جیسے آپ کی مرضی

پچھلے دنوں اے آر وائی کا ایک ڈراما سیریل چلا ”جیسے آپ کی مرضی“۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک مرد ہے جو نرگسیت (Narcissism) کا شکار ہے۔ وہ ہر وقت ہر جگہ اپنی مرضی چلانا چاہتا ہے اور کسی کے جذبات اور احساسات کی اسے پرواہ نہیں۔ اس قسم کے مردوں کی معاشرے میں کمی نہیں۔ ایک حساس موضوع پر کہانی بنائی گئی اور توقع تھی کہ اس میں کچھ الگ سا دیکھنے کو ملے گا۔ لیکن کہانی کو اس

Read more

وہی گھسے پٹے مناظر

کیا کبھی آپ کو کوئی ڈراما دیکھتے ہوئے ایسا لگا کہ ارے سین یہ تو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ Dejavu آپ ٹھیک سمجھے ہیں۔ کچھ سین ایسے ہیں جو مختلف ڈراموں میں دہرائے جاتے ہیں۔ آئیے ایسے سین پر بات کرتے ہیں جو ہر ڈرامے میں بار بار دکھائے جاتے ہیں۔ تھپڑ والا سین۔ تقریباً ہر ڈرامے میں ایک تھپڑ والا سین ڈال دیا جاتا ہے شاید لہو کو گرمانے کے لیے۔ دیکھنے والے بھی اس تھپڑ کو

Read more

ناروے میں نادرہ کے ساتھ

نادرہ مہرنواز کی کتاب ’ناروے۔ پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میرے سامنے ہے۔ یہ کتاب 34 مضامین پر مشتمل ہے جو ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ پر شائع ہو چکے ہیں۔ میں یہ تمام مضامین پڑھ چکی ہوں لیکن اب سب ایک کتاب کی صورت میں یکجا ہیں تو انہیں پڑھنے میں اور بھی مزا آ رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کتاب کے بارے میں کچھ کہوں، میں نادرہ کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گی۔ نادرہ اور میری

Read more

پاکستانی ڈراموں میں طبقاتی تقسیم

کلاس سسٹم ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ہمارے ملک میں کلاس سسٹم بہت کھل کر نظر آتا ہے یہی کلاس سسٹم ہمارے ڈراموں میں لیکن کیا یہ ضروری ہے ان دو کلاسوں کا اتنا بڑا تضاد دکھایا جائے؟ امیر گھرانا یہاں ایک بڑا سا بنگلا ہے۔ یہاں گلیمر ہی گلیمر ہے۔ باہر کم سے کم تین گاڑیاں پارک ہے۔ سوئمنگ پول بھی ہے۔ جو ملک پانی کی شدید قلت کا شکار ہو جہاں لوگ دور دور

Read more

پاکستانی ڈراموں میں عورت کا کردار

پاکستانی کے بے شمار ٹی وی چینلز ہیں جہاں سلسلے وار سوپ ڈرامے چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ سارے ڈرامے کمرشل نظریہ پر بنتے ہیں۔ بڑے بڑے چینلز میں ہم ٹی وی، اے آر وائی اور جیو سب سے بڑے نام ہیں۔ ڈرامے مختلف ہیں لیکن پھر بھی ایک ہی جیسے ہیں۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ ارے یہ تو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ جیسے جیسے ان چینلز کی مشروم گروتھ ہوئی ویسے ویسے تھوک کے

Read more