اچھا تو آپ خود کو دانشور سمجھتے ہیں

وکی پیڈیا میں اگر آپ دانشور لفظ کی معنی تلاش کریں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ دانشور کیا ہوتا ہے۔ دانشور وہ شخص ہوتا ہے جو معاشرے کی حقیقت کے بارے میں تنقیدی سوچ، تحقیق اور عکاسی کرنے کہ قابل ہو، یا کسی نا انصافی کی مذمت کرتا ہو۔ اور جو معاشرے کے معیاری مسائل کے حل کرنے کہ لئے کوئی نظریہ یا تجویز پیش کرتا ہو۔ 19 ویں صدی کے اواخر میں، جب یورپی ممالک جیسے کہ برطانیہ میں خواندگی نسبتاً عام تھی، ”مین آف لیٹرز“ (ادبیات) کی تشریح وسیع ہونے لگی جس کا مطلب تھا ”خصوصی“ ، ایک ایسا آدمی جس نے اپنی زندگی میں لکھنے سے دانشورانہ طور پر کمائی نہیں کی مگر تخلیقی طور پر ادب کے بارے میں مضمون نگار، صحافی، نقاد، وغیرہ کا کام کیا ہو۔ 20 ویں صدی میں، اس طرح کے نقطہ نظر کو بتدریج علمی طریقہ کار نے ختم کر دیا، اور ”مین آف لیٹرز“ کی اصطلاح کی جگہ عام اصطلاح ”دانشور“ نے لے لی، جو دانشور شخص کو بیان کرتی تھی۔
مگر آج کل دانشور بن جانا ایک عام بات سی ہو گئی ہے۔ لوگوں پر خود کو دانشور سمجھنے کا بھوت سوار ہو گیا ہے۔ پھلے تو ایسا ہوتا تھا کہ بغیر تحقیق کیے ہوئے کاپی پیسٹ مار کر ایک مضمون لکھ کر خود کو کالم نگار ثابت کیا جاتا تھا۔ مگر اب بات اس سے آگے بڑھ چکی ہے۔ مگر آج کل تو لوگ کتاب لکھ کر بڑے دانشور بن جاتے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ ہمارے سماج کو خود سے بھی زیادہ بیوقوف سمجھتے ہیں۔ ان کو پتا ہے کون ہمارے کتاب پر تحقیق کرے گا۔ کون پڑے گا۔ بس اعزازی کاپی دیتے جاؤ اور لوگوں کو خوش کرتے جاؤ۔ لوگ کون سا کتاب پر تبصرہ کریں گے۔ لوگوں کو پاس وقت کہاں ہے کہ وہ حقیقت کو معلوم کریں۔ بس ایک تصویر بنا لی، کتاب لینے والا بھی خوش اور دینے والا بھی خوش، کیوں کہ ایک اچھے سے ہوٹل میں کتابی مہورت کر کے کھانا کھلا کے لوگوں کو خوش کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہے آج کل کا ہمارا دانشورانہ کام کیوں کہ لوگوں میں سے تحقیق کرنے کا جنون ختم ہو گیا ہے۔ مطالعہ کرنا، علم اور ادب کی باتیں کرنے کا ذوق اب بہت ہی کم ہو گیا ہے۔ میری نورٹن نے کیا خوب کہا ہے کہ ”مصیبتیں ہمیں عقلمند بناتی ہیں“۔
مگر آج کے دور میں ہم نے لوگوں کو دانشور بنا دیا ہے۔ پہلے صدیوں میں بڑے دانشور پیدا ہوتے تھے، مگر اب کچھ دنوں کے اندر ایک دانشور پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایسا بھی کہا جا سکتا ہے کہ کچھ دنوں کا کھیل ہوتا ہے۔ آج کے دور میں دانشور بن جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ گوگل بابا کے دور میں کاپی پیسٹ کر کے آپ دانشور بن سکتے ہو۔ ماضی میں ہمارے یہاں بھی جو مارکسسٹ، لیننسٹ کھلاتے تھے وہ علم و ادب کے باب ہوتے تھے۔ جن کی قربانیاں ہوتی تھی، جو جیلوں میں بھی علم، ادب، شعور، بین الاقوامی سیاست اور انقلاب کی باتیں کرتے تھے۔ مگر وہ انقلابی اور ادب کی باتیں کرنے والے حضرات اب نہیں رہے۔ ان کے دور کا اختتام ہو گیا، ویسے بھی ہر انسان کا اپنا اپنا ایک دور ہوتا ہے، اور ہر کسی کا دور ختم بھی ہو جاتا ہے، دنیا میں کوئی بھی چیز تاحیات نہیں ہوتی۔ فطرت میں ہر چیز اختتام پذیر ہوتی ہے۔
دانشور لفظ کے معنی سمجھے بغیر لوگ دانشور بن جاتے ہیں۔ آخر ایسا لفظ میں کیا ہے کہ لوگ اس لفظ کے لئے پاگل ہو گئے ہیں۔ پہلے لوگ ڈاکٹر بننا، قانون دان بننا، صحافی بننا، افسر بننے کو زیادہ پسند کرتے تھے، مگر آج کل کے دور میں ہر کوئی دانشور بننا کیوں پسند کرتا ہے؟ اس کا جواب بہت ہی سادہ سا ہے۔ لوگوں کو بے وقوف بنانا آج کل بہت آسان ہے۔ آپ ایک مضمون لکھو، دوسرے دن ایک کتاب لکھو، لوگ آپ کو بڑا دانشور سمجھنے لگیں گے۔ دنیا میں لوگوں کو بے وقوف بنانا سب سے زیادہ آسان ہے، اس لئے ہمارے یہاں بہت سارے دانشور ہر جگہ دستیاب ہیں۔ ملک کا کوئی ایسا شہر، کوئی ایسا کونہ خالی نہیں ملے گا جہاں آپ کو دانشور جیسی مخلوق نہ ملے۔ بات مخلوق کی نکلی ہے تو اس پر بھی تھوڑا سا تبصرہ کر لیتے ہیں۔ ویسے تو یہ مخلوق آپ کو ہر جگہ نظر آئے گی مگر اکثر سماجی پروگراموں اور ادبی میلوں میں یہ مخلوق آپ کو بڑے تعداد میں نظر آئے گی۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کو ڈھیر سارے سیکڑوں دانشور ملیں گے۔ فیس بک کے بعد تو ہر کوئی دانشور بن گیا ہے۔ اب کس کس کی خوبیوں سے آپ انکار کریں گے۔ آپ کسی کی بھی پوسٹ دیکھ لیں آپ کو دانشورانہ ٹیسٹ ضرور ملے گا۔ ہاں وہ الگ بات ہے کہ ان میں وہ علم اور ادب کا ٹیسٹ نہیں ہو گا مگر آپ کو ٹیسٹ سے کیا لینا، دانشور کا ٹیگ تو آپ کو ضرور ملے گا۔ دوسری مزیدار بات یہ ہے کہ آج کل کے کرپٹ حضرات جنہوں نے مختلف محکموں میں ساری عمر کرپشن میں اپنے بال سفید کر لئے اب وہ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو دانشور سمجھنے لگے ہیں اور وہ کرپٹ حضرات بھی خود کو دانشور سمجھنے کا لطف لے رہے ہیں۔ اب ایسے لوگوں کا کیا کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کے تجربے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، تجربے کی بنیاد پر لوگوں کو متاثر کیسے کریں؟ لوگوں کی آنکھوں میں مٹی کیسے ڈالیں، اس فن میں یہ لوگ اچھی مہارت رکھتے ہیں۔ ایک طرف کروڑوں کی کرپشن کر کے بڑی بڑی لینڈ کروزر اور فارچونر میں آنا اور دوسری طرف لوگوں کو تہذیب کا سبق سکھاتے ہیں۔ دانشورانہ ٹیگ اور فیمینزم کی آڑ میں خواتین کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ کچھ حضرات تو بڑے فیمنسٹ بن جاتے ہیں۔ اور حیرت کی بات ہے کہ فیمنسٹ بھی وہ بن جاتے ہیں، جو اکثر عورتوں کو ہراساں کرتے رہے ہیں۔ ایسے بہت سارے دانشور ہیں جو کہ ایک طرف سماجی خدمت گار بن کر عورتوں کو ہراس کرتے ہیں دوسری طرف خود کو فیمنزم کا ٹیگ لگا کر گھومتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسے لوگوں کو دانشور کہنا دانشور لفظ کی توہین ہے۔ کچھ حضرات این جی اوز کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں، باہر کے ممالک میں گھومنے جاتے ہیں، گاڑیاں اور بنگلے بنا کر وہ بھی خود کو دانشور سمجھتے ہیں۔ اب ایسے حضرات کا سماج میں کیا کردار ہے۔ وہ سماج کو کیا فائدہ دے سکتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے اب اس ٹرینڈ سے لوگوں کو باہر نکلنا ہو گا۔ اور حقیقت پسند ہونا ہو گا۔ خیالی دنیا میں رہنے سے تو اچھا ہے کہ حقیقت کا ساتھ دیں۔ اب اگر کوئی احمقوں کی دنیا میں رہنا چاہتا ہے تو وہ اس کی مرضی ہے مگر ہمارے سماج کے نوجوانوں کو علم ادب اور تحقیق پر کام کرنا چاہیے۔ آج کل کے سماجی، سیاسی اور معاشی حالات پر تحقیق کرنی چاہیے۔ دانشور بننے سے اچھا ہے کہ آپ تحقیق کرو، علم اور ادب کا ہاتھ پکڑو۔

