بت پرستوں کی نئی نسلیں (13)
نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طاقتوروں کی سازشیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد دین علاقے کے کچھ معتبر لوگوں کے ساتھ ملک پور کی حویلی میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اسے ملک فضل داد کی کال آئی۔
وہ کال سنتا سنتا باہر برآمدے میں نکل آیا۔ فضل داد کے پوچھنے پر احمد دین نے اسے گزشتہ روز کی پوری رپورٹ دے دی۔ علاقے کے اہم لوگوں کی روشن داد سے ملاقات کی مکمل تفصیل بھی بتائی اور یہ بھی کہ اس وقت بھی حویلی میں کچھ لوگ چھوٹے ملک صاحب کی یہاں آمد کا سن کر آئے بیٹھے ہیں۔ میں شام کو ان سے بھی ملاقات کرا دوں گا۔
فضل داد نے اسے سب کام نہایت احتیاط سے کرنے کی تلقین کی۔ اسے ڈر تھا، کہیں روشن داد کو ان کی پلاننگ کی بھنک بھی پڑ گئی تو بنا بنایا کھیل چوپٹ ہو جائے گا۔ جواب میں احمد دین نے اسے تسلی دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی منصوبہ بندی کی کامیابی کی اسے پوری پوری امید ہے۔
روشن داد بیڈ روم سے منسلک سٹنگ روم میں بیٹھا، اپنے موبائل پر کسی کے ساتھ چیٹ میں مصروف تھا جب نیاز علی اور فراز علی دو لڑکیوں کے ساتھ وہاں داخل ہوئے۔ شہناز اور ممتاز نام کی یہ لڑکیاں آج کے برنچ میں موجود نہیں تھیں۔ وہ دراصل رات کو منشیات کے استعمال کے بعد دیر تک سو رہی تھیں۔ یہ اور بات کہ وہ اس وقت خوب ہشاش بشاش نظر آ رہی تھیں۔
روشن داد نے ان چاروں کو نہایت بے دلی کی نظر سے دیکھا، جیسے اسے اس وقت ان کا آنا پسند نہ آیا ہو۔
دونوں لڑکیوں نے روشن داد کو جھک کر سلام پیش کیا۔
اس نے جواب تو دیا مگر نہایت سرد مہری سے۔
نیاز علی نے روشن داد کے رویے کو محسوس کیا تو اسے بولنا پڑا
”ملک صاحب! یہ دونوں لڑکیاں، شہناز اور ممتاز آپ سے ملاقات کے لئے بہت بے چین ہو رہی تھیں۔ حالانکہ میں نے انہیں بتایا بھی کہ آپ اس وقت مصروف ہیں اور میں آپ کی تنہائی میں مخل ہونا بھی نہیں چاہتا تھا مگر ان کے بار بار منتیں کرنے سے مجبور ہو کر میں انہیں یہاں لے آیا“ ۔
”اچھا! لیکن ایسی کیا مجبوری تھی کہ یہ اسی وقت مجھے ملنا چاہتی تھیں؟“ روشن داد اب ایک طاقتور کے لہجے میں بول رہا تھا۔
ممتاز جو حسن و جوانی کا ایک شاہکار دکھائی دیتی تھی، فوراً بولی
”حضور! ہم نے آج ناشتے میں شامل نہ ہو کر جو گستاخی کی تھی، ہم اسی کے لئے معافی مانگنے حاضر ہوئی ہیں“ ۔
”اس کی کیا ضرورت تھی؟ تم لوگ دیر سے سوئے اور دیر سے جاگے، اس لئے ناشتے میں شامل نہ ہو سکے۔ اس کے لئے معافی کیوں؟ اور وہ بھی مجھ سے؟“ ۔ روشن داد کے لہجے میں روکھا پن ابھی تک قائم تھا۔
اب شہناز آگے بڑھی ”حضور! ہم دونوں تو رات بھی آپ کی قربت کی خواہش مند تھیں، لیکن حضور نے تو قریب بیٹھنے کا موقع بھی نہیں دیا“ ۔
”رات کا پروگرام میں نے ترتیب نہیں دیا تھا۔ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو اس کے ذمہ دار یہ نیاز علی اور فراز علی ہیں۔ تم ان سے پوچھو ایسا کیوں ہوا؟“ روشن نے نیاز علی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
فراز علی اس وقت بھی نیاز علی کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔
نیاز علی نے بھی جواب دینا ضروری سمجھا
”رات کے پروگرام کی کوئی ترتیب تو پہلے سے طے ہی نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے ایسا ہو گیا ہو گا۔ مگر اب شام کو آپ جیسا کہیں گے ہم پروگرام کی پوری منصوبہ بندی پہلے سے ہی کر لیں گے“ ۔
