ہرے پربت بھرے میدان (2)


باہر کی خوشگوار صبح سے مل کر میں واپس کمرے میں آ گیا۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ کمرہ خاصا کشادہ ہے اور دوسری منزل پر ہونے کی وجہ سے ہوا دار اور روشن بھی۔ دیوار کے ساتھ ایک لمبے شیلف پر کتابیں پڑی تھیں جن پر گرد کی ایک موٹی تہہ واضح خبر دے رہی تھی کہ برسوں گزرے ان کو کسی انسانی ہاتھ نے نہیں چھوا۔ گرد کی چادر ہٹائی تو صبح کی ایک تیز کرن نے ان کتابوں کی رو نمائی کی۔ یہ سب لکڑی کے ایک لمبے شیلف نما تختے پر اوندھے منھ پڑی تھیں۔

ان میں سے بیشتر کی موت واقع ہو چکی تھی اور کئی ایک ایسی تھیں جنھیں جان کنی کا عارضہ لا حق تھا۔ اوپر سے انھیں نہ جانے کب سے کسی ہاتھ کا لمس، کسی نگاہ کی گرمی میسر نہیں رہی۔ جمادات جیسی بے جان چیزیں بھی اپنے مرکزے میں ایک مقناطیسی کشش تو رکھتی ہیں۔ جب ان پر توجہ کرو تو ان کی چمک اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ تو پھر کتابیں ہیں۔ غرض ہزار توجہ کی طالب یہ کتابیں کمرے کی ٹھنڈک میں پڑی پڑی خود بھی ٹھنڈی ہو گئیں۔ ان میں دو چار ایسی بھی تھیں جن پر مٹتے ہوئے عنوان نظر آ رہے تھے۔ چند ایک کے سوا باقی سب حروف مٹ مٹا کر ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ سو یہ صدیوں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھنے والی مخلوق (مخلوق اس لیے کہ انھیں بھی کسی نے خلق کیا تھا) اب معدومیت کی راہ کی مسافر تھی۔

میں نے ایک کتاب جانوروں کی عادات کے بارے میں دیکھی اور فوراً اچک لی۔ سب سے قیمتی کتاب اس شیلف پر اگر کوئی ہے تو یہی ہو سکتی ہے کہ اس نے زندگی کی ایک ایسی جہت دکھانی ہے جس پر ہمارا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ میں نے خود کو مخاطب کرتے ہوئے با آواز بلند کہا۔ ویسے بھی میں شاعری کی کتابوں کی طرف کم ہی جاتا ہوں۔ اعجاز نے انتخاب میر (ناصر کاظمی والا) اٹھاتے ہوئے میرے ہاتھ میں آئی کتاب پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی۔ پھر ہم دونوں اپنی اپنی کتابوں کی ورق گردانی کرنے لگے۔ میری کتاب تو میری توقع کے برعکس غیر معیاری ہی نکلی۔ کسی خود ساختہ مصنف نے ادھر ادھر سے مواد اٹھا کر اپنے نام سے کتاب مرتب کر ڈالی تھی۔ اور موضوع سے انصاف بھی نہیں کیا تھا۔ اب تو کمپیوٹر ٹیکنالوجی نے یہ کام اور بھی آسان بنا دیا ہے۔

انھی لمحات میں چائے کی شدید خواہش نے ہمارے اندر انگڑائی لی اور ہم نے کڑاکے نکال کر کڑک چائے کا آوازہ لگایا۔ گھر میں صبح کی دو کپ چائے میں اکثر خود ہی بناتا ہوں۔ چائے بنانے کا یہ فارمولا مولانا مودودی کے حوالے سے میرے علم میں آیا ہے۔ سنا ہے مولانا خود چائے بناتے تھے اور لوگوں کو اس کے بنانے کا طریقہ بھی بتایا کرتے تھے۔ جو کچھ یوں تھا:

جتنا دودھ اتنا پانی آگ پر رکھو، مرضی کی شکر یا چینی ڈالو اور ابال آنے کا انتظار کرو۔ ابال آ جائے تو چائے کا ایک چمچ فی کپ کے حساب سے پتی ڈالو اور فوراً آگ بند کر کے، ڈھکن رکھ دو اور تین چار منٹ کے لیے دم پر رہنے دو۔ لیجیے چائے تیار ہے۔

ایاز کی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکرائی۔ میں فوراً سیڑھیاں اتر کر رسوئی کی طرف لپکا اور دو کپ چائے لے کر واپس اپنے کمرے میں آ گیا۔ پل بھر میں کمرے کا ماحول جیسے تبدیل ہو گیا تھا۔ مجھے اعجاز کی آواز سنائی دی اور اس کی آنکھوں میں مسرت کی ایک لہر دکھائی دی۔ اعجاز نے چائے کے دو گھونٹ بھرے اور پھر ایک آواز نے ہمیں ہمہ تن گوش کر لیا۔

