بے حسی ذہن کی اور آنکھ میں جالا ہوتا۔۔
سال کی تین ہزار ہر ماہ اور بارہ ارکان والی بیسی میں اس کا نمبر دسواں تھا۔ گھر میں کپڑے سلائی کرتی تھی۔ پوری بستی میں چونکہ وہی تربیت یافتہ، ماہر اور فیشن کے مطابق سیتی تھی اس لئے ادھر بھی اس سے سلوانا مجبوری تھی اور ساتھ کی پوش کالونی کی بیگمات کے لئے تو وہ مفت ہی بن جاتی تھی۔ پیسے اس کی نسبتا بہت کم لگتے جو کسی مہنگی مارکیٹ میں بیٹھے درزی کو دینے پڑتے۔ دبا کر رکھنے کے مواقع ان ٹیلر ماسٹروں سے زیادہ ہوتے۔ اور چکر بھی مقابلتا کم لگانے پڑتے۔ خیر وجوہات جو بھی ہوں۔ اس کے لئے سلسلہ روزگار لگا ہوا تھا۔ شوہر بھی پینٹ کا کام کرتا تھا۔ بد طنیت نہیں تھا۔ جیسا بستی کے بیشتر مرد تھے۔ ٹھیکا ملے یا دیہاڑی، کماتا تھا۔ تو دونوں مل کے گھر کا نظام چلاتے تھے۔ چار بچوں کے کفیل تھے۔ تین مرلوں کا ہی سہی۔ اپنا مکان کھڑا کر لیا تھا۔ جس کی تکمیل قسطوں میں ہو رہی تھی۔ پانچ سال لگا کے کبھی دیواریں کھڑی کیں تو کبھی پلستر کروایا۔ کبھی رنگ روغن کے خرچے۔ فرش ابھی بھی کچے تھے۔ گھر کی ہر چیز کمیٹی کی بچتوں سے پوری ہوتی تھی۔
اسے اپنی چھت اور اسے سنوارنے کا شوق تھا۔ اس لئے کبھی سیکنڈ ہینڈ صوفے خریدتی۔ انھیں مرمت کرتی، نئے سستے کپڑے کے غلاف سی کر چڑھاتی۔ کبھی پرانا بیڈ لے آتی۔ فریج، واشنگ بھی مہینے کی ہزار روپے کی اقساط میں پوری کر رہی تھی۔ چھوٹے بیٹا کھلونوں کا گرویدہ تھا۔ تو پلاسٹک کا ایک کھلونا وہ ہر دو ماہ بعد خرید لاتی۔ اب تو پچھلے مہینے اس کا باپ کہیں سے چلتی سائیکل لے آیا تھا۔ جو اس کی خواہش بھی تھی اور ضرورت بھی۔ یوں بیس سال کے عرصے میں ان دونوں میاں بیوی نے تنکا تنکا جوڑ کر زندگی کے اسباب تیار کئے تھے۔ اور اس سب پر وہ یسوع مسیح کی دن رات شکر گزار رہتی تھی۔ کہ اس نے انھیں اتنی ہمت دی۔ ورنہ ان کے ارد گرد بہت سے خاندان ایسے تھے جن کے لئے جینا اتنا بھی آسان نہیں تھا۔ برتن پورے کرتے تھے تو تن ڈھانپنا مشکل ہو جاتا تھا۔ گھر بنانے کے لئے اینٹیں اکٹھی ہوں تو سیمنٹ رہ جاتا تھا۔ بجلی کا بل پورا ہو تو گیس کا میٹر کٹ جاتا تھا۔
وہ سب شہر کی ایک غیر قانونی کالونی میں رہتے تھے۔ اس لئے پانی، بجلی، گیس، ٹیلی فون سب حکومتی سہولیات کا فقدان تھا۔ وہ اس ملک میں اقلیت تھے۔ اس لئے بھی ان کو کئی مسائل در پیش تھے۔ دن بدن زندگی تلخ ہو رہی تھی۔ اور اکثریت اور اقلیت کے فرق کو ان کے جوان ہوتے بچے بہت محسوس کرنے لگے تھے۔ لوگوں کی جانچتی نگاہیں، تہواروں کو گھٹ گھٹ کے منانا، اسکولوں میں اسلامیات کی جماعتوں میں امتیازی سلوک، مذہبی عبادت گاہوں کی فکر، نوکریوں میں ‘وائٹ کالر جابز’ سے ناجائز حد تک بے دخلی، اچھوتوں جیسے رویے۔ اور اب تو مذہبی شدت پسندی سے بھی خوف آنے لگا تھا۔ اس سمیت پوری عیسائی کمیونٹی کو اب یہی لگنے لگا تھا کہ یہ وہ تحفظ اور آزادی تو نہیں۔ جس کے لئے ان کے آباو اجداد نے انیس سو سنتالیس میں ہجرت کی تھی۔ قربانیاں دی تھیں۔ خون چاٹا تھا. مسلمانوں کے ساتھ رہنا انھیں ہندووں کے ساتھ رہنے سے بہتر لگا تھا۔ لیکن اب گزرتے ماہ و سال خود ان کا تمسخر اڑانے لگے تھے۔
بچوں کو محتاط رہنے کی تلقین ہر دم ہونے لگی تھی۔ ملک میں آئے روز کوئی سانحہ ہو رہا تھا۔ جس میں کوئی نہ کوئی تختہ دار پر ہوتا اور وجہ الزام دینی عقائد کی بے حرمتی۔ لیکن اس سہمی اور پر خوف ہوا میں پھر بھی انھیں بڑا یقین تھا کہ وہ مٹھی بھر بھلا ان کو کہتے کیا ہیں؟ وہ تو نسلوں سے یہاں کے مکین ہیں۔ وہ تو دین اسلام کے بھی قریب ترین ہیں۔ ان کی بچیاں اور عورتیں تو مسلم سے بیاہ بھی کر سکتی ہیں۔ لیکن پھر وہ ہو گیا۔ جس نے ساری خوش فہمیاں مٹی کر دیں۔ ایک رات وہ سوئے تو اگلے دن مشتعل گروہ ان کی رہائشی کالونیوں میں داخل ہو گیا۔ ڈنڈے، ٹھڈے، مغلظات کا ایک طوفان تھا جس کی لپیٹ میں سب تھے۔ بچے، بوڑھے، عورتیں، لڑکیاں، مرد۔ گرجا گھروں کو آگ لگائی گئی۔ گھروں کے سامان، ان کے اندر گھس کر باہر پھینکے گئے۔ چھتوں سے نیچے گلیوں میں اچھالے گئے۔ اور پھر انھیں ماچس کی تیلی لگائی گئی۔ کسی کا بستہ، کسی کا دوپٹہ، کسی کا بیڈ، کسی کے برتن، کسی کا صوفہ جو غربت کی بھوک اور قناعت کی پیاس میں خریدا گیا تھا، سب جل گیا۔ عزت اور عصمت کے لالے الگ پڑ گئے۔ بستی اور گرجے تو جلے، وہ جلے۔ لیکن اس دن دل، امید، ایمان اور خوش گمانیاں بھی سب راکھ کا ڈھیر ہوئیں۔ اور وہ سب باتیں جو نسل در نسل وہ اپنے مسلمان ہم وطنوں سے سنتے آئے ہیں کہ:
ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں (ارشاد باری تعالٰی)۔
جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔
مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ دوران جنگ املاک، فصلوں، بوڑھے، بچے، خواتین، بیمار یا جانوروں کو نقصان پہنچائے۔
بہترین مسلمان وہ ہے جس کی زبان، اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں (حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم)۔
اس دن اسے پہچاننا مشکل ہو گیا کہ لگا کہ بلوہ آج ان کے ہاں ہوا ہے یا دہائیاں پہلے ان کے آباو اجداد کے ہاں۔ آج ان پر حملہ کرنے والے بلوائی ہیں یا قیام پاکستان کے وقت مارنے والے تھے۔ تب تو ان کے باپ دادا ہجرت کر کے اس زمین پر آبسے۔ اب وہ اور ان کے بچے کہاں کے مہاجر بنیں؟
مصیبت تو یہ ہے کہ کوئی سوچنے والا نہیں کہ توہین رسالت اور توہین قرآن کے نعرے کے اندر قیام پاکستان سے اب تک پچاس سے زائد کیسزز سامنے آئے ہیں۔اب تک ہزار سے اوپر افراد ملزم ٹھہرائے جا چکے ہیں۔ مورد الزام مرد و زن دونوں ہیں۔ شکایتی عام شہری، اساتذہ، یا مذہبی گروہ ہیں۔ نہ حکومت، نہ عدالت۔ جو ‘وسل بلوورز’ ہیں، وہی مشتعل افراد کا ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ وہی عدلیہ، وہی منصف۔ اور جو ملزم ہوتا ہے، اس پر ایسے اچانک، اتنا چپ چاپ، اتنا سرعام حملہ ہوتا ہے کہ اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں۔ پیدائشی مسلمان ہونے کے سرٹیفیکیٹ ہونے کے تکبر میں انسانیت سوز سلوک ملزم سے ہوتا۔ زندہ جلانا، زدوکوب کرنا، تذلیل کرنا، گالی گلوچ کرنا، قتل کر دینا۔ معاشرتی بائیکاٹ۔ احمدی، عیسائی پارسی، شیعہ وغیرہ سبھی اقلیتیں خطرے میں ہیں۔ کوئی مسلم، غیر مسلم بنیادوں پر اور کوئی فرقہ بندیوں کے چکر میں۔ توہین رسالت کے ٹھیکیدار ہی اصل میں توہین رسالت کے مرتکب ہیں۔
داعی محب خدا ہی حقیقی مجرم ہیں۔
اللہ کے مینڈیٹ میں دخیل ہیں۔
انسان کے مینڈیٹ کو پورا کرنے میں ناکام اہل ہیں۔ وہ اصل مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہیں۔ ان کا کوئی دین نہیں۔ وہ کسی مذہب کے پیروکار نہیں۔ وہ منافق ہیں۔