روشن داد کی نظر میں اب ناگواری کا عنصر نمایاں تھا
”شام کا پروگرام؟ وہ کیسا اور کیوں؟ میرے پاس اب ایسے پروگراموں کے لئے کوئی وقت نہیں ہے“ ۔
نیاز علی نے جھجکتے ہوئے روشن داد کو یاد دلانے کی کوشش کی
”لیکن ملک صاحب! آپ نے برنچ پر خود ہی تو ان سب کو شام کی دعوت میں بلانے کے لئے کہا تھا“ ۔
”لیکن اب میں ایسا کوئی پروگرام نہیں چاہتا۔ اور تم لوگ اب جا سکتے ہو“ ۔
روشن داد نے بات ختم کرنے کے انداز میں جواب دیا۔
نیاز علی اور دونوں لڑکیاں حیرت اور شرمندگی کے جذبات لئے آہستہ آہستہ کمرے سے نکل گئیں۔ فراز علی اپنی جگہ کھڑا رہا۔
روشن داد نے فراز علی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
”تم ابھی تک یہیں کھڑے ہو؟ کیا تم نے میری بات نہیں سنی؟“ ۔
”سنی ہے ملک صاحب! پوری بات سنی ہے آپ کی، مگر مجھے ایک التجا کرنی تھی، اس لئے نہیں گیا۔ اب بس آپ تک اپنی التجا پہنچا کر میں بھی چلا جاؤں گا“ فراز علی نے نہایت انکساری سے جواب دیا۔
”اچھا! تو کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟“ ۔
”جناب میری درخواست ہے کہ آپ شام کا یہ پروگرام کینسل نہ کریں“ ۔
”مگر کیوں؟ اس کی اتنی خاص ضرورت کیوں ہے؟“ ۔
”ضرورت ہے ملک صاحب! اور یہ ضرورت ان لوگوں سے زیادہ آپ کی ہے“ ۔
”نہیں! مجھے ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔ میں یہاں رہنے کے لئے واپس نہیں آیا۔ میں بہت جلد لندن لوٹ جاؤں گا۔ مجھے یہاں کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے“ ۔
”لیکن بڑے ملک صاحب، جناب ملک فضل داد صاحب کی عزت میں تو آپ کو دلچسپی ہو گی نا؟ میں اسی کی بات کر رہا ہوں“ ۔
”میرے اس پارٹی میں شرکت کرنے یا نہ کرنے سے ابا کی عزت کا کیا تعلق؟“ ۔
”ہے ملک صاحب! بہت بڑا تعلق ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اس علاقے کی قومی اسمبلی کی نشست بڑے ملک صاحب کتنے سالوں سے لگاتار جیتتے آ رہے ہیں۔ اور انہی کی وجہ سے آپ کے دونوں پھوپھا صاحبان بھی تب سے دونوں صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر براجمان ہیں“ ۔
”میں جانتا ہوں مگر اس بات کا تمہاری اس پارٹی سے کیا واسطہ ہے؟“ ۔
”آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ بڑے ملک صاحب اور آپ کے دونوں پھوپھا صاحبان کی سیاست آپ لوگوں کی بزنس ایمپائر کو کتنا سپورٹ کرتی ہے؟“ ۔
”ہاں کچھ بتایا تو تھا ابا نے کہ یہ دونوں کام ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں“ ۔
”اسی لئے ملک صاحب! اسی لئے آپ کو یہ شام کا پروگرام کینسل نہیں کرنا چاہیے“ ۔
”فراز علی! مجھے تمہاری بات ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی“ ۔
”میں کوشش کرتا ہوں جناب۔ میں پھر سے کوشش کرتا ہوں، ممکن ہے میں اپنی بات آپ تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاؤں۔ دیکھیں! بڑے ملک صاحب کی اور پھر آپ کی بھی، شان و شوکت اور رتبے کے مقابلے میں تو یہ لڑکیاں دو ٹکے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ مگر ان کی زبانیں بہت تیز ہیں اور بہت دور تک کام کرتی ہیں“ ۔
”تو؟ پھر کیا ہے؟“ ۔
”آپ نے آج صبح ہی ان سب لڑکیوں کو شام تک روکنے اور ملنے کے لئے کہا تھا۔ یہ بات انہیں بتا بھی دی گئی تھی۔ اب اگر یہ پروگرام کینسل ہوتا ہے اور یہ لڑکیاں باہر جا کر آپ کو وعدہ خلاف اور مغرور مشہور کر دیتی ہیں۔ جس کا کہ کافی امکان ہے، تو یقیناً آپ کی ذات کا کوئی نقصان نہیں ہو گا مگر بڑے ملک صاحب کی سیاست پر بہت برا اثر پڑے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں پورے علاقے کے لوگ آپ کو بڑے ملک صاحب کا جانشین سمجھتے ہیں ”فراز علی نے ایک ٹھوس دلیل دینے کی کوشش کی۔
