(2) کھلی آنکھوں کا خواب


بچپن کا محرم اور اہل بیت سے محبت کا بیج:

کالے عبائیے میں ملبوس خواتین اور بچے تھے۔شکر ہے شروع کی دو سیٹیں ملیں۔ جہاں پاؤں لمبے کرکے رکھے جاسکتے تھے۔ جہاز رن وے پر دوڑنا شروع کرے تو سفر اور حفاظت کی دعاؤں میں تیزی آجاتی ہے اور جب جہاز زمین کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتا ہے تو گھبراہٹ سی ہونے لگتی ہے۔ مگر دیکھا تو آج نسیم گھبرائے گھبرائے سے لگ رہے تھے۔

خیر ہے، طبیعت ٹھیک ہے؟

ہاں مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ انجیو پلاسٹی کے بعد پہلا ہوائی سفر ہے۔ کہیں سانس خراب نہ ہوجائے۔

نہیں ان شاءاللہ کچھ نہیں ہوگا۔

جہاز زمین کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوا۔ دن کی روشنی میں لاہور کے فضائی نظارے کئے۔ بہت جلد جہاز بلندیوں کو چھوتے ہوئے ہموار ہوا تو نسیم کی اڑی اڑی رنگت بحال ہوئی۔ شکر ہے طبیعت ٹھیک ہے۔انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔میں نے اطمینان کی سانس لی۔اور سفر کی دعائیں پڑھتی رہی تاآنکہ ائیر ہوسٹس ٹرالی لے آئی اور ڈبے سامنے رکھ دئیے۔ ہائیں یہ کیا تھوڑی سی حیرانگی ہوئی۔ مجھے پیاس لگ رہی تھی۔ خیر کچھ دیر بعد ڈبہ کھولا تو اس میں جوس موجود تھا۔ ایک چکن شورما سا، میٹھے چاکلیٹ بسکٹ سے۔ اب اس میں میٹھے بسکٹ ہی میرے کھانے کے تھےسوانہیں رغبت سے کھایا۔

یہ چار گھنٹے کی فلائٹ تھی اور اب ہلکی پھلکی بھوک کا احساس ہورہا تھا۔ ہلکی پھلکی بھوک میں چاکلیٹ بھرے بسکٹوں نے شادکام کیا اور کھاتے ہی شکر کے گہرے احساس میں ڈوب کر سجدۂ شکر ادا کیا۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ فلائی بغداد کے اس کھانے پر ہمارا نام لکھا تھا۔ میں نے اپنے نصف بہتر کی طرف دیکھا اور ایک بار پھر شکر گزار ہوئی کہ اس سال پہلے ان کا ہرنیا کاآپریشن ہوا، پھر اچانک دل میں درد اٹھا اور انجیو گرافی ہوئی۔ پھر اوائلِ رمضان میں 3 اسٹنٹ ڈالےگئے۔ اللہ کالاکھ لاکھ شکر کہ ان کے ساتھ سفر کر رہی ہوں۔ اللہ زندگی کے اس ہم سفر کی عمر طویل فرمائے کہ ان کے ساتھ حج، عمرے، کینیڈا، دوبئی اور اندرون پاکستان کئی خوش گوار اور یادگار اسفار کئے۔ اللہ سبحان وتعالیٰ کے شکر کے ساتھ دل ہی دل میں ان کی زندگی اور سلامتی کی دعائیں مانگ ڈالیں۔

جہاز ہوا کے دوش پر محو پرواز تھا اور میں یادوں کے!

آج فلائی بغداد میں نجف اشرف کی طرف محو پرواز انوکھے سے احساسات اور جذبات تھے۔ اپنی کم مائیگی کا احساس، اللہ کی عطائے خاص اور جانے کیا کیا۔ کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا تو ہم بادلوں کے پرے کے پرے بہت نیچے اڑ رہے تھے اور خیالات بھی ایسے ہی آتے چلے جارہے تھے۔

ہماری کاروانِ حوا کی بہت پیاری بیٹی تابندہ فرخ کا سفر نامہ پشاور سے کربلا تک یاد آیا جس میں انہوں نے لکھا کہ انہیں پہلے خواب میں تمام زیارات دکھائی گئیں اور جب وہ مسلسل یہ خواب دیکھتی رہیں تو پھر زیارات کا سفر کیا اور سفرنامہ لکھا۔

