آزادی کے متلاشی امریکی غلام اور انڈر ورلڈ ریل روڈ کا نظام


رات کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ فلاڈلفیا کے قریب ایک چھوٹے سے قصبہ کے باہر کھیتوں میں درختوں میں گھری حویلی سنسان نظر آر ہی تھی۔ اچانک سامنے کی کھڑکی میں جلتی موم بتیوں کی ایک قطار سی نمودار ہونا شروع ہوئی۔ کچھ لمحوں بعد ایک درخت کی شاخ پر ایک جلتا لالٹین ایک طرف سے سبز روشنی دکھاتا لٹک گیا۔ سگنل ہو چکا تھا۔ سامنے درختوں کے جھنڈ سے ایک شخص نمودار ہو دائیں بائیں دیکھتا درخت کے تنے کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور فاختہ کی کوہو کوہو گونج اٹھی۔

جھنڈ سے ایک ایک کر کے انسان نکلتے اور دائیں بائیں دیکھتے بھاگ کے حویلی میں داخل ہوتے جاتے۔ یہ امریکی مالکوں کے سیاہ فام افریقی غلام تھے جو چوری چھپے بھاگ بچتے بچاتے، خفیہ کوڈ نام ”سیف ہاؤس“ میں پناہ لے چکے تھے۔ دہائیوں سے غلامی کے خلاف اور اس پر پابندی لگانے کے لئے ”ابالشنسٹ“ افراد، گروہوں، مذہبی فرقوں اور عام مبلغین مقررین اور انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرتی تنظیموں کے متحرک افراد نے بہت ہی خفیہ اور ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت ایک نظام تخلیق دیا تھا اور اٹھارہ سو تیس کی دہائی میں جنوبی ریاستوں میں جڑیں مضبوط کر چکے اس نظام کو خفیہ کوڈ نام ”انڈر ورلڈ ریل روڈ نیٹ ورک“ کا نام دیا گیا تھا۔

یہ سیف ہاؤس اس نظام کا پہلا سٹیشن تھا۔ یہاں ان کے لئے رہائش خوراک اور فوری ضرورت کے لئے مالی امداد کے ساتھ اگلے سفر کے لئے تربیت اور رہنمائی کا انتظام تھا۔ اور چند روز بعد فضا موافق دیکھ ”ریل“ سے اگلے سٹیشن کو روانہ ہونا تھا۔ یہاں کے منتظم کو سٹیشن ماسٹر کا عہدہ بخشا گیا اور ان کو یہاں پہنچانے والا کنڈکٹر تھا جو بطور ڈاکٹر گاؤں گاؤں گھومتا اور پرندوں پر تحقیق اور پر اکٹھے کرنے کے شوق کی آڑ میں کھیتوں کھلیانوں میں ظلم کی چکی میں پستے غلاموں کو آگہی دیتا کہ امریکہ کی چودہ شمالی ریاستوں سے بھی شمال کی برطانوی مقبوضہ کالونیوں برٹش نارتھ امریکہ اور برٹش ساؤتھ امریکہ ( موجودہ کینیڈا ) میں غلامی پر پابندی لگ چکی۔ وہ وہاں آزاد باشندوں کی طرح زندگی گزارنے اور اپنی مرضی کا پیشہ اختیار کرنے کے مکمل حقوق کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اسی کنڈکٹر کی رہنمائی میں اور مالی مدد کے ساتھ یہ لوگ بھاگ کر چھپتے چھپاتے اس مقررہ تاریخ کو پہلے سٹیشن پہ پہنچ چکے تھے۔

کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے فوراً بعد سے یورپین اقوام نے امریکہ کا رخ کر کے یہاں نو آبادیاں قائم کرنا شروع کر دیں۔ اور سن پندرہ سو کے لگ بھگ ان آباد کاروں کو زراعت اور دیگر پیشوں میں مددگار کارکنوں کی ضرورت پڑی تو ابتدا میں پرتگیز اور سپینش بحری تجارتی جہاز پہلے افریقی ساحلوں پہ جا افریقی باشندوں کو طاقت کے بل پر اغوا کرتے یا قبائلی سرداروں کی معرفت معمولی رقم کے عوض خریدتے۔ اور زیادہ تر جنوبی امریکہ کی شمالی ریاستوں کی پرتگیزی اور سپینش مقبوضات یا نو آبادیوں میں رقم یا اجناس و خوراک کے عوض بیچ جاتے۔