روشن داد بھی اس کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا اور پھر چند لمحے غور کرنے کے بعد اس نے فراز علی کو اجازت دے دی کہ وہ شام کا پروگرام خود ترتیب دے۔ ساتھ ہی اس کی یہ ڈیوٹی بھی لگائی کہ وہ جا کر ، دونوں لڑکیوں سے اس کی طرف سے معذرت کر لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فضل داد سٹڈی میں بیٹھا کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ عروسہ فضل وہاں آئی اور اسے باہر آنے کے لئے بولا۔
”کیوں؟ ایسی کیا بات ہے؟“ فضل داد نے پوچھا
”وہ گجو آیا ہے پھر سے، جس کا میں نے ذکر کیا تھا“ ۔
”میں نے آپ سے کہا بھی تھا کہ اگر آپ کو مناسب لگتا ہے تو اسے اوپر کے کاموں کے لئے رکھ لیں۔ بعد میں دیکھ لیں اگر اچھا کام کرے تو مستقل نوکری دے دیں“ ۔
”لڑکا سا ہے، کہتا ہے گیارہ سال کا ہے، مگر مجھے تو اور بھی چھوٹا لگتا ہے“ ۔
”پھر تو مناسب نہیں ہو گا۔ اگر اپنے کسی بڑے کے ساتھ مل کر یہاں رہے تو اور بات ہے، ورنہ کہیں چائلڈ لیبر والا پھڈا ہی نہ بن جائے۔ میری تو سیاست پر ہی سوال اٹھنے لگیں گے“ ۔
”اسی لئے تو کہہ رہی ہوں۔ آپ دیکھ لیں اسے ایک بار۔ شکل سے تو بہت معصوم اور ضرورت مند لگتا ہے، مگر کیا پتہ“ ۔
وہ دونوں باہر برآمدے میں آ گئے۔ لڑکا لان میں گھاس پر بیٹھا تھا۔ عروسہ فضل نے آواز دی تو وہ فوراً ان کے سامنے با ادب کھڑا ہو گیا اور فضل داد کو سلام کیا۔
فضل داد نے اس کے سلام کا جواب دینے کے ساتھ ہی سوال کر دیا
”تم کون ہو لڑکے اور کہاں سے آئے ہو؟ تمہارے ماں باپ کہاں ہیں؟“ ۔
”میرے ماں باپ ہوتے تو میں اس حال میں ہی کیوں ہوتا صاب جی؟ میں ایک لاوارث ہوں۔ مجھے ماں باپ کا کچھ پتہ نہیں“ ۔
”اچھا! مگر تمہیں کسی نے پالا پوسا ہو گا۔ پیدا ہوتے ہی اتنے بڑے تو نہیں ہو گئے تم؟“ ۔
”جی صاب جی! میں نے جب ہوش سنبھالا تو میں ایک یتیم خانے میں تھا۔ میرے ماں باپ کون تھے، مجھے کبھی نہیں بتایا گیا۔ جو کوئی مجھے وہاں چھوڑ کر گیا تھا، مجھے اس کی بھی خبر نہیں دی گئی“ ۔
”تم ابھی بھی اسی یتیم خانے میں رہتے ہو؟“ ۔
”نہیں صاب جی! وہ یتیم خانہ تو کہیں بہت دور تھا۔ مجھے تو اس شہر کا نام بھی نہیں معلوم۔ مجھے تو اب کتنے ہی سال ہو گئے ہیں وہاں سے بھاگے ہوئے ”۔
”تم بھاگے کیوں تھے وہاں سے؟“ ۔
”یتیم خانے کے مالک بہت ظلم کرتے تھے جی بچوں پر ۔ کام بہت کراتے تھے اور کھانے کے لئے بہت کم دیتے تھے۔ کئی دفعہ رات کو بھوکا ہی سونا پڑتا تھا“ ۔
”تم نے ابھی کہا کہ تمہیں یتیم خانے سے بھاگے ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں“ ۔
”جی صاب!“ ۔
”تو تم اتنے سال کہاں رہے؟“ ۔
”جی یتیم خانے سے بھاگا تو بھاگ ہی رہا ہوں۔ جہاں بھی گیا، جہاں بھی کام ملا سب اس یتیم خانے کے مالک جیسے ہی ملے“ ۔
”تو ہمارے پاس کیا سوچ کر آئے ہو؟“ ۔
”صاب جی! سارے علاقے میں مشہور ہے کہ آپ رحم دل ہیں۔ غریبوں اور لاوارثوں کی مدد کرتے ہیں، اس لئے میں آپ کے پاس آ گیا۔ آپ مجھے اپنے پاس پناہ دے دیں صاب جی! میں آپ کی بہت خدمت کروں گا۔ مجھے آپ صرف کھانا اور رہنے کی جگہ بھی دے دیں گے تو میں ساری زندگی آپ کا احسان مانوں گا“ ۔
