انڈر گراؤنڈ

انڈر گراؤنڈ کے لغوی معنی تو زیر زمین یا زمین کے اندر ہی ہوتے ہیں لیکن سیاست کی زبان میں یہ لفظ بہت گہرائی اور گیرائی رکھتا ہے۔ یہاں پے اس لفظ کی اس سے زیادہ وضاحت میرے خیال میں غیر ضروری ہے۔ یہ عنوان ہے ہمارے دوست، صحافی، ناول نگار، شاعر، محقق، قلم کار اشرف شاد کی نئی کتاب کا ۔
اشرف نے یہ کتاب اپنے ساتھیوں مجاہد بریلوی، عامر ضیاء، سہیل سانگی کی شراکت میں مرتب کی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب میں انھوں نے سوانح سیف خالد اور سوانح جمعہ خان صوفی سے بھی انڈر گراؤنڈ کی کہانیوں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔
جاننے کو تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کتنی سیاہ اور تلخ ہے۔ اس سیاسی تاریخ کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ ہم من حیث القوم اس سیاسی تاریخ کو ہر دم مزید مسخ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ جس ملک میں تاریخ اور سیاست کے ساتھ یہ کھلواڑ ہو رہا ہو وہاں انقلاب، کمیونزم، سوشلزم کی بات کرنا سوچنا کتنا بڑا پاپ ہو سکتا ہے۔ اس کا اندازہ دور سے بیٹھ کر تماشا دیکھنے والوں کو ہو ہی نہیں سکتا۔
اشرف نے اس کتاب میں اپنے ساتھیوں کی مدد سے ان ہی عناصر کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ کوشش کا لفظ میں اس لئے استعمال کر رہی ہوں کہ انقلاب، سوشلزم، اور کمیونزم تینوں اپنی ذات میں اتنی بڑی بڑی اصطلاحیں کہ کسی ایک کتاب میں ان کو بیان کرنا یا یکجا کرنا ممکن نہیں۔
سیاست کی ان تینوں اصطلاحوں میں انڈر گراؤنڈ کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ ساری دنیا میں ان تین اصطلاحات کے گرد گھومتا سیاست کا گھوڑا انڈر گراؤنڈ جائے بغیر منزل تک پہنچتا ہی نہیں۔
اس کتاب میں دنیا میں چلنے والی انقلابی تحریکوں کا مختصر سا جائزہ لیتے ہوئے اشرف نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے کہ وہ خود یا ان کے ساتھ دوسرے شرکائے تحریر کبھی انڈر گراؤنڈ نہیں رہے البتہ وہ ایسی تحریکوں کا حصہ ضرور رہے ہیں اور تھوڑا بہت کام بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”پاکستانی انڈر گراؤنڈ انقلابی جدوجہد کی قابل تقلید مثال نہیں ہے۔ کچھ دور ایسے ضرور گزرے ہیں جب زیر زمین کام کرنے والی انقلابی پارٹیاں پاکستان کی سیاست پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ ان میں کام کرنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیاں بے مثال تھیں۔ لیکن شاید زیر زمین کام کرنے کی وجہ سے رابطے کی کوئی ملک گیر کڑی مضبوط نہ ہو سکی۔ جس کے نتیجے میں دھڑے بندیوں، بداعتمادی اور الزام تراشیوں کو ہوا ملی اور ریاستی جبر نے تحریکوں کو پنپنے نہیں دیا۔ آج کی سیاست میں بے پناہ گرمی ہے۔ ہر طرح کے سیاسی عناصر اپنا اپنا زور آزما رہے ہیں لیکن سیاسی میدان میں زمین کے نیچے یا اوپر بائیں بازو اور ترقی پسندوں کا کہیں سراغ نہیں ملتا“ ۔
