اقبال گئے دلی، غالب سے ملنے


دسمبر کا دھندلکا اور صبح کے چھ بجے کا وقت تھا، جب علامہ اقبال ایک اونی شال اوڑھے، دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے، کوچہ بلی ماراں سے گزرتے ہوئے، مرزا غالب کے مکان پر پہنچے۔ مکان کی حالت بہت بہتر تھی، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ غالب نے شاید انگریز سرکار سے ملنے والی پنشن سے، اسے دوبارہ تعمیر کروایا ہے۔ دروازے کے ساتھ دیوار پہ تختی آویزاں تھی، جس پہ مرزا اسداللہ خان غالب، مکان نمبر 366 / 2 کندہ تھا۔ جب کہ اس تختی کے عین نیچے ”حکیم افلاطون۔ ماہر بواسیر“ کا اشتہار لگا ہوا تھا۔ علامہ نے ایک نظر تختی پہ ڈالی، اور پھر گھنٹی بجائی۔ کچھ دیر کے بعد ایک بزرگ کھانستے ہوئے دروازے پہ آئے ”ارے اقبال! تم۔ بھائی تم کب آئے؟“ ، غالب نے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا۔ ”جی پہنچا تو رات سے ہوں۔ مگر تھانے والوں نے بہت دیر لگا دی۔ کبھی یہ فارم پر کرو، کبھی وہ فارم پر کرو۔ بس اسی میں دیر زیادہ ہو گئی“ ، اقبال کے بتانے پر غالب کھلکھلا کر ہنس پڑے اور پھر بلا تاخیر اقبال کو اندر لے آئے، اور ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا، جہاں قیمتی افغانی قالین پہ منقش گاؤ تکیے نہایت قرینے سے رکھے تھے۔

”مگر یہ تو بتائیں کہ صرف آپ سے ہی اتنے فارم کیوں بھروائے ہیں۔ کیا کوئی خاص وجہ ہے؟“ ، غالب نے بے چینی سے پوچھا۔ ”اجی کیا بتاؤں۔ جونہی میں نے انہیں بتایا کہ میں علامہ اقبال ہوں، تو ان کے کان کھڑے ہو گئے، اور ایک صاحب مجھے پکڑے پکڑے سیدھا، کسی صاحب کے پاس لے گئے، جو غالباً انٹیلی جینس کے انچارج تھے۔“ ، غالب غور سے اقبال کی باتیں سن رہے تھے۔ ”انہوں نے مجھ سے ملتے ہی پوچھا، کہ آپ کس مشن پر آئے ہیں؟

، لو بتاؤ بھلا، میرا کیا مشن ہو سکتا ہے، سوائے آپ سے ملاقات کے“ ، اقبال نے ناگواری سے کہا۔ ”اچھا، پھر؟“ ، غالب نے پوچھا۔ ”بس ان کو آدھا گھنٹہ مطمئن کرنے پہ لگا رہا، تب کہیں جاکر جان چھوٹی، اور اب آپ کے پاس یہاں پہنچا ہوں“ ، اقبال نے بات کو سمیٹا۔ ”بہت بہتر۔ چلیں میں آپ کے لئے ناشتہ لے کر آتا ہوں“ ، غالب یہ کہہ کر ناشتہ لینے چلے گئے اور اقبال وہیں بیٹھے بیٹھے جمائیاں لینا شروع ہو گئے۔

غالب کے گھر کی ضیافت خاصی پرتکلف تھی، اور اقبال نے شکم سیر ہو کر ناشتہ کیا۔ اتنے میں مولانا الطاف حسین حالی سیدھا اندر تشریف لائے، جنہوں نے بغل کے اندر کپڑے میں لپٹی کوئی چیز دبا رکھی تھی۔ ”یہ لیجیے استاد محترم! آپ کی آج کی خوراک“ ، مولانا نے وہ چیز غالب کے حوالے کی اور غالب نے فوراً کپڑا ہٹا یا تو اندر سے ولائتی شراب کی بوتل برآمد ہوئی۔ اقبال اٹھ کر مولانا حالی سے بغلگیر ہو کر، ان سے خیریت پوچھتے رہے جبکہ غالب اس دوران بوتل کا لیبل پڑھتے رہے۔