”ابھی ہم تمہیں عارضی طور پر رکھ رہے ہیں۔ اگر شرافت سے رہے تو آگے بھی سوچیں گے“ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو ملک پور کی حویلی کے ایک بڑے سے شاندار کمرے میں پھر سے علاقہ کے کچھ سرکردہ لوگ بیٹھے احمد دین کے ساتھ محو گفتگو تھے۔ ان میں سے کئی ایک ایسے بھی تھے جو پہلی بار اس کمرے میں مہمان بنے تھے۔ وہ کمرے کی شان و شوکت دیکھ کر مرعوب ہو رہے تھے۔ کمرے کی بناوٹ سجاوٹ پر بہت سی دولت خرچ کی گئی تھی۔
یہ سب لوگ روشن داد سے ملنے کے لئے آئے تھے۔ انہیں صرف لندن پلٹ نوجوان سے ہی ملنے کا اشتیاق نہیں تھا بلکہ وہ یہ بھی اندازہ کرنے آئے تھے کہ ملک فضل داد کے بعد جو ان کا جانشین ہو سکتا ہے وہ کیسا انسان ہے؟
روشن داد کمرے میں داخل ہوا تو سب نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا۔
پھر سب باری باری روشن داد کو بتانے لگے کہ کیسے ملک فضل داد نے شہروں سے کٹے ہوئے ان دور دراز دیہاتوں کو ایک جدید علاقہ میں بدل ڈالا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صرف پچیس سال پہلے یہاں سائیکل بھی کسی کسی کے پاس ہوتی تھی اور کچی پگڈنڈیوں پر سائیکل چلا کر پکی سڑک تک جانا بھی ایک عذاب کی طرح ہوتا تھا۔ جبکہ آج ہر تیسرے بندے کے پاس اپنی موٹر سائیکل ہے۔ ہر چھٹے ساتویں گھر میں چھوٹی یا بڑی مگر اپنی ذاتی گاڑی ہے۔
ایک بزرگ نے روشن داد کی وساطت سے ملک فضل داد کو اپنا شکریہ پہنچاتے ہوئے اسے بتایا کہ ملک فضل داد نے تو ہمارے علاقے کی کایا ہی پلٹ دی۔ اب یہاں ایک بھی عورت یا مرد، جو کام کرنا چاہے، وہ بے کار نہیں ہے۔ یہاں تک کہ گھروں کی عورتیں بھی اپنے فارغ وقت میں کچھ نہ کچھ کما لیتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہاں اب کسی اور کو الیکشن لڑنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔
سب نے مل کر روشن داد سے عہد کیا کہ جب تک ان کی طرف سے، علاقے کے لوگوں کے سروں پر یونہی شفقت کا ہاتھ رہے گا وہ کبھی کسی دوسرے کو ووٹ نہیں دیں گے۔ بلکہ کسی کو اس علاقے میں گھسنے بھی نہیں دیں گے۔
روشن داد ان کی باتیں سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے یہ نیک جذبات اسی طرح ملک فضل داد تک پہنچا دے گا۔ اس کے بعد اسے چونکہ ان لڑکیوں والی پارٹی میں بھی جانا تھا اس لئے وہ ان کی دعائیں لے کر اٹھ آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشن داد کو بے شک باپ کی سیاست یا کاروبار میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، مگر وہ یہ جان کر بہت خوش ہوا تھا کہ اس پورے علاقے میں اس کے باپ کی کتنی عزت ہے اور اسے کس قدر احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
اسی خوشی نے خود اس کے اندر بھی یہ ہلکی سی خواہش پیدا کر دی کہ اسے بھی یونہی عزت ملے اور اسے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ کچھ ایسے ہی غیر واضح جذبات کے ساتھ وہ بعد میں ان لڑکیوں والی پارٹی میں پہنچا۔
پارٹی میں گزشتہ شب والی تمام لڑکیاں موجود تھیں۔ اس نے وہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے اس بات پر معذرت چاہی کہ اس نے ایک بار اس پارٹی کو کینسل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ وضاحت میں اس نے بتایا کہ وہ اس وقت کچھ ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔
فراز علی چونکہ اس وقت تمام انتظامات کی نگرانی کر رہا تھا، چنانچہ اس نے لڑکیوں کی طرف سے روشن داد کا شکریہ ادا کیا۔ کچھ لڑکیوں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تو روشن داد نے سب لڑکیوں سے ایک بار پھر فرداً فرداً تعارف کی خواہش کی۔ فراز علی نے آگے بڑھ کر یہ فریضہ انجام دیا۔
