بلوچستان کی خونی شاہراہیں


مملکت پاکستان میں بلوچستان وہ بد نصیب صوبہ ہے جہاں آپ کو ہر وقت ہر جگہ صرف مرنے کے مواقع میسر ہوتے ہیں۔ یہاں زندہ رہنے کے بیشتر امکانات ختم کر دیے گئے ہیں۔ بقول شاعر:

کتنی مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت

آپ اگر دہشتگردی کے واقعے میں مرنے سے بچ جاتے ہیں تو قبائلی دشمنی میں کوئی گولی آپ کے سر کے آر پارے ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کی قبائلی دشمنی بھی نہیں ہے تو کسی اندھی گولی سے آپ کی زندگی کا چراغ بجھنے میں دیر نہیں لگتا۔ اور ان سب سے اگر آپ کسی طرح بچ جاتے ہیں تو روڈ ایکسیڈنٹ میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ یہاں مین سٹریم میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک روز ٹریفک حادثے کی کوئی نہ کوئی خبر آ ہی جاتی ہے۔ آئے روز ہونے والے جان لیوا ٹریفک حادثات ایک وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس کی وجہ سے سالانہ ہزاروں انسان قیمتی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

موٹر ویز کے صوبائی پولیس چیف کے مطابق صوبہ بلوچستان میں ہر سال 6000 سے 8000 افراد سڑک حادثات میں جان بحق ہو جاتے ہیں۔ یہ تعداد بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں مرنے سے بھی نسبتاً زیادہ ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ دو ہفتوں سے کوئٹہ سے ڈی آئی خان تک پھیلی ہوئی شاہراہ پر تقریباً دس افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے اور ایک ہی گھڑی میں کئی گھر اجڑ گئے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ لوگ سڑک حادثات کو ابھی تک ایک مسئلے کے طور پر دیکھتے ہی نہیں، جسے حل کیا جا سکتا ہے۔ بجائے اس کے کہ لوگ اسے قدرتی موت سمجھیں، لوگوں کو اس کی وجوہات اور اس کے حل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سڑک حادثات کی نوعیت اور وجوہات اگر چہ صورتحال کے مطابق مختلف ہوتی ہیں لیکن زیادہ تر کیسز میں ڈرائیور نشے کی حالت میں ہوتے ہیں یا ڈرائیونگ کے دوران نشہ کرتے ہیں یا ان کی نیند پوری نہیں ہوئی ہوتی۔ ایسی لاقانونیت پر نظر رکھنے کے لیے اہلکاروں کا فقدان اور سڑکوں کی خستہ حالی اور یک لینی کے باعث حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں قوانین کی پاسداری نہیں کرتی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے گاڑیوں کی اوور لوڈنگ اور اوور سپیڈنگ کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی چیکنگ نہیں ہوتی جو کہ بعد میں دوسروں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں ژوب کے رہائشی ڈاکٹر ہلال کاکڑ کار میں کوئٹہ کے سفر پر نکلے تو ان کو کوئی خبر نہ تھی کہ آج کا یہ سفر ان کا آخری سفر ہو گا؛آج کے دن بلوچستان کی خونی شاہراہ پر مجھے کوئٹہ پہنچنا بھی نصیب نہیں ہو گا۔ ان کو کیا پتہ تھا کہ آج کا دن ان کے پسماندگان کو آنسوؤں کے سمندر میں ڈبو دیا جائے گا۔ بلوچستان میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا خاندان ہو گا جو روڈ ایکسیڈنٹ سے متاثر نہ ہوا ہو پھر بھی حکومتی ادارے یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ اس کے لئے کوئی حل نکالے۔ یہ ہمارے لیے ناقابل برداشت درد ہے جہاں آئے روز ہمارے بہن بھائی حادثات کا شکار ہو رہے ہیں لیکن حکومت بلوچستان ابھی تک سڑک حادثات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ حکومت نے سڑک حادثات پر کام نہ کیا تو بلوچستان کے باسی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مشکلات کا شکار رہیں گے۔ موجودہ دور میں معاشی ترقی کے لئے کشادہ سڑکیں ایک اہم جز ہیں۔ آسان اور محفوظ آمد و رفت سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ بے روزگاری کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

Facebook Comments HS