”بھئی کمال کر دیا تم نے۔ ویسے کسی کو شک تو نہیں ہوا آپ پر؟“ ، غالب نے قدرے آہستہ آواز میں پوچھا۔ ”جی نہیں حضرت۔ میں نے ایک ہندو دوست کو اندر بھیجا تھا، وہی لے کر آیا تھا“ ، مولانا نے مودب لہجے میں جواب دیا۔ اس کے بعد حالی نے ایک جام بھرا اور غالب کے آگے رکھ دیا۔ غالب نے وہی جام اٹھا کر، اقبال کے آگے رکھ دیا۔ ”ارے نہیں نہیں صاحب! میں نے یہ مشغلہ ترک کر دیا ہے“ ، اقبال نے جام واپس کر دیا۔ ”ترک کر دیا۔ لیکن کیوں بھئی۔ پھر آپ زندہ کیسے ہیں؟“ ، غالب نے حالی کی طرف ہنس کر دیکھتے ہوئے کہا۔ ”بس دیکھ لیں۔ آپ کے سامنے ہوں“ ، اقبال نے بھی متبسم انداز میں جواب دیا۔ ”لیکن آخر پتہ تو چلے کہ آپ نے اس نعمت کو ٹھکرا کیوں دیا ہے؟“ ، غالب نے ایک گھونٹ حلق سے انڈیلتے ہوئے پوچھا۔ ”اجی صاحب! جب سے ضیاء الحق نے پاکستان میں حدود نافذ کی ہیں، میں نے کوڑوں کے ڈر سے شراب پینی ہی چھوڑ دی“ ، غالب، حالی اور اقبال نے مل کر ایک زور دار قہقہہ لگایا، جس سے ڈرائنگ روم میں گونج پیدا ہو گئی۔

”خوب، بہت خوب۔ سن لیا آپ نے بھی مولانا۔ اس کمبخت ضیا نے شاعر مشرق سے شراب ہی چھڑوا دی“ ، ”قبلہ، کیا کریں کوڑے کا درد کیا کوئی معمولی چیز ہے۔ اور پھر یہاں ایک نہیں اسی کوڑے ہیں۔ علامہ نے ترک مہ نوشی کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں اعتبار سے درست ہے“ ، حالی کے اس جواب پر ایک بار پھر قہقہہ بلند ہوا۔ غالب نے دو جام انڈیلے اور پھر بوتل کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا۔

” ویسے علامہ! یہ بتائیں کہ پاکستان میں آج کل شاعری کا رجحان کیا ہے؟ میرے خیال میں تو لوگ آپ کو پوجتے ہوں گے ۔ آخر آپ ان کے قومی شاعر جو ہوئے“ ، اقبال نے پہلو بدلا اور پھر گویا ہوئے ”ارے کہاں جی۔ جو حال باقی قومی یادگاروں کا ہوا ہے، وہی میرے ساتھ بھی ہوا ہے۔ بچوں کو“ لب پہ آتی ہے” کے علاوہ میرا کلام پڑھنا نہیں آتا، نوجوان رومانٹک شاعری پڑھنے کے دلدادہ ہیں، اور بڑے کہتے ہیں کہ اقبال کا عہد اب ختم ہو چکا ہے۔ سو اسے طاق نسیاں میں ڈال کر، نئے شعراء اور نئی شاعری کا مطالعہ کرو۔ ہم اب عہد گزشتہ کی یادگار ہیں بس اور کچھ نہیں“ ۔ غالب سن کر قدرے سنجیدہ ہو گئے۔ ”ویسے آپ کی یہ بات درست ہے۔ کیونکہ اردو زبان کی شکستہ حالی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے“ ، مولانا حالی نے تائیدی انداز میں کہا۔ اس کے بعد قہوہ آ گیا اور یوں قہوے کا دور شروع ہوا، جس پہ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔

” علامہ! یہ بتائیں کہ مشرقی پاکستان سے الگ ہو کر، اب کیسا لگتا ہے“ ، غالب کے اس سوال پر، اقبال نے زمین پہ دیکھنا شروع کر دیا ”آپ تو جانتے ہیں وہ کبھی ہمارا حصہ تھے ہی نہیں۔ نہ میرے خطبہ آلہ آباد میں ان کا ذکر ہے، نہ چوہدری رحمت علی کے تجویز کردہ لفظ“ پاکستان ”میں وہ موجود، سو ان کا ہمارے ساتھ زیادہ دیر تک چلنا، کہاں سے ممکن تھا۔ اوپر سے وہ اپنا جائز اور جمہوری حق مانگتے تھے اور ہم ٹھہرے مسلمان۔ ہم نے تو بہاریوں کے نام پر اکٹھا کیا گیا پچھتر لاکھ روپیہ، حقداروں کو نہیں دیا یہ تو پھر اقتدار کا مسئلہ تھا“ غالب اثبات میں جب کہ حالی افسوس کے ساتھ سر ہلا رہے تھے۔

”ویسے علامہ! پاکستان میں افراتفری کچھ زیادہ نہیں ہے؟“ ، حالی نے استفسار کیا۔ ”ارے بھائی! جب لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہو تو وہاں افراتفری ہی ہوتی ہے، سکون تو آنے سے رہا۔ ہر کچھ عرصے بعد ، یہ لوگ مذہب کے نام پر ایک نیا تجربہ کر بیٹھتے ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے، کہ تخمینہ غلط ثابت ہو گیا۔ اب چلو پھر نیا تجربہ کرتے ہیں“ ، غالب نے خود ہی جواب دے دیا۔ ”اس کی تو معقول وجہ بھی ہے ان کے پاس“ ، حالی بول اٹھے، ”کون سی“ ، اقبال نے پوچھا۔

”بھائی جناح صاحب نے خود تو کہا تھا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا۔ اب تجربہ گاہ میں تجربے نہیں ہوں گے، تو بتاؤ بھلا کہاں ہوں گے“ ، حالی کی اس بات پر علامہ نے ہونٹ بھینچ لئے۔ ”اچھا یہ بتائیں ویزہ آسانی سے مل گیا تھا؟“ ، غالب کے اس سوال پر علامہ ہنس پڑے۔ ”مت پوچھیں۔ وہاں بھی وہی حال ہے۔ کیوں جا رہے ہو، کس سے ملنا ہے؟ کہاں کہاں جاؤ گے؟ یہ بتاؤ کہ غالب سے تمہاری دوستی فیس بک پہ ہوئی تھی یا ٹویٹر پہ؟

غالب کے ساتھ چیٹنگ کے سکرین شاٹ لگاؤ وغیرہ وغیرہ“ ، غالب زیر لب مسکرا دیے ”اچھا۔ پھر“ ، غالب نے دلچسپی سے پوچھا ”بس پھر کیا تھا۔ منسٹریز کے چکر پہ چکر لگائے مگر بات نہ بنی۔ آخر ادارہ“ مشاہیر گم گشتہ ”میں گیا اور وہاں سے ایک صاحب کی سفارش کروائی تو کام بنا۔ انہوں نے کام تو کر دیا لیکن ساتھ ہی فرمائش بھی کر ڈالی“ ، ”وہ کیا؟“ ، غالب نے فوراً پوچھا۔ ”کہ میرے لئے بدایوں سے پیڑے لے کر آنا وہ بھی پانچ کلو۔

ان سے عرض بھی کی کہ مردان سے وہ مل جاتے ہیں، مگر نہ مانے۔ ان کے بقول بدایوں کا بندہ بھلا مردان کیسے جاکر آباد ہو سکتا ہے۔ سو اب پانچ کلو پیڑے لے کر جانے ہیں وہ بھی بدایوں سے۔ اور میری یہ حالت کہ دلی سے باہر جانے کی اجازت نہیں۔ میں کیا کیا سوچ کر دلی آ رہا تھا کہ غالب سے فلاں فلاں علمی مسئلے پہ سوال پوچھوں گا، مگر اس کمبخت کی فرمائش نے وہ پریشان کر دیا ہے کہ اب بس پیڑوں کے علاوہ کچھ یاد نہیں ہے“ ، غالب اور حالی خوب ہنسے۔

”ارے بھائی فکر نہ کرو اس کا انتظام بھی ہو جائے گا“ ، غالب نے جب یہ کہا تو اقبال کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی، ”اچھا! وہ کیسے؟“ ، اقبال نے پوچھا۔ ”بھائی ہمارے یہاں چاندنی چوک سے پیڑے مل جاتے ہیں، تم انہیں لے جاکر دے دینا“ ، ”مگر حضرت اس پہ پتہ تو دلی کا لکھا ہو گا۔ اس کا کیا کریں؟“ ، اقبال نے متفکر انداز میں کہا۔ ”ارے حضور۔ کچھ دن قبل میرے گھر بدایوں سے پیڑے آئے تھے۔ ان کا خالی ڈبہ ابھی پڑا ہے۔ ہم دلی کے پیڑے، بدایوں کے ڈبے میں بند کر دیں گے۔ تم انہیں جاکر دے دینا۔ کہو تمہارا مسئلہ حل ہوا یا نہیں؟“ ، غالب نے شرارتی انداز میں پوچھا، تو علامہ مسکرا دیے۔

”استاد محترم! منشی نبی بخش کے یہاں مشاعرے کا وقت ہو چکا ہے“ ، مولانا حالی نے مرزا کو یاد دلایا۔ ”ارے ہاں بھائی! خوب یاد دلایا۔ چلیں آج اس بہانے علامہ، دلی کے اہل زبان سے بھی ملاقات کر لیں گے“ ، غالب نے حالی کو تجویز دی۔ ”مگر میرے خیال میں انہیں ساتھ لے جانا مناسب نہیں ہے۔ وہ ان کے پنجابی لہجے کا استہزا اڑا کر، ان کی دل شکنی کریں گے“ ، حالی نے پلٹ کر جواب دیا۔ ”آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں۔ چلیں یہ تب تک آرام فرما لیں اور ہم اتنی دیر میں مشاعرے سے ہو آتے ہیں“ ۔ یہ کہہ کر غالب انگرکھا بدلنے اندر چلے گئے، جبکہ مولانا حالی اور علامہ اقبال وہیں بیٹھے، غالب کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔

Facebook Comments HS