انسانوں کے بادشاہ


سرزمینِ عرب پر جہالت کی گہری گھٹاٸیں چھاٸ ہوٸ تھیں۔ مقصدِ انسانیت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ کہیں ظلمتِ شب کا بسیرا تھا تو کہیں دن کے اجالے میں سسکتی معصوم روحوں کو زندہ زمین میں گاڑھ دیا جاتا تھا۔ کفر کے ایوانوں میں ظلم کی داستاں رقم کرتے بُو جہلی و بُو لہبی کردار اپنی طاقت کے نشے میں مست تھے۔ دینِ ابراہیمی سے کوسوں دور عرب معاشرہ گمراہی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ہُبل بُت کے سامنے ماتھا ٹیکنے سے لے کر لات ،منات اور عُزی کی تنصیب تک ساری شرک و بت پرستی قریش کے رگ و جان میں سمو چکی تھی۔

قریش کی اخلاقی حالتِ زار سے لیکر معاشرتی پستی تک کوٸ کَل سیدھی نہ تھی۔ مرد و زن کے آپسی تعلقات کی کوٸ متعین و با شرع صورت موجود نہ تھی جس کی وجہ سے بے حیاٸ اور اخلاقی براٸیاں جنم لے رہی تھیں۔ اقتصادی حالت اس قدر خراب تھی کہ سواۓ حرمت والے مہینوں کے امن و سلامتی کا وجود ناپید تھا جس کی وجہ سے فقر و فاقہ عام تھا۔ سارا سال مال و متاع لڑاٸیوں کی زد میں رہنے کی وجہ سے لوگ ضروری لباس اور خوراک سے بھی محروم رہتے تھے۔
الغرض یہود و نصاریٰ کی اپنے ادیان سے دوری اور عرب کی دین ابراہیمی سے لاتعلقی نے ہر طرف افراط و تفریط کا ماحول بنا رکھا تھا۔

ایسے میں رحمتِ عالم سرورِ کونین ﷺ مبعوث ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کی دنیا میں آمد سے قیصر و کسرٰی کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوا۔
عرب کی سرزمین پر چھاٸ تاریکیاں اجالوں میں بدل گٸیں۔ انسانیت کی بقا ٕ کو دوام ملا۔ تکریم انسانیت اور الفت و محبت کی وہ صبح نمودار ہوٸ کہ بنتِ حوا کو زندہ زمین میں دفن کرنے کے بجاۓ چادر و چار دیواری کے لیے”رحمت”قرار دیا گیا۔”جنت” کو ماں کی قدموں تلے قرار دے کر معاشرتی اکاٸ کی اہم ترین بنیاد رکھی گٸ۔ قریش و مشرکین مکہ کے سرداروں کی آمرانہ روِش کو زمین بوس کرنے کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ میں رکھے تین سو ساٹھ بتوں کو بھی پاش پاش کیا گیا۔

مظلوم انسانیت کے درد کا مداوا بننے والے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ "رحمة للعٰلمین”کا تاج اپنے سر مبارک پر سجاۓ قیامت تک کے لیے انسانوں کے بادشاہ ہیں۔ وہ بادشاہ جو خود تو بھوکا رہے لیکن بھوکے پیاسوں کو اپنے دستِ مبارک سے کھلاۓ۔ جاہل و باغی رعایا کے لیے ہدایت کا سرچشمہ بنے۔ وہ سرچشمہ جسکی نہریں روزِ محشر تک جاری و ساری رہیں گیں۔ دشمن کے لیے شفیق و مہربان بنے۔ ایسے مہربان جو اپنے مخالفین کو فتح مکہ والے دن "لا تثریب علیکم الیوم”کہہ کر گلے لگا لے۔ مشرکین کے لیے توحید کے داعی بنے۔ وہ داعی جو تین سو تیرہ والی جماعت کو ہزار کے مقابلے میں صف آرا ٕ کرکے ذاتِ باری تعالی پر کامل یقین کا ذریعہ بنے۔ یتیموں کے لیے سہارا بنے۔ ایسا سہارا کہ یتیم کو اپنے سینہ مبارک سے لگا کر اس کے تن من دھن کا محافظ و آسرا بنے اور یتیم کی پرورش کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ کھڑا ہونے کی نوید سناۓ۔

آپﷺ نے خالقِ کاٸنات کی حقیقی پہچان اور "عبودیت”کا حقیقی معنی سمجھایا۔ معاشرے میں جاری ظلم و جبر کے سامنے سیسہ پلاٸ دیوار بننا ہو یا شرک کے بجاٸے توحید پر کاربند رہنا، اس عظیم ترین درس کی عملی تصویر آپﷺ نے اپنی امت کے سامنے رکھی۔ آپﷺ کے زیر تربیت حسن و حسین رضی اللہ عنھما کے سجدے انہی اعلی مقاصد کو زندہ رکھنے کے لیے قیامت تک امر ہوۓ۔ نبوی سنّت کو زندہ و تابندہ رکھتے ہوۓ حیدر کرّار رضی اللہ عنہ کی تلوار کی ضرب روزِ محشر تک مظلوم انسانیت کی بقا ٕ کا ذریعہ ہے۔ آپﷺ نے دنیا سے بے رغبتی اور سخاوت و غنیٰ کا ایک ایسا پیکر بھی تیار کیا کہ جس کی سخاوت پر فرش سے عرش تک رشک کیا جا سکے۔اس ہستی کو دنیا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے عدل و مساوات کا ایک روشن ستارہ اپنی امت کو سپرد کیا کہ جن کی عدالت کی گواہی تھرتھراتی زمین اپنے سکوت سے پیش کرے۔اس عادل کو دنیا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پکارتی ہے۔ حق گوٸ و بیباکی کی ایسی اعلی ترین ہستی کو اپنا رفیق بنایا کہ جنکی صداقت کی گواہی آپ ﷺ کی قاٸم کردہ عمارت کے لیے بنیادی اینٹ ثابت ہوٸ۔ یہ روشن مینار ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی عظیم ہستی کا ذکر ہو یا حضرت زید رضی اللہ عنہ کی آپ ﷺ سے محبت و الفت ،یہ سب رحمة للعلمین کی محفل کے روشن ستارے ہیں۔

الغرض انسانوں کو غلام بنا کر تو ہزاروں بادشاہ بنے لیکن غلاموں کو آذاد انسان بنا کر جو بادشاہ بنے وہ ہمارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ ہیں۔۔۔۔

Facebook Comments HS