بحیثیت مصنف انھوں نے کتاب میں اپنے بارے میں لکھا ہے کہ ”کمیونسٹ پارٹی میں ان کی شمولیت ان کی زندگی کا بہت اہم واقعہ تھا۔ اس دور کے مختلف واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک جگہ انھوں نے 1951 کی پنڈی سازش کیس کے سرغنہ جنرل اکبر خان کے بارے میں لکھا ہے کہ ممکن ہے شروع میں وہ کمیونسٹ خیالات رکھتے ہوں لیکن ان کی بعد کی زندگی میں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ انھوں نے کسی بھی قسم کے نظریات کے لئے کام کیا ہو یا وہ کسی بھی زیر زمین پارٹی کا حصہ رہے ہوں۔ “
مصنف نے جنرل اکبر کی پیپلز پارٹی میں شمولیت اور چیکو سلواکیہ میں سفیر بننے کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
انقلابی جماعتوں کے انتشار کا تذکرہ کرتے ہوں انھوں نے لکھا ہے کہ ”پاکستان کے کسی مارکسی دانشور نے تاریخ لکھنے کے مارکسی اصولوں کی بنیاد پر کوئی مفصل کتاب لکھ کر پیچھے نہیں چھوڑی۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں ایک سابقہ کامریڈ سے انھوں نے مدد چاہی تو انھوں نے میجر اسحاق، عبدالرؤف ملک، سردار شوکت علی، طفیل عباس، عبداللہ ملک، جمال نقوی اور جام ساقی کی سوانح عمریوں کے نام گنوا دیے۔
اس ضمن میں انھوں نے پاکستانی نژاد امریکی اسکالر کامران اصدر علی کی کاوشوں کو البتہ سراہا ہے۔ جس کا ترجمہ بنام ”سرخ سلام“ مارکیٹ میں موجود ہے۔
صاحب کتاب نے اپنی نوجوانی کے ادوار کی سرگرم جماعتوں، ان کے بانیوں، جوش جذبے سے بھرپور افراد، خاندان، ان سے جڑے قصوں کو بھی خوب بیان کیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی کے انتہائی متحرک، فعال، سرگرم کمیونسٹ خیالات والے طفیل عباس سے بھلا اس دور میں جوان ہوتا کھلے دل و ذہن کا کون سا جوان واقف نہیں۔ مصنف نے طفیل عباس کی پارٹی کا تذکرہ کرتے ہوں لکھا ہے کہ ان کی جماعت کو ”خاندان عباسیہ“ بھی کہا جاتا تھا۔ انھوں نے پارٹی کے عہدوں سے پی آئی اے کے عہدوں تک ان کی ساری جدوجہد کو خوب بیان کیا ہے۔
ترقی پسند جماعتیں اس ملک کی سیاست میں کیوں نہ چل سکیں یا پنپ سکیں۔ یہ موضوع اپنی ذات میں خود ایک بہت بڑا مضمون ہے جسے تحقیق اور تحریر کی اشد ضرورت ہے۔ کتاب کی اچھی بات یہ ہے کہ مصنف نے سوشلزم، کمیونزم، لبرل ازم کی کامیابی، ناکامی کا تجزیہ کرتے ہوئے اس راہ کے چھوٹے چھوٹے مسافروں کا تذکرہ بھی بہت دلداری سے کیا ہے۔
سید سجاد ظہیر سے شروع ہونے والی کمیونسٹ پارٹی کے ہر ہر کردار سے انھوں نے حتی المکان انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنگ کے ظفر رضوی، افضل صدیقی، مشرق کے نعیم آروی، شبر نقوی، زین الدین خان صاحب، شمیم زین الدین، لودھی صاحب، معراج محمد خان، ڈاکٹر فیروز احمد، فہمیدہ ریاض، سی آر اسلم، امام علی نازش، رسول بخش پلیجو، خیر بخش مری، عثمان بلوچ، اور بہت کا تذکرہ سیاست میں ان کے قدوقامت کے حساب سے خوب کیا ہے۔
انڈر گراؤنڈ کی سیاست سے جڑی جماعتوں اور افراد کے تذکرے میں ایک دلچسپ کردار نور خان کا بھی ہے۔ پی آئی اے کی سیاست میں ان کا کردار، طفیل عباس کے ساتھ، پیپلز پارٹی سے ان کی قرابت داری، قومی اسمبلی کا ٹکٹ، اور نور خان کے نام کے ساتھ چلنے والا سی آئی اے کا نام، زندگی کے آخری دنوں تک ان کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے تنخواہ کے حصول کے لئے وابستگی، وغیرہ۔
