آپ مرشد یا آقا؟ اور ہم مرید یا غلام؟


سوشل میڈیا دیکھنا روزانہ کا معمول ہے۔ گزشتہ ایک سال سے ویڈیو شیئرنگ ایپ استعمال کر رہا ہوں۔ مختلف اکاؤنٹس سے اکثر معلوماتی ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مقامی فن اور ٹیلنٹ سے محظوظ ہونا اچھا لگتا ہے۔ کچھ ویڈیوز دیکھ کر ذہنی کوفت بھی ہوتی ہے۔

ایک اکاؤنٹ سے ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں ایک خوش لباس نوجوان کو دیکھا جا سکتا تھا جس کا انداز شاہانہ تھا۔ سینہ تانے دروازہ سے نمودار ہوتا ہے۔ چند افراد دائیں بائیں تھوڑا پیچھے چلے آ رہے تھے۔ کچھ خواتین اور لڑکیاں نمستے والے انداز میں سامنے جھکتی ہیں وہ ہر ایک کے سر پر ایک ہاتھ سے دلاسا دیتا ہے پھر وہ بہت خوشی سے تیز تیز پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ یہ نوجوان دوسرے ہاتھ سے مونچھوں کو سنوارتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی میں سوار ہوتا ہے ساتھ والے سب لوگ گاڑی چلنے تک احترام میں تھوڑا جھکے رہتے ہیں۔

ایک دوسرے مرشد ہیں جن کی ویڈیوز سے پورا سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے۔ ان کو اللہ تعالٰی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ شوق ان کے بھی بادشاہوں والے ہیں۔ صحراؤں، میدانوں اور پہاڑوں میں جب اپنے اشغال میں مصروف ہوتے ہیں تو ویڈیوز بنا کر شیئر کرتے ہیں۔ کبھی مریدین کے بڑے جلسے سے خطاب کے لیے سٹیج پر جلوہ افروز ہونا ہو تو انداز دیدنی ہوتا ہے۔ گھنگریالی زلفوں پر رکھی مخصوص ٹوپی یا دستار، سمارٹ جسم پر سجا کف لنک والا قیمتی لباس اور پاؤں میں برانڈڈ جوتے جن کی چمک فانوس کی مانند ہوتی ہے۔ مریدین کی محبت اور پیار کا جواب بنا جھکے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر دیتے ہیں۔ بہت کم مریدوں کو ان کے قریب آتے دیکھا ہے۔ زیادہ دور سے جھک جھک کر محبتیں نچھاور کرتے ہیں۔ کوئی قریب آ جائے تو اسے ایک ہاتھ کی انگلیوں سے ایسے مصافحہ کرتے ہیں کہ بس مرید کے ہاتھوں کو ہلکا سا لمس محسوس ہو جائے۔

ویڈیوز شیئرنگ ایپ پر ایک اور مرشد بھی دیکھے جو اکثر ویڈیوز میں گاڑی سے اترتے یا سوار ہوتے ہی دکھائے جاتے ہیں۔ لباس فقیرانہ ہوتا ہے لیکن گاڑی بہت قیمتی۔ بڑی سی چادر سمیٹ کر بغل کے نیچے رکھی ہوتی ہے وہ چلتے ہیں اور مریدین بھاگتے ہیں۔ کسی ویڈیو میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مریدوں کی چاپلوسی سے تنگ ہیں۔

چند روز قبل ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک طویل قامت شخصیت کو کسی پہاڑی علاقے میں دکھایا گیا۔ ایسا لگتا تھا زیریں علاقے کے کسی مرید کی دعوت قبول کر کے شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ مریدین کے آگے ایسے چل رہے تھے جیسے کسی لشکر کے سپہ سالار ہوں۔ سفید لباس، الجھے ہوئے دراز گیسو دستار کے حلقے سے بھی باہر ہو رہے تھے۔ چہرے پر بڑھاپے کے آثار بھی نمودار تھے۔ جسامت سے کسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق معلوم ہوتا تھا۔ سامنے سے ایک ایک کر کے تھکے ہوئے مرید استقبال کو پہنچ رہے تھے۔ دور سے ہی ایسے جھکے ہوئے انداز میں ملنے جاتے کہ کہیں بے قابو ہو کر مرشد سے ٹکرا جائیں گے۔ لیکن مرشد اپنے لمبے بازو کو استعمال کرتے ہوئے کچھ فاصلے پر ہی ہاتھ ملانے کی سعادت بخش دیتے۔

