یوم نیلا بٹ اور ہم کشمیری


نیلا بٹ ازاد کشمیر کی سیاست میں اور تاریخ میں اسی اہمیت کا حامل ہے جو پاکستان کی تاریخ میں مینار پاکستان کو حاصل ہے۔ یوم نیلا بٹ ہر سال 23 اگست کو منایا جاتا ہے – جس کا مقصد نیلا بٹ کے مقام پر ازادی کشمیر اور تحریک تکمیل کے پاکستان کی جو ایک تحریک ڈوگرا حکومت کے خلاف شروع کی گئی تھی ، اس میں ہونے والے واقعات پر روشنی ڈالنا ، نئی نسل کو اسلاف کی قربانیوں سے آشنا کرنا اور تحریک کے قائدین کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔ نیلا بٹ کے مقام سے شروع ہونے والی بغاوت کی قیادت سابق وزیر اعظم و صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر سردار عبد القیوم خان نے کی – سردار عبدالقیوم خان اس وقت ایک 17 سال کے نوجوان تھے – اتنی کم عمر میں اس تحریک کے سپہ سالار کے لیے ان کا نام اس لیے تجویز کیا گیا کیونکہ کیونکہ مجاہد اول کی بہادری اور ان کی ذہانت اس وقت سب کے لیے مثال تھی – عمر اور تجربے میں ان سے بڑے کافی زیادہ لوگ موجود تھے لیکن وہ اس بات سے آشنا تھے کہ یہ 17 سال کا نوجوان ان کو بہترین طریقے سے لیڈ کر سکتا ہے – اس لیے جب بھی نیلا بٹ یا یوم نیلا بٹ کا ذکر آتا ہے تو ایک نام جو سب کے ذہن و زبان پر آتا ہے وہ مجاہد اول سردار عبد القیوم خان کا ہے –
وطن عزیز پاکستان میں اور خصوصا آزاد جموں کشمیر میں پچھلے پانچ دس سالوں میں سیاسی عدم برداشت ایک نئی سمت کی طرف چل پڑی ہے – اس سیاسی عدم برداشت کا شکار نیلا بٹ کا مقام ، تحریک کے قائدین کی شخصیات بھی بنیں – نہ جانے اس کو لاشعوری کہا جائے یا پھر سیاسی جہالت کہا جائے کہ اگر اپ کسی بھی ایک مخصوص پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں تو اس پارٹی اور اس کی قائدین کے علاوہ ہر دوسرا سیاسی شخص و جماعت کیوں قابل نفرت ہوتی جا رہی ہے –
نیلا بٹ جیسے مقامات کسی بھی قوم کی تاریخ میں اہمیت کے حامل ہوا کرتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کہ گزشتہ کچھ عرصے سے یہ بات سوشل میڈیا پہ بار بار دیکھنے میں آئی ہے کہ ایک مخصوص طبقہ جو کہ آزاد کشمیر کی سیاست کو عدم برداشت کی آخری حدوں تک لے کے جانا چاہتا ہے وہ وہ جان بوجھ کر نیلا بٹ ، قائدین نیلا بٹ اور اس تحریک میں حصہ لینے والے ہمارے اسلاف کی قربانیوں کو جان بوجھ کر ماننے سے انکاری ہے ، بات صرف انکار تک ہو تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس انکار کے ساتھ ساتھ جب ان قربانیوں کو کسی اور رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ ان بزرگوں کے ساتھ اور ان کی قربانیوں کے ساتھ غداری سے کسی طرح بھی کم نہیں –
لیکن اس موقع پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے قائدین اوران کے سیاسی کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے وسائل محدود ہونے کے باوجود اج تک اپنے اسلاف اور ان کی قربانیوں کا ذکر عام کر کے بچے بچے کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی ہے کہ ان کے اباؤ اجداد کیا تھے اور ان کی ریاست اور تحریک ازادی کشمیر کے لیے قربانیاں کیا ہیں –
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزاد ریاست جموں و کشمیر سردار عتیق احمد خان کی صورت میں کشمیریوں کو سیاسی تاریخ کی وہ شخصیت میسر ہے جو اپنے آپ میں ایک جامعہ کا درجہ رکھتی ہے۔ کارکنان کی سیاسی تربیت ہو یا تاریخ سے روشناسی ، سردار عتیق احمد خان نے ثابت کیا ہے کہ وہ موجودہ وقت میں "تحریک آزادی کشمیر و تحریک تکمیل پاکستان” کے سپہ سالار ہیں – اس لیے سیاسی حریف و نادان ، جتنی کوششیں کر لیں ، نیلا بٹ و تحریک کشمیر کے جملہ قائدین کی وارث "مسلم کانفرنس” آنے والی نسلوں کو اپنے بزرگوں کی قربانیوں و کوششوں سے آشنا کروانے میں کامیاب ہی نظر آتی ہے –

نیلا بٹ جیسے مقام اور اس سے جڑے قائدین کے خلاف باتیں کرنے والے شاید ان باتوں سے لاعلم ہیں کہ جب وہ کوئی بھی پروپگینڈا ،کوئی بھی منفی بات کرتے ہیں تو وہ ان قائدین یا نیلا بٹ کی توہین نہیں کرتے بلکہ وہ ان شہداء کی توہین کر رہے ہوتے ہیں ، اس خون کی توہین کر رہے ہوتے ہیں جو تحریک آزادی کشمیر کے لیے اج تک بطور نذرانہ پیش کیا جا چکا ہے – ایک سوال جو ہر ذی شعور کشمیری اور سیاسی کارکن کے ذہن میں اتا ہے کہ کیا نیلا بٹ جیسے مقام وہ کی بات کرنا صرف مسلم کانفرنس پر ہی فرض ہے یا کشمیریوں کو اگے بڑھ کے اس جگہ کو وہی اہمیت وہی عزت دینی چاہیے جو کہ مینار پاکستان کو حاصل ہے – اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کیا وہ قائدین جنہوں نے اس وقت ڈوگرا کے خلاف بغاوت کی ، کیا یہ وطن سے محبت ان کا جرم ہے ؟ تو پھر تو وہ بہت بڑے مجرم ہیں اور اب وقت ان پہنچا ہے کہ اس بات کا فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ ان سے محبت، ان سے عقیدت اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا صرف مسلم کانفرنس ہی نہیں ، کشمیریوں کے ہر فرد واحد اور ہر سیاسی کارکن پر فرض ہے – کیونکہ ہر زمانے کا یہ دستور ہوا کرتا ہے کہ جو قومیں اپنی اسلاف کو اور ان کی قربانیوں کو بھلا دیتی ہیں وہ نیست و نابود ہو جایا کرتی ہیں –
یوم نیلا بٹ 2023 کے حوالے سے مسلم کانفرنس نے جس قدر بہترین انداز سے میزبانی کی ، شاید وہ مسلم کانفرنس ہی کر سکتی تھی – یوم نیلا بٹ 2023 کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو چیئرمین یوتھ ونگ سردار عثمان علی خان اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد مستحق ہے جنہوں نے بہترین انتظامات کر کے ثابت کیا کہ میزبانی کے لیے وسائل سے زیادہ ، پرخلوص کارکنان چاہیے ہوتے ہیں ۔

Facebook Comments HS