بنیادی طور پر یہ کتاب اشرف شاد کا ذہنی بچہ ہے۔ جس میں انھوں نے احباب کو بھی شامل حال کر لیا ہے۔
کتاب کی تدوین کے ایک شراکت دار سہیل سانگی نے اس سفر کے مسافروں کا تذکرہ کرتے ہوں ایک جگہ لکھا ہے ”انڈر گراؤنڈ رہنا ایک مشکل ہی نہیں بلکہ اذیت ناک زندگی ہوتی ہے۔ جس میں تقریباً سوشل لائف یہاں تک کہ فیملی لائف تک ختم ہوجاتی ہے۔ وسائل کی کمی ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ “ اس سلسلے میں انھوں نے جام ساقی کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کی مسلسل روپوشی والی زندگی نے ان کی اہلیہ پر بہت منفی اثرات ڈالے وہ مستقل ذہنی دباؤ میں رہتی تھیں اور جب وہ ضیاء دور میں گرفتار اور لاپتہ ہوئے تو ان کی بیگم سکھاں نے کنویں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی تھی اور کامریڈ ساقی لاہور قلعے میں قید تھے۔
مجاہد بریلوی نے لکھا ہے کہ وہ خود تو کبھی انڈر گراؤنڈ نہیں رہے لیکن سیاست کے مدوجزر میں ان کا سابقہ متعدد انڈر گراؤنڈ شخصیات سے رہا ہے۔ اس کتاب کے چوتھے اور بمقابلہ دیگر شرکائے تحریر کے جواں سال مصنف عامر ضیاء نے اپنی سیاسی بلوغت، سیاسی وابستگیوں، اور سیاسی سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے بہت تفصیل سے ”الذوالفقار نامی تنظیم کے کرتا دھرتاؤں، جہاز کا اغوا، اس سے متصل دیگر کرداروں، کا ذکر کیا ہے“ ۔ عامر نے ایک جگہ بڑی اچھی بات لکھی ہے کہ ”طلبہ سیاست کو طلبہ تنظیموں اور ان کی سرپرست سیاسی جماعتوں کی کوتاہ بینی اور خود غرضی لے ڈوبی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ سیاسی جماعتیں اس معاملے پر آج بھی اپنے رویے بدلنے اور خود تنقیدی کے لئے تیار نہیں“ ۔
انڈر گراؤنڈ یا زیر زمیں جانے والوں اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں تو سب لکھنے والوں نے لکھا ہے لیکن زمین کے اوپر رہ جانے والوں کی بات کسی نے نہیں کی سوائے سہیل سانگی کے جنھوں نے جام ساقی کی بیگم کا حادثہ دو لائنوں میں سمیٹ دیا ہے۔ جب کے زمیں کے اوپر رہ جانے والوں پر بھی کچھ کم نہیں گزرتی۔ خاص طور پر زیر زمیں جانے والوں کی غیر سیاسی بیگمات اور دیگر اہل خانہ پر ۔
اشرف شاد کی یہ کتاب اس اعتبار سے ایک اچھی دستاویز ہے کہ یہ ماضی قریب کے کرداروں کے اطراف گھوم رہی ہے۔
ستر کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والوں اور جوان ہونے والوں کے لئے بھی یہ ایک اچھی کتاب ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے انھیں کم از کم اس بات کا اندازہ بھی ہو سکتا ہے کہ سیاست کبھی کالی، پیلی، ہری، براؤن پگڑیوں، ٹوپیوں اور عماموں کے بغیر بھی تھی۔
انڈر گراؤنڈ کی ضخامت 166صفحات کی ہے۔ اس کی قیمت ایک عام برگر کی قیمت سے بھی کم یعنی صرف 500 روپے ہے۔ اس کی اشاعت پاکستانی ادب پبلی کیشنز کے زیر اہتمام ہوئی ہے۔
کتاب کا انتساب ”انقلابی تحریکوں کے گم نام کارکنوں کے نام ہے“ ۔