سولہ سو نو میں پرتگیز کالونیل افواج موجودہ انگولا کے علاقے کی اس وقت کی دو مملکتوں سے بزور طاقت اغوا کردہ کثیر تعداد میں غلام پابجولاں پیدل دھکیلتے لووانڈا کی بندر گاہ پہ لنگر انداز تجارتی بحری جہاز ”سان جو آں باٹسٹا“ (لکھنے میں، اور پڑھنے میں سین وان باٹیسا ) میں ٹھونس چکی تھیں اور یہ جہاز مال غنیمت کی فروخت کے لئے امریکہ کی پرتگیز اور سپینش کالونیوں کی طرف روانہ ہو گیا۔ کل تین سو پچاس میں سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ غلام، رستے میں بہیمانہ سلوک، امراض یا خوراک کی کمی وغیرہ سے موت کے منہ پہنچ سمندر برد ہو چکے تھے۔

منزل پہ پہنچنے سے قبل ہی بحری قزاقوں کے دو جہازوں ”وائٹ لائن“ اور ٹریثئرر ”نے اس پر حملہ کیا اور ساٹھ کے لگ بھگ غلام چھین لے گئے۔“ وائٹ لائن ”بیس یا کچھ زیادہ غلام لئے بیس اگست سولہ سو نو کو شمالی امریکہ کی اس وقت کی برطانوی نو آبادی ورجینیا کی بندر گاہ“ پوائنٹ آف کمفرٹ ” ( موجودہ فورٹ منرو) میں لنگر انداز ہوا۔ شمالی امریکہ کی برطانوی نو آبادیوں میں پہنچنے والی افریقی غلاموں کی یہ پہلی کھیپ تھی اور یہی سفر تھا جو تاریخ میں محفوظ ہے۔ انہی غلاموں میں سے بندر گاہ کے کمانڈر ولیم ٹکر کے غلام جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ ولیم ہی پہلا امریکی پیدائشی غلام بچے کے طور جانا جاتا ہے۔

غلاموں کی یہ منافع بخش تجارت دن بدن بڑھتی گئی اور اٹھارہ سو پینسٹھ کی مردم شماری میں شمالی و جنوبی امریکہ میں یہاں پیدا شدہ نسلوں سمیت افریقی غلاموں کی نفری کوئی ایک کروڑ بیس لاکھ تک پہنچ چکی تھی گو یو ایس اے میں سب سے کم تعداد چار لاکھ، مگر اس وقت کی کل آبادی کا چودہ فیصد تھی۔ ( برازیل پچاس لاکھ اور جزائر غرب الہند تیس لاکھ کے ساتھ سب سے آگے ) ۔

سترہ سو چھہتر میں برطانوی نوآبادی سے قطع تعلقی کرتے یو ایس اے آزاد مملکت بنا۔ اس وقت کی برٹش نارتھ امریکہ اور برٹش ساؤتھ نارتھ امریکا، موجودہ کینیڈا سمجھ لیجیے، نے سترہ سو ترانوے میں غلامی پہ پابندی لگا دی اور آہستہ آہستہ یہ خبر امریکی غلاموں تک پہنچنا شروع ہوئی۔ تب سے امریکی سیاہ فام غلام اکؔا دکؔا یا خاندان بچ بچا چوری چھپے وہاں پہنچ آزاد زندگی مزے لینے لگے۔ اٹھارہ سو بارہ میں امریکہ اور موجودہ کینیڈا میں جنگ چھڑ گئی۔

اختتام جنگ پہ لوٹنے والے فوجی افسروں کے ساتھ جانے والے غلاموں نے بتایا کہ انہوں نے وہاں سرخ کوٹ پہنے سیاہ فام فوجیوں کو جنگ میں لڑتے دیکھا ہے، (بلیک مین ان ریڈ کوٹس) اور وہاں تو غلامی کا وجود ہی نہیں، تو یہ خبر تیزی سے غلاموں پھیلتی چلی گئی اور اب چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بھی انفرادی طور فرار ہو کے وسائل، ذرائع مواصلات کی کمی اور موسم کی سختیاں، تمام صعوبتیں جھیلتے کینیڈا پہنچنے لگے۔ مگر کوئی منظم صورت نہیں تھی۔