جب ایک بار تفصیلی تعارف ہو چکا تو روشن داد نے سب کو مخاطب کیا
”آج ہم کل شام کی طرح نہیں کریں گے۔ آج ہر کسی کو اجازت ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنی مرضی کی ڈرنک یا کوئی اور چیز استعمال کرے۔ البتہ ڈانس، گانے اور لطیفے سب مل کر انجوائے کریں گے“ ۔
روشن داد کے اس اعلان کے بعد سب بہت خوش ہو گئے اور ایک بے تکلفی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ کچھ لڑکیوں نے ایک ایک کر کے اپنے ڈانس کا مظاہرہ کیا اور پھر ایک بڑا گروپ بن گیا۔ سب مل کر ناچنے اور گانے لگے۔ کچھ لڑکیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔
روشن داد نے محسوس کیا کہ پلوشہ ایسے ماحول میں بھی ایک کونے میں لگی چپ چاپ بیٹھی ہے۔ بے شک آج وہ باقاعدہ ڈرنک کر رہی تھی۔ روشن داد کو گمان ہوا، شاید وہ ناراض ہے، اس لئے یوں اکیلی بیٹھی ہے۔ وہ ڈانس میں بھی حصہ نہیں لے رہی تھی۔
روشن داد اس کے قریب گیا اور اس طرح الگ تھلگ بیٹھنے کی وجہ پوچھی تو پلوشہ نے جواب دیا
”میں تو آپ سے مل چکی ہوں، اب آپ کو چاہیے کہ دوسری لڑکیوں کو بھی خوش ہونے کا موقع دیں۔ ویسے جب بھی آپ چاہیں گے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گی“ ۔
روشن داد کو پلوشہ کے جواب سے کسی حد تک تشفی ہو گئی تھی اسی لئے وہ پھر سے دوسری لڑکیوں کے ساتھ گپ شپ اور ڈانس وغیرہ میں مصروف ہو گیا۔ البتہ کئی لڑکیوں کے مسلسل اصرار کے باوجود اس نے شراب آج بھی نہیں پی۔
پارٹی رات گئے تک جاری رہی۔ مگر جونہی پارٹی ختم ہوئی تو روشن داد نے نیاز علی کو بتایا کہ اب وہ گھر واپس جانا چاہتا ہے۔ نیاز علی نے فوراً فون کر کے اپنے باپ کو جگایا۔ احمد دین نے ڈرائیور کا بندوبست کیا اور روشن داد کو اس کے گھر کی طرف روانہ کر دیا گیا۔
جب وہ گھر پہنچا تو سب سو رہے تھے۔
گیٹ پر موجود گارڈ نے اس کے پہنچتے ہی اندر اطلاع دی۔ روشن داد کسی کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں پہنچا، کپڑے بدلے اور سو گیا۔
دوسرے دن احمد دین نے منشی چراغ دین کو روشن داد کے یہاں آنے، ایک رات حویلی میں قیام کرنے اور علاقے کے سرکردہ لوگوں سے ملاقات کی پوری روداد سنائی۔ البتہ وہ پلوشہ اور دوسری لڑکیوں کی وہاں آمد کو گول کر گیا۔
منشی چراغ دین کو اپنے ذرائع سے حویلی کے بارے میں ساری خبر تھی لیکن اس نے مناسب نہیں سمجھا کہ احمد دین سے اس بات کا ذکر کرے۔ البتہ اس نے روشن داد کی علاقے کے سرکردہ لوگوں سے ملاقاتوں کا سن کر نہایت خوشی کا اظہار کیا۔
بعد میں وہ دونوں نور بانو سمیت اپنے خاندان کے دیگر لوگوں کا ذکر کرتے رہے۔ یوں کافی عرصہ کے بعد منشی چراغ دین اور احمد دین کے درمیان ایک طویل ملاقات ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشن داد نے تو اب روٹین ہی بنا لی تھی کہ صبح ناشتہ کرنے کے بعد وہ سیدھا باپ کی سٹڈی میں چلا جاتا۔ دوپہر تک وہاں موجود کتابوں سے اپنے علم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتا اور عین کھانے کے وقت وہ اپنے دوست مسعود چیمہ کے دفتر پہنچ جاتا۔ لنچ بریک ہوتے ہی دونوں کی ملاقات ہو جاتی۔
دونوں مل کر لنچ کرتے اور ساتھ میں تبادلۂ خیالات بھی چلتا رہتا۔ مسعود چیمہ محسوس کر رہا تھا کہ اپنے ارادوں کے خلاف، روشن داد نے مقامی معاملات میں بھی تھوڑی تھوڑی دلچسپی لینی شروع کر دی ہے۔ خواہش کے باوجود اس نے اس ضمن میں روشن داد سے کوئی سوال کرنے سے گریز ہی کیا۔
روشن داد، مسعود چیمہ سے اپنی اس روزانہ کی ملاقات کے بعد کچھ دیر شہر میں گھومتا اور پھر واپس گھر آ جاتا۔ عروسہ فضل اور ملک فضل داد بھی اس وقت تک گھر آ گئے ہوتے۔ کچھ دیر تینوں میں ملاقات رہتی، جس میں کبھی کوئی خاص موضوع نہیں ہوتا تھا۔
عروسہ فضل کی خواہش تھی کہ وہ روشن داد کو شادی کی طرف مائل کرے مگر فضل داد نے منع کر رکھا تھا۔ فضل داد کا خیال تھا کہ جب تک وہ یہاں رہنے کا فیصلہ نہیں کر لیتا اس کی شادی کی بات کرنا بالکل فضول ہے۔
روشن داد شام کا کچھ وقت انٹرنیٹ پر مصروف رہتا اور پھر رات کا کھانا کھانے کے بعد مختصر واک پر نکل جاتا۔ واپس آ کر سونے سے پہلے، سارا وقت برطانیہ میں موجود اپنے دوستوں سے رابطہ کر کے منصوبہ بندی میں گزارتا۔ کسی سے مختصر اور کسی سے لمبی بات ہوتی۔
دو چار دن کے بعد اس کی کرسٹینا سے بھی ویڈیو کال ہو جاتی۔ دونوں ایک دوسرے کا حال چال پوچھتے، اور اپنی اپنی مصروفیات کے بارے میں ایک دوسرے کو بتاتے۔ کرسٹینا اپنی پارٹی کے کاموں میں بہت مصروف ہو گئی تھی۔ شاید اسی لئے اب اس کی باتوں میں وہ پہلے سی گرمجوشی بھی نہیں تھی مگر روشن داد کا دل ابھی تک اسی کے نام سے دھڑک رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر علیم الدین شاہ کے بلانے پر پلوشہ پاشا، ڈرائیور کے ساتھ اپنی ’پراڈو‘ پراس کے گھر پہنچی۔ پیر علیم الدین شاہ کے ملازموں کی آفر کے باوجود اس نے ڈرائیور کو گاڑی میں رکنے کے لئے کہا اور خود ایک دوسرے ملازم کے دکھائے ہوئے راستے سے اندر پہنچی۔
یہ ایک بڑا سا کمرہ تھا۔ انتہائی قیمتی سامان سے سجا ہوا۔ فرش پر ایرانی قالین جن پر دیگر بیل بوٹوں کے علاوہ شکار کے مناظر بھی بنے ہوئے تھے۔ اطلس و کمخواب کے پردے اور اطالوی فرنیچر۔ ہر کونے میں پڑے ہوئے طرح طرح کے نوادرات۔ لیکن پلوشہ ان میں سے کسی چیز کو بھی نہیں دیکھ رہی تھی۔
پلوشہ نے اس نوع کی شان و شوکت کے بہت سے کمرے دیکھ رکھے تھے۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ جب اس قبیل کے لوگ کسی کو اپنے کسی اہم کام کے لئے بلاتے ہیں تو پہلے ایسے ہی خاص کمرے میں بٹھاتے ہیں۔ آنے والے پر اپنی دولت اور طاقت کا رعب ڈالنا ان کا پہلا مقصد ہوتا ہے۔
تھوڑی دیر میں پیر علیم الدین شاہ بھی آ گیا۔ پلوشہ نے کھڑے ہو کر اسے سلام کیا۔ علیم الدین نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا تو وہ بیٹھ گئی اور علیم الدین نے بھی اپنی سیٹ سنبھال لی۔ اتنے میں ایک انتہائی وجیہ اور جاذب نظر نوجوان ملازم چائے لے آیا۔ چائے کے برتن بھی انتہائی قیمتی تھے اور یقیناً درآمد کیے ہوئے۔ ملازم نے چائے بنا کر بڑے ادب سے دونوں کو پیش کی اور خود باہر نکل گیا۔ پلوشہ پاشا نے اس قدر جاذب نظر نوجوان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔
پیر علیم الدین شاہ نے بات شروع کی
”میں تمہیں آج ایک خاص کام سونپنا چاہتا ہوں، کہو، کرو گی؟“ ۔
”آپ مائی باپ ہیں حضور! ان داتا ہیں ہمارے۔ آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر ۔ اگر کام میرے بس کا ہوا تو ضرور کروں گی“ ۔
”کام تو تمہارے بس کا ہے، بلکہ تمہارے لئے تو بہت آسان ہو گا۔ میں تمہیں اس کا منہ مانگا معاوضہ دوں گا“ ۔
”میں اچھی طرح جانتی ہوں شاہ جی، آپ کسی کا حق نہیں رکھتے مگر کرنا کیا ہے، یہ جانے بغیر میں کیسے ’ہاں‘ کہہ سکتی ہوں؟ البتہ ایک وعدہ میں ابھی سے کر سکتی ہوں۔ وہ یہ کہ اگر کوئی کارگزاری میرے بس کی نہ بھی ہوئی تو آپ کا راز ہمیشہ راز ہی رہے گا“ ۔
”اچھا! تو ذرا میرے قریب آؤ ادھر“ ۔
پلوشہ اٹھ کر پیر علیم الدین کے پاس گئی تو اس نے یہ کار اہم پلوشہ کے کان میں بتایا۔ جسے سن کر پلوشہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ واپس اپنی سیٹ پر آ کر خاموشی سے بیٹھ گئی۔
علیم الدین دوبارہ مخاطب ہوا
”تم خاموش کیوں ہو گئی ہو؟ بولو، میری مدد کرو گی یا نہیں؟“ ۔
”نہیں شاہ جی! یہ خاص ہنر میرے بس کا نہیں ہے“ ۔
”سوچ لو! ویسے یہ مزدوری میں کسی اور سے بھی کرا سکتا ہوں۔ لیکن میں چاہتا تھا کہ یہ کمائی تم کرو۔ اتنی بڑی رقم کوئی اور کیوں لے جائے؟“ ۔
”پیسے آتے کسے برے لگتے ہیں شاہ جی؟ لیکن میں اس دھندے کی عورت نہیں ہوں“ ۔
”تو پھر کسی اور سے کرا لوں؟“ ۔
”اگر کوئی اور ہامی بھرے، اور وہ اسے سرانجام دینے میں کامیاب بھی ہو جائے تو یقین کریں میری صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ البتہ میں خود، نہ ایسا کچھ کرنے کے لئے تیار ہوں اور نا ہی اپنے کسی بندے سے کرانے کے لئے“ ۔
اس سے پہلے کہ علیم الدین اگلی بات کرتا، اس کے موبائل کی گھنٹی بجی اور اس نے فون اٹینڈ کیا۔ دوسری طرف کی بات سن کر اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے موبائل بند کیا اور پلوشہ سے بولا
”دیکھو! تمہارا آنا ہی ہمارے لئے اتنا بابرکت ثابت ہوا ہے کہ آدھی منزل طے بھی ہو گئی ہے۔
میرا ایک خود کش بمبار دشمن کی صفوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
اب بڑا معرکہ تو سمجھو سر ہو ہی جائے گا۔ میں اس کے بعد تمہیں نسبتاً چھوٹی سی خدمت کا موقع دوں گا۔
فکر مت کرو، پیسے اس کے بھی کافی دوں گا ”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گجو نے تو سارے ملک ہاؤس والوں کے دل چند ہی دنوں میں جیت لئے۔ اسے جو بھی کام بتایا جاتا، وہ بھاگ بھاگ کر انجام دیتا۔ عروسہ فضل اور فضل داد کا حکم تو جیسے اس کے لئے خدا کا حکم ہوتا۔ اسے دوسرے ملازم کسی بھی نام سے بلاتے یا اس کا مذاق اڑاتے، وہ کبھی برا نہیں مناتا تھا۔ ایک بات البتہ پھر بھی ایسی تھی جسے وہ کسی بھی صورت برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اور وہ تھا کسی کا اسے گالی دینا۔
دوسرے ملازم اسے چھیڑتے کہ تمہارے ماں باپ کا تو کچھ پتہ ہی نہیں اور بہن تمہاری کوئی ہے نہیں تو پھر تمہیں ایسی گالی پر غصہ کیوں آتا ہے؟ لیکن اس کے جواب کا بھی یہی مطلب ہوتا کہ جب اسے خدا نے ایسے کسی رشتہ سے نوازا ہی نہیں تو پھر ایسی گالی بھی کیوں دی جائے؟ اس کا استدلال تھا کہ ایسی گالی اس کے احساس محرومی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
ہفتے دس دن میں ہی ملک ہاؤس کے سب ملازمین نے سمجھ لیا کہ گجو کو گالی نہیں دینی۔ کام کاج سے تو خیر وہ پہلے بھی نہیں گھبراتا تھا، ماحول اچھا ہوا تو وہ اور بھی تندہی سے مصروف کار ہو گیا۔
آہستہ آہستہ عروسہ فضل اور ملک فضل داد کی طرف سے بھی اس پر شفقت بڑھتی گئی۔ تمام ملازمین کو ہدایت کر دی گئی کہ گجو کو معقول خوراک دی جائے۔ نئے کپڑوں کے کئی جوڑے بھی اسے دلوا دیے گئے اور پھر وہ فضل داد کے بیڈ روم تک بھی پہنچ گیا۔
فضل داد جونہی رات کو سٹڈی سے نکل کر بیڈروم کی طرف بڑھتا، گجو اسے دروازے پر کھڑا ملتا۔ آغاز تو گجو کے بار بار کہنے پر ہی ہوا تھا مگر اب فضل داد کو بھی اچھا لگنے لگا تھا کہ سونے سے پہلے گجو اس کی ٹانگیں دبائے۔ اس کے ہاتھوں میں کچھ ایسا جادو تھا کہ وہ دس پندرہ منٹ فضل داد کی ٹانگیں دباتا اور فضل داد کو ایسا محسوس ہوتا جیسے اس کی تمام دن کی تھکن کافور ہو گئی ہے۔
فضل داد کو نوجوانی کے زمانے سے عادت تھی کہ وہ سونے سے پہلے ایک گلاس دودھ کا ضرور پیا کرتا تھا۔ اب کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ گجو کے ٹانگیں دبانے سے فضل داد پر گہری نیند کا غلبہ طاری ہو جاتا اور وہ دودھ پئے بغیر ہی سو جاتا۔ عروسہ فضل کو خبر ملی تو اس نے گجو کو تاکید کی کہ وہ خیال رکھا کرے اور فضل داد کو دودھ پئے بغیر سونے نہ دیا کرے۔
آخرکار یہ طے پایا کہ جب بھی گجو محسوس کرے کہ فضل داد پر نیند غالب آ رہی ہے تو وہ اپنا ہاتھ روک کر پہلے فضل داد کو دودھ پینے کا کہا کرے۔ سو اب ایسا ہی ہونے لگا تھا۔
یوں تو ملک ہاؤس کے علاوہ بھی فضل داد کے سب کام ایک سہل انداز میں چل رہے تھے مگر ایک تشویش نے دخل اندازی شروع کر دی تھی۔ عروسہ فضل، روشن داد اور ملک فضل داد، تینوں کو بار بار ایک گمنام میسج موصول ہو رہا تھا۔
”آپ لوگوں کے خلاف کوئی گہری سازش ہو رہی ہے، ہوشیار رہیے“ ۔
روشن داد اور عروسہ فضل کو جب بھی ایسا میسج موصول ہوتا تو وہ پھر سے فضل داد کو بتاتے۔ ان کی عقل اور علم میں تو ایسا کچھ ہو ہی نہیں رہا تھا جس پر وہ فکرمند ہوتے۔ زیادہ فکرمند تو فضل داد بھی نہیں تھا لیکن وہ بالکل لاپروا بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے ہر سیاسی اور کاروباری
معاملے پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
ایک صبح جب فضل داد خلاف معمول ابھی تک کمرے سے باہر نہیں آیا تھا عروسہ فضل کو پھر ایسا ہی میسج آیا۔ اس نے فضل داد سے بات کرنے کے لئے ایک ملازم کو بھیجا کہ وہ فضل داد کو جگا کر آئے مگر وہ ملازم ایک اور ہی خبر لے کر آیا۔
اس نے آ کر بتایا کہ ملک صاحب اپنے بستر پر بے ہوش پڑے ہیں اور ان کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے۔ اس نے کتنی بار انہیں جھنجھوڑا ہے لیکن وہ ہوش میں ہی نہیں آ رہے۔ عروسہ فضل بھاگم بھاگ فضل داد کے بیڈ روم میں پہنچی۔ سب نے مل کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی۔ اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے مگر فضل داد میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ ملازموں نے فوراً روشن داد کو جگایا اور ڈاکٹر کو فون کیا گیا۔
روشن داد نے باپ کی حالت دیکھی تو بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے اسے ہسپتال لے جانا ضروری سمجھا۔ ملک ہاؤس کا ہر فرد انتہائی پریشان تھا سوائے گجو کے۔ وہ اس وقت وہاں تھا ہی نہیں۔ سارے ملک ہاؤس میں اس کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔ گیٹ کیپر نے پوچھنے پر بتایا کہ وہ تو آدھی رات کا کہیں باہر گیا ہوا ہے۔ گیٹ کیپر نے ہی مزید بتایا کہ وہ تو ہر رات کو تھوڑی دیر کے لئے باہر جاتا ہے۔ بے شک وہ عام طور پر ، زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے بعد واپس آ جاتا ہے مگر رات کو وہ واپس نہیں آیا۔
ادھر ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ابتدائی معائنے کے بعد ہی شک کا اظہار کر دیا کہ فضل داد کو ایک نہایت خطرناک زہر دیا گیا ہے۔ اور اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کر کے اس کا معدہ صاف کرنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔
ڈاکٹر اپنی سی پوری کوشش تو کر رہے تھے کہ کسی طرح فضل داد کو بچایا جا سکے لیکن امید انہیں بھی کم ہی تھی۔


