پاکستانی ڈراموں میں طبقاتی تقسیم
کلاس سسٹم ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ہمارے ملک میں کلاس سسٹم بہت کھل کر نظر آتا ہے یہی کلاس سسٹم ہمارے ڈراموں میں لیکن کیا یہ ضروری ہے ان دو کلاسوں کا اتنا بڑا تضاد دکھایا جائے؟
امیر گھرانا
یہاں ایک بڑا سا بنگلا ہے۔ یہاں گلیمر ہی گلیمر ہے۔ باہر کم سے کم تین گاڑیاں پارک ہے۔ سوئمنگ پول بھی ہے۔ جو ملک پانی کی شدید قلت کا شکار ہو جہاں لوگ دور دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں ایک ایک بوند کو ترستے ہیں وہاں سوئمنگ پول کافی ناگوار گزرتا ہے (ویسے اس پول میں کوئی سوئمنگ کرتا نظر نہیں آتا شاید یہ فحاشی میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن پانی کے ترسے ملک میں اتنا بڑا پول خود ایک فحاشی ہے)۔ اندر لمبا چوڑا لوینگ روم ہے جہاں ایک خوش لباس سجی سنوری اور موڈرن خاتون اپنے موبائل فون پر کسی سے بات کر رہی ہیں۔
صاحب کسی فیکٹری کے مالک ہیں۔ گیٹ کے باہر ہارن بجتا ہے۔ چوکیدار گیٹ کھولتا ہے۔ ڈرائیور گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے۔ اندر سے ایک ملازم نکل کر آتا ہے اور صاحب کا بریف کیس اٹھاتا ہے۔ حالانکہ صاحب تندرست ہیں جوان ہیں۔ گاڑی کا دروازہ بھی خود کھول سکتے ہیں اور اپنا بریف کیس تو خود اٹھا ہی سکتے ہیں صاحب اندر آتے ہیں بیگم فون رکھ کر ویلکم کرتی ہیں۔
”لگتا ہے بہت تھک گئے ہیں آپ“
”ہاں آج میٹینگز بہت تھیں“
”آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگواتی ہوں۔ سب آپ کی پسند کی چیزیں بنوائی ہیں آج“
” ہوں۔ سنو چلو آج باہر کہیں کھانا کھانے چلتے ہیں۔“
”ٹھیک ہے، میں جلدی سے تیار ہو کر آتی ہوں“ پہلے سے ہی تیار شدہ بیگم مزید تیار ہونے جاتی ہیں۔ پتہ نہیں صاحب کی پسند کے جو کھانے بنوائے تھے ان کا کیا ہو گا؟ ڈرامے میں جب بھی اونچا گھرانا دکھایا جاتا ہے یہ منظر اس کا ایک حصہ ضرور ہوتا ہے
اگر ڈرامے کا کہانی کا ہیرو غیر شادی شدہ ہے تو وہ یا کسی فیکٹری کا مالک ہے یا اس کا کوئی امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس ہے اور اکلوتا بھی ہے۔ وہ دفتر میں کسی پوسٹ کے لیے آئی لڑکی کا انٹرویو کرتا ہے۔ لڑکی کے پاس نہ پوری تعلیم ہے نہ کام کا تجربہ۔ لیکن کیا کیا جائے کہانی میں یہی کچھ ہے۔ لڑکی منہ پھٹ بھی ہے اور اس کی یہی ادا امیر ہیرو کو بھا جاتی ہے۔ یہاں سے امیر لڑکے کی غریب لڑکی سے محبت کی داستان رقم ہونے جا رہی ہے۔ اور یوں دو کلاس سسٹم کا حسین سنگم بنایا جاتا ہے۔ لیکن امیر لڑکے کے والدین کو یہ لڑکی قبول نہیں کوئی تگڑم لڑا کر لڑکی کو لڑکے کی زندگی سے دور کر دیا جاتا ہے پھر اپنے اکلوتے بیٹے کی کسی کزن کو بلایا جاتا ہے کہ وہ کسی طرح محبت کے مارے کو بہلا دے اور ان کے شادی کر دی جائے۔ لیجیے جناب کہانی بن گئی اب بنا لیں اس پر پھڑکتا ہوا ڈراما۔
امیر لڑکی کسی غریب سے محبت کر بیٹھے یہ زیادہ دیکھنے میں نہیں ملتا۔ امیر لڑکی اپنے معیار سے ذرا کم ہی گرتی ہے۔ اور پھر غریب لڑکے کی غیرت بھی دکھانی منظور ہے۔
