آخر مہنگائی کا توڑ مل گیا


وطن عزیز میں ہوش ربا مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ عوام اپنی ٹوٹی ہوئی کمر کا ایکسرے ہاتھوں میں اٹھا کر نوحہ کناں ہیں مگر حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ اربابِ اختیار کی طرف سے ہر روز کسی نئے ٹیکس کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ ہر دن ڈالر کا ریٹ پہلے سے اونچی اڑان بھرتا ہے۔ بجلی کی قیمت مسلسل بڑھائی جا رہی ہے اور روزمرہ اشیا کے نرخ بھی آسمان کی بلندیوں پر ہیں۔ ایسے میں ہر پندرہ دن بعد عوام پر پیٹرول بم بھی گرا دیا جاتا ہے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھتے ہی مہنگائی ایک نئی کروٹ لیتی ہے۔

غریب اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے روز کی روٹی کا حصول بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ چین ایک پل نہیں اور بظاہر کوئی حل نہیں۔ جیالے اور لیگی متوالے اس صورتِ حال کی ذمہ داری کپتان کی ساڑھے تین سالہ حکومت پر ڈالتے رہے ہیں مگر اب انھیں کپتان کے ”پر مغز“ افکار یاد آ رہے ہیں۔ جیسے سکون صرف قبر میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرغی، انڈے اور کٹے پالنے کے مشورے بھی کانوں میں گونجتے ہیں تو دل سے ایک آہ نکلتی ہے کہ اس وقت چار مرغیاں اور ایک مرغا پال لیا ہوتا تو آج لاکھوں مرغیاں اور انڈے ہوتے جنھیں بیچ کر بجلی کا بل ادا کر پاتے۔

مگر ٹھہریے اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اس مہنگائی کا توڑ موجود ہے۔ ایک ایسا حل جس میں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ بس آپ کو کسی جرم کا ارتکاب کرنا ہے۔ خواہ مخواہ کسی کے گلے پڑ جائیں۔ یو ٹیوب چینل پر اول فول بکتے رہیں۔ کوشش کریں کہ کسی نہ کسی جرم میں آپ کو دھر لیا جائے۔ اگر اس سے کام نہ بنے تو کوئی گھڑی وغیرہ چوری کر لیں۔ پھر بھی پولیس آپ کو گرفتار نہ کرے تو توڑ پھوڑ کریں۔ امید ہے کہ اس طرح آپ ضرور پکڑے جائیں گے اور کسی جیل میں بند کر دیے جائیں گے۔ کوشش کریں کہ آپ کو اٹک جیل میں بند کیا جائے۔

بس جیسے ہی آپ گرفتار ہوں گے آپ کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اب آپ کی شاہانہ زندگی کا آغاز ہو گا جو آپ نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا۔ آپ رات کو جیل کے کمرے میں پرسکون نیند کے مزے لوٹیں گے۔ کیوں کہ آپ کے آس پاس دو تین کمرے خالی ہوں گے۔ پنکھا چل رہا ہو گا مگر آپ بے حد سکون محسوس کریں گے کہ یہ جس بجلی سے چل رہا ہے اس کا بل آپ نے ادا نہیں کرنا۔ کمرے میں بلب خواہ ساری رات جلتا رہے، بجلی کا بل سرکار نے دینا ہے۔ ناشتے میں آپ بریڈ، مکھن، جام وغیرہ کھائیں گے۔ دوپہر کو دیسی مرغ دیسی گھی میں پکا کر آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ شام کو آپ بکرے کے سالن سے لطف اندوز ہوں گے۔ آپ کی خواہش کے مطابق موسمی سبزیاں، پھل اور ڈرائی فروٹ بھی مہیا کیا جائے گا۔ آپ کھجوریں بھی کھائیں گے۔ رات کو بارہ بجے کے بعد آپ کو گرم دودھ کا گلاس بھی پیش کیا جائے گا۔ اتنی خدمت اور اتنی خوراک کھانے کے بعد اگر آپ لیٹے رہے تو وزن بڑھنے کا اندیشہ ہے چناں چہ آپ جیل کے کمپاؤنڈ میں چہل قدمی کریں گے۔

سرکار آپ کے علمی ذوق کی آبیاری کے لیے کو مطالعے کے لیے کتابیں فراہم کرے گی۔ آپ سکون سے بیٹھ کر کتابیں پڑھیں گے۔ آپ کو بیڈ، میز، کرسی وغیرہ بھی میسر ہوں گے۔ واش روم اگر آپ کی مرضی کا نہ ہوا تو آپ کی خواہش کے مطابق بنا دیا جائے گا۔ عنایات کا سلسلہ فقط یہیں تک نہیں ہو گا۔ آپ کو ملازم بھی ملے گا جو صفائی وغیرہ کر دے گا۔ اب آپ خود سوچیں کہ اتنا سب کچھ مل جانے کے بعد آپ کی زندگی کتنی سہل ہو جائے گی اور آپ خود کو کنگ سمجھنے لگیں گے۔

شاید آپ کو یہ باتیں مذاق لگ رہی ہوں گی لیکن ایسا نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعی یہ سہولتیں جیل میں موجود ہیں۔ قیدی نمبر 804 کو یہ سب سہولتیں حاصل ہیں۔ اب وہ پرانی باتیں نہیں رہیں جب لوگ وطن عزیز کی جیل کا نام سنتے ہی تھر تھر کانپنے لگتے تھے۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ تاہم آپ کی کسی جج سے علیک سلیک بھی ضروری ہے تاکہ وہ وقتاً فوقتاً آپ کی حالتِ زار کے بارے میں استفسار کرتا رہے۔ اس طرح جیل حکام چوکنے رہیں گے اور آپ کو سہولیات فراہم کرتے رہیں گے۔

مندرجہ بالا معلومات کے بعد یقیناً آپ جیل جانے کے خواہش مند ہوں گے۔ مجھے اجازت دیجیے تا کہ میں بھی جیل جانے کی پلاننگ کر سکوں۔

Facebook Comments HS