سوشل میڈیا اور غصے کی نئی فصل


اسد محمد خان اپنے افسانے ’غصے کی نئی فصل‘ میں ایک فرقے یا جماعت کا ذکر کرتے ہیں جس کا نام انہوں نے ’مردوزی‘ رکھا۔ اس سے پہلے کہ آپ انٹرنیٹ پر اس مذہب کو تلاش کریں میں یہ بتاتا چلوں کہ یہ ایک خیالی مذہب ہے جو اسد محمد خان کی اپنی اختراع ہے۔ اس مذہب سے وابستہ لوگ روزانہ رات کو جمع ہوتے اور ایک دائرے میں بیٹھ کر حلق سے غیظ و غضب کی آوازیں نکالتے۔ انہیں ایسا کرتے دیکھ کر لگتا کہ اب اٹھیں گے اور ایک دوسرے کو پھاڑ کھائیں گے۔ لیکن طیش و غضب کے باوجود بھی کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلتا اور نہ ہی دوسرے پر حملہ کرتا بس اپنے سامنے بیٹھے مرد یا عورت کو غصے کی آوازیں بلند کر کے آنکھیں نکال نکال کے دانت نکوستے ہوئے دہلائے جاتا۔

اسد محمد خان اپنے افسانے میں ان کے ایسا کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آدمی کا مزاج محبت، غصے اور نفرت سے مل کر تشکیل پاتا ہے مگر اپنی تہذیب اور تعلیم اور تمدنی تقاضوں سے مجبور ہو کے انسان اپنا غصہ اور اپنی نفرت ظاہر نہیں ہونے دیتا جس سے فتور واقعہ ہوتا ہے اور نفرت مزاج کی سطح سے نیچے جا کر سڑنے لگتی ہے۔ پھر آدمی کے اندر ہی پلتی بڑھتی ہے، آدمی سمجھتا ہے کہ وہ غصے سے پاک ہو چکا اور اس کے مزاج کی ساخت غصے اور نفرت کے بغیر ممکن ہو گئی۔ مردوزی سمجھتے تھے کہ ایسا نہیں ہوتا غصہ آدمی میں ساری زندگی موجود مگر پوشیدہ رہتا ہے۔ تاہم اگر دن کے خاتمے پر اسے خارج ہونے کا موقع دیا جائے تو ایک دن ایسا آئے گا کہ آدمی غصے اور نفرت سے پوری طرح خالی ہو جائے گا۔ مردوزی اس کیفیت کو تکمیل کا نام دیتے تھے۔

اسد محمد خان کی کتاب ’غصے کی نئی فصل‘ جس میں یہ افسانہ شامل ہے 1997 میں چھپی۔ تب ابھی سوشل میڈیا کا یہ عروج اور یہ حالات نہ تھے ورنہ اسد محمد خان اسے سولہویں صدی میں اپنے پسندیدہ سلطان شیر شاہ سوری کے دور کے پس منظر میں لکھنے کی بجائے اپنے بے مثال انداز میں اکیسویں صدی کے تناظر میں لکھتے۔ کسی مکان یا سرائے کی چھت کی بجائے فیس بک، واٹس ایپ اور ٹویٹر پر لوگوں کو اکٹھا کرتے۔ اسد محمد خان اگر آج یہ افسانہ لکھتے تو اس میں وہ ترمیم بھی نہ کرتے جو انہوں نے کی۔ رفاقت حیات کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے لکھا کہ مردوزی ایک دوسرے کو گالی گلوچ کرتے تھے بعد میں اسے کاٹ کر یوں کر دیا کہ وہ غراتے اور بد کلامی کرتے تھے۔

صاحبو! کیا آج ہم سب لوگ مردوزی نہیں ہو گئے؟ کیا ہم تمام دن ایک دوسرے کو گالی گلوچ کرتے نہیں گزار دیتے۔ لیکن مردوزیوں اور ہم میں پہلا بنیادی فرق یہ ہے کہ وہ ایسا صرف رات کے ایک پہر کرتے تھے جبکہ ہم ہمہ وقت اسی کام میں مصروف ہیں۔ کیا پڑھا لکھا اور کیا ان پڑھ، کیا اعلی تعلیم یافتہ اور کیا معمولی ہنر پیشہ، سبھی مردوزیوں کی طرح ایک دوسرے کو گالم گلوچ کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر غراتے ہیں۔

کہانی کے مطابق مردوزی اس عمل سے گزرنے کے بعد نہایت خوشگواری اور تہذیب کا مظاہرہ کرتے لیکن ہم تو یہ عمل کرنے کے بعد بھی غصے اور نفرت سے نجات حاصل نہیں کر پاتے۔ سوچیے صاحبو سوچیے کہ کیا ہمارے لیے احترام کے ساتھ باہمی تعلق اور رشتہ اہم ہے یا کسی سیاسی یا مذہبی شخصیت کے اندھے اتباع میں ایک دوسرے کی توہین؟

اسد محمد خان کی کہانی میں مردوزی فرقے کا فروغ صاحبان شوکت کے مقاصد کے لیے مفید تھا لہٰذا اس مسلک کو خوب فروغ دیا جا رہا تھا۔ کیا آج کے اس گالی گلوچ کے پیچھے صاحبان شوکت ہی نہیں ہیں؟ کیا عدم برداشت اور عدم رواداری ہمیں بحیثیت ایک معاشرہ اور ایک قوم کے کمزور نہیں کر رہی؟

افسانے کا مرکزی کردار جب مردوزیوں کے بنیادی نظریے کو جان لیتا ہے تو بے اختیار کہتا ہے کہ ’تو ان کرمساقوں نے غصے اور نفرت جیسے قیمتی انسانی جوہروں کو ضائع کرنے کی سبیل بھی آخر نکال ہی لی‘ ۔ کیا ہمارے ہاں بھی برسر اقتدار طبقہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے اور طول دینے کے لئے اس قیمتی جوہر کو ضائع نہیں کر رہا؟

مجھے اندازہ نہیں کہ اگر اسد محمد خان آج کے تناظر میں یہ افسانہ لکھتے تو اس کا اختتام ویسے ہی کرتے جیسا انہوں نے اپنے محولہ بالا افسانے میں کیا۔ افسانے کا مرکزی کردار ایک عالم فاضل شخص ہے اور شیر شاہ سوری کے گاؤں کا رہائشی ہے۔ وہ اس سے ملنے دارالحکومت آیا تھا اور تحفے کے طور پر اس ٹیلے کی مٹی بھی ساتھ لایا تھا جس پر شیر شاہ کا خاندان آباد تھا۔ لیکن جب اسے یہ معلوم ہوا کہ شیر شاہ کا ایک وزیر بھی مردوزی ہے تو اس نے وہ مٹی پھینک دی اور شیر شاہ سے ملے بغیر واپس اپنے گاؤں کے لیے روانہ ہو گیا۔ اسد محمد خان بھی شاید آج کے تناظر میں مخمصے کا شکار ہو جاتے کہ کیا آج کا عالم صاحب اقتدار اور صاحبان جاہ و حشم سے ان کے منفی کردار کی بنا پر بارات کرتا دکھایا جاتا یا ان کا قرب حاصل کرنے کے لئے خود بھی گالم گلوچ کا حصہ بنتا ہوا؟

کہانی کے آخری جملے میں بادشاہ کے گاؤں کی مٹی دارالحکومت کی کیاری میں ڈالنے سے سفید پھولوں کی کیاری سرخ انگارہ گلابوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اگتی غصے کی اس نئی فصل پر مزید غور و فکر میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔

Facebook Comments HS