دل اور عرش دونوں پہ گویا ہے ان کی سیر
کرتے ہیں باتیں میر جی کس کس مقام سے
ہزار بار گھڑی بھر میں میر مرتے ہیں
انھوں نے زندگی کا ڈھب نیا نکالا ہے

اعجاز نے میر کے درجنوں شعر پڑھے اور ڈھیروں گفتگو کی۔ ہم سنتے رہے اور بحر میر میں بہتے رہے۔ ایک پروفیسر کی یہ گفتگو کبھی کلاس روم کا لیکچر بن جاتی اور کبھی دور از کار جنگل کا وہ راستہ جس کا انت نظر نہ آئے۔ معنی کبھی مینڈ کوں کے بچوں کی طرح پاس کے کیچڑ میں لت پت ادھر ادھر پھدکتے نظر آتے اور کبھی دور کی جھیل میں بطخ کے بچوں کی طرح غائب ہو جاتے۔ ہم بطی الفہم تو بس غوطے کھاتے رہے لیکن پروفیسر کا جوش اور بھی بڑھتا رہا اور وہ دریائے سخن میں غرق نہ جانے کون سے گوہر کی تلاش میں ڈوبتا ابھرتا رہا۔

میں سوچنے لگا کہ میر کی عظمت کا اعتراف تو سب نے کیا ہے ہم کیوں کر نہ کریں گے۔ میر کی تخلیقی روح جب کسی خاص مضمون میں ورود کرتی ہے تو اس کی عظمت جہل اور لا علمی کے اندھیرے کو کاٹ کر باہر آ جاتی ہے۔ تصوف کے سارے مضامین جو غزل کی روایت کا سب سے اہم جزو ہیں میر کے ہاں ان کا شعری روپ بہت خاص اور دلفریب ہے۔ کبھی کبھی میرے ہمدم دیرینہ علی محمد فرشی میر کے خزانے کھودنے لگتے ہیں۔ ان کے مخزن سے میر کے چند ایک بڑے شعر میرے ذہن کے تاریک گوشے میں منور ہونے لگے۔

ان کے معنی غم و نشاط کی کلیوں کی طرح پھوٹنے لگے اور میں ایک جھکے پیڑ کی طرح ثمر بار ہونے لگا۔ اپنے خدا سے کرم کی اک نظر مانگنے کی ایسی تمنا بھی کب کسی نے کی ہو گی۔ کیا حسرت ہے کہ کاش قیامت کے دن میں گنہ گاروں میں سے اٹھوں تاکہ اس کی رحمت کے لیے سزاوار ٹھہروں۔ اس کی توجہ کا مرکز بن سکوں۔ اس کے در پر رحمت کے لیے ہاتھ پھیلا سکوں۔ محبت کا یہ ایک عجیب رخ ہے :

کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ
ہوں جو رحمت کے سزا واروں کے بیچ
دوسرا شعر یوں ہے
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منھ نظر آتے ہیں ا ہے دیواروں کے بیچ

تصوف کا بڑا معروف مضمون ہے کہ یہ دنیا دراصل ذات خداوندی کی تجلیوں کی آماجگاہ ہے۔ یعنی اس ذات کی صفات کا عکس ہے۔ عکس ظاہر ہے آئینے سے ہی رونما ہوتا ہے۔ تو یہ کائنات ایک آئینہ خانہ ہے جس میں تجلیات خداوندی کے لا متناہی سلسلے دیکھے جا سکتے ہیں۔ دیکھنے والی آنکھ ( جسے آئینے سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے ) ہو تو زمان و مکاں کی حیرتیں آشکار ہوتی ہیں۔ آنکھ ہو تو نوشتہ دیوار پڑھا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے توجہ کا ارتکاز ضروری ہے۔

غور سے دیکھیے کا ہدایت نامہ پاس رکھنا پڑتا ہے۔ ”دیکھتے دیکھتے چہرہ کوئی پیدا ہو گا“ کی صورت حال ہوتی ہے۔ اس سب کے لیے ایک ہی چیز درکار ہے یعنی چشم۔ اور چشم کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غالب نے آئینے کو دل، دل کو آنکھ اور آنکھ کو آئینہ بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ باتیں سوچتے سوچتے جانے کہاں میری آنکھ جا لگی۔ سامنے ایک مخزن تھا۔ میر کے شعروں کا ایک ڈھیر۔ اس کے پاس میرے ہمدم دیرینہ علی محمد فرشی کھڑے تھے، کہنے لگے :

” میر کے ایک شعر پر میری نظر پڑی تو مجھے صحابی رسول حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد آ گیا۔ جب نبی کریم ان سے ناراض ہو گئے تھے اور وہ گلی کوچوں، بازاروں میں دیوانوں کی طرح پھرتے تھے۔ کوئی ان سے بات نہیں کرتا تھا۔ دوست رشتے دار سب نے قطع تعلق کر دیا تھا۔ بیوی بھی چھوڑ کر ماں باپ کے پاس چلی گئی تھی۔ جزیرہ العرب کی سرزمین ایسی تنگ ہو گئی تھی کہ کہیں جائے پناہ نہ ملتی تھی۔ پچاس دن اسی حال میں گزرے تھے۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ شعر انھی کے لیے کہا گیا ہے۔“

مجھے یاد آیا کہ سورہ توبہ کی آیت 118 کے نزول کے بعد یہ سماجی بائیکاٹ ختم ہوا تھا۔ اس آیت میں یہ بیان آتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کرلی ہے۔ عجیب بات ہے کہ عہد نبوی میں تین شاعر جناب رسالت مآب کے بہت قریب تھے۔ کعب بن زہیر، کعب بن مالک اور حسان بن ثابت۔ تینوں بڑے قادرالکلام شاعر سمجھے جاتے تھے اور نبی علیہ السلام کے سامنے اپنا کلام پڑھنے کی سعادت انھیں حاصل رہی۔ لیکن تینوں کو نبی علیہ السلام کی ناراضی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

تینوں شاعروں سے نبی کریم جیسی سراپا رحمت ہستی کا ناراض ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاعر کے مزاج میں کوئی کجی ضرور ہوتی ہے، ورنہ تینوں کے ساتھ ایسا نہ ہوتا۔ شاعر ہونے کے ناتے میں جب بھی اس واقعے پر سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حالی کا قول ”جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے“ یاد آ جاتا ہے۔ شاید اسی لیے فرشی صاحب بار بار اس شعر کو پڑھتے تھے اور آہیں بھرتے تھے۔

بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

ہم بھی اگلے سفر کے لیے اٹھے۔ ان سرسبز اور ہرے کوہستانی میدانوں سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ سیبوں کے رنگ جا بہ جا گالوں سے ٹکراتے ہوئے دیکھے۔ ہم چلے تو ساتھ ہی یہ صبح جمال بھی روانہ ہوئی۔ راستہ پر بہار تھا اور دوستوں کی باغ و بہار طبیعتیں جوبن پر تھیں۔ ہمارے ساتھ قدرت کے حسیں نظارے تھے اور عطا صاحب کے لطیفے فضاؤں میں بکھر بکھر کر ”لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی“ کو عملی جامہ پہنا رہے تھے۔ ارجہ کی طرف ترائی کے آس پاس نیم استوائی جنگلات کا ایک سلسلہ ہے جو اب کم ہوتا جا رہا ہے۔

یہ جنگلی حیات کی بہترین پناہ گاہ ہے۔ یہی سلسلہ کوہالہ سے ذرا اوپر کلیاری روڈ کے ساتھ ساتھ دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر بھی پھیلا ہوا ہے۔ جو سیری بانڈی، پتن شیر خان، آزاد پتن سے ہوتا ہوا پوٹھوہار میں داخل ہو جاتا ہے۔ مری سے نیچے چھتر بنی گالہ کی طرف اور ہولاڑ میں دریائے جہلم کے دائیں کنارے پر یہ جنگلات بھرپور انداز میں موجود ہیں۔ میں جب بھی مظفرآباد سے راولپنڈی جاتا ہوں تو سامنے بل کھاتی کلیاری روڈ کو دیکھتا رہتا ہوں۔

ایک عجیب بندھن ہے خوابوں کا جو میرے اور اس سڑک کے درمیان ہے۔ شام کی ملگجی روشنی میں دھلی ہوئی یہ سڑک جنگل سے گزرتی ہوئی جانے کس خوابوں کے نگر کی طرف لے جاتی ہے۔ میں جب بھی اسے دیکھتا ہوں، جان ڈینور (John Denver) کا یہ گانا خود بخود میرے خیالوں میں گونجنے لگتا ہے۔ گٹار کی سادہ سی دھن، اداسی اور خوشی کی ایک نحیف سی لہر جو ماضی کو پلٹا کر سامنے لا سکتی ہے :

Almost heaven, West Virginia
Blue ridge mountains, Shenandoah river
Life is old there, older than the trees
Younger than the mountains, blowing like a breeze
Country roads, take me home
To the place I belong
West Virginia, mountain mamma
Take me home, country roads

ارجہ پل پار کر کے لینڈ سکیپ میں تھوڑی سی تبدیلی آتی ہے۔ یادوں کا منظر نامہ بھی بدل جاتا ہے۔ بائیں طرف ماہل ندی کا پھیلا ہوا پتھریلا علاقہ ہے۔ پتھروں کے درمیان کہیں کہیں سے پانی کی چمکتی ہوئی گزرگاہ نظر آتی ہے۔ ماہل ندی کے آس پاس ڈوگرہ دور میں خوشبودار چاول کی کاشت ہوتی تھی۔ ہر طرف دھان کے کھیتوں کی قطاریں ہوتی تھیں۔ منگ بجری کا علاقہ اس کی پیداوار کے لیے خاص طور پر مشہور تھا۔ رنگا رنگ آب و ہوا کی بہترین مثالیں اس علاقے میں موجود ہیں۔

اگر آپ ماہل ندی کے بائیں جانب لس ڈنہ کی بلندی پر چلے جائیں تو تھوڑے سے وقت میں آپ ایسے پر فضا مقام پر ہوں گے جہاں کا درجہ حرارت جون کے مہینے میں بھی دس پندرہ ڈگری سنٹی گریڈ ملے گا۔ جب کہ اس وقت منگ بجری میں چالیس ڈگری سنٹی گریڈ سے کم نہ ہو گا۔ کسانوں کی دنیا میں اس آب و ہوا سے فائدہ اٹھانے کے لیے کئی زرعی حربے آزمائے جاتے ہیں۔ مقامی کسان اس عمل کی باریکیاں خوب سمجھتے ہیں۔ کب بیج بونا ہے، کب فصل اٹھانی ہے، وقت اور موسم کا یہ کھیل انھیں خوب آتا ہے لیکن اب زمانے کی چال سے وہ لوگ کم ہی رہ گئے ہیں جو اس کھیل کے مانے ہوئے کھلاڑی تھے۔

بیج بکھیرتے ہوئے (Broadcasting) ان کا بازو اور زمین کا سینہ ایک ہی تال پر رقصاں ہوتا تھا۔ ان کا پورا جسم زمین کے ردھم میں مدغم ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے وہ ایسے نفاست بھرے اندازے سے بیج بکھیرتے تھے کہ ہر جگہ یکساں مقدار میں گرتا تھا۔ آج نہ وہ زمین ہے نہ وہ زمیندار جس کی انگلیاں ایک ہی ردھم پر ستار سے سر نکالتی تھیں اور کیچڑ سے دھان کے خوشبودار خوشے چنتی تھیں۔ ذہن میں ایک ہائیکو گونج رہا ہے۔ شاید یہ جاپانی شاعر باشو کا ہائیکو ہے :

دھان بونے والیو
ہاتھ پاؤں کیچڑ میں لت پت ہیں
مگر تمھارے گیت

انھی سوچوں میں گم تھا کہ سامنے راولاکوٹ کی وادی نے اپنا گھونگھٹ کھول دیا۔ شروع میں ہی لکھا تھا کہ یہ شہر مجھے کیوں پسند ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں آ کر میں اپنے شہر کوٹلی سے بھی قربت محسوس کرتا ہوں۔ اس شہر سے کوٹلی جانے کے کئی راستے ہیں۔ راولاکوٹ سے ہجیرہ، منڈھول، تتہ پانی اور کوٹلی۔ یا پھر راولاکوٹ سے بنجوسہ، تراڑکھل، بیٹھک، بلوچ، سرساوہ اور کوٹلی۔ تیسرا راستہ بھی ہے۔ راولاکوٹ سے گوئیں نالہ، پلندری، سرساوہ اور پھر کوٹلی۔

سب راستے کھلے ہیں لیکن میں اپنے محبوب شہر کوٹلی نہیں جا سکتا۔ آج رات مشاعرہ ہے۔ سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کی دعوت پر ہم سب یہاں آئے ہیں۔ سدھن ایجوکیشنل کانفرنس بابائے پونچھ کرنل محمد خان نے 1932 میں قائم کی تھی یہ ایک مثالی غیر سرکاری سماجی تنظیم ہے۔ جو ہر قسم کے تعصبات سے بالا ہو کر مستحق طلبا کو تعلیمی وظائف دیتی ہے اور دوسرے فلاحی کام بھی کرتی ہے۔ مشاعرے کی بابت کیا کہوں۔ یہی کہوں گا بقول میر :

کیا رہا ہے مشاعرے میں اب
لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں

Facebook Comments HS