کھلی آنکھوں کا خواب پانچواں حصہ

پیکر مہر ووفا حضرت عباس علمدار کے روضہ اقدس پر:
ہوٹل بیرن (Baron) کا یہ روم ایک خوب صورت خواب گاہ اور اس سے متصل ڈرائنگ ڈائنگ پر مشتمل تھاجہاں چائے، کافی اور قہوے کا سامان موجود تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر خوش رنگ پھلوں کی پلیٹ بے موسم کے پھلوں سے سجی ہوئی آنکھوں کو بھلی لگی۔ انگور کے چند دانے لئے اور پھر وہی ٹیپ کا فقرہ کلمۂ شکر اوردعا۔ یہ دعا تو میں گھر میں بھی پھل کھاتے ہوئے ضرور کرتی ہوں کہ یا اللہ تو نے جیسے یہاں انجیر ،انگور اور ہر قسم کے پھل کھلائے، اپنے خاص فضل وکرم سے جنت الفردوس میں بھی کھلانا۔
چائے پی کر دوائی کھائی اور بڑے سے دریچے سے پردے ہٹائے تو ہوٹل کی18 ویں منزل منزل سے نیچے وادئ کربلادکھائی دے رہی تھی۔ سورج بس ڈوب چلاتھا۔ آج ہم طلوع آفتاب سے پہلے رم جھم برستے بادلوں میں گھر سے نکلے۔ نجف اشرف اور اب کربلا معلی کے ہوٹل کے اس دریچے سے غروب آفتاب کانظارا اور ایک خوبصورت دن کا اختتام اچھا لگا۔ شفق کی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ دیکھ کر میر انیس کے مرثیے کا ایک مصرع یاد آیا۔
سورج نے جاتے جاتے شام سیہ قبا کو لالے کے پھول مارے
ناصر علی سید کا ایک حسب حال شعر بھی نوکِ زباں پر آگیا۔
وہ شفق ہو کہ سمندر کہ میرا دل ناصر
شام ہوتی ہے توہر چیز لہو روتی ہے
کربلا میں دھیرے دھیرے اترتی شام میں کیسی اداسی اور دل گرفتگی تھی۔ اتنے میں عائشہ نے آکر سارے پردے کھینچ ڈالے۔ امی دیکھیں، آپ کے کمرے سے کتنا اچھا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ وہ دیکھیں وہ سامنے جو روشنیاں نظر آرہی ہیں، وہ دونوں شرائن ہیں۔ میرا مطلب ہے، امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علمدار کے روضے کی روشنیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ اچھا!میں نے غور سے عائشہ کی بتائی ہوئی سمت کی طرف دیکھا تو کیا روضہ اتنا قریب ہے۔ جی بہت قریب دس پندرہ منٹ میں پہنچ جاتے ہیں پھر کب جائیں گے؟ تھوڑا سا آرام کریں۔ڈنر کرکے آرام سے جائیں گے۔ ڈنر کے لئے ڈائننگ ہال پہنچے جہاں شاندار قسم کا بوفے تھا۔ طرح طرح کی سلاد، چٹنیاں، اچار مربے، بیسویں قسم کے پنیر، ہر طرح کے پھل اور کھانے کی بے شمار ڈشز مگر سوپ اور ہر ڈش میں چکن ہی چکن تھا جو میں نہیں کھاتی۔ بہت عرصہ پہلے پڑھی ہوئی انگریزی نظم سمندر یاد آئی جس کے آخری بند کا متن کچھ یوں تھا:
پانی پانی ہر جگہ پانی
مگر پینے کو ایک قطرہ پانی نہیں
تو اتنی زیادہ ڈشز میں ہمارا بھی یہی حال تھا۔ خیر اورنج جوس اور میٹھے کی بہت سی ڈشز میں کچھ چیزیں پسند کی کھائیں اور کھاتے ہوئے دل نے پھر کلمۂ شکر کے ساتھ کہا کہ کربلا شاہراہ حسینیہ کے اس ہوٹل کے رزق پر ہمارا نام لکھا تھا ۔
فبائ آلا ربکما تکذبان
