جنرل اور جمعہ سیٹی والا


جنرل ضیاء کے مارشل لا کا دور تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو نو سال قبل پھانسی دی گئی تھی۔ سیاسی قیدیوں کو چھڑانے کے لیے پاکستان ائر لاین کا جہاز اغوا کیے ابھی چند برس ہی ہوئے تھے۔ سیاسی جماعتوں پر مکمل پابندی تھی۔ جلسے جلوس کارنر میٹنگز و سیاسی اکھنڈ پر خاص نظر رکھی جاتی تھی۔ لوگ سیاست پر یا ملک پر قابض آمر کے بارے میں سرگوشیوں میں بھی بات کرنے سے کتراتے تھے۔ ادیب اور شاعر اپنی شاعری اور ادب میں علامتی انداز اختیار کیے ہوئے تھے۔ علماء اکرام پاکستان کے اسلامی ریاست بننے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ عوام میں خوف کا ایسا عالم تھا کہ گھروں میں سیربین سننے والے ریڈیو کی آواز بالکل مدھم رکھ کر کان سے ریڈیو لگا کر خبریں سنا تو کرتے لیکن منہ سے ایک لفظ نہ نکالتے۔

پھر ایک روز ڈھاڈر شہر کے چوک میں ایک ادھیڑ عمر شخص خاکی پینٹ شرٹ اور فوجی لانگ بوٹ پہنے، گلے میں سیٹی ڈالے نمودار ہوا۔ مین چوک میں بنے سیمنٹ کے گول چبوترے پر کھڑے ہو کر اس نے روز روز سے سیٹی بجانی شروع کی۔ چوک میں بھیڑ لگ گئی۔ اس آدمی نے سیٹی بجانا بند کی اور انگلیوں سے فون کا ڈائل گھمایا پھر ایک ہاتھ کان پر لگا کر جنرل ضیاء کو کال ملائی۔

”اوے کانے میں جمعہ سیٹی والا بول رہا ہوں“ سے بات شروع کی۔ پھر سیاست دانوں پر ظلم، ملک پر ناجائز قبضے، شرفاء کو کوڑے مارنے سے لے کر اس کی صحت، شکل صورت اور کردار کے بارے میں ایسے جملے بولے کہ سن کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ جنرل ضیاء کی آمد کے بعد یہ پہلا شخص تھا جس نے ان کے لیے سربازار ایسے الفاظ استعمال کیے تھے، تو خوف کے مارے کئی لوگ مجمعے سے کھسک لیے۔ لیکن اگلی صبح پھر جمعہ سیٹی والا اپنے مخصوص انداز سے چوک میں سیٹیاں بجا رہا تھا۔ پھر مجمع لگا اور اس بار اس نے فون ملا کر چند دن قبل پیش آئے کسی واقعہ پر اسے ایسی باتیں سنائی کہ لے رب کا نام۔

پھر تو یہ روز کا معمول بن گیا۔ جمعہ سیٹی والا چوک میں آتا اور کسی بھی سیاسی سماجی یا حکومتی اقدامات پر جنرل ضیاء کی وہ کلاس لیتا کہ لوگ جذباتی ہو کر نعرہ رسالت اور نعرہ حیدری بلند کرتے۔ جبر اور زبان بندی کا دور تھا تو ایسے میں جمعہ سیٹی والا ڈری سہمی قوم کی زبان بن گیا۔ عوام میں موجود نفرت کو کیش کرتے ہوئے چند ہی ماہ میں جمعہ سیٹی والا لوگوں کا ہیرو بن گیا۔ اب اس کی سیٹی کی آواز سنتے ہی خواتین تک دروازوں پر آ کھڑی ہوتیں۔

اس دلیر انسان کی ایک جھلک دیکھنے کو لوگ درختوں اور چھتوں پر چڑھ جاتے۔ چوک میں تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی۔ سادہ دل لوگ اس کی دلیری اور جرات سے ایسے متاثر ہوئے کہ اسے وقت کا ہیرو اور انقلابی سمجھنے لگے۔ ہمارے دادا، جو بھٹو کے جنونی عاشق تھے۔ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر سب سے پہلے چوک میں جا کھڑے ہوتے اور جمعہ سیٹی والا کے ہر فقرے پر تالیاں بجاتے۔ رات کو سیربین سنتے ہوئے بتاتے کہ جمعہ نے دو دن قبل اسی موضوع پر آمر کو باتیں سنائی تھیں۔ انھیں پکا یقین تھا کہ جمعہ سیٹی والے کی وجہ سے ملک میں انقلاب آئے گا۔ اب یہ آواز ڈھاڈر کے چوک سے نکل کر پاکستان کی ہر گلی کوچے تک پہنچے گئی اور پھر ایک دن اس ملک کا ہر آدمی خوف کی زنجیریں توڑ کر ظالم کو للکارے گا۔

لیکن ایک دن ان کے خواب اس وقت چکنا چور ہو گئے جب وہ کسی کام سے ڈی سی صاحب سے ملنے گئے۔ ڈی سی صاحب کے چیمبر میں جمعہ سیٹی والا پہلے سے موجود تھا۔ معلوم ہوا کہ جمعہ سیٹی والا سی آئی ڈی کا اہلکار ہے اور اس کی ابھی چند ماہ قبل ڈھاڈر شہر میں پوسٹنگ ہوئی ہے۔

چند دن قبل اسلام آباد میں منعقد ہوئے ایک جلسے میں لگنے والے نعروں، عمران خان کے ٹائیگرز کی دشمن نمبر ون سے نفرت۔ چند انقلابیوں کی تقاریر۔ ایمان مزاری اور لطیف کھوسہ جیسے بہادروں کی پریس کانفرنسز سن کر ایسا لگا جیسے عوام میں پھر سے انقلاب کی امید جاگتے لگی ہے۔ ایسے میں مجھے بے اختیار اپنے سادہ دل دادا اور جمعہ سیٹی والا یاد آ گیا۔ نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہوا کہ بھٹو زندہ ہو نہ ہو۔ جمعہ سیٹی والا ضرور زندہ ہے۔ اس کی سیٹی پھر ہر چوک چوراہے میں گونج رہی ہے۔ عوام میرے سادہ لوح دادا کی طرح انقلاب کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ بس دعا یہی ہے کہ اب کی بار جمعہ سیٹی والا سی آئی ڈی کا ادنیٰ ملازم نہ ہو۔

Facebook Comments HS