احمد بشیر کی کتاب "جو ملے تھے راستے میں”


شکر ہے یہ کتاب بھی میرے ہاتھ لگی۔ اس سے پہلے میرا کبھی ”خاکہ“ پڑھنے کا اتفاق ہی نہیں ہوا۔ شاید دلچسپی ہی نہیں تھی۔ لیکن اس کتاب نے میرے اندر خود بخود خاکہ نویسی کے متعلق دلچسپی پیدا کر دی۔ یہ خاکے اس لیے بھی دلچسپ لگے کہ ایک بندہ اپنے بارے میں لکھتا ہے، آپ بیتی یا خود نوشت۔ اس میں مبالغہ آمیزی بھی ممکن ہے۔ لیکن ”خاکہ“ آپ کے بارے میں وہ لوگ لکھتے ہیں جن کے ساتھ آپ کے چند لمحات گزرے، اور ان لمحات میں انہوں نے جو آپ سے تاثر لیا یا جو آپ سے بات چیت کی اسے لکھ دیا جاتا ہے۔

اس کتاب کا (پیش لفظ) دیباچہ بھی بہت اہم ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ احمد بشیر نے اپنی اس کتاب کے شروع میں مختصر انداز میں اپنی آپ بیتی لکھ دی۔ لاہور کے بڑے علماء نے احمد بشیر کو کافر اور واجب القتل ٹھہرا دیا تھا۔ احمد بشیر کے قتل کا فتویٰ دینے والے علماء میں ڈاکٹر اسرار احمد سمیت کئی بڑے علماء ملوث تھے اور یہ فتویٰ ان پر مذکورہ کتاب کے سبب ہی لگا تھا۔ یہ فتویٰ علماء سے اس لیے سرزد ہوا تھا کیونکہ احمد بشیر پر شراب نوشی کا الزام تھا۔

احمد بشیر اپنے اس پیش لفظ میں سوال اٹھاتے ہیں کہ شراب نوشی اسلامی تاریخ میں کب اجنبی تھی؟ ان کے بقول امیہ، عباسی، سلجوقی، عثمانی، فاطمی اور مغل بادشاہ اکثر بدمست رہتے تھے اور ان کے حرموں میں کنواریوں کے حجابات الٹے جاتے تھے۔ پھر وہ قیام پاکستان کے بعد والے حکمرانوں پر سوال اٹھاتے ہیں کہ ایوب خان اور یحییٰ خان کی شراب نوشی کس سے چھپی ڈھکی تھی۔ مولویوں کو ان سے ملاقات پر تو کبھی اعتراض نہ ہوا۔ کبھی انہوں نے اس کے خلاف قتل کا فتویٰ نہ دیا، کیوں؟

اس لیے کہ طاقتور ہیں اور میں کمزور! حد تو یہ ہے کہ حسب معمول احمد بشیر پر بھی علماء کا فتویٰ ان کی کتاب پڑھے بغیر اور ایک دوسرے کی سنی سنائی تھا۔ شاید یہ غیر سنجیدہ رویہ ہمارے برصغیر پاک و ہند کے علماء کا ازلی وتیرہ ہے۔ بہرحال احمد بشیر نے اپنی زندگی کا یہ حصہ بہت اذیت میں گزارا اور اگر وہ رتی بھر بھی مذہب سے بدظن ہوئے ہوں تو اس میں سراسر قصور ان مولویوں کا ہے، جنہوں نے ان کی زندگی اجیرن بنائے رکھی۔ اب کچھ باتیں احمد بشیر کے لکھے گئے خاکوں پر ہو جائیں۔ یقیناً یہ کتاب ہماری خاکہ نویسی کی تاریخ میں بہت اہم ہے۔

ہر شخص دوسرے کے اندر اپنے پسند کی خوبی تلاش کرتا کرتا ہے۔ جس طرح احمد بشیر نے اپنے ”خاکوں“ میں دوسروں کا سوشلسٹ یا کمیونسٹ ہونا دکھایا ہے۔ احمد بشیر چونکہ خود بھی سوشلسٹ تھے تو وہ اپنے خاکوں میں یہ ضرور ڈسکس کرتے ہیں کہ آیا جس پر میں خاکہ لکھ رہا ہوں یہ بھی سوشلسٹ ہے یا نہیں۔ بہرحال ان کے خاکے بہت دلچسپ ہیں۔ مولانا حسرت موہانی پر جو انہوں نے ”خاکہ“ لکھا بہت باکمال۔ مولانا کی کچھ بچپن کی شرارتوں کا بھی ذکر کیا اور ان سے موسیقی پر ہوئی گفتگو کو بھی نقل کیا۔

