سند

تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے کی کوشش میں نادیہ بری طرح ہانپنے لگی، مگر سیڑھیاں تھیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ لمحہ بہ لمحہ نادیہ کی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی اسے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی بے ہوش ہو کر گر جائے گی۔ آج کا تو دن ہی نرالا تھا، صبح دیر سے اس کی آنکھ کھلی، جلدی جلدی شوہر اور بچوں کو ناشتہ بنا کر دیا، اور وہ خود بنا ناشتہ کیے ہی آفس پہنچ گئی۔ خلافِ معمول آفس میں بھی کام کی زیادتی رہی یہاں تک کہ اسے لنچ تک کرنے کی فرصت نہ مل سکی، چھٹی کا وقت آیا تو اچانک ہیڈ آفس سے کچھ لوگ آ گئے اور باس نے پورے اسٹاف کو روک لیا۔ دو گھنٹے بعد سب کو جانے کی اجازت ملی تو وہ بھاگم بھاگ گھر کے لیے روانہ ہوئی، اسے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ گھر میں زین اور بچے بھوکے پیاسے بیٹھے ہوں گے۔ آج اسے اپنی بس بھی دیر سے ملی، رہی سہی کسر ٹریفک جام نے پوری کردی اور یوں دیر میں دیر ہوتی چلی گئی، صبح کی بھوکی پیاسی تھکن سے چور اور پریشان جب وہ اپنے فلیٹ کی بلڈنگ تک پہنچی تو بالکل نڈھال ہو چکی تھی۔ اور اب چوتھی منزل پر پہنچنا اسے جوئے شیر لانے کے مترادف لگ رہا تھا۔ بری طرح بوکھلائی، گرتی پڑتی بہرحال جب وہ گھر کے دروازے پر پہنچی تو زین کی شعلہ بار نگاہوں کو اپنا منتظر پایا۔
آ گئیں آپ؟ شکر ہے آپ کو یاد تو آیا کہ اپ کا ایک گھر بھی ہے۔ زین کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔
سوری زین میں ٹائم پر نکل ہی رہی تھی کہ ہیڈ آفس سے کچھ لوگ۔ نادیہ نے پھولی ہوئی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ کہنا چاہا تو زین بری طرح پھٹ پڑا۔
بس بس رہنے دو اپنی ڈرامے بازیاں، ہیڈ آفس سے لوگ آ گئے تھے، سپروائزر نے رپورٹ بنا کر دینے کو کہہ دیا تھا، باس نے میٹنگ کال کرلی تھی، بس نہیں مل رہی تھی، ٹریفک جام ہو گیا تھا۔ کان پک گئے ہیں یہ ساری بکواس سن سن کر۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ تم کو گھر اور بچوں کی کوئی فکر نہیں رہی، تمہیں صرف اپنی نوکری سے سروکار ہے اس لیے گھر اور بچوں سے تم یکسر لا پرواہ ہوتی جا رہی ہو۔ گھر سے نکل کر گھر کی کوئی فکر ہی نہیں رہتی تمہیں۔ کاہل اور کام چور ہو گئی ہو۔ اب کھڑے کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو بچے بھوکے بیٹھے ہیں، مجھے بھی دوستوں میں جانا ہے کب سے وہ میرا ”ویٹ“ کر رہے ہیں فون پر فون آ رہے ہیں اور میں ہوں کہ گھنٹوں سے مہارانی کے انتظار میں بچوں کو سنبھال رہا ہوں۔ کچھ بناؤ فٹافٹ جا کر کھانے کو۔ زین دھاڑتا چلا گیا۔ ج۔ جی ج۔ جی۔ ب۔ بس ابھی دو منٹ میں وہ ہکلاتی ہوئی بھاگ کھڑی ہوئی اور جا کر کچن میں جٹ گئی۔
کھانا کھا کر زین دوستوں کے پاس چلا گیا بچے آرام کرنے اپنے کمرے میں چلے گئے اس نے برتن دھوئے، کچن سمیٹا اور اپنے کمرے میں پہنچی تو اسے چکر سے آنے لگے تب اسے خیال آیا کہ خود اس نے تو صبح سے کچھ کھایا ہی نہیں ہے، اپنے لیے کچھ کرنے کی ہمت اس میں بالکل نہیں بچی تھی۔ مگر پھر بھی گرتی پڑتی اٹھی اور اپنے لیے آملیٹ اور چائے بنا کر کھانے بیٹھ گئی۔ صبح کا ناشتہ وہ اب کر رہی تھی۔ کھا پی کر جب وہ سونے لیٹی تو اسے اپنی حالت پر بے تحاشا رونا آ رہا تھا نیند سے آنکھیں بوجھل تھیں مگر عادت سے مجبور تھی اٹھ کر ڈائری لکھنے بیٹھ گئی اس کے بنا وہ کیسے سو سکتی تھی اس نے لکھنا شروع کیا، ڈیر ڈائری! میں اتنا کام کرتی ہوں، سارا دن مشین کی طرح لگی رہتی ہوں صرف اس لیے کہ میرے شوہر اور بچے مجھ سے خوش رہیں، میں اپنے آرام سکون، کھانے پینے، کسی چیز کی پروا نہیں کرتی پھر بھی کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب مجھے ڈانٹ نہ پڑتی ہویا بھلا برا سننے کو نہ ملتا ہو، آخر میرا قصور کیا ہے؟ یہی نا کہ بچوں کو اچھے اسکول میں پڑھانے اور معیارِ زندگی تھوڑا بہتر بنانے کے لیے میں نے جاب کرلی، صرف یہ سوچ کر کہ زین کی تنخواہ اتنی نہیں ہے تو مجھے اپنے پڑھے لکھے ہونے کا فائدہ اٹھانا چاہیے، ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ آج زین مجھے لاپرواہ، سست، کاہل، کام چور، پھوہڑ، غیر ذمہ دار اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔ کبھی دوسری عورتوں اور ان کے گھروں کی مثالیں دیتے ہیں کیا انہیں نہیں معلوم کہ میں ایسی نہیں ہوں؟ آخر زین کیوں اس بات کو نہیں سمجھتے کہ گھر کے کاموں میں کمی کوتاہی صرف اس وجہ سے ہوجاتی ہے کیوں کہ میں ملازمت کرتی ہوں اور وہ بھی صرف اپنی خوشی کے لیے نہیں بلکہ اپنے گھر کی خوش حالی کے لیے۔ کیا جاب سے پہلے وہ خود بات بات پر میری تعریف نہیں کرتے تھے؟ وہ سب کچھ آخر کیوں بھلا دیا انہوں نے؟ چلیں تعریف نہ کریں کم از کم طعنے تو نہ دیں۔ کبھی گھر کی صفائی کو لے کر، کبھی آفس آنے جانے پر، کبھی کھانے پکانے پر تو کبھی بچوں کی تربیت کو لے کر ہر روز نئے نئے طعنے مجھے سننے کو ملتے ہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ گھر میں تناؤ بھی بڑھ رہا ہے بچے بھی مجھ سے خفا خفا رہتے ہیں صرف اس لیے کہ میں ان کی فرمائشیں پوری نہیں کر پاتی، آنے جانے والے بھی مجھ سے ناراض ہو جاتے ہیں کیوں کہ میں انہیں ٹائم نہیں دے پاتی آخر کوئی کیوں نہیں سمجھتا کہ مجھ پر دہری ذمے داریاں ہیں، کام کر کر کے میں ہلکان ہو جاتی لیکن کسی کو نظر نہیں آتا، آخر کیوں سب کے لبوں پر میرے لیے شکایات ہوتی ہیں، کیوں سبھی کو سب کچھ پہلے جیسا ہی چاہیے؟ آج میں کتنی خوش تھی۔ ہیڈ آفس نے مجھے وقت سے پہلے ترقی دے دی سوچا تھا زین کو بتاؤں گی تو خوش ہو جائیں گے۔ مگر انہوں نے تو مجھے بولنے کا موقع تک نہیں دیا۔ ترقی کا لیٹر اب بھی میرے بیگ میں پڑا ہے سوچا تھا آتے ہی نکال کر زین کو دکھاؤں گی تو ان کا سارا غصہ ہوا ہو جائے گا، مجھے کیا پتہ تھا کہ اس کے بجائے میری ساری خوشی ہی کافور ہو جائے گی۔ سنو زین میں تم سے ایک لفظ بولے بنا تمہیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ سچ میں، میں ہر کام پوری ایمانداری سے کرتی ہوں، پورے دھیان سے، پوری محنت سے، بہت تھک جاتی ہوں زین، پھر بھی کام کرتی رہتی ہوں۔ پوری کوشش کرتی ہوں مگر پھر بھی روز مجھے ڈانٹ پڑتی ہے۔ آپ سب مجھ سے خفا رہتے ہو۔ میرا یقین کریں زین میں نکمی نہیں ہوں۔
یہ سب لکھتے ہوئے وہ مسلسل رو رہی تھی اس کی گواہی اس کے آنسوؤں سے جگہ جگہ الفاظ کی پھیلتی سیاہی دے رہی تھی شاید وہ اس سے آگے بھی کچھ لکھتی مگر نیند کی دیوی اس کے تھکے ہارے وجود پر مہربان ہو گئی اور اس نے اپنی آغوش میں لے کر اسے ہر فکر سے آزاد کر دیا
علی الصبح کھڑکے سے اس کی آنکھ کھلی تو دیکھ کر حیران رہ گئی کہ زین چائے کے دو کپ ٹرے میں رکھے کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔
اٹھ گئیں آپ؟ ہم نے تو سوچا تھا چائے سرہانے رکھ کر آپ کو اٹھائیں گے۔ خلافِ معمول زین نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
چائے کس نے بنائی؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔
مابدولت نے اور کس نے۔ زین مسکرایا۔
اللہ زین! آپ بھی نا کمال کرتے ہیں اٹھا دیتے نا مجھے، چائے پینی تھی تو۔ نادیہ نے شرمندگی سے کہا۔
