کھلی آنکھوں کا خواب (4)


نجف اشرف:

ائر ہوسٹس شبانہ، مصری تھی۔ پیاری اور خوش خلق سی۔ جہاز سے نکلتے ہوئے اس نے خداحافظ کہا اور سیڑھی پر پہلا قدم رکھا تو گرم لو کے تھپیڑے نے استقبال کیا۔ سیڑھیاں شکر ہے زیادہ نہ تھیں، اس لئے آرام سے اتر گئی۔ سامنے ہی بس اور ایک وی آئی پی گاڑی کھڑی تھی۔ ہم بس کی طرف بڑھے تو گاڑی کا ڈرائیور لپک کر ہمارے پاس آیا اور گاڑی کا دروازہ کھولا مگر اونچی گاڑی پر چڑھنا بھی کارے دارد تھا، خیر چڑھ ہی گئے۔ لاؤنج کے اندر گئے تو داماد جی استقبال کے لئے موجود تھے۔ گرم جوشی سے ملے۔ (چند دن پیشتر ہی بیٹی اور داماد حج سے واپس آئے تھے ) انہیں مبارک باد دی۔ ہمارے پاسپورٹ لے کر امیگریشن کروائی۔ سامان کے ٹیگ لے کر اپنے بندوں کو دیے اور ہمیں کہا کہ وی آئی پی روم میں بیٹھیں۔ اندر عرب شیوخ مرد وزن اعلیٰ طرز کے صوفوں پر متمکن قہوہ پی رہے تھے۔ کمرہ اتنا بڑا تھا کہ تین چار انوریٹر لگے ہوئے تھے۔ ایسا یخ بستہ کہ مجھے سردی لگنے لگی۔ جب کہ باہر گویا آگ برس رہی تھی۔

تھوڑی دیر میں شیشے کے منے سے فنجانوں میں قہوہ، کھجور اور پانی کی بوتلیں آ گئیں۔ تھوڑی دیر میں سامان بھی آ گیا۔ عائشہ نے دوبئی سے آنا تھا، لہٰذا دو ڈھائی گھنٹے اس کا انتظار کرنا پڑا۔

جہاز میں ساڑھے چار گھنٹے بیٹھنا پھر یہاں اس یخ بستہ کمرے میں، ٹھنڈک کی وجہ سے ٹانگوں میں درد ہونے لگا۔ میں اے سی کے آگے سے اٹھ کر دوسری جگہ بیٹھ گئی۔ نجف اشرف کے ائر پورٹ پر اس وی آئی پی روم میں شکر کے جذبے سے مغلوب ہو کر دل چاہا کہ سجدۂ شکر ادا کروں مگر سامنے لوگ بیٹھے تھے۔ سو دل ہی دل میں کلمات شکر ادا کیے کہ یا اللہ تو، تو دلوں کا جاننے والا اور جذبوں کا قدر دان ہے۔ قبول فرما لے۔

ربنا تقبل منا انک انت سمیع العلیم

کچھ دیر بعد احمد آئے کہ چلیں دوسرے کمرے میں کچھ آرام کر لیں۔ یہ الگ پر آسائش کمرہ اب صرف ہمارے لئے مختص تھا۔ سو وضو کر کے پہلے نماز ظہر ادا کی۔ نسیم صوفے پر لیٹ گئے۔ میں بھی نماز اور نوافل پڑھتے پڑھتے غنودگی میں چلی گئی تو صوفے پر نیم دراز ہو گئی اور آنکھ لگی ہی تھی کہ عائشہ کے جھک کر پیار کرنے سے آنکھ کھل گئی۔ میں نے اسے لپٹا کر پیار کیا۔ حج کے بعد اسے دیکھ رہی تھی۔ دل مسرت سے بھر گیا۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بچوں کو حج کی سعادت بخشی۔ مجھ ناچیز کی دعاؤں کو باریاب کیا۔ میری آنکھوں نے یہ دل کشا منظر دیکھے۔ الحمدللہ الحمدللہ

میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ کئی سالوں سے زیارات پر آنا دیرینہ خواہش تھی۔ کبھی کبھی لاڈ سے کہہ بھی دیتی کہ لو ایک دفعہ سہون شریف جانے کا خیال دل سے گزرا اور دوسرے دن ہی بلاوا آ گیا مگر یہاں تو سالوں سے خواہش کے باوجود بلاوا نہیں آتا اور آج نجف اشرف کے اس وی آئی پی روم میں بیٹھی سجدۂ شکر کرتے ہوئے کہہ رہی ہوں کہ یا اللہ تیری حکمتیں ہم کم فہم اور جلد باز بندے بھلا کہاں سمجھ سکتے ہیں۔ یہ دیر اس لئے تھی کہ مجھے بجائے کسی قافلے کے، بیٹی کے ساتھ خصوصی طور پر ان مقامات مقدسہ پر حاضر ہونا تھا۔ اللہ نے مجھے اتنے اچھے اور خصوصی انداز میں زیارات کروانی تھی۔ جب جب اللہ کی عنایات زیادہ ہوں، اپنی کم مائیگی اور کوتاہ عملی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

اکثر مخمس یا مسدس میں ایک مصرعے کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ جسے ٹیپ کا مصرعہ کہا جاتا ہے۔ تو میرے اس سفرنامے میں آپ کو ٹیپ کا یہ فقرہ بار بار پڑھنے کو ملے گا کہ اچھا اتنے برسوں سے میرا بلاوا نہیں آیا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے مجھے ایسے خصوصی انداز سے بلانا تھا۔ میں سراپا سپاس و تشکر بسیار کے ساتھ یہ سب سوچتی اور یہ لکھتے ہوئے بلا کم و کاست جو محسوسات تھے، وہ لکھوں گی۔ گوگل کے طرز پر معلومات رقبہ آبادی یہ وہ یہ سب مجھ سے نہیں لکھا جاتا کہ آج کل موبائل اور گوگل ہر ایک کی دسترس میں ہیں۔ میں اپنا مشاہدہ، تجربہ اور محسوسات لکھوں گی کہ کیا دیکھا، کیا محسوس کیا اور آپ سب کو اپنے ساتھ شامل رکھوں گی۔

ہم آٹھ جولائی کو نجف اشرف پہنچے۔ سات جولائی کو یوم غدیر تھا اور سنا کہ بے پناہ لوگ نجف اشرف حضرت علی رضی تعالی عنہ کے مزار اقدس پر آئے ہوئے ہیں۔ امی آج کربلا معلی چلتے ہیں۔ بیٹی نے کہا۔ کل دوبارہ ادھر آ جائیں گے۔ ٹھیک ہے جیسے مناسب سمجھو۔ میں نے جواب دیا۔

اچھا چلیں بھوک لگ رہی ہے۔ پہلے کھانا کھانے چلتے ہیں۔ ہم باہر گاڑی تک آئے تو اندازہ ہوا کہ کس غضب کی گرمی پڑ رہی ہے۔ گاڑی میں اے سی لگے تھے مگر لگتا تھا کہ کام نہیں کر رہے۔ خیر تھوڑی دیر میں ہوٹل پہنچے اور کھانے کا آرڈر دیا۔ کھانے سے پہلے طرح طرح کے مزیدار اچار، سلاد اور پھر لذیذ کھانا پروسا گیا۔ بھوک بھی خوب لگی ہوئی تھی۔ اب پتہ نہیں کھانا واقعی بہت مزیدار تھا یا ہماری بھوک شدید تھی کہ کھانے سے خوب انصاف کیا۔ سیخ کباب خاص طور پر بہت اچھے تھے۔ ہمارے ہاں کے کبابوں سے دوگنے لمبے اور موٹے، خالص چھوٹے گوشت کے اور بغیر مرچ مصالحے کے۔ اس لئے بڑی رغبت سے کھائے ورنہ پاکستان میں تو میں نے چکن کے علاوہ کباب کھانے بھی چھوڑ رکھے ہیں کہ زیادہ تر چکن سے بننے لگے ہیں۔ کھانا کھا کر دل ہی دل میں الحمدللہ کہا اور کربلا کی جانب روانہ ہوئے۔

ہمارا ہوٹل کربلائے معلیٰ میں تھا۔ نجف اشرف سے کربلائے معلی 80 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ بیٹی اور داماد تو آگے الگ گاڑی میں تھے۔ پیچھے میں اور نسیم الگ گاڑی میں۔

ہماری گاڑی کا ڈرائیور قادر، بڑی دل چسپ شخصیت کا مالک تھا۔ اردو بول سکتا تھا۔ سو سارے راستے کسی اچھے گائیڈ کی طرح ایک ایک چیز دکھاتا اور سمجھاتا رہا۔ نجف سے کربلائے معلیٰ کے راستے میں جگہ جگہ خوب صورت اقامت گاہیں بنی ہوئی تھیں۔ بڑے بڑے احاطے اور شیڈ بنے ہوئے تھے۔ قادر نے بتایا کہ یہ اقامت گاہیں زائرین کے لئے تعمیر کی گئی ہیں۔ اربعین کے موقع پر زائرین کے قافلے نجف اشرف مسجد کوفہ اور حضرت علی رضی تعالی عنہ کے مزار اقدس سے کربلائے معلیٰ کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ 80 کلومیٹر کا یہ سارا فاصلہ پا پیادہ طے کیا جاتا ہے۔ کربلائے معلیٰ پہنچنے میں دو سے تین دن لگ جاتے ہیں۔ یوں سارے راستے میں قدم قدم پر یہ اقامت گاہیں موجود ہیں۔ جہاں ہر طرح کی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ تک 1252 پول ہیں جو زائرین کی رہنمائی کرتے ہیں کہ کتنا فاصلہ طے کر لیا اور کتنا باقی ہے۔ تھوڑے ہی فاصلے پر ہسپتال کہاں ہے؟ اس طرح کی تمام معلومات ان پولز پر درج ہوتی ہیں۔

ان اقامت گاہوں میں جب جی چاہے رک کر آرام کریں۔ یہاں کے مقامی لوگ زائرین کے لئے دل اور گھروں کے دروازے کشادہ رکھتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ دیدہ و دل فرش راہ کیے رہتے ہیں۔ مجازی نہیں حقیقی معنوں میں کہ جس کی جو استطاعت ہوتی ہے، وہ اس لحاظ سے خدمت کرتا ہے۔ کچھ لوگ جو مالی طور پر استطاعت نہیں رکھتے، وہ زائرین کے پاؤں دباتے، مالش اور مساج کرتے ہیں کہ پیدل چلتے چلتے تھک گئے ہوں گے۔ ہمارے ملنے والے ایک زائر نے بتایا کہ ہمارے پاس ایک بوڑھا غریب سا آدمی آیا اور ہر ایک کو لہسن کے جوئے دینے لگا۔ سب نے حیران ہو کر دیکھا تو کہنے لگا کہ زائرین کی خدمت کے لئے میرے پاس کچھ اور نہیں، میں یہ لہسن لے کر آیا ہوں۔ اس کے استعمال سے خون پتلا رہے گا اور یہ کولیسٹرول کو نارمل رکھے گا۔ راستے میں قدم قدم پر لوگ کھانے پینے کی چیزیں لے کر بیٹھے ہوتے ہیں۔

سبحان اللہ اہل بیت کے زائرین کی بھی کیا قدرومنزلت ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ قافلۂ عشق ہے۔ اہل بیت نے اللہ کے حبیب اور اس کے دین کو بچانے کے لیے قربانی، ایثار اور شہادت کی ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے جس کی تاریخ عالم میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اہل بیت سے محبت کرنے والے بھی سخت گرمی میں پاپیادہ چل کر اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہیں اور ان کی اس محبت کی مقامی لوگ کیسی پذیرائی اور قدر افزائی کرتے ہیں کہ ان کے پاؤں دھونا اور دبانا اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔ یہ کیسی زنجیر محبت ہے۔ واہ سبحان اللہ

گرمی بہت شدید ہے، گاڑی میں اے سی لگا ہوا ہے۔ اس کے باوجود میں ڈرائیور کو کہتی ہوں کہ اے سی تیز کردے۔ گرمی لگ رہی ہے۔ درجہ حرارت 50 کے قریب ہے۔ پھر سوچتی ہوں کہ اس قیامت خیز گرمی میں پیر و جواں کس طرح یہ مسافت طے کرتے ہیں۔

قافلۂ عشق رواں ہے کہ اسے عقیدت اور محبت میں گرمی کی شدت کا کوئی احساس نہیں۔ ان ہی خیالات میں غلطاں و پیچاں ہم عقیدت بھرے جذبات اور ہم توصیفی نگاہوں سے ان گھروں کو دیکھتے ہوئے کربلا میں داخل ہوئے۔ کربلا ہمیشہ سے ہمارے ذہن میں ایک بنجر ریت کے بگولے اڑاتا ہوا لق و دق صحرا تھا مگر اب تو یہاں اچھی خاصی آبادی دکھائی دے رہی تھی۔

مغرب سے کچھ پیشتر ہوٹل پہنچے۔ یہ ایک شاندار فائیو سٹار ہوٹل تھا۔ ہمارے کمرے بک تھے۔ استقبالیہ پر ہوٹل کے منیجر نے خوش آمدید کہا اور شیشے کے چھوٹے گلاسوں میں بہت مزیدار کھجور کا شیک پلایا۔ عصر کا وقت نکلا جا رہا تھا۔ ہم کمرے کے کارڈ لے کر اوپر آئے۔ فوراً وضو کر کے نماز عصر ادا کی کہ کھڑکی سے غروب ہوتا ہوا آفتاب دکھائی دے رہا تھا جو بس غروب ہوا چاہتا تھا۔ ربنا تقبل منا انک انت سمیع العلیم

(جاری ہے )

Facebook Comments HS