گلاب گنج کی کہانی، کردار اور لینڈ اسکیپ

معلوم نہیں ہندوستانی سینما کا مستقبل فلم میں تاریک ہے یا روشن مگر سیزن کی حد تک تو انہیں کامیابی بہر حال حاصل رہی ہے۔ ہندوستانی سیزن کا مقابلہ قطعی طور پر ہالی ووڈ سیزن سے نہیں کیا جا سکتا مگر میرا ذاتی خیال ہے سیزن کی فارم ہندوستانی سینما کو کافی حد تک راس آ چکی ہے۔ فلم اور سیزن میں وہی فرق ہے جو شارٹ اسٹوری یعنی افسانے اور ناول میں ہے۔ افسانے کے اپنے حدود و قیود ہیں، ناول کی طرح سیزن ایک وسیع فارم ہے، اس میں زیادہ سے زیادہ تجربات کی گنجائش رہتی ہے۔
ہندوستانی سیزن میں جو ایک مشترک، عمدہ اور انوکھی بات ہے وہ مقامیت ہے، کم و بیش ہر سیزن میں دیکھنے والوں کا تعارف ایک نئی جگہ ایک نئے شہر سے ہوتا ہے۔ چاہے وہ دھاڑ ہو، جام تارا یا پھر گنز اینڈ گلاب۔ جتنا کہانی مقامی ہوگی، رہن سہن اور روایات کا کچھ پرتو شامل ہو گا اتنا ہی اثر پذیر ہوگی۔ چاہے خیالی شہری ہی کیوں نہ پیدا کیا جائے۔
ہو سکتا ہے گلاب گنج شہر کی کہانی آپ کو پسند نہ آئے۔ ہو سکتا ہے آپ کو مزاح اور کرائم تھرلر اپنی اصل اور انفرادی حالتوں میں پسند ہوں اور ان کی کاک ٹیل آپ کے مزاج سے لگا نہ کھاتی ہو۔
گلاب گنج میں افیم کے کھیت ہیں۔ افیم کی ایک بڑی ڈیل ہے۔ وہ ڈیل کون حاصل کرے گا، افیم کا ٹارگٹ کیسے پورا ہو گا۔ گانچی صاحب، ایک اینٹی نارکاٹکس افسر ارجن، گانچی کا دشمن اخلاق۔ بنیادی طور پر کہانی کی ٹرائی اینگل ان تین کرداروں پر ہے۔
ابتدائی قسط کے بعد کہانی تین اور اہم کردار ساتھ لے کر چلتی ہے۔ اور یہ تین کردار ہی اس سیزن کی جان ہیں۔ ٹیپو یعنی راج کمار راؤ۔ جسے افیم ڈیل سے زیادہ اپنی محبوبہ کے لئے کچھ کرنا ہے۔ وہ سیدھا سادہ بائیک مکینک ہے مگر قسمت جسے گانچی گینگ میں لے آئی ہے۔
دوسرا کردار گانچی صاحب کی اکلوتی اولاد کا ہے جسے جگنو اور چھوٹو گانچی کہتے ہیں۔ یہ کردار آدرش گورو نے خوب عمدگی سے نبھایا ہے۔ آدرش کو پہلی بار فلم ایک تھا ٹائیگر میں دیکھا تھا۔ آدرش نے ہر بار اپنی پرفارمنس سے حیران کیا ہے۔ چھوٹا گانچی جو ہمیشہ اپنے باپ کے حصار میں رہا ہے کچھ کر کے دکھانا چاہتا ہے۔ باپ ہسپتال میں ہے تو وہ باپ کی عدم موجودگی میں ڈیل کو کامیاب بنانے کی کوشش کرتا ہے مگر ناکام ٹھہرتا ہے۔ جگنو کی کہانی بلکہ ایک بھید ہے جو سیزن کی آخری قسط کے آخری چند لمحوں میں کُھلتا ہے۔ جو کہ اپنے آپ میں ایک اہم موضوع ہے۔ ٹرانس جینڈر اولاد اور اس سے جڑے انفرادی مسائل اور نفسیات کی گہری تہیں۔