میرا جی پر لکھا گیا ”خاکہ“ بہت پراسرار تھا۔ جیسے میرا جی کی شخصیت بذات خود پراسراریت سے بھری پڑی ہے، کیونکہ بقول احمد بشیر ”میرا جی کو اس بات سے بہت تسکین ہوتی تھی کہ لوگ اسے پراسرار سمجھیں۔ پراسراریت کے جنون میں وہ عجیب عجیب حرکتیں کیا کرتا تھا۔

یہ خاکہ میرا جی کی شخصیت کو ٹٹول اور مکمل پھرول کے لکھا گیا ہے۔ اسی طرح احسان دانش پہ لکھا گیا خاکہ بہت عجیب تھا۔ خاکے کے مطابق وہ اپنے اصول خود توڑتے تھے۔ سرمایہ داری سے انہیں نفرت ہے لیکن سرمایہ پیدا کرنے سے عشق۔ کمیونزم کو افضل ترین نظام مانتے تھے لیکن کمیونسٹوں کے دشمن اور نوکر شاہی کے خلاف ہیں لیکن آئی سی ایس افسروں کی شناسائی پر ناز کرتے ہیں۔ بہت عجیب۔ خیر احسان دانش خود بھی عجائب خانہ ہی تھے۔

اپنی آپ بیتی میں چن چن کر غریبوں پر ہوئے مظالم بیان کیے، اور اپنی ایک کتاب کا انتساب ایک ظالم ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے نام کیا۔ چاہیے تو یہی تھا کہ وہ اپنی تمام کتابوں کے انتسابات مزدور مسکینوں کے نام کرتے، کیونکہ انہوں نے اپنی کتابوں کے تمام صفحات غریبوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی رویوں سے ہی کالے کیے تھے۔ بس پھر وہی بات ہے کہ موصوف اپنے اصول خود توڑا کرتے تھے۔

بہرحال اس سے اگلا خاکہ ظہیر کاشمیری کا تھا۔ جو اتنا بورنگ تھا کہ فوراً ختم کرنے کو جی چاہتا ہو۔ خاکہ بورنگ نہیں تھا۔ شخصیت میں ہی کچھ جھول تھا۔ ممتاز مفتی کا خاکہ بہت باکمال۔ بقول احمد بشیر کے ممتاز مفتی کے مطابق ذہنی قابلیت حاصل ہونے سے انسانیت کی خوبی کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے وہ علم کو انحراف سمجھتا ہے اور جذبے کو صراط مستقیم۔ ان کے نزدیک زندگی تمام تر جذبے کے دم قدم کا نتیجہ ہے۔ مفتی بابوں پر بہت یقین رکھتے تھے اور اندھا اعتقادی ہونے کے باوجود نماز کے قریب بھی نہیں جاتے تھے۔

احمد بشیر چونکہ ممتاز مفتی کے قریبی ساتھی بھی تھے اس لیے انہوں نے مفتی کی شخصیت کا بہت خوب احاطہ کیا۔ آخر میں مفتی پر یہ لکھا گیا ”خاکہ“ آبدیدہ کر دینا والا ہے۔ قدرت اللہ شہاب پہ انہوں نے بہت اچھا لکھا۔ شہاب صاحب اپنی آخری عمر میں بہت نادم تھے۔ انہیں ڈکٹیٹر شپ کی خدمات پر افسوس تھا۔ شہاب صاحب یوں تو اشفاق احمد کے بھی پیرومرشد تھے۔ لیکن وہ مفتی کی طرح اندھے اعتقاد پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ بہرحال بہت کچھ ہے اس خاکے میں بھی۔

وارث میر پر ایک خاکہ ہے جو حامد میر کے والد تھے۔ وارث میر کو جماعت اسلامی کی طرف سے بہت تکالیف اٹھانی پڑی تھیں۔ پھر کشور ناہید پر احمد بشیر کا خاکہ ”چھپن چھری“ کے نام سے ہے۔ بہت بہادر خاتون۔ بہرحال سب خاکے ہی بے مثل اور منفرد ہیں۔ فرصت کے لمحات میں یہ کتاب ضرور پڑھیے گا۔ یقیناً آپ اسے اپنا دوست پائیں گے۔

Facebook Comments HS