یہ جو لاہور سے محبت ہے


بچپن میں ہمارے شہر ساہیوال میں جب کوئی بیمار پڑ جاتا اور اسکا مرض لا علاج قرار دے کر ڈاکڑ یہ کہ دیتے "اینو لہور لے جاو” (اس کو لاہور لے جاو)
تو یہ سمجھ لیا جاتا
"ساریاں نو اطلاع کر دیو، ہن اینے نئی بچنا”
(سب رشتے داروں کو اطلاع کردو، اب یہ نہیں بچے گا)
اسی طرح جب پتہ چلتا کہ فلاں کا میڈیکل کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لاہور ہو گیا ہے اور رفتہ رفتہ اس کی مصروفیت بڑھ جاتی اور واپسی کے راستوں پہ دھول جمنے لگتی تو سب کہنے لگتے
"اونہو بھل جاو، اوہ ہن ساڈے تو گیا ۔۔۔ہن انہے واپس نئی مڑنا”
(اسے اب بھول جاو، اب وہ ہمارا نہیں رہا اور اب کبھی واپس نہیں آئے گا)
شہر لاہور ! تمہاری رونقیں سلامت۔
تم نے کیسے کیسوں کو پناہ دے رکھی ہے۔۔۔
بیماروں کے لیے یہاں شفا ہے
آس پاس کے مضافاتی علاقوں اور چھوٹے شہروں کے لوگ اپنے مریضوں کو اللہ کے بعد آخری امید لاہور سمجھ کر لاتے ہیں
بھوکوں کو کہیں سے بھی کچھ نہ ملے تو کسی دربار ، کسی درگاہ ، کسی خانقاہ سے لنگر ضرور مل جاتا ہے
علم کے پیاسوں کے لیے کالجوں ، یونیورسٹیوں کی کوئی کمی نہیں۔۔جسے کہیں داخلہ نہ ملے، لاہور آ کے وہ بھی کوئی نہ کوئی ڈگری لے ہی لیتا ہے۔
لاہور کی سڑکوں اور جابجا پلوں نے جہاں نشئیوں اور چرسیوں کو پناہ دے رکھی ہے وہاں عاشقوں کی آوارگی کے بھی سارے سامان موجود ہیں۔
شاعری اور نثر کی بہترین ادبی تخلیقات لاہور سے وابستہ ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی نے کہا تھا
عشق کے لیئے لاہور سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں
ناصر کاظمی نے کہا تھا
شہر لاہور تری رونقیں دائم آباد
تری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو
ڈاکٹر فخر عباس کا مشہور شعر ہے
یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے
رحمان فارس کا زبان زد عام شعر ہے
جب اس کی زندگی میں کوئی اور آ گیا
تب میں بھی گاوں چھوڑ کے لاہور آ گیا
بات راجہ گدھ کےگورنمنٹ کالج لاہور کی ہو یا پنجاب یونیورسٹی کے نیوکیمپس کی نہر کی شاعری کی، ادب اور شاعری کے ان گنت قصے ، بےشمار رومانس شہر لاہور سے جڑے ہیں۔
اسی طرح جی ٹی روڈ لاہور پر واقع انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور مشہور یونیورسٹیی لمز میں داخلے کو عملی زندگی میں کامیابی کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔پاکستان بھر میں ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانے والے بیشمار انجینئرز یو ای ٹی لاہور کے فارغ التحصیل ہیں۔
لاہور کے کھانوں اور پکوانوں کے بھی الگ ہی مزے ہیں۔وہ روایتی کھانے ہوں یا شوارمہ ، برگر اور سٹیٹ فوڈز۔۔۔لاہور کے ٹھیلوں اور ڈھابوں کے ذائقوں کی بات ہی اور ہے۔دال روٹی اور نان حلیم سے لے کر بے شمار اقسام کی بریانی اور کڑاھیوں کے ان گنت ذائقے ہیں۔سستے سے سستا کھانا بھی مل جاتا ہے اور امیرانہ طرز کا مہنگا کھانا تو شہر کے بہترین ہوٹلوں میں مل ہی جاتا ہے۔
لاہور والوں کے زندہ دلی بھی الگ ہی ہے۔۔۔کوئی تہوار ہو یا چھٹی کا دن۔۔یا ذرا سی بارش ہوئی نہیں اور شہر کا شہر سڑکوں پہ موسم کے مزے لینے امڈ آتا ہے ۔۔
لاہور کے شاپنگ مالز بھی اپنی جگہ ایک الگ مقام رکھتے ہیں جہاں ایک طرف آپ کو شہر کی ایلیٹ کلاس مشہور برانڈز پہ شاپنگ کرتی نظر آئے گی تو دوسری طرف گھروں میں کام کرنے والی چھوٹی عمر کی میڈز اور سکول کالج کی لڑکیاں شام کو منہ ہاتھ چمکا کرجینز چڑھائے اور کالے چشمے لگائے کسی نہ کسی کے ہمراہ فوڈ کورٹ میں بیٹھی راج کچوری اور گول گپے کھاتی نظر آئیں گی۔
بات ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے مراکز کی ہو یا جمخانہ کی، لاہور کا رعب داب اور حسن ہی الگ ہے۔۔
لاہور میں تاریخی و تفریحی مقامات ، پارکوں اور باغات کی بھی کوئی کمی نہیں۔عام عوام کے لیئے کھلے یہ مقامات سکول کالج کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیئے کسی "نعمت”سے کم نہیں۔۔ہر جگہ کسی کونے کھدرے میں درختوں کے سائے میں چھپ چھپا کر بیٹھے ایسے جوڑے بکثرت نظر آئیں گے
اردگرد کے چھوٹے شہروں اور مضافاتی علاقوں سے
کوئی امتحان میں فیل ہو کر گھر سے بھاگا ہو یا عشق کے ہاتھوں رسوا ہو کر کسی کو بھگا کر لایا ہو، لاہور اس کے لیئے بھی پناہ گاہ کا درجہ رکھتا ہے
لاہور کے قبرستانوں اور مقبروں نے بھی اپنے دور کے بڑے بڑے سکندروں اور سورماوں کو پناہ دے رکھی ہے ۔کئی داستانیں اور قصے کہانیاں لیِے اپنے دور کی نامور ادبی، ثقافتی ، سیاسی اور سماجی شخصیات یہاں مدفون ہیں ۔
لاہور کی کہانی اور تاریخ صدیوں پرانی ہے جس پہ صدیوں سے لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔
جو لاہور آ کر بس گیا ، لاہور اس کے اندر بس گیااور وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا۔
دنیا کے کسی بھی خوبصورت ترین اور ترقی یافتہ علاقے میں چلے جاو۔۔۔
لہور لہور ای اے

Facebook Comments HS