چار کٹ آتما رام۔ یہ ایک انوکھا کردار ہے۔ جسے سات بار موت معاف ہے۔ وہ کبھی اخلاق کے لئے گانچی خاندان کے خلاف کام کرتا ہے، قتل کرتا ہے دہشت پھیلاتا ہے۔ گلشن دیویاہ کو اس کردار میں آپ دیکھ کر حیران ضرور ہوں گے اگر تو آپ نے اسے دھاڑ میں سوناکشی کے باس کی حیثیت سے دیکھ رکھا ہے۔ کہاں وہ سادہ و معصوم کردار کہاں آتما رام جیسا جنگلی کردار اور یہی ایک اچھے ایکٹر کی خاصیت ہے۔
اس فلم کا وقتی لینڈ اسکیپ نوے کا دور ہے۔ فلم میں کوئی موبائل فون نہیں ہے۔ وہی ٹیلی فون کا استعمال۔ پرانے ریڈیو اور کیسٹ۔ اور ارجن جیسا کردار جو فلمی گانوں کا ایسا شیدائی ہے کہ انہیں سنے بنا وہ کسی کیس پر کام نہیں کر سکتا، گاڑی میں اگر گانا چل رہا ہے تو گاڑی روکنے کے باوجود وہ تب تک گاڑی سے باہر نہیں نکلتا جب تک گانا اپنے اختتام کو نہ پہنچ جائے۔
اس سیزن میں ایک اور کہانی ہے جو کسی طور متوازی چلتی ہے۔ جس کا اپنا ایک حسن ہے۔ پندرہ سولہ برس کے اسکول کے تین لڑکے ہیں، دوست ہیں۔ ایک اپنی استانی پر عاشق ہے۔ دو کو اپنی کلاس فیلوز سے پریم ہے۔ پورا نوے کی دہائی والا ماحول ہے۔ خطوط لکھتے ہیں۔ اور ان میں سے ایک تو ایسا ہے کہ اگر اسے پورا ماحول یعنی ریڈیو پر سننے کو انگریزی گیت نہ ملے تو وہ خط نہیں لکھ سکتا۔ وہ خط لکھنے کے بعد اس پر پرفیوم بھی چھڑکتا ہے، اپنی بہن کا خاص لیڈیز پرفیوم۔
سیزن کی اختتام پر ایک ڈائیلاگ ہے۔ ارجن جو ایکسٹرا میریٹل افئیر میں رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے یہ سچ اپنی بیگم کو بتا دے۔ اس کی محبوبہ اسے کہتی ہے :
”ہم سچ بھی تب بھی بولتے ہیں جب ہمیں ہمارا فائدہ نظر آتا ہے۔ تم یہ دیکھو کہ اس سچ سے تمہاری بیگم کو کتنی تکلیف ہوگی۔ اس کا فائدہ جس میں ہے تم وہ کرو۔“
لفظ چتیاپا اب اردو و ہندی کا اہم روزمرہ ہے۔ سیزن کی ایک قسط کا ٹائٹل ہے ”پیار چتیاپا ہے۔“
باقی اس سیزن میں ایک گیت ہے جسے نوے کی دہائی کے پلے بیک سپر سٹار کمار سانو نے گایا ہے اور اسی زمانے کو تازہ کیا ہے۔
ستیش کوشیک یعنی بڑے گانچی صاحب جن کا انتقال اس برس مارچ میں ہوا۔ افسوس تو یہ ہے کہ اپنی آخری پرفارمنس میں کردار نبھاتے ہوئے بھی زندگی کو دغا دے گئے۔
باقی آج راج کمار راؤ کا جنم دن ہے تو انہیں جنم دن کی بہت مبارکباد۔

