باپ اور جذبات


تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ عورت میں جذبات مرد سے زیادہ پائے جاتے ہیں اور اِسی طرح جہاں عورت ایک ہی وقت میں زیادہ کاموں میں دھیان لگا سکتی ہے، وہیں مرد کا ارتکاز زیادہ تر ایک ہی نقطہ نظر پر ہوتا ہے۔ شاید ایک باپ کے لیے انتہائی مُشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بہترین پُر تعیش زندگی بھی دے اور جذباتی طور پر بھی ساتھ جُڑا رہے۔ شاید بات بچپن، لڑکپن اور جوانی کی نہیں ہوتی۔ باپ کی شفقت، محبت، جذباتی طور پر اُس سے جُڑے ہونے کا احساس، اُس کی ڈانٹ، اُس کا پیار عمر کے ہر حصے میں درکار ہوتا ہے۔ مگر باپ ایک باپ ہونے سے کہیں پہلے ایک انسان ہوتا ہے۔ اور انسان بھی وہ جو تمام دن دوسروں کا پیٹ بھرنے کے لیے کڑی محنت کرتا رہتا ہے۔

بچے کی نشو و نما کے دور میں جب معاشرے کا انتہائی گھِنونا چہرا اُس ننھی سی جان کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو اُس وقت اُس کی نظریں اُس باپ کو ڈھونڈتی ہیں جو تندور پر روٹیاں بھی لگاتا ہے، رکشہ بھی چلاتا ہے، ریڑھی پر پھل بھی فروخت کرتا ہے اور گھر گھر جا کر اخبار بھی بانٹتا ہے۔ تب کہیں جا کر بیٹے کی شلوار قمیض اور بیٹی کی فراک آتی ہے۔ تنہائی بڑھتے بڑھتے بڑھ جاتی ہے مگر پیسہ اُس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب لگنے لگتا ہے جذباتی وابستگی نہیں ملی تو کیا ہوا پیسہ ملا ناں، یہی سب کُچھ ہے۔ اور اِس سب سے بڑھ کر خُود مُختاری کا ہونا نعمتِ عظیم ہے۔ مگر کڑی دھوپ میں بسوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے، میلوں سڑکوں کی خاک چھانتے ہوئے، جب زندگی رات کے کسی تاریک لمحے میں یاسیت سے بھر جاتی ہے، جب زمانے کی تلخیاں کلیجہ چیرنے کو آتی ہیں تو ہر لمحہ، ہر وقت باپ آتا ہے۔ مگر، پھر سے ذکر اُسی بات کا کہ خود مُختاری نعمتِ عظیم ہے۔

یہ دل کا رنج یہ تیرے حوالے کیا
یہ چھاؤں جو تیری دھوپ مانگتی ہے

Facebook Comments HS