آپ کے بچوں میں ہم جنس پسندی


میں نے 2010ء میں اوکلاہوما کے نارمن ریجنل ہسپتال میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا تھا اور تب سے میں یہیں پر ہوں۔ پچھلے تیرہ سالوں سے یہاں میرے پاس متعدد پری میڈیکل کے اسٹوڈنٹ، میڈیکل اسٹوڈنٹس اور انٹرنیشنل ڈاکٹرز اینڈو کرینالوجی میں روٹیشن کرنے آتے ہیں۔ اس میں کئی پاکستانی ڈاکٹرزبھی شامل ہیں جو میرے ساتھ کام کرچکے ہیں ۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان ڈاکٹر لاہور سے یہاں روٹیشن کرنے پہنچے اور انہوں نے میرے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ ہمیں پاکستان سے یہاں ہجرت کیے ہوئے 30 برس ہو چکے ہیں لہٰذا اب پاکستان کی تہذیب و ثقافت کیسی ہے، سوائے ٹی وی پر خبروں سے آگے اس کے زمینی حقائق سے ہم زیادہ باخبر نہیں ہیں۔ مہاجرین جب ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلے جاتے ہیں تو ان کے پرانے ممالک ان کی یادوں میں جس طرح ہوتے ہیں وہ ویسے نہیں رہے ہوتے۔ شمالی امریکہ میں چونکہ 98 فیصد آبادی مہاجرین پر مبنی ہے یہاں یہ کہاوت مشہور ہے کہ آپ گھر واپس کبھی نہیں جا سکتے۔ جب واپس جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ویسا نہیں رہا جیسا چھوڑ گئے تھے۔ بہرحال خبروں اور نئے پاکستانیوں سے مل کر اتنا سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ مذہبی طور پر انتہا پسند ہو چکا ہے ۔ جب روم میں رہیں تو وہی کریں جو رومن کرتے ہیں کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے ہم خود یہاں شمالی امریکہ میں اپنے طریقے سے زندگی گزارتے ہیں ،مریض دیکھتے ہیں، اپنی پسند کا لباس پہنتے ہیں ،سیدھی بات چیت کرتے ہیں اور جیسی ہماری زندگی چل رہی ہے ویسی ہی پیش کرتے ہیں ۔ اس کو ہم فلٹر کرنے کی کوشش نہیں کرتے ،اور ہمارے پاس جو طلباء ڈاکٹرز روٹیشن کے لیے آتے ہیں ان کو ہم یہاں کی زندگی ویسی ہی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جیسی وہ حقیقت میں ہے۔

مثال کے طور پر ہمارے اینڈو کرین کلینک میں ہر طرح کے مریض آتے ہیں ان میں سے کئی مریضوں کے بارے میں کچھ ایسے حقائق ہوتے ہیں ،جن کو ایک قدامت پسند معاشرے کے لیے شاید عجیب و غریب ، غیر معمولی یا پھر ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہو یا اُن معاشروں سے وابستہ افراد کے لیے یہاں کے طرز زندگی کو سمجھنا مشکل ہو ۔ مثلاً میرے 100 سے زیادہ مریض ٹرانس جینڈر ہیں۔اس کے علاوہ بہت سے مریض ہم جنس پسند ہیں۔ شمالی امریکہ میں ہم جنس پسند افراد کی شادی کے قانونی قرار دیے جانے کے بعد، ہمارے اکثر مریض مردوں کی مردوں سے اور خواتین کی خواتین سے شادیاں ہو چکی ہیں جن میں سے کئی جوڑے ساتھ میں آتے ہیں۔

جب یہ نئےڈاکٹر صاحب یہاں روٹیشن کرنے کے لیے پہنچے تو ہفتہ بھر ہمارے ساتھ کام کرکے شائد ان کو اندازہ ہو گیا کہ یہ ایک محفوظ جگہ ہے ، کوئی کسی کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا بھی ہو تو اس کے بارے میں زاتی ناپسند سے بڑھ کر اور کچھ نقصان پہنچانا کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہ وہ کوئی بھی بات پوچھ سکتے ہیں اور کوئی بھی مسئلہ بتا سکتے ہیں۔ ایک دن ان ڈاکٹر صاحب نے”ہم سب“ پر شائع شدہ ’’نرگسی محبوب“ کے بارے میری نظم پڑھی جو ان کو بہت پسند آئی۔ انہوں نے بھی اس نظم سے متاثر ہوکر ایک نظم لکھی جو بہت خوب صورت تھی۔ پھر انھوں نے وہ نظم ہم لوگوں کو پڑھ کر سنائی۔ اس نظم میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ہم جنس پسند ہیں۔ یہ جان کرمیں بہت حیران ہوئی اس لیے بھی کہ ان کو امریکہ آئے ہوئے صرف ایک ہفتہ ہوا تھا اور اس سے پہلے ہماری کوئی جان پہچان نہیں تھی۔ وہ میرے بارے میں صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ میرا سابقہ تعلق پاکستان سے ہے اور اب میں اوکلاہوما میں ایک اینڈوکرینالوجسٹ ہوں جہاں وہ امریکی میڈیکل نظام کی تعلیم و تربیت کے لیے آ رہے ہیں۔

