جمعیت کے خاتمے کی خواہش!

حیران ہوں، روؤں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں !!
جناب آصف محمود صاحب اگر اسلامی جمعیت طلبہ کے ستر سالہ زندگی کا تجزیہ کرکے محاکمہ اور محاسبہ فرماتے اور کمزوریوں و غلطیوں کی نشاندہی کرتے تو ہرگز اچنبھے کی بات نہ ہوتی اور اگر دو قدم اگے بڑھ کر کچھ مثبت راہ نمائی بھی فرماتے تو ان کے صحافیانہ اور دانشوارانہ قد کاٹھ میں اضافہ بھی ہو جاتا مگر انھوں نے تو جمعیت کے ستر سالہ ہمہ گیر جدوجہد اور ہمہ جہت اثرات پر بہت ہی بے رحمی کے ساتھ خط تنسیخ کھینچ کر اسے مکمل ختم کرنے کا تاریخی حکم بھی صادر فرمایا۔
آنجناب جمعیت کو "زمانے کا جبر” گردانتے ہوئے کہتے ہیں کہ
"معاملہ قدروں سے دوری کا نہیں، خرابی اس کے وجود میں ہے۔ سچ کہنے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے اور سچ یہ ہے کہ جمعیت قائم ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔۔۔۔”
اس کی وجہ بھی وہ بیان فرماتے ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں "علمی ماحول، فکری آزادی اور قوم کے مستقبل کی تشکیل میں طلبہ تنظیمیں اور جمعیت رکاوٹ ہے اس لئے اسے ختم کرنا چاہیے”۔
ان کے خیال میں "علمی و فکری آزادی” کی راہ میں ناظم کا یہ آرڈر حائل ہے کہ ٹی وی رکھنا حرام ہے۔۔۔۔۔”
ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے انھوں نے اعتدال و عدل وانصاف کو پاؤں تلے روند کر حد درجہ مبالغہ آرائی بلکہ انتہاپسندی سے کام لیا ہے اور ایسا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ جمعیت کوئی "انڈرورلڈ” ہے اورایک مضبوط ترین مافیہ ہے جس نے تمام تعلیمی اداروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ان کا بنایا ہوا تعلیمی نظام رائج ہے، ان کا بنایا ہوا "رجعت پسندانہ، قدامت پسندانہ اور دقیانوسیانہ نصاب پڑھایا جارہا ہے اور انتہائی "سخت گیر، متشدد اور بنیاد پرست” اساتذہ کی تعیناتیاں بھی وہ ہی کراتی ہیں اور ان کی حکم کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔
تبھی تو "آزادانہ غور و فکر پر قدغنیں لگی ہیں، علمی ماحول ناپید اور قومی مستقبل مخدوش ہے۔۔۔””
اگر ہم ایک لمحے کے لئے اس تاثر کو مان بھی لیں کہ تعلیمی اداروں کو جمعیت نے یرغمال بنایا ہوا ہے.
تو۔۔۔۔۔۔۔۔
اوّل: ستر اور اسی کے دہائیوں تک یہ ماحول ہرگز ہرگز نہیں تھا کہ پاکستان کے تمام تر تعلیمی اداروں پر جمعیت یا کسی اور طلبہ تنظیم کا مکمل قبضہ تھا۔ کچھ بڑے شہروں میں، کچھ بڑے تعلیمی ادارے کچھ وقت کےلئے ضرور کشمکش سے دوچار تھے مگر یہ معاملہ تمام اداروں کا نہیں تھا ۔
دوم: گزشتہ پندرہ،بیس سال سے تو حال یہ بنا ہے کہ تقریباً نوے فیصد تعلیمی اداروں میں تو طلبہ تنظیموں کا وجود نہ ہونے کا برابر ہے اور جہاں جہاں کچھ وجود بھی ہے اور وہ بھی شائد جمعیت کا ہےتو وہ بھی ایک "بےضرر” وجود ہے وگرنہ پنجاب یونیورسٹی جیسے بہت بڑے اور شاندار ماضی رکھنے والے ادارے پہ ایک طویل عرصہ تک مجاہد کامران جیسا ڈکٹیٹر بزور "شمشیر” مسلط ہوتا جو پہلے ہی دن سے مشکوک اور متنازعہ کردار کا حامل تھے اور نیب کو مطلوب۔
سوم: "ٹی وی حرام ہے کا آرڈر ” تو کب کے ہوا میں تحلیل ہوچکا ہے؟
اب تو یار دوستوں کے عین خواہش اور منشا کے مطابق "فکرو عمل” کی مکمل آزادی ہے اور نوجوان طلبہ وطالبات ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے "آزاد فضاوں میں محو پرواز ہیں "۔ "فکری آزادی اور علمی ماحول” کو پروان چڑھانے کےلئے تعلیمی اداروں میں میوزیکل کنسرٹس، کیٹ واکس، فیشن شوز اور مخلوط محافل کا انعقاد اور ڈانس تک سکھانے کا اہتمام بڑی باقاعدگی اور اہتمام کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔
جناب آصف محمود صاحب کو بشارت ہو کہ اب اس تمام "جبر” "گھٹن” اور "قدغنوں” کا زمانہ نہیں رہا ہے۔ زرا اس رپورٹ کو بھی کبھی پڑھنے کی زحمت فرما لیجئے ۔
"سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آن انٹیرئیر اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں 53 فیصد طلبہ منشیات کے عادی ہوچکے ہیں۔ اسی طرح تازہ خبر ہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں قائداعظم یونیورسٹی کی ڈین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یونیورسٹی میں ایک روز 35 طالب علم نشے میں لائبریری کے چھت پر ہلا گلا کرتے رہے اور گرلز ہاسٹل میں 3 طالبات بھی منشیات فروشی میں ملوث پائی گئیں جبکہ پولیس حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ قائد اعظم یونیورسٹی سے دو ہزار گرام چرس پکڑی گئی۔ جبکہ اسی اسلام آباد سے سٹوری ہے جو ایک صحافی سید علی حیدر صاحب نے فائل کی ہے کہ جسم فروشی کا گھناؤنا کاروبار اسلام آباد کے تعلیمی اداروں تک پھیل چکا ہےاور طالبات اس منظم کاروبار کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ ایک طالبہ نے اپنی کہانی بیان کی ہے کہ اسے دیہات سے والدین نے سہانے خوابوں کے ساتھ اسلام آباد تعلیم کے حصول کے لیے بھیجا تھا مگر یہاں ہوسٹل وارڈن کے توسط سے وہ اس گندی اور تاریک دنیا میں داخل ہوئی، ”
کل پرسوں اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کا جو سکینڈل سامنے آیا ہے وہ بھی تصدیق کے لئے کافی ہوگا کہ تعلیمی اداروں میں”وہ جبر اور گھٹن” کب کا رخصت ہوچکا ہے۔ یاد رہے کہ درجہ بالا جامعات یعنی قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور اسلامی یونیورسٹی بہاولپور میں کب سے "علمی و تحقیقی ماحول ” قائم ہے اور جمعیت کے "قد غنوں اور جبر”سے آزاد ہے کہ یہاں عین خواہش کے مطابق "جمعیت قائم ہی نہیں ہوئی”
تو جناب،
"غور وفکر کی آزادی، علمی ماحول اور قوم کے مستقبل کے تشکیل میں” آخر رکاوٹ ہی کیا رہ گیا ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟
چہارم: آصف صاحب شکوہ کرتے ہیں کہ طلبہ سیاست اتنا بابرکت ہے تو بیکن ہاؤس جیسے تعلیمی اداروں میں یہ کیوں نہیں ۔۔۔؟؟
ہمارا خیال ہے کہ انجناب کا 90 فیصد مغالطہ تو یہی ختم ہوا ہے یعنی بیکن ہاؤس، برن ہال، ایچی سن وغیرہ جیسے ادارے ہی تو اس ملک کے اصل ادارے ہیں کہ ایلیٹ کلاس اور حکمران طبقہ تو یہاں سے تیار ہوکر نکلتا ہے تو یہاں "غور و فکر کی آزادی” پہ پابندی کونسی جمعیت نے لگائی ہے؟
یہاں علمی ماحول کونسے "ناظم صاحب” کے حکم کی وجہ سے مکدر ہے؟
اور قوم کے مستقبل کی تشکیل یہاں کتنی اور کب سے ہورہی ہے.
آصف محمود صاحب کایہ سوال البتہ بدستور اپنی جگہ قائم رہے گا کہ "جمعیت نے قوم کو کیا دیا۔۔”؟؟
کیونکہ محترم نے پہلے ہی اس امکانی جواب کو مسترد ہی کردیا ہے کہ۔۔۔۔۔ "کردار اور سیرت کی بات تو رہنے ہی دیں ۔۔”
اب اس پٹی پڑھانے کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں رہا کہ اس طلبہ تنظیم نے نہ صرف لاکھوں طلبہ کو مقصد زندگی سے آشنا کیا بلکہ ایک بڑی تعداد کو گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر زندگی کے افق پہ چمکایا، ان کی صلاحیتوں کو ابھارا، نکھارا اور بڑھایا۔
ہر شعبہ زندگی میں اس چشمہ صافی سے فیضیاب باشعور، پاکباز، دیانت دار، فرض شناس اور محب وطن افراد اپنی اہلیت، کردار اور کارکردگی کے لحاظ سے اس تنظیم کا قابل فخر سرمایہ ہیں۔
ملک کے قابل ذکر سیاسی جماعتوں، تنظیموں، تحریکوں اور اداروں میں جہاں جہاں کوئی خیر موجود ہے وہ اسی تنظیم کا تحفہ ہے۔
صحافتی اور ادبی دنیا میں کہیں کہیں جو شعوری، نظریاتی، فکری اور بامقصد رمق پائی جاتی ہے یہ اسی تنظیم کی روشنی ہے۔
دنیا میں جہاں جہاں،جس جس صورت میں۔۔۔
علم، محبت، خدمت اور دعوت
کی تحریکات مصروف عمل ہیں اس پر اس تنظیم کا ضرور کوئی اثر ہوگا۔ یعنی باہر کی پوری دنیا میں بھی اس تنظیم کے تربیت یافتہ افراد بہت منتظم اور شائستہ انداز میں دعوت دین کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں جو نہ صرف اس تنظیم کا بلکہ پاکستان کا بھی فخر ہے۔
پورے ستر سالوں سے ایک طلبہ تنظیم کا پوری یکسوئی، جانفشانی، صبر، استقامت، قربانی، ایثار اور اخلاص کے ساتھ مقصد کے حصول کے جانب گامزن رہنا اور مسلسل مصروف عمل ہونا ایک معجزہ اور بہت بڑا اعجاز ہے۔
بات لمبی ہوتی جارہی ہے مگر انجناب سے یہ ایک سوال تو بنتا ہے کہ۔۔
"کویت ہاسٹل میں تو کسی استاد محترم پر جمعیت نے جنسی ہراسمنٹ الزام لگایا۔۔۔۔۔”
مگر اسلام آباد کے قاید اعظم یونیورسٹی، جامعہ پنجاب اور اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے "چند اساتذہ کرام” کی کچھ جنسی قصے کہانیاں جو میڈیا تک کی زینت بنی رہی، کے پیچھے بھی کسی جمعیت کا ہاتھ ہے؟
عفو ودرگزر کی امید کو لئے ہم معروف صحافی اور اینکر پرسن جناب آصف محمود صاحب کی خدمت میں گزارش کریں گے کہ۔۔۔۔۔
جناب!
سیرت وکردار کی تعمیر کی کوئی وقعت ہی کیوں نہیں ؟
اس وقت تو سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ تعلیمی ادارے نئی نسل کی ہاتھوں میں ڈگریاں تو تھما دیتی ہیں مگر، نظریات، افکار، اخلاقیات اور اقدار کا کوئی ایک درس بھی ساتھ نہیں دیتیں ۔
کیااس وقت ہمارا پورا معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن سے دوچار نہیں ؟
اور اس زوال پزیری میں بہت بڑا بلکہ کلیدی کردار ان تعلیم یافتہ حضرات کا نہیں؟
کیا اخلاقی اور مالی کرپشن کے تمام تر بڑے اور نمایاں کردار یہی "صاحب علم” اصحاب نہیں ؟
محترم، اصل چیز تو یہی سیرت و اخلاق ہے اگر ان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان سیرت کی پختگی اور اخلاق کی دولت سے مالامال ہوں تو معاشرہ واقعتاً علم کی نور سے منور ہوگا اور احترام انسانیت، معرفت رب اور خود آگہی کی دولت سے مالا مال ہوگا۔
ہمارا پورا نظام تعلیم اور نصاب تعلیم تو اس دولت سے تہی دامن ہے مگر یہی جمعیت اپنے دائرہ کار، حثیت اور استطاعت کے مطابق دامے، درمے، سخنے اس فریضے کو سرانجام دے رہی ہے، اس کے اثرات اور ثمرات کو کسی ایک خاص واقعے کے بھینٹ چڑھانا سراسر ناانصافی اور ناقدری ہے۔
ہم گزارش کریں گے کہ جب تجزئیے بھی، تعصب، جھنجھلاہٹ، غصے اور قابل افسوس حد تک سطحیت پر مبنی ہوں تو خاک علمی اور فکری ماحول مل پائے گا۔
ایسے میں تو قوم کے مستقبل کی تشکیل پہ سوال اٹھانا ہی لاحاصل ہے۔۔۔!!
"تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دانش ور اور صحافی کسی قوم کا دماغ ہوتے ہیں۔ وہ قوم کی فکری رہنمائی بھی کرتے ہیں اور اس کے اخلاق و کردار کی تعمیر و تشکیل بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے قائد اعظم نے فرمایا ہے کہ صحافت اور قوم کا عروج و زوال ایک ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے دانش وروں اور صحافیوں کی عظیم اکثریت صرف قوم کے زوال کا سبب بن رہی ہے۔”