اللہ میں نے تو کوئی خواب بھی نہیں دیکھا۔ کوئی بشارت کوئی اشارہ اس سفر کا نہیں ملا۔ پھر دل کا جواب آیا۔ کچھ خواب کھلی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں اور خدائے رحیم وکریم ان جاگتی آنکھوں کے خوابوں کو تعبیر کر دیتے ہیں۔ دل کی آواز سننے والے میرے سوہنے رب تیرا شکر کیسے ادا کروں۔ بے اختیار پھر سجدۂ شکر کیا۔

محبت کے کچھ بیچ دل کی زمین میں بچپنے سے ایسے بوئے جاتے ہیں کہ کب وہ تناور درخت بنے یہ پتہ ہی نہیں چلتا۔

یادش بخیر بچپن میں محرم کا چاند نکلتے ہی اداسی اور غم کی چادر سی تن جاتی۔ ٹی وی تو تھا نہیں، واحد تفریح ریڈیو تھا۔ اس پر گانے وغیرہ کے تمام پروگرام دس دن مکمل بند ہوتے۔ کوئی موسیقی سنائی نہ دیتی۔ ریڈیو پر سارا دن نوحے اورمرثیے نشر ہوتے جو ماحول کو اور بھی سوگوار بنادیتے۔ ہمارا گھر مسجد حاجی بہادر صاحب کے قریب تھا۔ مسجد میں بھی خاص اہتمام کے ساتھ محرم الحرام کے فضائل بیان ہوتے۔ خاص طور پر آخری تین دنوں میں مسجد حاجی بہادر صاحب میں باہر سے بڑے بڑے علماء بلائے جاتے۔ مسجد کے خطیب پیر میر عالم شاہ خود اعلیٰ پائے کے خطیب تھے۔ وہ خود بھی اور مہمان علماء بھی پُرجوش تقاریر کرتے۔ دوسری طرف سب سے بڑا امام باڑہ پیر حبیب کا تھا، جہاں سے مرکزی جلوس اور ذوالجناح نکلتا۔ وہ قریب ہی تھا۔ ان کے جلوس نکلتے، ذاکر بیان کرتے۔ سنی اور شیعہ دونوں اپنے اپنے انداز میں محرم مناتے اور احترام کرتے۔ کوئی اختلافی مسئلہ لڑائی جھگڑا سننے میں نہ آتا بلکہ سنی لوگ شربت کی سبیل لگاتے۔

اللہ بخشے ہمارے رشتے کی نانی پھپھو اماں تو محرم کے دس دن مختلف چیزیں بنا بنا کر تقسیم کرتیں۔ دوسری تیسری محرم کو مکئی کے دانے بھٹی سے گرما گرم پسوا کر لائے جاتے۔ بڑے بڑے کشرے (ٹوکرا)بھر کر سر پر رکھ کر محلہ پیر عبداللہ شاہ کے قریب گیلانی خاندان کی بزرگ خاتون کے گھر جاتے۔ وہاں شہر بھر کی خواتین کشروں سمیت آئی ہوتیں۔ مکئی کے دانوں کو بی بی صاحبہ ملا کر دعا کرتیں۔ فاتحہ دلواتیں اور کچھ حصہ رکھ کر باقی واپس کشروں میں ڈال دیتیں۔ دعائیں کر، سب سے مل ملا کر گھر کی راہ لیتے۔ محرم الحرام کی چوتھی یا پانچویں تاریخ کو مس ( تانبہ ) کے بڑے سے دیگچے میں دل (موٹی موٹی گندم بطور خاص پسوائی جاتی ) رات بھر دھیمی آگ پر پکتے رہتے۔ صبح گڑ ملا کر گھی کا تڑکا لگا کر گھروں میں تقسیم کئے جاتے۔ پھر آخری دو دنوں میں بہت اہتمام سے کھیر بنائی جاتی۔ پستے بادام کی ہوائیاں چھڑک کر، چاندی کے ورق لگا کر رشتے داروں اور دوستوں کے گھر بھجوائے جاتے۔ سب سے اچھی بات یہ کہ بچوں کاحصہ الگ سے آتا۔ مٹی کے وارے (پرچ سی) میں کھیر اور مٹی کی ڈولی میں شربت ہوتا۔

10محرم کو حبیب شاہ کےمرکزی امام باڑے سے جلوس اور ذولجناح نکلتا جسے دیکھنے کے لئے پھپھو اماں مجھے لے کر اپنی ایک دوست کے گھر جاتیں جن کی چھت سے جلوس اور زنجیر زنی دیکھی جاسکتی تھی۔ گزرتے ہوئے جلوس اور تعزیے، ڈولی کو دیکھ کر عورتیں دعائیں بھی کرتیں اورمنتیں بھی مانگتیں۔ سنی لوگ اپنے طور پر شہدائے کربلا کے غم کو مناتے اور آنسوؤں سے خراج تحسین پیش کرتے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے جلوس کے راستے میں سبیلیں لگا کر مذہبی رواداری کامظاہرہ کرتے۔