غریب گھرانا
دوسری طرف غریب گھر میں فاقوں کی سی نوبت ہے۔
ماں چارپائی پر بیٹھی پالک کاٹ رہی ہے اور کسی گہری سوچ میں ہے۔ اتنے میں جوان بیٹا اندر آتا ہے۔ ماں کا چہرہ کھل جاتا ہے۔ ”آ گیا میرا بیٹا۔“ بیٹی کو آواز دیتی ہے کہ جلدی سے کھنا لا بھائی بھوکا ہے۔
” کیا پکایا ہے؟“
” جا ہاتھ دھو کر آ جا۔ دال بنائی ہے (’پالک کس لیے کاٹی جا رہی ہے؟)‘ بہن ابھی تازہ روٹی ڈال دے گی“
”کیا مصیبت ہے روز دال روٹی۔ مجھے نہیں کھانی دال۔ اماں تجھے بس دال ہی ملتی ہیں پکانے کو؟“
غریب گھرانے میں آپ جناب نہیں تو تکار ہوتی ہے۔
ماں سمجھاتی ہے کہ جتنا وہ کما کر لاتا ہے اس میں دال روٹی بھی غنیمت ہے۔ بیٹا جھنجھلاتا ہے۔ اتنے میں بیٹی دال اور گرم روٹی لے آتی ہے اور سہمی سہمی سی کہتی ہے ”بھائی کالج کی فیس جمع کرانے کا کل آخری دن ہے“
بیٹا ہاتھ کا نوالہ پھینک کر تنتناتا ہوا کہتا ہے ”یہاں تو یہی رونا ہے روز کا۔ میں باہر سے کچھ کھا لوں گا“ وہ گھر سے نکل جاتا ہے۔ ماں روکتی رہ جاتی ہے۔ ماں بیٹی دونوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ (پتہ نہیں پالک کا کیا بنے گا) ۔ اتنے میں محلے کی خالہ نما خاتون آتی ہے وہ بیٹی کے لیے اس سے دوگنی عمر کا رشتہ لائی ہے۔ ماں بیٹی اور بھی غمزدہ نظر آتی ہیں۔ یہاں کوئی گلیمر نہیں۔
متوسط گھرانا۔
اس گھر میں کافی وارئٹی نظر آتی ہے۔ آج کل تین بیٹیوں والے ڈرامے چل رہے ہیں بڑی بہت ذمہ دار، ذہین اور تابعدار ہے منجھلی کے کچھ خواب ہیں۔ سب سے چھوٹی بیٹی ذرا شریر اور منہ پھٹ ہے اور ہر وقت ڈانٹ کھاتی رہتی ہے۔ تین بیٹیوں والے ڈرامے دیکھ کر بار بار لگتا ہے کہ پہلے بھی کچھ ایسا ہی دیکھ چکے ہیں حد تو یہ ہے ابا میاں بھی وہی ہیں۔ مکان بھی ویسا ہی ہے۔ ایسے گھرانوں کا مسئلہ بھوک نہیں ہے بلکہ لڑکیوں کی شادیاں ہے۔ ماں ہر وقت جھنجھلائی رہتی ہے۔ ابا ٹھنڈے مزاج کے ہیں بیٹیوں پر فخر کرتے ہیں جو بہت اچھی بات ہے۔
ہے تو متوسط گھرانا لیکن ایک میڈ ان کے ہاں بھی ہے۔ خاتون خانہ گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے لیے پانی منگواتی ہیں ”اف آج تو بہت ہی گرمی پڑ رہی ہے“ اس کے بعد وہ کچن پہنچ جاتی ہیں۔ ان کے صاحب گھر آتے ہیں تو بہت پیار سے کہتی ہیں ”آ گئے آپ۔ جلدی سے منہ ہاتھ دھو لیں آج میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کی پسند کے کھانے بنائے ہیں“ ( سچ کہیے یہ جملہ آپ نے کتنی بار کتنے ڈراموں میں سنا ہے؟ ) یہاں منگی، مہندی اور ڈھولک کے مناظر میں گلیمر ڈالا جاتا ہے۔
متوسط گھرانے کا ہیرو لڑکا اپنے گلے میں لیپ ٹاپ کا بیگ ڈالے بائیک کھڑی کر کے اندر آتا ہے۔ اسے اپنی کزن یا کسی ہم کلاس سے محبت ہے لیکن ماں کو اپنے بیٹے کے لیے کوئی اونچا گھرانا چاہیے۔ اس کی ایک بہن بھی ہے جو اچھے مستقبل کے خواب دیکھتی ہے اور کالج آتے جاتے کسی کار والے سے متاثر ہو جاتی ہے۔ (یہ سچویشن بھی آپ نے کئی بار دیکھی ہوگی) ۔ بات یہ ہے کہ آپ کب تک ایک ہی طرح کی کہانیاں اور ایک ہی طرح کے سین چلائے جایں گے؟