جیسی بھی ویڈیوز ہوں شوق سے دیکھتا ہوں۔ وڈیروں، سرداروں اور جاگیرداروں کی ویڈیوز بھی کثرت سے ہوتی ہیں ان کا ایسا انداز اور جھکے ہوئے حواریوں کو دیکھ کر حیرت نہیں ہوتی کیوں کہ انھوں نے کئی صدیوں سے لوگوں کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔ لیکن خود کو پیر کہلانے والوں یا گدی نشینوں کو یہ غرور سے بھرپور انداز زیب نہیں دیتا۔

مرشد، ولی یا پیر کامل تو وہ ہوتا ہے جو جاہل بندے کو معرفت الہی سے روشناس کروائے۔ عاجزی اور انکساری سکھائے۔ انسانیت سے پیار، محبت اور ہمدردی کرنے کا درس دے۔ گرے ہوؤں کو تھامنے اور سینے سے لگانے کا شعور دے۔ بے سہارا، بیواؤں، یتیموں اور مسکینوں کے سر پر دست شفقت رکھنے کی تلقین کرے۔ اللہ کے تمام بندوں سے بلا امتیاز رنگ، نسل، جنس، زبان اور مذہب باہمی احترام کے جذبہ کو فروغ دینے کا درس دے۔ مختصر یہ کہ اللہ کے احکام اور نبی اکرم رحمت العالمین حضرت محمد ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل پیرا ہونے کی آگاہی دے۔

بد قسمتی سے پاکستان میں ہر شعبے میں بگاڑ ہے۔ پیری مریدی عروج پر ہے لیکن اخلاقیات زوال پذیر ہیں۔ یہاں مرشد دیکھتے ہی دیکھتے کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔ مریدین بے چارے ہمیشہ ابتر حالات کا سامنا ہی کرتے ہیں۔ لیکن مرشد سے سوال پوچھنے کی جسارت نہیں کر سکتے بلکہ اس بارے سوچنے کو بھی بے ادبی سمجھتے ہیں۔ 1400 سال پہلے کا مسلمان خلیفہ وقت سے مکمل لباس زیب تن کرنے پر سوال کر سکتا ہے کہ آپ کے حصے میں تو تھوڑا کپڑا آیا تھا اس سے مکمل لباس کیسے تیار ہو گیا لیکن آج کا پاکستانی مسلمان اپنے مرشد کی آمدن کے متعلق سوال نہیں کر سکتا۔ اگر مرشد پاک کی پراپرٹی، گاڑیوں اور شاہانہ انداز زندگی کے متعلق سوچ بھی لے تو گستاخی کے خوف سے لبوں پر سوال نہیں لاتا سب اللہ کی دین کہہ کر خود کو مطمئن کر دیتا ہے۔

میں بھی یہ الفاظ لکھتے ہوئے خوفزدہ ہوں۔ کہیں گستاخی کا مرتکب نہ قرار پاؤں۔ لیکن ایسی مریدی کا باغی ہوں جس سے عزت نفس مجروح ہوتی ہو۔ ہاں البتہ ہر انسان کا احترام لازم ہے کسی کو ملتے ہوئے احترام میں جھک جانا غلامی نہیں ہے۔ دوسرے فریق کو بھی پر تپاک انداز اپنانا چاہیے۔ معاشرہ میں موجود پڑھے لکھے اور باشعور افراد عوام کو عزت نفس سے متعلق آگاہی دیں۔ انسان کو اللہ تعالٰی نے دوسروں کی غلامی سے آزاد ہونے کا حق دیا ہے۔ اللہ کے نبی سے اپنے ملازم یا غلام کے ساتھ بھی ایسا رویہ ثابت ہے دیکھنے والا فرق نہ کر پائے کہ مالک کون ہے اور ملازم کون۔ اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کو اخلاقیات سکھائیں، انسانیت کے احترام اور عزت نفس کے تحفظ پر بھی تعلیم دیں۔ پیروں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وڈیروں والی رعونت سے گریز کریں۔ پیار و محبت کے پیکر بنیں اور مریدوں کو عزت دیں۔ انسانیت کے مقام و مرتبہ کا لحاظ کریں۔ تاکہ پیر اور آقا میں فرق ظاہر ہو۔

پاکستانی مریدین کو اتنی آگاہی کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مرشد پاک سے سوال پوچھ سکیں۔ مرشد سے دین و دنیا کی رہنمائی حاصل کریں۔ چاپلوسی کر کے اپنی عزت نفس مجروح نہ کریں۔ احترام ضرور کریں لیکن ہاتھ جوڑ کر اور جھک جھک کر خود کو غلام ثابت نہ کریں۔ یا کبھی موقع ملے تو اتنا پوچھ لیں کہ قبلہ! آپ مرشد ہیں یا آقا؟ اور ہم مرید ہیں یا غلام؟

Facebook Comments HS