بھارت کی کامیابی پر خوشی: کمزور ایمان اور ملک دشمنی کی نشانی


بھارت چاند پر پہنچ گیا تو کیا ہوا؟ ارے ملک دشمن اور کمزور ایمان والے لوگوں، کافر کی کامیابی پر خوش ہو کر کیوں اپنا ایمان خراب کر رہے ہو؟ اللہ نے ان کو دنیا کی کامیابی دی ہے اور ہمیں آخرت کی۔ یہ دنیا مسلمانوں کے لئے آزمائش اور امتحان جبکہ کافروں کی جنت ہے۔

اب آتے ہیں اصل مدعا کی طرف: بھارت کی کامیابی کا سن کر آج سے کئی سال پہلے ریڈرز ڈائجسٹ میں شائع ہوئی ایک تحریر یاد آئی۔ اس تحریر کے مطابق امریکہ کا چاند پر جانا ایک چال تھی۔ وہ اس طرح کے دعوے کر کے روس کو اس راستے پر ڈال کر اس کی معیشت تباہ کرنا چاہتا تھا۔ سپیس ریس میں لگ کر آخر کار روس نے خود کو معاشی طور پر کنگال کر دیا اور اس طرح امریکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا۔

اب بھارت بھی معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے اور دنیا کی سیاست میں خود کو منوانے کی کوشش میں ہے۔ اس کے سامنے دو مشکلات ہیں : امریکہ اور چین۔ معاشی طور پر ان کے برابر آنے میں وقت لگے گا اس لئے چاند پر اپنا سپیس کرافٹ بھیج کر عالمی دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ بھی ایک کامیاب ریاست ہے۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں اس پر غمگین ہونے کی بجائے یہ یقین ہونا چاہیے کہ جس طرح ’اہل کتاب امریکہ‘ کی مدد سے ہم نے ’لادین روس‘ کو تہس نہس کر دیا تھا اب بھی اسی طرح ’لادین چین‘ کی مدد سے ’کافر بھارت‘ کو ایسے ’فضول کاموں‘ میں لگا کر تباہ کر دیں گے۔ انشا اللہ!

اس طرح کے بیکار کام تو جمہوری قومیں کرتی ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا ملک نہ ہی جمہوری ہے اور نہ ہی احمقوں کی بستی ہے۔ اس لئے مجھے یہ محکم یقین ہے کہ ہمارے حکمران ایسی کوئی ’حماقت‘ کبھی بھی نہیں کریں گے۔

چاند یا مریخ پر جانے کو بیوقوفی کہنے کی کئی وجوہات ہیں۔ اول تو وہاں آکسیجن نہیں ہے۔ دوئم وہاں پانی نہیں اور سوئم وہاں کشش ثقل کی کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی عوام وہاں جا کر اپنی من مانی کریں گے۔ وہ ادھر ادھر آزاد گھومیں گے تو اس سے ریاست کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چہارم وہاں عام کپڑے نہیں پہنے جا سکتے ہیں۔ وہ خاص کپڑے مہنگے بھی ہوتے ہیں اور چست ہونے کی وجہ سے بے پردہ بھی۔ اس سے عریانی پھیلنے کا خطرہ ہو گا جس سے عورتوں کی عزت لوٹنے کے خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔ سب سے آخری لیکن اہم بات یہ کہ اس طرح کے ’فضول کاموں‘ میں اربوں ڈالرز کا سرمایہ لگتا ہے جس کا متحمل پاکستان جیسا ملک نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لئے وہاں جانا بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں۔

اصل کام تو یہ ہے کہ ہم اس دھرتی ماں کو آباد کریں۔ اس اہم اور نیک کام کے لئے ہمارے پاس قابل ترین لوگ موجود ہیں۔ ان میں سر فہرست ملک ریاض صاحب بھی ہیں اور ہماری پاک فوج بھی۔ ذاتی طور اس معاملے میں فوج مجھے سب سے زیادہ پسند اور عزیز ہے جبکہ ملک ریاض قبضہ مافیا ہونے کی وجہ سے مجھے پسند نہیں۔

مجھے یہ لکھتے ہوئے خوشی بھی محسوس ہو رہی ہے اور فخر بھی کہ ہماری پاک فوج غیر آباد اور بنجر زمینوں کو آباد کر رہی ہے۔ ان میں ہاؤسنگ اسکیمز کا آغاز کر کے پلاٹس ہمارے ملک کے محافظوں میں بانٹتی ہے۔ اس سے بھی فخر کی بات یہ ہے کہ ان ہاؤسنگ اسکیمز میں ان شہداء کے بیواؤں کا بھی حصہ ہوتا کہ جنہوں نے اس ملک کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ ہمارے جرنیل صاحبان تو پنشن لینے کے بعد بھی زرعی زمینوں میں کھیتی باڑی کر کے اس ملک کے عوام کا پیٹ پالتے ہیں۔

عقل مند لوگ اسی طرح کے کام کرتے ہیں جس طرح ہمارے یہاں ہماری عسکری قیادت کر رہی ہے نہ کہ بھارت کی جمہوری اور بیوقوف حکومت کی طرح جو چاند پر جا کر اربوں ڈالر ضائع کرتے ہیں۔ ان کا نہ کوئی دنیاوی فائدہ ہے نہ ہی اخروی۔

ویسے بھی بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہمارا یہ راسخ عقیدہ ہونا چاہیے کہ جہاد سب سے مقدم اور افضل ہے۔ قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو جہاد ہوتا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لہذا ہمیں اپنے ملک کے سارے وسائل فوج کے حوالے کر کے اسے مزید مضبوط اور مستحکم بنانا چاہیے تاکہ ہم سکون کی نیند سو سکیں۔ چاند پر جانے اور تحقیق جیسے فضول کاموں میں وقت اور سرمایہ نہیں لگانا چاہیے جیسا کہ ہمارا دشمن کافر ملک کر رہا ہے۔

یہ فوج ہے تو ہم ہیں، ورنہ ہماری سماجی، سیاسی اور معاشی حالت بھی امریکہ، برطانیہ، جاپان، چائنہ، بھارت اور بنگلہ دیش جیسی ہوتی۔ اگر خدا ناخواستہ یہاں جمہوریت پروان چڑھی تو ہم بھی ان کی طرح ’سماجی، سیاسی اور معاشی بہتری‘ کی وجہ سے تعلیم و تحقیق اور سائنس میں سرمایہ ضائع کریں گے۔ تعلیم، تحقیق اور سائنس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا لہذا ان سے دور رہ کر جہاد کو ہی اپنا نصب العین بنا کر اس ملک کو ہر لحاظ سے عسکری بنانے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS