بھوک


درختوں پر شور مچاتے پرندے سورج کے ڈھلنے کی نوید سنا رہے تھے۔ سڑک پر گاڑیوں کا اژدہام تھا۔ ہر انسان تیزی میں تھا۔ وہ بس اسٹاپ پر کھڑا گھر کی جانب جانے والی بس کا انتظار کر رہا تھا۔ ہر آنے والی بس رکتے ہی مسافروں سے بھر جاتی یہاں تک کہ بسوں کی چھتوں پر لد کر فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور اپنے گھروں کی جانب روا دواں تھے۔ منٹھار نے کئی بسوں میں سوار ہونے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے پاس موجود بیلچے کی وجہ سے کنڈیکٹروں نے اسے بس میں سوار نہیں ہونے دیا۔

ویسے تو اس کا گھر یہاں سے کوئی ایک کلومیٹر دور ہے۔ روز تو وہ پیدل کی جایا کرتا ہے۔ لیکن آج دو ہفتوں بعد اسے مزدوری ملی تھی اس لیے اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی یا پھر جیب میں موجود پانچ سو کے نوٹ کی وجہ سے اس کا بدن تھکن کا احساس دلا کر بس میں سواری کی عیاشی کا کہہ رہا تھا۔ وہ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد بیلچہ اٹھانے پیدل ہی گھر کی جانب روانہ ہو گا۔

منٹھار چالیس بیالیس سال کا درمیانے قد کا آدمی ہے۔ وہ دس سال قبل سکینہ سے پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے اپنا آبائی علاقہ کشمور چھوڑ کر کراچی میں روپوش اور تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے پر مجبور ہے۔ سرجانی ٹاؤن کی کچی آبادی میں اس نے ایک کمرے کا مکان کرائے پر لے رکھا ہے۔ مالک مکان اچھا آدمی ہے جو اس کے معاشی حالات دیکھتے ہوئے کرائے کے لیے تنگ نہیں کرتا مگر پیٹ تو کسی کی نہیں سنتا۔ وہ تو روٹی مانگتا ہے۔ صرف اپنے پیٹ کی بھوک ہوتی تو شاید وہ اتنا پریشان نہ ہوتا لیکن اب ایک بیمار بیوی اور چھ سال کی بیٹی مریم اور چار برس کے بیٹے غمٹھار کا ساتھ ہے۔ بیوی گزشتہ ایک ماہ سے بیمار ہے ورنہ وہ قریبی آبادی میں کام کر کے کچھ نہ کچھ کھانے کو لے آتی تھی۔

دس بارہ روز قبل وہ بیمار ہونے کے باوجود کسی گھر کپڑے دھونے چلی گئی اور پھر آ کر ایسی چارپائی سے لگی کہ باتھ روم تک پکڑ کر لے جانا پڑتا ہے۔ منٹھار نے سرکاری ڈسپنسری میں خود کو بیمار بتا کر چند گولیاں اور ایک سیرپ لیا تھا لیکن ان کے استعمال سے بھی سکینہ کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اس کا سینہ شدید خراب ہے۔ سانس لینے میں تکلیف ہے۔ اور ساری ساری رات کھانسی رہتی۔ لیٹ کر سو نہ پاتی اور ساری رات دیوار سے کمر ٹکائے بیٹھی رہتی۔

منٹھار کی جیب میں دو ہفتوں سے ایک روپیہ نہ تھا کہ اسے کسی ڈاکٹر کو دکھا دیتا یا کھانے کو کچھ اچھا لے آتا۔ پھر ایک دن گلی میں بھوسی ٹکڑے خریدنے کو سندھی لہجے میں لگی آواز سن کر اس کی بیٹی مریم نے پھیری والے کو سندھی میں اپنے حالات بتا کر چند سوکھی روڑیاں حاصل کیں جو انھوں نے پانی میں بھگو کر کھائیں۔ پھر وہ سندھی نوجوان خود ہی ہر روز چند سوکھی پھپھوندی لگی روٹیاں انھیں دے جاتا۔ ان کا خاندان گزشتہ دو ہفتے سے وہی سوکھی روٹیاں پانی میں بھگو کر نمک لگا کر کھا رہا تھا۔

منٹھار کو آج بڑے دنوں بعد مزدوری ملی تھی۔ اس نے پیسے بچانے کے لیے دوپہر کو بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ بھوک سے برا حال تھا لیکن اس نے سوچا کہ پیسے روٹی پر خرچ کرنے کے بجائے سکینہ کے لیے کوئی دوائی لے لے گا۔ اچانک اس کے نتھنوں سے کبابوں کی خوشبو ٹکرائی۔ اس نے مڑ کر سڑک کنارے بنتے سیخ کباب دیکھے اور ایک لمحے کو رکا۔ جیب پر ہاتھ رکھ کر سوچا کہ دو چار کباب لے لیتا ہوں۔ بہت دن ہوئے انھوں نے کوئی اچھی چیز نہیں کھائی۔

سکینہ کو بھی بیماری کم اور کمزوری زیادہ ہے۔ اگر کچھ اچھا کھائے گی تو جلدی ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن کباب تو بہت مہنگے ہوں گے؟ چار پانچ کباب ہی آئیں گے۔ ایک کباب کھانے سے کیا طاقت ملے گی؟ رہنے دیتا ہوں۔ ویسے بھی دو چار ماہ سے سکینہ کی چپل ٹوٹی ہوئی ہے کبابوں کے بجائے ایک جوڑی چپل لے لیتا ہوں۔ وہ مسکین ٹوٹی چپل پہن کر بنگلوں میں جاتی ہے۔ مجھ سے شادی کرنے سے قبل اس کے پاس دنیا کی ہر نعمت تھی کیونکہ وہ اپنے باپ کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی تھی۔

میرے عشق میں اس نے سب کچھ قربان کر دیا۔ اب کئی برس سے پرانے دو جوڑے کپڑے ایک چادر اور ایک ٹوٹی چپل میں کیسے گزارہ کر رہی ہے؟ یہ سوچ کر وہ چپلوں کی دکان کی طرف بڑھ گیا۔ تھڑے پر لگی پلاسٹک کی چپلوں کو اٹھا کر ہاتھ سے ناپا۔ سکینہ پر سرخ رنگ سجتا ہے۔ سرخ چپل خریدتا ہوں۔ اس نے سوچا۔ قیمت پوچھی۔ چار سو کی چپل۔ اس کی جیب میں پیسے نکالنے کو ڈلے ہاتھ کو فالج مار گیا۔

”وہ بیمار ہے آج کل کہاں آ جا رہی ہے کہ نئی چپل پہنے گی؟ چلو وہ ٹھیک ہو جائے پھر خرید لوں گا“

یہ سوچ کر وہ آگے بڑھ گیا۔ چند قدم کے فاصلے پر اسے ایک میڈیکل اسٹور نظر آیا۔ وہ بے ساختہ اندر داخل ہوا اور سکینہ کی بیماری بتا کر ادویات کا پوچھا۔ پانچ سو میں ایک گولی کا پیکٹ سن کر وہ پریشان ہو گا۔ اگر سب پیسوں کی گولیاں لے لیں تو پھر گھر کیسے چلے گا؟ نہ جانے اگلی مزدوری کب ملے؟ دو کلو آٹا ایک گھی کا پیکٹ لے لوں تو چند دن اچھے گزر جائیں گے۔ سکینہ گھی لگی روٹی کھائے گی تو توانائی بحال ہو جائے گی اور چند دنوں میں چلنے پھرنے لگے گی۔ یہ سوچ وہ میڈیکل اسٹور نے نکل کر گھر کی جانب روانہ ہوا۔

بھوک تھکن اور کمزوری سے چلنا دو بھر ہو رہا تھا۔ وہ کچھ دیر کو ایک دکان کے تھڑے پر بیٹھ گیا۔ کچھ حواس بحال ہوئے تو سامنے نہاری کے ہوٹل پر لگا رش دیکھنے لگا۔ ہوٹل والا نہاری ڈال کر چمچ دیگ پر ایسے مارتا کہ دور تک اس کی آوازن سنی جاتی۔ بھوک کی شدت ہونے کی وجہ سے اسے نہاری کی خوشبو اپنے دل و دماغ میں سرایت کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بے ساختہ اٹھ کر دکان کے سامنے پہنچا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ سو کے نوٹ کو تھام کر ایک پیکٹ نہاری اور تین نان کی قیمت پوچھی۔

چار سو روپے سن کر اس کا دل کیا کہ نہ لے۔ پھر سوچا کہ اللہ مالک ہے۔ کباب کی نسبت یہ بہتر رہے گی۔ نرم نان سکینہ بھی کھا لے گی۔ سوکھی روٹی تو اس کے حلق سے نہیں اترتی۔ نہاری میں ایک دو کلاس پانی ڈال کر مزید شوربہ بنا لیں گے۔ دو تین دن نکل جائیں گے۔ بھوک کا ایسا غلبہ ہوا کہ اسے سکینہ کی ادویات، چیل، آٹا اور گھی سب بھول گیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے پیسے دکاندار کو دیے۔ کھانے کا شاپر اور بقیہ پیسے لیتے ہی اس کے بدن میں بجلی کی سی پھرتی بھر گئی۔ اس نے شاپر میں سے نان کا چھوٹا سا ٹکڑا توڑ کر کھایا اور تیز تیز قدموں سے گھر کی جانب روانہ ہوا۔

”آج تو میرے بچوں کی عید ہو جائے گی“ یہ سوچ کر وہ اپنی گلی میں مڑا تو اپنے گھر کے سامنے لگا رش دیکھ کر اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ وہ دوڑ کر گھر کے سامنے پہنچا۔ مسجد سے دو لڑکے میت رکھنے والا پلنگ اٹھائے نکل رہے تھے۔ وہ دوڑ کر گھر میں داخل ہوا۔ سامنے فرش پر سکینہ بے سدھ پڑی ہوئی تھی۔ اس کے بچے ماں کے قریب پریشان حال بیٹھے تھے۔ اچانک انھیں نہاری کی خوشبو محسوس ہوئی۔ وہ منٹھار کی طرف دوڑے اور اس کے ہاتھ سے کھانے کا شاپر لے کر سکینہ کی لاش کے پاس بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔

Facebook Comments HS