واپس کمرے میں آکر جانے کے لیے تیار ہوئے اور گاڑی میں آکر بیٹھ گئے۔ آگے پروٹوکول کی گاڑی، پھر بیٹی داماد اور دوسری گاڑی میں، میں اور نسیم۔ رات کافی ہوگئی تھی مگر بازار کھلے ہوئے تھے۔ ہم منزل مقصود پر دس منٹ کے اندر اندر پہنچ گئے۔ گاڑی سیدھی گیٹ کے اندر تک لے گئی جب کہ راستے گاڑیوں کے لئے بند تھے اور زائرین پیدل آرہے تھے۔ سارا راستہ درود شریف کا ورد کرتے ہوئے عجیب سی کیفیات تھیں۔ ذہن کی پٹی پر واقعہ کربلا، کرب وبلا، پیاس، خواتین، بچے اور بچپنے سے سنے ہوئے مرثیے چل رہے تھے۔ میر انیس کے دل سوز مرثیے، رشید ترابی کی فلسفیانہ موشگافیاں اور بہت کچھ ادھورے ٹکڑے، شعر، دل گنگنا رہا تھا۔
داخلے کی دعائیں، درود شریف کا ورد کرتے ہم اندر داخل ہوئے۔ بیٹی نے کہا پہلے حضرت عباس علمدار کے روضۂ انور پر جارہے ہیں۔ اندر داخل ہوئے تو شان وشکوہ لئے ہوئے پُرضیا روضہ، نظروں کو خیرہ کرتی ہوئی روشنیاں، سرخ قالین اور زائرین نوافل، قرآن اورذکر واذکار میں مصروف نظر آئے۔ میں نے بھی نفل پڑھے۔ دعا کی۔ ذہن مسلسل مصروف کار رہا۔ اب روضے کی طرف چلے تو چلتے چلتے راستہ بناتے روضے کی جالیوں تک پہنچ گئے۔ جالیوں کو پکڑ کر سلام پیش کیا۔ اس جری، بہادرعباس علمدار کو جو اپنی بہادری اور شجاعت میں فاتح خیبر شکن شیر خدا، علی مرتضی ٰ کی سی صفات کے مالک تھے ۔ اس پر فروتنی وانکساری کا یہ عالم کہ خود کو حسین کا بھائی کہنے کی بجائے غلام کہنے میں فخر محسوس کرتے۔ عباس جرأت، بہادری اور عشق کا استعارہ۔ بی بی سکینہ کے پیارے عمو جان ارض کرب وبلا، قیامت خیز گرمی اور تین دن کے پیاسے خواتین اور بچے
سکینہ کی پیاس سے بری حالت ہے۔ وہ اپنے عمو جان عباس علمدار سے پانی لانے کی فرمائش کرتی ہے۔ حضرت عباس علمدار امام حسین سے جانے کی اجازت طلب کرتےہیں۔ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں بی بی زینب سے اجازت لیں۔ عباس رو رو کر اجازت چاہتے ہیں اور اجازت ملنے پر علم اور مشکیزہ لے کر نہر کی طرف دشمن کو للکارتے ہوئے جاتے ہیں کہ کس میں دم ہے جو شیر خدا کی طرح بہادر عباس کے سامنے آئے۔ ایسا رعب، دھاک اور دبدبہ ہے کہ یزیدی فوج پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ وہ بلاروک ٹوک نہر پر پہنچ کر مشکیزہ پانی سے بھر لیتے ہیں۔ خود بھی تین دن سے پیاسے ہیں۔ پانی بھرتے ہوئے ایک دو گھونٹ پانی پی سکتے تھے مگر سکینہ سے پہلے وہ کیسے پانی پی سکتے تھے۔ اس صورت حال پر میر انیس کا بہت پراثر مرثیہ یاد آتا رہا جس کے اخری شعر ورد زباں رہا۔
عباس آبرو پہ تیری حرف آئے گا
پانی پیا تونام وفا ڈوب جائے گا
مشکیزہ بھر کر جانے لگتے ہیں تو شمر ملعون کہتے ہیں کہ پانی جانے نہ پائے۔ سپاہیوں نے چاروں طرف سے گھیر کر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ پہلے ان کا ایک بازو شہید ہوتا ہے تو مشکیزہ اور علم دوسرے ہاتھ میں منتقل کرکے خیموں کی جانب پیش قدمی جاری رکھتے ہیں۔ پھر ایک اور لعین نے چھپ کر وار کیا اور دوسرا بازو بھی شہید کر دیا۔ اب اس دلاور شیر افگن نے مشک کو منہ میں پکڑا اور خیموں کی طرف چلتے رہے۔ پھر یزیدی شقی القلب سپاہیوں نے تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ ایک تیر مشک پر آکر لگا اور سارا پانی بہہ نکلا۔ سر پر ایک تیر آکر لگا اور مرد باصفا عاشق صادق شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے ۔
یقین نہیں آرہا تھا کہ آج میں کس مقام تک آپہنچی ہوں۔ کہاں کھڑی ہوں۔ روضے کی جالی پکڑ کر درود وسلام پیش کئے۔ رقت طاری ہوئی مگر آنسو گلے میں جیسے پھنس گئے۔ ہجوم اتنا تھا کہ زیادہ دیر کھڑا ہونا بھی دوسروں کی راہ روکنی تھی، لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی جالیوں کو دعائیں کرتے ہوئے چھوڑا۔ باہر آکر ایک بار پھر نگاہ اٹھا کر مزار اقدس کو دیکھا۔ روشنیاں تھیں کہ نور کی برسات۔ بیٹی نے بتایا یہ سب سونا لگا ہوا ہے جو چمک دمک رہا تھا۔ سامنے مشکیزہ لٹکا ہوا تھا جو پانی، پیاس، عشق، قربانی اور ایثار کی عظیم داستان کا استعارہ تھا۔ سونے کے چمکتے دمکتے کلس، دروازے، قیمتی فانوس اور گریہ کناں ہجوم… اللہ اکبر، سبحان اللہ سبحان اللہ
میری خواہش تھی کہ ان کی اصل قبر اطہر اور اس کے گرد طواف کرتا پانی دیکھوں جو ایک معجزہ ہے۔ کھڑے پانی میں بدبو اور رنگ گدلا ہو جاتا ہے جب کہ یہ پانی پاک، مصفا، شفاف اور شفائی اثرات رکھتا ہے ۔ وہ لوگ جو واقعہ کربلا کو اپنی کور نگاہی سے تاج وتخت کی جنگ قرار دیتے ہیں، وہ آکر دیکھیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے سچے عاشقوں اور راہِ خدا میں جان دینے والوں کو کیسے ابدی زندگی ، شہرت عام اور بقائے دوام عطا کرتے ہیں۔
منقبت بحضور عباس علمدار
عباس پسر شیر خدا
بندہ مہر ووفا
بردار حسین
مگر خود کو کہے
غلام حسین
شجاعت میں مثل علی
ییکر مہر ووفا
سکینہ کے عمو جان
بھر لیا مشکیزہ
تو کوئی نہ آیا ڈر کے مارے پاس
گرمی قیامت کی
زمین کرب وبلا
اور کئی دن کی پیاس
ہر لہر ایک دعوت
ہر موج ترغیب آب
مشکیزہ پانی سے بھرا
ہر لہر، ہر موج اک ترغیب اک آزمائش
اور بندہ صدق وصفا، مہر ووفا
شہزادی سکینہ کے عمو جان
بے مثال، بے نظیر،
پیکر مہر ووفا
سکینہ سے پہلے اک قطرۂ آب
کیسے اترے حلق میں
یہ نہیں شیوۂ عشق
محبت، شجاعت، ایثار کی
کر گئے رقم انمٹ داستاں
جس کا قیامت تلک رہے گا بیاں
عشق والوں کے لئے جادۂ پُر نور
آج حاضر ہوں اس کے مرقد نور پر
اک خلق ہے جس کے در پر گریہ کناں
جس کے کلس ہیں طلا نما
شان وشوکت ہے جس سے عیاں
اے خدا، اے خدائے رسول کریم
اے خدا، اے خدائے کریم
جو بھی ترے عشق میں دے خود کو مٹا تو بنا دے اسے لافنا، پلادے آبِ بقا
عباس پیکر مہر ووفا، صبر ورضا
تیرا مرقد رہے یونہی پُر ضیا
تیرے روضے کی جالی کو پکڑے ہوئے
میرے اظہارِ محبت عقیدت قبول فرما
نصرت نسیم
( روضہ عباس علمدار کی جالیوں کے پاس کچھ جذبہ عقیدت کی ترجمانی )
(جاری ہے)