ان نوجوان ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ایک’ ہم جنس پسند‘ ہوتے ہوئے پاکستان میں زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہے اور یہ بھی بتایا کہ اسی وجہ سے ان کو نفسیات میں بہت دلچسپی ہے۔ ان نوجوان ڈاکٹر صاحب کی کتھا سن کر میں نے شدید افسوس محسوس کیا کیونکہ ان کی عمر میرے بیٹے نوید کے برابر ہے۔ ایک بچے کو جب ہم دنیا میں لاتے ہیں تو اس کی تعلیم تربیت، پرورش اور حفاظت کی ذمہ داری ہم پر لاگو ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اس طرح کی مصنوعی دنیا میں خوار ہونے کے لیے پیدا نہیں کرنا ہے جہاں ان کو دہری زندگیاں گذارنی پڑیں۔ ان ڈاکٹر صاحب نے یہ کہا کہ ان کو تین سے پانچ سال کی عمر میں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کا رجحان نسائیت یا ’لڑکی پن ‘کی طرف زیادہ تھا۔ انھوں نے اعتراف کیا: ’’مجھے لڑکیوں کے ساتھ کھیلنا ،زیادہ وقت گھر پر رہنا اور کھانا پکانا زیادہ پسند تھا ۔اور لڑکوں والی باتوں میں دلچسپی نہیں تھی۔مجھے لڑکوں کے کھیلوں، دلچسپیوں اور مزاج میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔اگر میں کبھی لڑکیوں والا کوئی کام کرتا دکھائی دیتا تو مجھے میرے ماں باپ بہت لعن طعن کرتے اور مار پیٹ بھی کر دیتے تھے۔ میری امی مجھ پر بہت کڑی نظر رکھتی تھیں ،وہ مجھے اس طرح دیکھنا چاہتی تھیں جیسا کہ ان کے خیال میں لڑکوں کو ہونا چاہیئے۔کھانا پکانے کے سوا انھوں نے میری باقی لڑکوں والی عادات کھرچ کر باہر نکالنے کی کوشش کی ۔

جب میں بڑا ہوکر میڈیکل کالج پہنچا تو میرے بہت بھیانک تجربات ہوئے ۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت دھکے اور دھوکے کھائے۔ لوگوں نے مجھے محبت کے جھانسے دئیے۔ ایک دفعہ ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ اس کو مجھ سے محبت ہوگئی ہے اور وہ مجھ سے شادی کرے گا ، زندگی بھر میرا خیال رکھے گا پھر وہ مجھے اپنے گھر لے گیا وہاں اس نے میرے ساتھ جنسی تعلق قائم کیااور اس کے بعد مجھے کمرے میں بند کر دیا ،پھر اس نے اپنے بھائی کو بلا لیا تاکہ وہ بھی میرے ساتھ جنسی فعل کرے ، لیکن میں ڈرا ہوا تھا اور رو رہا تھا ۔اس کے بھائی کو مجھ پر رحم آگیا اس نے مجھے اپنے رکشے میں بٹھایا اور مجھے میرے ہاسٹل میں پہنچا دیا۔ اس نے مجھےکچھ رقم بھی دی اور جاتے وقت تاکید کی کہ میں اس کے بھائی سے دُور رہوں۔اسی طرح ایک مرتبہ میں پارک میں گیا وہاں مجھے ایک انیس سالہ لڑکا بیٹھا ہوا نظر آیا۔ میں نے اپنے آپ کو اس لڑکے کی طرف کھنچتا ہوا محسوس کیا۔ ہم ہم جنس پسند افراد لوگ نظر ملتے ہی ایک دوسرے کے جنسی رجحان کو پہچان لیتے ہیں۔ ہم دونوں ملے ، کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ وہ گھنٹوں مجھ سے پیار محبت جتلاتا رہا ۔ ہم نے پیار کی باتیں کیں ۔ پھر ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ ے میرے ہاسٹل کے کمرے میں چلےآئے۔ وہاں پہنچ کر بھی وہ مجھ سے اور بھی میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہا۔ اس کو مجھ سے محبت ہے اور ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق بنایا ۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے پانی مانگا۔ میں اس کے لیےباہر لگے واٹر پوائنٹ پر پانی لینے گیا مگر جب میں واپس آیا تو وہ کمرے سے غائب ہو چکا تھا اور میرے بٹوے سے رقم بھی غائب تھی۔

آپ ایک ذہین اور پڑھے لکھے انسان ہیں، ڈاکٹر ہیں، کیا آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اور دھوکا دیں گے؟ میں نے پوچھا۔ جی وہ مجھے ذہنی طور پر معلوم ہوتا ہے لیکن میرا دل یقین کرنا چاہتا ہے اور اس دھوکے کو سچ سمجھنا چاہتا ہے۔ میں جان بوچھ کر دھوکا کھا رہا ہوتا ہوں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں یہ معصوم بچے جو ہم جنس پسندی کا رجحان رکھتے ہیں اوراکثر تعلیم یافتہ اور خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والدین ان سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم لیتے ہیں کہ وہ کبھی ایسا کام نہیں کریں گے مگرپھر ان کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں یا ان کی شادیاں ان کی مرضی کے بر خلاف لڑکیوں کے ساتھ کروادیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو لڑکیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ان کی بیویاں ان کے ساتھ پچیس پچیس، تیس تیس سال ایک کٹھن زندگی گزارتی ہیں ۔ان کی ازدواجی زندگی محبت اور جنس سے خالی، ایک بے کیف اور بے مسرت زندگی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر نے یہ بھی بتایا کہ لاہور میں وہ ایسے متعدد لوگوں کو جانتا ہے جو بائی سیکسوئل یا سٹریٹ ہیں۔ یعنی وہ صرف عورت میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں، بعض تو شادی شدہ بھی ہیں اکثر ایسے لوگ بھی ہیں جو خود توسیدھے ہوتے ہیں مگر معاشرتی پابندیوں یا معاشی مسائل کی وجہ سے گرل فرینڈ نہیں بنا سکتے ۔ وہ بھی اپنی جنسی تسکین کے لیے ہمارے ساتھ جنسی تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ ایسا دوغلے معاشرے کے دوہرے معیار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کیونکہ پاکستانی معاشرے میں شادی کے علاوہ کسی قسم کا جنسی تعلق قائم کرنے پر قانونی قدغن ہےمگر چھپ چھپا کر جو بھی چلتا رہے اس پر معاشرہ آنکھیں بند رکھتا ہے۔ گویا ایمان دارانہ اور سیدھی زندگی گزارنا جرم ہے، جب کہ منافقت اور نوسر بازی کرنے کی غیر تحریری اجازت موجود ہے۔ ان نوجوان ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اس سے عارضی جنسی تعلق قائم کرنے والے افراد اس کو پیسے بھی دیتے تھے جس کی وجہ سے جب وہ اپنے گھر سے جیب خرچ نہیں مانگتے تھے تو وہ حیران ہوتے تھے۔

ہم سب پڑھنے والوں کو ایک لمحہ رک کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہمارا بچہ ایسا ہو تو کیا ہمیں اس کو دنیا میں اس طرح چھوڑ دینا چاہیے جہاں وہ بے چارہ دھکے کھاتا رہے اور لوگ اس کا استحصال کریں،اس کو جنسی بیماریاں دیں اور اس کی جان تک خطرے میں پڑ جائے۔ اس ڈاکٹر نے بتایا کہ ہمیں استعمال کرنے والے ایسے افراد اکثر خطرناک بھی ہوتے ہیں، بالخصوص جو سیدھے (عورت پسند) آدمی ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی افراد نے مجھ سے جنسی تعلق بنانے کے بعد مجھے جان سے مار دینے کی کوشش کی تاکہ ان کا راز راز رہے۔ ان آدمیوں کے نزدیک دوسرے انسانوں، عورتوں، بچوں یا دوسرے آدمیوں کی زندگی اور جسم کی اہمیت ایک مرتبہ استعمال کرنے والے جنسی کھلونے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

ان آدمیوں کے تیرہ چودہ سال کی عمر کے بچے جب گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ بنالیتے ہیں تو یہ ان پر چیختے چلاتے اور دھمکاتے ہیں ،تشدد کرتے ہیں ،اور کہتے ہیں کہ ہم تمھیں گھر سے نکال دیں گے اور تمہارا سب کچھ چھین لیں گے۔ ان آدمیوں کو ابھی تک یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی کہ نارمل انسان کیسا ہوتا ہے، بلوغت کیا ہوتی ہے اور فطری جذبات اور نارمل تعلقات کیا ہوتے ہیں؟ سوچنے کی بات ہے کہ یہ ہم جنس پسندوں کو کیا سمجھیں گے جو دنیا کی آبادی کا پانچ فیصد ہیں؟ یہ افراد کب ان بچوں کی فطری شخصیات کو سمجھنا شروع کریں گے؟ اس میدان میں مناسب تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔

ہم کتنا پروپیگنڈا سنتے ہیں کہ ہم جنس پسند لوگ بُرے ہوتے ہیں یا ٹرانس جینڈر برے ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ سیدھy (عورت پسند) آدمیوں کا اجتعماعی شعور ہی سب سے خطرناک اور چالباز ثابت ہے جس نے اپنی اکثریت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا میں مذاہب، قوانین، صنفی تعصب اور پدرسری تشکیل دی ہوئی ہے۔ یہ نظام خواتین اور بچوں کو اپنی ملکیت بنا کر رکھنا چاہتا ہے اور گائے بکری کی طرح ان کا لین دین کرتا ہے۔ ایسا منفی ذہنیت کا مردانہ نظام مجرمانہ رجحان رکھنے والا اور تشدد کرنے والا ثابت ہوا ہے۔ سب سے بُرا نظام وہ خود ہے جو تمام دنیا کے انسانوں کی زندگی کو عذاب بناتا ہے اور اس میں بظاہر فائدہ مند دکھائی دینے والا گروہ خود بھی اس کی آگ میں جل کر کوئلہ بن رہا ہوتا ہے۔ اپنے اعمال کو جواز دینے کے لیے یہ نظام مذاہب کا سہارا لیتا ہے اس کا لبادہ پہنتا ہے اور اس چلن کو قائم و دائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کی طاقت حکومت اور جھوٹا وقار قائم رہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس نظام کے اندر ایک محدود معلومات رکھنے والا ایک عام آدمی یہ خواہش رکھتا دکھائی دیتا ہے کہ اس دنیا میں بھی یہ چار بیویوں سے لطف اندوز ہو کر پچاس پچاس بچے پیدا کر کے اپنا تسلط قائم رکھے اور مرنے کے بعد بھی حوریں کسی خیالی جنت میں اس کی راہ دیکھ رہی ہوں۔ اس کے اس رویے کی وجہ سے اس آدمی نے نہ صرف دوسروں کی بلکہ اپنی زندگی بھی عذاب میں ڈال رکھی ہے۔ اگر ایک کھلا روشن خیال اور صاف ستھرا ماحول ہو، جس میں سب انسانوں کو برابر سمجھا جائے ہر انسان کی عزت ہو اور ایک انسان جیسا ہے ویسے ہی اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے پیش کر سکے تو بلاشبہ ہم ایک بہترین پُر امن اور پُر سکون معاشرہ بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

آپ مجھے ایک سینئر کی حیثیت سے کیا نصیحت دینا چاہیں گی؟ ہمارے ہم جنس پاکستانی ڈاکٹر اسٹوڈنٹ نے اپنی اینڈوکرائن کی روٹیشن کے آخری دن پوچھا۔ اگر آپ صرف ایک نصیحت پر عمل کرسکتے ہیں تو وہ کسی عورت کے ساتھ نقلی شادی اور دنیا کو دکھانے کے لیے دو چار بچے بنانے سے گریز کرنا ہے۔ میرے خیال میں آپ اسی طرح زندگی گذاریں جیسی آپ کو پسند ہے، انہی لوگوں سے دوستی رکھیں جو آپ کو اس سچائی کے ساتھ قبول کریں۔ قانونی طور پر امریکہ میں اس بنیاد پر تعصب غیر قانونی ہے۔

جی اسی لیے میں پاکستان چھوڑ دینا چاہتا ہوں، ان ڈاکٹر نے کہا۔ ہمارے لیے یہ کچھ سوچنے کا لمحہ ہے۔ پچھلے پچھتر سال سے تعلیم یافتہ اور اقلیتی طبقہ ملک چھوڑ کر نکل رہا ہے۔ اس کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

Facebook Comments HS