بے خبری کی تاریخ


’مبینہ مملکت خداداد‘ کے صدر مملکت نے اچانک مہا انکشاف کر کے سیاست میں ایک نئی ہلچل سی پیدا کردی ہے، جس کے بعد اب آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل 2023 ء اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 ء پر صدر نے دستخط کیے ہیں یا نہیں والا سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے اور موضوع بحث بھی بنا ہوا ہے، بہرحال تمام چیزیں اپنی جگہ پر اہمیت رکھتی ہیں مگر صدر عارف علوی نے یہ انکشاف کرنے میں اتنی دیر کیوں لگادی یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے، بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ دونوں بلز کی منظوری سے سابق وزیراعظم عمران خان ان سے نالاں ہیں اس لیے اپنے دیرینہ دوست اور سیاسی محسن کی ناراضگی انہیں کچھ اچھی نہیں لگی لہٰذا ایوان صدر میں بیٹھے بیٹھے ایک ٹویٹ داغ دی اور بڑے، بڑوں، اچھے، اچھوں کی بے خبری پر مبنی ملکی سیاسی تاریخ میں ایک اور بڑی ’بے خبری‘ کا اضافہ کر ڈالا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں سے منظور کیے گئے دونوں بلز آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ترمیمی بل میں شامل کی گئی شقوں کو پہلے سے ہی تکراری قرار دیا جا رہا تھا جو صدر کی جانب سے اختیار کی گئی بے خبری کے مزید تکراری بن گئی ہیں مگر ہو گا وہی جو چاہنے والے چاہتے ہیں، لہٰذا صدر عارف علوی کے تازہ انکشاف کو مخالف سیاستدانوں اور جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا کے مصداق اب دیکھنا ہو گا کہ آیا ڈاکٹر عارف علوی منصب صدارت کو خیرباد کہہ کر اپنے لیڈر کی کیمپ میں جا کھڑے ہوتے ہیں یا پھر دیگر کئی لیڈرز کی طرح اپنے نام کے ساتھ ’سابقہ انصافینز‘ کا ٹیگ لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اظہار بے خبری پر مبنی ایوان صدر کی ٹویٹ کے بعد جو ہنگامہ کھڑا ہوا ہے اس سے کوئی حیرت اخذ نہیں کی جا سکتی کیوں کہ ملک کی سیاسی تاریخ بڑوں کی ایسی بے شمار بے خبریوں پر مبنی ہے جو پاکستان بننے کے فوری بعد جان بوجھ کر یا پھر انجانے میں ( اللہ ہی بہتر جانے ہے بھایو! ) سرزد ہوئی ہیں اور بے خبری کا یہ حال تھا کہ بانیٔ پاکستان کو 11 ستمبر 1948 ء کو ماڑی پور ائرپورٹ سے اسپتال پہنچانے تک ایک کھٹارہ ایمبولینس فراہم کردی گئی، جس سے اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان اور کابینہ کے دیگر ممبران شاید ’بے خبر‘ تھے، 1949 ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان نے قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 ء والی تقریر سے بے خبری کا اظہار کرتے ہوئے دستور ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد کو منظور کروا دیا، خیر وقت گزرتا گیا، محلاتی سازشوں کی داغ بیل بھی ڈال دی گئی اور 16 اکتوبر 1951 ء کو پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو کمپنی باغ میں سرعام گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا، ان کے قاتل افغان شہری سید اکبر کو بھی وہیں گولیوں سے بھون کر تمام ثبوت ختم کر دیے گئے، ملکی تاریخ کے اس پہلے ہائی پروفائل قتل سے تمام بڑوں نے مکمل طور پر بے خبری کا اظہار کیا اور بعد میں وزیراعظم کے عہدے کے لئے میوزیکل چیئر گیم جاری رہی، جس کے بعد 1958 ء میں اچانک ایوب خان آ گئے سیاستدانوں کو نا اہل کہا اور اقتدار کی باگ ڈور سنبھال کر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے، گیارہ برس تک فیلڈ مارشل رہے، جنوری 1965 ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں جناح صاحب کی ہمشیرہ اور عوامی حمایت یافتہ امیدوار فاطمہ جناح کو شکست دی، ستمبر 1965 ء میں پاک۔ بھارت جنگ چھڑ گئی، تمام بڑے اس بڑے واقعے یعنی اچانک جنگ چھڑ جانے سے بے خبر رہے مگر قوم نے متحد ہو کر فوج کا ساتھ دیا اور عزت بچالی۔