اسی زمانہ میں غلامی مکاؤ تحریکوں نے جنم لینا شروع کیا۔ جن میں انسانی حقوق کے علم بردار، ابالشسنسٹس کہلاتے، سفید فام، مختلف عقیدوں کے پادری یا مذہبی راہنما، واعظ، مقرر، مرد، عورتیں، عام شہری، دیہاتی، کسان، اور پرانے اصل امریکی باشندے، ہر طبقہ فکر موجود تھا۔ اور کینیڈا میں آزاد زندگی گزارنے والے سابقہ غلام انسانی ہمدردی کے طور واپس آ کر شامل ہوتے گئے۔

امریکہ میں ریلوے نظام کے قیام کے منصوبے شروع ہوئے مگر ان کے مکمل یا افتتاح ہونے تک ان تمام تحریکوں کے رہنما متحد ہو انتہائی خفیہ رکھتے انتہائی مہارت اور منصوبہ بندی سے اپنا ”انڈر ورلڈ ریل روڈ نیٹ ورک“ کا نظام تشکیل دے چکے تھے۔ یہ نظام امریکہ میں سیاہ فام غلاموں کو آزادی کی ترغیب دے انہیں بحفاظت غلامی سے شمالی علاقوں خصوصاً کینیڈا پہنچانے کے لئے ترتیب دیا گیا تھا۔

زیر زمین ریلوے کے اس جال کا عملاً کوئی وجود نہ تھا تاہم کوڈ ورڈ کے طور وہ تمام عہدے اور تعیناتیاں، اور راہیں موجود تھیں جو زیر تعمیر ریلوے میں استعمال ہونا تھیں۔ جنوبی ریاستوں فلاڈلفیا، اور پینسلوینیا وغیرہ کو ابتدا میں ہدف رکھا گیا۔ کنڈکٹر، ڈاکٹر، مبلغ، مصلح، شکاری، تاجر، ہرکارے، وغیرہ ہر قسم کا روپ دھارے سیاہ فام غلاموں تک پہنچتے، انہیں ترغیب دیتے، اور سٹیشن تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کرتے اور پہنچاتے۔

سٹیشن ماسٹر انہیں قیام کے دوران آئندہ کے لئے تربیت اور راہیں بتا اگلے سٹیشن بھیجتے، مسافروں کے لئے، مسافر، پارسل، سامان، گٹھری، باکس قسم کی اصطلاحیں تھیں تو رستے میں عارضی یا لمبے قیام کے لئے پڑاؤ، اڈے اور سٹیشن تھے۔ جو عموماً آبادی سے باہر محفوظ مقامات پہ ہوتے۔ کٹھن، ہر قسم کے خطرات اور موسم کی سختیوں سے بھر پور گھنے جنگلوں سے بھی گزرتے یہ مسافر محفوظ راستوں سے پیدل، سواری کے جانور پر، سامان تجارت یا اجناس لے جانے والی گھوڑا گاڑیاں جن کے اندر دراصل یہ مہاجر کیموفلاج کیے گئے ہوتے۔

مسافر بگھیوں میں محفوظ راستوں اور خطرے والی جگہوں پر نیچے بنے خفیہ خانوں سفر کرتے، کہیں دریاؤں جھیلوں اور سمندروں میں کشتیوں کے ذریعے۔ بعض اوقات مہینوں میں منزل تک پہنچ پاتے، کہ سفر سینکڑوں سے ہزاروں میل تک کا تھا۔ اکثر جگہ دن میں چھپ کر گزارا جاتا اور رات سفر کیا جاتا۔ تقریباً چالیس راستے اور ان کے نقشے تاریخ نے محفوظ کر رکھے ہیں جو یہ تنظیم استعمال کرتی رہی۔ محفوظ راہوں کا یہ جال امریکہ کی چودہ شمالی ریاستوں سے گزر موجودہ کینیڈا کے برطانوی مقبوضات تک پھیلا ہوا تھا۔

ان راہوں کے لئے لائن کا نام تھا۔ اس سفر کا انتظام کرنے والا اور اگلے پڑاؤ تک پہنچانے والا ٹکٹ ایجنٹ کہلاتا۔ جو لوگ دامے، درمے، سخنے، رقم، لباس، خوراک، قیام اور سواری وغیرہ سے مدد کرتے، ان کو سٹاک ہولڈر کا نام دیا گیا تھا۔ اور آخری پڑاؤ جنت یا منزل مقصود کہلاتا تھا۔ مزید شمال میں قائم منازل کو ڈرنکنگ گراؤنڈز پکارا جاتا۔

اٹھارہ سو تیس میں قائم ہونے والا انڈرورلڈ ریل روڈ کا یہ نیٹ ورک دن بدن معروف ہوتا گیا۔ آزادی کے راہ کے راہیوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ اٹھارہ سو پچاس سے پینسٹھ تک کے پندرہ سال میں تیس سے چالیس ہزار امریکہ کے سیاہ فام افریقن غلام موجودہ کینیڈا میں برابر انسانی حقوق رکھتے ہر شعبے میں معاشرے کا فعال حصہ بن چکے تھے۔ اور سب سے حیران کن بات یہ کہ یہ سارا وسیع نظام پینتیس سال مکمل رازداری کے ساتھ کامیابی سے چلتا رہا اور شاید ہی کبھی یا کہیں اس پر موثر ہاتھ ڈالا جا سکا ہو یا راہیں مسدود کی جا سکی ہوں۔

ابراہام لنکن صدر بنا تو تو اٹھارہ سو پینسٹھ سے شروع ہو سڑسٹھ تک آئین میں تیرہویں ترمیم کے ساتھ ہی یو ایس اے میں غلامی پر مکمل پابندی لگائی جا چکی تھی۔ انہیں برابر کا شہری قرار دیا جا چکا تھا اور وہ اپنے عقائد و رسم و رواج کو قائم رکھتے معاشرے کا فعال حصہ بنتے چلے گئے۔ انڈر ورڈ ریلوے روڈ ریل نظام کے بنیادی مقاصد کامیابی سے پورے ہوچکے تھے اور یہ نظام لپیٹ دیا گیا تھا مگر انسانی تاریخ کا یہ کارنامہ اور معلوم و نامعلوم منصوبہ ساز، راہ نما، راہ بر اور کارکن تاریخ میں اپنا نام کندہ کرا چکے تھے۔

گو اگلی پوری صدی یا زیادہ تک نسلی امتیاز اور تعصب کا شکار رہے۔ یہ تعصب اب بھی کہیں سر ابھارتا ہے مگر انسانی معاشرے میں نسلی و مذہبی اور رنگ و خطے سے متعلق اس تعصب کا مکمل خاتمہ انسانی فطرت سے ہی اکھیڑ دینا محال ہے۔ مگر خصوصاً کینیڈا نے اس کے خلاف سخت ترین قوانین اور مکمل سختی سے پر عمل نے اسے مکمل کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ یاد رہے کینیڈا میں انسانی حقوق، مساوات، تعلیم و ترقی اور شعبہ زندگی میں حصہ لینے اور عدل و انصاف سے متعلق قوانین ہادئی برحق ﷺ کی لائی تعلیم اور قرآن مجید کی سکھائی راہوں پہ قائم نظر آتی ہے۔

کینیڈا میں ابتدا میں زیادہ تر موجودہ صوبہ اونٹاریو کے جنوبی علاقے یعنی ٹورونٹو کے گرد و نواح کا چند سو مربع کلومیٹر کا علاقہ میں یہ آزاد سیاہ فام آباد ہوئے۔ موجود قصبوں اور شہروں میں بھی اور علیحدہ نئی آباد کی گئی آبادیوں میں اپنے چرچ اور کمیونیٹی سنٹر اور سکول بھی قائم کیے اخبار بھی نکالے مگر آہستہ آہستہ آج کل کے ہر قسم کے اور ہر ملک سے یہاں آ بسے طبقات کی طرح کینیڈین سوسائٹی میں پوری طرح مدغم ہو کے ملکی ترقی و تعمیر کے فعال رکن بن چکے۔

Frederick Douglass, ca. 1879.

کینیڈا میں ایک مہینہ بلیک ہسٹری منتھ کے نام سے منسوب ہے، پورا مہینہ افریقی پس منظر والے ہر جگہ اپنی تقریبات کا انتظام کرتے ہیں۔ اپنے اپنے پس منظر کے تہذیبی رنگ کو یاد کرتے۔ اپنے غلامی کے زمانہ کے متعلق نئی نسلوں کو آگہی دیتے آزادی کی مشعل جگانے والے ہیروز کو یاد کرتے اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ولیم سٹل، جرمین لوگوئن، جیسے سٹیشن ماسٹر۔ ہیریٹ ٹب مین جیسے کنڈکٹر، ملٹن راس جیسے انڈر ٹیکر اور ہر شعبہ کے کارکن گورے کالے، مرد وزن قومی خدمت گاروں کی قربانیوں گنواتے ہیں اور ٹورنٹو کے اند بلیک ہیریٹیج (تہذیبی ورثہ ) کے طور ایک لمبا اور رنگا رنگ ڈھول ڈھمکے اور گیتوں نغموں سے معمور افریقی آبا و اجداد کے قبیلوں کے رہن سہن اور رسم و رواج کی نمائش کرتے اور پروں مونگوں منکوں کے ہاروں سے اسی تہذیب کے مطابق چہرے، سر، جسم رنگے ناچتے گاتے لمبا جلوس نکالتے ہیں جسے بلا مبالغہ لاکھوں لوگ دیکھتے اور تالیاں بجاتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں قوموں کی تاریخ میں ”ہم کوئی غلام ہیں؟“ سے ”ہم تو غلام ہیں“ میں ایک لفظ کا ادل بدل چند راجاؤں سرداروں حکمرانوں لیڈروں اور ان کے سرپرستوں کی انا کی تسکین، انتقام یا اقتدار کے لالچ یا کبھی نہ بھرنے والے پیٹ یا محض کسی پسندیدہ موتی کے نہ ملنے کے بدلہ لینے کی خواہش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ چند ماہ یا چند ہفتوں یا آسمان پہ چمکتے انصاف کے شہاب ثاقب کے ٹوٹ کے سمندر کی پاتال میں غرق ہونے کا ایک لمحہ لیتا ہے۔

تب میر صادق اور میر جعفر اور خلیفۂ بغداد کے وزیر یا جلال دین خوارزم شاہ کے حلیف جرنیل اقتدار ہوس میں دشمن سے ساز باز کرتے اپنی فوجیں پیچھے لے جاتے ہیں قلعہ کے دروازے کھول دیتے ہیں اپنی پسند کا گھوڑا نہ مل سکنے کا انتقام لیتے ہیں یا صدام حسین کے تمام دفاعی رازوں کے امین داماد کی طرح برادر نسبتی کی خصوصی کار نہ ملنے پہ اس کو قتل کر تمام راز امریکہ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ملک و قوم سے یہ بے وفائیاں پھر مہینوں صدیوں تک بھی ان کی نسلوں سمیت ملک و قوم کو ”تو“ کو ”کوئی؟

“ میں بدلنے کی جدوجہد میں پھنسا دیتی ہیں۔ یہ تاریخ کا سبق ہے۔ تب چند دہائیاں قبل مجددین کرام کی پیشگوئیاں اور غزوۂ ہند سے وابستہ توقعات کا ذکر کرتی قوم پاکستان کی ”پ“ بھی نہ بننے دینے کے دعویداروں کے ہیرو مولانا ابوالکلام آزاد کے پچیس پینتیس یا پینتالیس سال کے قیافے سوشل میڈیا پہ پھیلانا شروع کر دیتی ہے۔ اور اکتوبر سینتالیس کی خنک شام واہگہ بارڈر کراس کرتے خوشی کے آنسو لئے پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والا چھ سالہ بچہ پاکستان سے بھی ہجرت کر جانے کے باوجود کینیڈا میں بیٹھے تراسی سال کی عمر میں پھر پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا تا ہے مگر اب اس نعرے کے ساتھ نکل کر گالوں تک پہنچے آنسو درد و غم کے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔

قرآن مجید بے شمار جگہ قوموں کے عروج و زوال کی کہانیاں بیان فرماتا ان میں عقل والوں کے لئے نشانیاں بتاتا تنبیہ فرماتا ہے۔ کاش واقعی بڑوں کو ان نشانیوں سے عبرت کا سبق ملتے ”ابھی وقت ہے“ سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مل جائے.

Rosa-Parks-bus-Montgomery-Alabama-1956
Facebook Comments HS