طرف نکل پڑے تھے بنا کسی پلاننگ کے، یا پھر ماس کمیونیکیشن کی ہوا چل نکلی تھی، جیسے کبھی خواتین لمبے کرتے نکال لیتی ہیں کبھی شارٹ پاجامے آج ہر وہ بندہ جس کے ہاتھ میں موبائل ہے سمجھتا ہے اسے یوٹیوبر بننا ہے بس ایک وائرل کلپ اور پیسے کے ڈھیر لگ جائیں گے ان شارٹ کٹ پسندوں کے ہاتھوں میں یوٹیوب ماچس کی مانند ہے، خدارا! سٹیٹ کو کچھ کرنا ہو گا اس سے پہلے کہ یوٹیوبرز کی ہوا یوٹیومرز کی وبا میں تبدیل ہو جائے۔

Facebook Comments HS