9 جولائی 1967 ء کو محترمہ فاطمہ جناح انتہائی پراسرار حالات میں کلفٹن کراچی میں واقع اپنی رہائشگاہ موہٹا پیلیس میں مردہ پائی گئیں، ان کی موت کو طبی قرار دے کر دفنا دیا گیا، تمام بڑوں نے کسی بھی شک و شبہے کا اظہار نہیں کیا اور ’بے خبر‘ رہے، وقت گزرتا رہا، سیاسی حالات بدلتے گئے، ”پرنٹ و الیکٹرانک قومی میڈیا“ سب اچھا ہے، سب ٹھیک ہے کا راگ الاپ کر قوم کو مکمل طور پر بے خبر رکھنے میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے اور بالآخر 16 دسمبر 1971 ء بھی آں پہنچا، مشرقی پاکستان نے جان چھڑا کر بنگلادیش بننے میں عافیت جانی، ایوان صدر میں بیٹھے عیاش انسان یحییٰ خان نے بے خبری کا اظہار کیا، بھٹو صاحب کو اقتدار سونپ کر پتلی گلی سے نکل گیا، ذوالفقار علی بھٹو جیسا ذہین سیاستدان بھی کئی معاملات و واقعات سے بے خبر رہا اور یوں 5 جولائی 1977 ء کا دن آ گیا، جنرل ضیاء نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، بھٹو صاحب بے خبر رہے، ایک بار پھر گیارہ سال تک خوف، ڈر، جہالت اور انتہاپسندی کے بھیانک سائے چھائے رہے، طالبان نمودار ہوئے، ہیروئن، کلاشنکوف کلچر، فرقہ واریت، لسانیت کو پران چڑھایا گیا، ماڈل ڈکٹیٹر جان بوجھ کر بے خبر رہے اور 17 اگست آں پہنچا فضا میں دھماکہ ہوا، ملک و ملت کی جان چھوٹ گئی اور بڑے اس بار بھی خوش قسمتی سے بے خبر رہے۔

دسمبر 1988 ء میں محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا، اہم اور حساس قومی معاملات سے بے خبر رہیں یا پھر بے خبر رکھا گیا اور 18 ماہ کی قلیل مدت میں صدر غلام اسحاق خان عرف خاموش پانی نے 58 ( 2 ) بی کا کلہاڑا مار کر انہیں اقتدار سے محروم کر دیا، محترمہ بینظیر بھٹو بے خبر رہیں، 1993 ء میں دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئیں، معاملات یونہی چلتے رہے، 20 ستمبر 1996 ء کو سندھ کے دارالحکومت کراچی میں وزیراعظم بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو 70 کلفٹن کی رہائشگاہ کے باہر ساتھیوں سمیت بے دردی سے قتل کر دیا گیا، وزیراعظم بے خبر رہیں، دو ماہ بعد اپنی ہی پارٹی کے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا وہ بے خبر رہیں، اسی طرح 27 دسمبر 2007 ء کی شام بینظیر بھٹو کو بھی قتل کر دیا گیا، تمام بڑے اس ہائی پروفائل قتل سے ”بے خبر“ رہے، یہاں تک جائے وقوعہ کو دھوکر تمام اہم ثبوت مٹا دیے گئے۔ اسی طرح میاں نواز شریف کو 1993 ء، 1999 ء اور 2017 ء میں تین مرتبہ قبل از وقت اقتدار سے الگ کر دیا گیا، وہ بے خبر ہی رہے۔

نائن الیون کے بعد پرویز مشرف نے امریکہ کو القاعدہ، طالبان اور دیگر مذہبی جنگجوؤں کے خلاف افغانستان میں کارروائی کے لئے فوجی اڈوں سمیت تمام تر تعاون فراہم کیا، عوام بے خبر رہے اور یوں خودکش حملوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج بھی جاری ہے، محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کے پہلے دور اقتدار میں 2 مئی 2011 ء کو امریکی فوج نے ایبٹ آباد میں ایک کمپاؤنڈ میں آپریشن کر کے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا، پوری قوم، اسٹبلشمنٹ، سیاستدان، حکومت بے خبر رہے، شور مچا، پارلیمنٹ کے ان کیمرا اجلاس ہوئے اور سب گھر چلتے بنے۔

اگست 2018 ء میں وزارت عظمیٰ کا مسند سنبھالنے کے بعد عمران خان جو قبل از اقتدار بڑھکیں مارتے تھے میں یہ نہیں کروں گا، میں یہ کر کے دکھا دوں گا، سب سراب ثابت ہوا، محض ساڑھے تین برس پر مشتمل قلیل مدت میں ان سے وہ سب کام کروائے گئے جو بقول ان کے ”بے خبری“ میں سرزد ہو گئے، اب ایوان صدر میں بیٹھے کپتان کے دیرینہ سیاسی رفیق ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اظہار بے خبری کرتے ہوئے بے خبری کی تاریخ میں ایک اور باب بے خبری کا اضافہ کر دیا ہے، آگے کیا ہو گا، اس کے لئے انتظار کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS