مذہب کا سیاسی استعمال اور پاکستانی معاشرہ

پاکستان میں توہین مذہب کے نام پر کمزور طبقات اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف بپھرے ہوئے ہجوم کی کارروائیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ ابھی سیالکوٹ میں سری لنکن نوجوان پریانتھا کمارا دیاوادنا کی وحشیانہ موت، جوزف کالونی لاہور میں مسیحی آبادی کے سینکڑوں گھر جلانے جیسے دردناک واقعات کی گرد بیٹھی بھی نہ تھی کہ سانحہ جڑانوالہ ہو گیا، جس نے ایک بار پھر پاکستانی معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک بار پھر جوش اور غیرت سے بپھرے ہوئے ہجوم کی آنکھوں میں خون ٹپک اٹھا اور مسیحی شہریوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملے کر کے انہیں آگ لگا دی۔ جنونی ہجوم اس قدر بے قابو ہو گیا کہ اس نے توہین مذہب کے الزام پر 20 کے قریب گرجا گھروں تک کو جلا ڈالا اور سب کے سامنے توہین مذہب کر ڈالی۔
ہمارے ملک میں مذہب کا سیاسی استعمال تو روز اول سے ہی جاری ہے۔ روولنگ الیٹ، اشرافیہ اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے 75 برسوں میں مذہبی منافرت کے جو بیج بوئے ہیں، وہ اب توانا پھل دار پیڑ بن چکے ہیں اور وطن کی بنیادوں کو کھوکھلا اور نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم نے مذہب کے نام پر ایک ایسا معاشرہ پروان چڑھا لیا ہے، جس میں نہ تعلیم ہے نہ صحت، عدل ہے نہ انصاف، اور یہاں نوجوان روزگار کے حصول کے لیے دربدر پھرتے ہیں۔
اب تو حق مانگنے پر بھی ملکی اشرافیہ، بالادست طبقات اور روولنگ الیٹ مذہبی کارڈ بڑے فخر سے کھیلتی ہے۔ مذہبی بنیاد پرستی کا وائرس ہمارے معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکا ہے۔ مذہبی اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ بربریت روز کا معمول ہے، اور مذہبی اقلیتیں نہ صرف عدم تحفظ کا شکار ہیں بلکہ ملک چھوڑ کر بھاگ رہی ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے دیش میں 23 فیصد غیر مسلم اقلیتیں آباد تھیں، جو اب صرف ساڑھے تین فیصد رہ گئے ہیں۔
معاشرے میں نہ اختلاف کی گنجائش بچی ہے اور نہ رواداری کا مادہ۔ اس وقت ریاست مصلحت اور خوف کے مارے اپنے ہی پیدا کردہ اس عفریت کے آگے بے بس ہو چکی ہے۔ ریاستی امور اور سماجی معاملات میں مذہب کے استعمال کے نتائج ہمیشہ تباہ کن رہے ہیں، لیکن 80 کے دہائی میں شروع ہونے والی افغان وار کے وقت سے جاری منظم بنیاد پرستی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے حالات کو اور بھی سنگین اور ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے۔
پاکستان میں جس طرح سے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ہوا ہو گا۔ رولنگ الیٹ، اشرافیہ اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے یہ سب کچھ ملک کے اندر اور باہر اپنے مفادات کے حصول کی خاطر کیا، لیکن اس کی قیمت عوام ادا کر رہے ہیں۔ ریاستی معاملات میں مذہب کا سیاسی استعمال وسیع تر قومی مفاد کے نام پر ہوا، مگر مفاد ان کا ہی ہے، جو ملکی وسائل پر قابض ہیں۔ وہ نفرت کی ترویج کے ذریعے ملکی ثقافت کو ایک خاص رنگ میں ڈھالتے ہیں، جس سے عورتوں، مسیحیوں، ہندوؤں، اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے عوام کو بد ترین ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ایسا نہ صرف مظلوم عوام کے خلاف ہوتا ہے، بلکہ مذہب کا سب سے زیادہ استعمال روشن خیالی کی آوازوں کو دبانے اور ترقی پسند سیاسی حلقوں کے اثر کو محدود کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 75 برسوں میں ملک میں مذہب کا سیاست میں جس طرح سے استعمال کیا گیا ہے اس نے ملک میں مذہبی منافرت کو انتہا پسندی کی نہج تک پہنچا دیا ہے اور انتہا پسندوں کو اس طرح سے بھڑکایا جاتا ہے کہ اب وہ اسی راستے پر چلنے کو ہی اپنی نجات کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد کی ابتدائی اسٹیبلشمنٹ نے قرارداد مقاصد کی شکل میں ریاست کو مذہب کے تابع کرنے کا راستہ فراہم کیا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد دفاعی اداروں اور ان کی پیروی میں باقی ماندہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان کو مذہبی بنیاد پرست ریاست میں تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ 1978ء میں افغانستان میں ثور انقلاب کے بعد امریکہ، سعودی عرب اور پاکستانی حکمرانوں نے مل کر مذہبی بنیاد پرستوں کی نا صرف بڑے پیمانے پر مالی اور عسکری امداد کی، بلکہ اسلامی جہاد کے نام پر پورے معاشرے پر نصاب، میڈیا اور دینی مدارس کے ذریعے ایک متعصب، متشدد، عوام دشمن اور مقامی ثقافتوں کی نفی کرنے والا سیاسی اسلام لاگو کر دیا۔ ریاستی اداروں کی پروردہ جہادی قوتوں نے نہ صرف ہمسایہ ممالک میں انتشار پھیلایا بلکہ اپنے ملک کے اندر فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے۔ ساتھ ہی ریاستی اداروں میں رجعتی سوچ رکھنے والے افراد کو بڑے پیمانے پر بھرتی کیا گیا، لہٰذا آج پاکستان کی ایک بڑی نسل کے فکری اور سماجی رویے سیاسی اسلام کے متعین کردہ ہیں۔
ہمارے ملک میں یہ سب کچھ ریاست کے قیام کے پہلے روز سے ہی ہوتا رہا، مگر ضیاء آمریت کے سیاہ دور کے دوران معاملات زیادہ ہی سنگین ہو گئے۔ کفر کے خلاف مسلح جہاد کرنے کی باقاعدہ پالیسی 1980 ء کی دہائی میں عروج پر پہنچی اور ایک پوری نوجوان نسل کو تنگ نظر بنایا گیا۔ ویسے تو اس پالیسی کا مقصد افغانستان اور ہندوستان میں مخصوص مفادات حاصل کرنا تھا، مگر اس کا زیادہ تر اثر پاکستانی سماج پر پڑا۔ افغانستان کے حوالے سے دہشت گرد عناصر امریکہ، سعودی عرب اور پاکستانی ریاستی اداروں کی پشت پناہی سے اس وقت منظر عام پر آئے جب افغانستان میں اپریل 1978 ء میں انقلاب برپا ہوا اور پہلی مرتبہ شاہی خاندان اور قبائلی سرداروں و خوانین کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
اس کے نتیجے میں ایک عوامی حکومت بائیں بازو کے سیاسی عناصر نے قائم کی، جس نے زمین کسانوں میں تقسیم کی، عورتوں کی خرید و فروخت ختم کی، اور محنت کرنے والے قبائلیوں کو سود خور جاگیرداروں اور خوانین سے نجات دلوائی۔ عالمی حمایت سے دہشت گردوں کی مداخلت اس قدر بڑھی کہ دسمبر 1979 ء میں افغان حکومت نے سوویت روس سے مدد مانگ لی۔ تب امریکہ اور پاکستان کے ضیاءالحق نے علی الاعلان مداخلت کاروں اور دہشت گردوں کو منظم کرنے اور ایک خود مختار ملک میں مسلح شورش برپا کرنے کی مہم جاری کی۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، وہ اس مہم جوئی پر سرکاری طور ہر فخر کرتا ہے اور اس کی افواج اور ایجنسیاں اس کارروائی کا سہرا اپنے سر باندھتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سہرے میں امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں کی جھالریں صاف نظر آتی ہیں۔
حکومت پاکستان نے ضیاءالحق کے دور سے جاری اس کارخیر کو تسلسل بخشا۔ پہلے یہ جہاد فی سبیل اللہ سوشلزم کے خلاف تھا، پھر جہادی ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے طالبان کی شکل میں ایک نیا لشکر تیار کر کے قندھار اور کابل تک پہنچایا۔ افغانستان میں اس سب کا جو نتیجہ نکلا وہ ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور بے چارے افغان عوام آج اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ پاکستانی حکمران طبقہ، بشمول آئی ایس آئی اور مسلح افواج، جو افغانستان کو اپنے پچھواڑے کا حصہ بنانا چاہتے تھے، جس کے لیے انہوں نے تزویراتی گہرائی (سٹریٹجک ڈیپتھ) کی رعب دار اصطلاح ایجاد کر رکھی تھی، وہ بہت دیر بعد یہ سمجھ پائے کہ عہد حاضر میں امریکہ کے سوا ایسی سیاسی اور جغرافیائی عیاشی کم ہی ملکوں کو نصیب ہوتی ہے۔
اب تو امریکہ کے لیے بھی دوسرے ملکوں میں آئے روز کھلی مداخلت کرنے میں دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس تمام مہم جوئی ہی کا شاخسانہ تھا کہ پاکستان نے اپنی سر زمین پر جہاد فی سبیل اللہ کے نام پر بیسیوں تنظیمیں بننے کی نہ صرف اجازت دی، بلکہ ایسی تنظیموں کو ہر طرح کی مدد فراہم کی اور انہیں افغانستان کے علاوہ کشمیر میں بھی استعمال کیا۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے یہ عناصر، جن کی قیادت نچلے اور درمیانہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، بڑے بڑے اداروں کے مالک بن گئے، اور ان کے لیے یہاں وہاں ایکڑوں پر بھیلی ہوئی زمینوں پر وسیع عمارتوں اور لینڈ کروزر اور پجیرو گاڑیوں کی فراوانی ہو گئی۔
جہادی کیمپ بن گئے اور پاکستانی ریاست میں آئین، قانون اور باہوش سیاست کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ سوات سے لے کر افغانستان سے ملتی مغربی سرحدوں تک اور پھر پنجاب اور کراچی تک یہ عناصر مختلف رنگوں اور مختلف ناموں سے پھیل گئے۔ ریاست کے اندر یہ ریاستیں ہماری اپنی ہی ریاست کی پشت پناہی کے بغیر کبھی نہیں بن سکتی تھیں۔ یہی لوگ اب غیر ریاستی عناصر کہلاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ایک عرصہ سے عالمی قوتوں کی نظر میں مشتبہ بنا ہوا ہے۔ ایسے میں صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ایسی کارروائیاں غیر ریاستی عناصر کی ہو سکتی ہیں، اور ریاستی ادارے اس میں ملوث نہیں ہیں۔ غیر ریاستی عناصر پاکستان میں دندناتے پھر رہے ہیں اور ریاست کے اندر ریاست بھی قائم کرتے ہیں۔ وہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے خودکش افراد تیار کرتے ہیں اور ایسے افراد کو ذاتی مخالفتوں میں قتل و غارت کے مقاصد کے لیے معاوضے پر دستیاب بھی کرتے ہیں۔
وہ فرقہ وارانہ مخالفت اور قبائلی روایات کو ہم آہنگ کر کے کئی کئی روز تک باقاعدہ حالت جنگ میں بھی رہتے ہیں اور درجنوں انسانی زندگیوں کا ضیاع کرتے اور شہری زندگی کو مفلوج کرتے ہیں۔ وہ کچھ مدرسے اور ڈسپنسریاں کھول کر اپنے حقیقی مقاصد پر پردہ ڈالتے ہیں، حکومتی پابندیوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور آئین، جمہوریت اور مہذب زندگی کو تہس نہس کرنے کے درپے ہیں۔
ہماری ریاست، اس کی ایجنسیاں، اور ہمارے میڈیا میں موجود کئی عناصر ان غیر ریاستی عناصر کی پاک دامنی، پاک بازی اور اسلام پسندی کے بارے میں ابھی تک الجھاؤ کا شکار ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستانی ریاست کو غیر مستحکم، عوام کو شدید خوف و ہراس اور ذہنی کشمکش کا شکار کرنے اور ہمارے ملک کی معیشت کو برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس سب کا سدباب صرف الفاظ اور غیر موثر احکامات کے ذریعے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک واضح، ٹھوس اور مضبوط حکمت عملی درکار ہے اور پھر ایسی حکمت عملی کو پاکستان کے جمہوریت پسند عناصر، دانشور طبقے اور محنت کش عوام کے حمایت کی بھی ضرورت ہے، جو ایک ایسی حکومت حاصل نہیں کر سکتی جو جمہوری اداروں، پارلیمنٹ، عدلیہ وغیرہ کو نظر انداز کر کے مشکوک عناصر، عالمی مالیاتی اداروں اور امریکی مشوروں پر انحصار رکھتی ہو۔
ہمیں سامراج یا دنیا کے کے دباؤ کے تحت نہیں بلکہ اپنے سماج میں امن اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے مذہب کے سیاسی استعمال کی ٹھوس حکمت عملی کے تحت روک تھام کرنا ہو گی، وگرنا نفرت کی آگ ہمیں اور ہمارے وطن کو لے ڈوبے گی، اور خاص طور پر ہماری نوجوان نسل کی اکثریت کو بند گلی کی طرف دھکیلا جائے گا، کیونکہ ان کی ذات اور مستقبل کی خواہشات نہ پوری ہونے پر ان کا انتہا پسندی کے جال میں مزید جکڑنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
پاکستان بھر کے ترقی پسند، روشن خیال شہری یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے اور ہر پاکستانی شہری کی مذہبی آزادی کی ضمانت دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری تاریخ، ریاستی ڈھانچے، قومی سلامتی پالیسی، خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں اور مذہب کی سیاست میں استعمال کا خاتمہ لازمی ہیں۔ یہ حقیقت اب کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ قومی سلامتی پر مبنی ریاست نہ تو ملک میں امن کا قیام کر سکتی ہے اور نہ ہی خطے میں دوسرے ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات استوار کر سکتی ہے۔
مذہب اور ریاست کو الگ کرنا، عدم مداخلت اور پڑوسی ممالک میں عدم مداخلت اور پر امن تعلقات اور خود مختاری پر مبنی خارجہ پالیسی، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور دائیں بازو کے گٹھ جوڑ کو توڑنا اور ریاست کی جانب سے بلا امتیاز تمام مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے خاتمے کے لیے غیرمشروط اور براہ راست اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم اقدام ملک میں جنگ پرست اور قدامت پرست نصاب اور میڈیا کے ذریعے عوام الناس کی ذہن سازی کے سوال پر توجہ دینا ہے۔
ملک میں موجود ہر مسجد، مندر، گرجا گھر اور دیگر عبادات گاہوں کو تحفظ فراہم کرنا، کسی بھی فرقے کی طرف سے زبردستی مذہب مسلط کرنے پر پابندی، مسلح افراد کی روک تھام کرنا، یہ سب کچھ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہم سب کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پاکستانی ہونے کا یہ مطلب قطعی طور پر نہیں ہے کہ ہم سب ایک ہی عقیدے کو مانتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مختلف ہوتے ہوئے سب کی مذہبی آزادی کا اپنے ملک کے اندر اور باہر احترام کرتے ہیں۔
بصورت دیگر پاکستان اور ہمارے اردگرد نہ کبھی امن ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہم ایسی معاشی ترقی کی منزل پا سکتے ہیں، جس سے عوام کا وسیع تر حلقہ حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکے۔ آج ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پاکستان کے روشن خیال عوام کا وسیع تر حلقہ منظم جدوجہد کے ذریعے اس بنیاد پرستی کا سدباب کرے۔ آؤ ہم سب مل کر پاکستان میں امن، محبت، انصاف اور بھائی چارے پر مبنی ایک حقیقی عوامی جمہوری معاشرے کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