ہماری پھپھو اماں پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن ان دنوں وہ بیبیوں کے مصائب بیان کرکے روتی رہتیں اور ہمیں بھی تلقین کرتیں کہ غمِ حسین میں آنسو بہانا باعث ثواب ونجات ہے۔

پھر کتاب پڑھتے ہوئے ریڈیو سننا ہمیں بہت پسند تھا۔ خاص طور پر میر انیس کے دل گداز مرثیے زیڈ اے بخاری ایسے گھن گرج اورزیروبم کے ساتھ پڑھتے کہ آنکھوں کے آگے نقشہ کھینچ جاتا اور بے اختیار آنکھیں برسنے لگتیں۔

پھر 1969ء میں ٹی وی آگیا مگر اس کے مخصوص اوقات تھے جس کا ہم بے چینی سے انتظار کرتے۔ جب کہ ریڈیو ہر وقت دستیاب تھا۔ خیر عشرہ محرم کے آغاز سے ہی ہفتہ وار ڈرامے، تفریحی پروگرام بند کر دئیے جاتے اور محرم الحرام کے حوالے سے مختلف پروگرام پیش کئے جاتے۔ اناؤنسر بھی بغیر میک اَپ کے دکھائی دیتیں۔ اب مرثیے سننے کے ساتھ دیکھنے لگے۔

طارق عزیز، طلعت حسین اور اداکار محمد علی تحت اللفظ مرثیے پڑھتے۔ گو کہ خوب پڑھتے مگر زیڈ اے بخاری کی جگہ کوئی نہ لے سکا۔ محرم کے سارے پروگرام میں بہت شوق سے دیکھتی۔ محفل مسالمہ کی بھی کیا بات تھی۔ جوش ملیح آبادی کے مرثیے نہ صرف سنتی بلکہ ساتھ ساتھ لکھتی بھی۔ ان کا ایک مرثیہ جس میں وہ پہلے زندگی اورموت کو مختلف شاندار استعاروں اور تشبیہات کے ساتھ بیان کرتے اور پھربتاتے کہ موت کی کالی بلا کو کس نے سہانا کر دیا۔ یہ مرثیہ میں نے آج بھی ایک کاپی میں لکھ رکھا ہے۔

1970ء میں، میں دسویں جماعت میں تھی۔ جب پہلی دفعہ شام غریباں میں رشید ترابی کو سنا۔کیا فلسفیانہ موشگافیاں اور اندازِ بیاں تھا کہ ایک ایک لفظ دل میں اترتا چلا جاتا۔ آج بھی ان کی باتیں ذہن میں تازہ ہیں۔ آخر میں وہ جس طرح میر انیس کو پڑھتے ہوئے روتے اور رلاتے، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ بعد کے زمانے میں بہت سوں کوسنا مگر زیڈ اے بخاری کی طرح رشید ترابی کی جگہ کوئی نہ لے سکا۔

تو اہل بیت سے محبت کابیچ بچپن سے ہی دل کی زمین میں بویا گیا ہے۔

آج میں دسویں کلاس کی طالبہ اپنی پوتی اور نواسی کو دیکھتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں کہ ایسی لا اُبالی عمر میں ایسے سنجیدہ موضوع مجھے پسند بھی تھے اور سمجھتی بھی تھی۔ یا اللہ یہ بھی تیری عطائے خاص تھی اور ہے۔ دل پھر شکر گزار ہوا کہ سوئے نجف رواں ہوں۔ پھر دورانِ تعلیم انیس ودبیر کو پڑھا مگر میر انیس کی کیا بات ہے۔ پھر کالج میں ایف جی اور مردان بورڈ کو پڑھاتے ہوئے میر انیس کے مرثیے ایسے جوش وجذبے سے پڑھاتی کہ خود ایک خاص کیفیت میں ڈوب ڈوب جاتی۔

گلزار نے کتابوں کی خوشبو اور ورق پلٹنے کے کیف کو بہت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ ایک اور نظم میں اردو زبان کی مٹھاس اور چاشنی کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بولیں توجیسے قوام یا شرینی منہ میں گھلتی جائے۔

ادب پڑھاتے ہوئے زبان وبیان کی شیرینی اور حسن خیال سے پڑھانے والا خود لطف اندوز ہوتا ہے۔ میرا تو یہی تجربہ ہے۔ ادب پڑھانے والے یقیناً میرے خیال سے اتفاق کریں گے۔ (جاری ہے)

Facebook Comments HS