چائے پینی نہیں تھی جناب، پلانی تھی آج آپ کو، وہ بھی اپنے ہاتھوں کی بنی ہوئی۔ زین کے لہجے میں آج مدت کے بعد وہی مٹھاس نادیہ کو محسوس ہوئی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ ارے ارے ارے یہ کیا؟ اتنی بری چائے بھی نہیں بناتا اب میں۔ زین نے بوکھلانے کی ایکٹنگ کی تو وہ روتے روتے بھی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اسے دیکھ کر زین کی آنکھیں بھر آئیں، اسے احساس ہوا کہ کتنے ہی عرصے سے اس نے نادیہ کو ہنستے نہیں دیکھا تھا۔ جانے کتنے دن بعد آج دونوں نے پھر سے اکٹھے بیٹھ کر چائے پی۔ زین آپ کو دیر ہو رہی ہے جلدی جاکر تیار ہو جائیں میں بچوں کو اٹھاتی ہوں وہ تیزی سے بستر سے اترتے ہوئے بولی۔ بچے اٹھ چکے ہیں اور تیار ہو رہے ہیں ”ٹینشن“ نہ لو اتنی۔ زین نے مسکرا کر کہا تو نادیہ کو لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو وہ حیران رہ گئی۔ تو چلیں میں تیار ہو کر ناشتہ بنا دیتی ہوں پھر نکلتے ہیں۔ نادیہ نے حیرت کو چھپاتے ہوئے کہا۔ تو زین ٹھوس لہجے میں بولا، نادیہ علی زین صاحبہ کم از کم آج کے دن ہم میں سے کوئی جاب پر نہیں جائے گا اور نہ ہی بچے اسکول۔ آج ہم سب مل کر پکنک پر جائیں گے، گھومیں گے پھریں گے اور فل مزے اڑائیں گے۔ مگر کس خوشی میں آخر؟ نادیہ نے حیرت زدہ ہوئے ہوئے پوچھا۔ تو زین مسخروں کے سے انداز میں باقاعدہ اعلان کر نے لگا۔ ”مشتری ہشیار باش! نادیہ علی زین صاحبہ کو ان کی شان دار کارکردگی کی بنا پر ان کے آفس میں ترقی دے دی گئی ہے۔ آج کی“ ٹریٹ ”ما بدولت کی جانب سے اسی سلسلے میں دی جا رہی ہے“ ۔ تمہیں کس نے بتایا؟ نادیہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو بھر آئے۔ اس کاغذ کے ٹکڑے نے، زین نے آفس کی طرف سے ملنے والا ترقی کا لیٹر جیب سے نکال کراس کیے سامنے لہرایا۔ میرے پرس میں گھسے آپ کیا یہ اچھی بات ہے؟ نادیہ نے مصنوعی خفگی سے زین کو گھورا تو زین نے سر جھکاتے ہوئے کہا اخلاق کی ایک اور بھی خلاف ورزی ہوئی کل مجھ سے، معاف کر دینا پلیز۔ یہ کہہ کر زین ٹیبل پر اب تک پڑی اس کی ڈائری کو تکنے لگا۔ نادیہ نے گھبرا کر ڈائری اٹھا لی اور بولی بہت پری بات، آخر پرائیویسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے یا نہیں؟ زین نے کہا میں معافی مانگ چکا ہوں لیکن ایک بات بتاؤں کہ اگر کل میں یہ سب کچھ نہ پڑھتا تو شاید زندگی بھر مجھے احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ تم اپنے گھر اور میرے لیے کیا کیا قربانیاں دے رہی ہو۔ مجھے واقعی تم میں کمی نظر آنے لگی تھی، تمہاری مجبوریوں کو سمجھنے سے قاصر رہا میں، تمہیں غیر ذمے دار اور کاہل سمجھنے لگا تھا میں لیکن یہ لیٹر جو تمہیں تمہارے آفس والوں نے دیا اس نے میری آنکھیں کھول دیں۔ تم نے پڑھا کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ زین کے استفسار پر نادیہ نے انکار میں گردن ہلا دی تو زین خود اسے با آواز بلند پڑھنا شروع کر دیا۔
محترمہ نادیہ علی زین صاحبہ، آپ کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے متفقہ طور پر آپ کو قبل از وقت ترقی دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ آپ جیسے محنتی، مخلص اور قابل کارکن کسی بھی ادارے کی ترقی کی بنیاد اور اس کا سرمایۂ افتخار ہوتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اسی ذمہ داری، لگن اور جاں فشانی سے اپنی نئی ذمے داریاں بھی نبھائیں گی جو آپ کا خاصہ ہے۔
لیٹر پڑھنے کے بعد زین مسکراتے ہوئے بولا اس کاغذ کو بہت سنبھال کر رکھنا اور آئندہ سے اگر کوئی تمہیں غلط سمجھے تو ہاتھ میں تھما دینا اس کے۔ اور ہاں اپنی ڈائری کو بتا دینا کہ یہ کاغذ سند ہے اس بات کی کہ تم بالکل نکمی اور غیر ذمے دار نہیں ہو۔ اور نادیہ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔

