ونڈر لینڈ
یہ دنیا ایک حیرت کدہ ہے۔ جہاں طرح طرح کے لوگ اور بھانت بھانت کی بولیاں ہیں۔ ہر شخص کی اپنی کہانی ہے ۔ ہر شخص اپنی ذات میں ایک الگ دنیا کا مالک ہے۔کچھ بظاہر ہنستے مسکراتے زندہ انسان ہیں لیکن حقیقت میں ایک زندہ لاش ۔ سب نے اپنے دلوں میں ایک قبرستان بنایا ہوا ہے۔ کسی نے خواب دفن کیے، کسی نے خواہشیں ، کسی نے محبت کو دفنایا ہے تو کوئی نفرت کو باہر نکلنے سے روک رہا ہے۔ گویا یہ دنیا ایک فلم کی طرح چل رہی جہاں چند ایک مرکزی کرداروں کے علاوہ تمام کردار اپنا اپنا کام کرتے ہیں لیکن نظر نہیں آتے۔ جب وہ سکرین سے غائب ہوتے ہیں تو احساس ہوتا ہےکہ یہ مٹی کیسے کیسے ہیرے نگل گئی۔ کیسے کیسے خواب تھے جو پورے نہ ہو سکے جن کی قسمت کا ستارہ غربت اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے چمک ہی نہ سکا۔ بقول فہد محمود سوختہ:
تم بجا کہہ رہے ہو ہنر چاہیے
بات پھر بھی مقدر کی ہے ہم سخن
کتنے نصرت فتح کتنے مہدی حسن
بند کمروں میں کیا کچھ نہیں گا گئے
گرین انٹرٹینمنٹ سے نشر کیا جانے والا ڈرامہ سیریل ” ونڈر لینڈ” بھی کچھ ایسی ہی دنیا اور یہاں بسنے والے معمولی کرداروں کے عزائم کی کہانی ہے۔ فقیروں کی دنیا کے بادشاہوں کی داستان ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے نوجوان ڈائریکٹر روحیل ( فہد شیخ) کی زندگی پر مشتمل ہے جو حال ہی میں امریکہ سے فلم میکنگ پڑھ کر آیا ہے۔ امریکہ سے واپس پاکستان آنے کے بعد وہ پریشان ، اداس اور مضطرب رہتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا اُسے آگے کیا کرنا ہے۔ وہ اپنے باپ کا کاروبار سنبھالنا نہیں چاہتا اور اپنے مقصد سے بھی بے خبر ہے۔ ان حالات میں اُس کی بے چینی کو بہترین انداز میں دکھایا گیا ہے۔ لیکن آخر کار وہ اپنا مقصد ڈھونڈ لیتا ہے اور فلم بنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔
ارادہ کرنے کے بعد عملی طور پر اسے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے کن مشکلات کا سامنا کرنا ہے کیسے کیسے لوگوں سے اُس کا واسطہ پڑتا ہے۔ اس کی کوششیں ہی ڈرامے کی مرکزی کہانی ہے۔ سب سے پہلے اُس کی کہانی کو یہ کہہ کر ہر جگہ رد کردیا جاتا ہے کہ یہ جذبات کی شدت سے عاری ہے۔ ناظرین ایسی کہانی سننا پسند کرتے ہیں جو ان کی زندگی سے تعلق رکھتی ہو۔ ان کے جذبات کی عکاس ہو۔ جہاں کرداروں کی خوشی اور غم کو وہ اپنا سمجھ کر محسوس کرسکیں۔ آخر کار اس کی ملاقات فقیروں کی بستی میں ایک استاد سے ہوتی ہے جس سے وہ اپنی کہانی لکھواتا ہے۔
اب فلم اگلے مراحل میں داخل ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ مختلف لوگوں سے ملتا ہے. ہر ایک کی الگ کہانی الگ مسائل ہیں۔ کسی کے لیے مجبت ہی کُل کائنات ہے۔کسی کے لیے محبت جسم کے بغیر نامکمل ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ محبت لاحاصل کا نام ہے۔تشنگی ہی محبت کا احساس دلاتی ہے۔حاصل ہوجائے تو محبت کی شدت برقرار نہیں رہتی۔ کسی کے لیے دنیا آسائشات کا نام ہے تو کسی کے لیے کانٹوں سے بھرا بستر ہے۔
فلم کے لیے آڈیشن کا آغاز ہوتا ہے ایسے میں روحیل کا سامنا ڈرامے کی ہیروئن سنھری ( حاجرہ یامین) سے ہوتا ہے. جو دوسروں کے کپڑے سی کر اپنی اور چھوٹے بھائی کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ روحیل اس کو دیکھتے ہی یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ بس یہی اُس کی فلم کی ہیروئن بنے گی۔لیکن سنھری اس کی بات ماننے سے انکار کر دیتی ہے لیکن روحیل ہمت نہیں ہارتا اور منانے کی کوشش کرتا رہتا ہے کیونکہ اسے احساس ہوتا ہے یہاں لوگوں کے تلخ رویوں کی وجہ ان کا معاشی استحصال ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ فلم بنانے کے لیے روحیل کو مزید کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ؟ کیا وہ سنھری کو فلم میں کام کرنے کے لیے راضی کر پائے گا؟ کیا وہ ہر قدم پہ نئے آنے والوں کا استحصال کرنے والے مافیا کے ہوتے ہوئے کامیاب فلم بنا سکے گا یہ اُس کی فلم ہوجائے گی فلاپ؟ان تمام سوالات کے جواب تو آنے والی اقساط میں ہی ملیں گے۔ لیکن اس ڈرامے کی کہانی محبت کو روایتی اظہار اور گھریلو مسائل سے ہٹ کر ایک شخص کی محبت اور مقصد کے حصول میں کی جانے والی کوششوں اور معاشرتی مسائل اور تضاد کو بیان کرتی ہے۔امید ہے ناظرین کو ایک بہترین ڈرامہ سیریل دیکھنے کو ملے گا۔

