مُسرت گُریز معاشرہ

نہ جانے ایسا کیوں ہے کہ ہم سچائی کی بجائے جذبات کی طرف دوڑتے ہیں، روشنی کی بجائے اندھیرے کی طرف رغبت رکھتے ہیں، زندہ سے زیادہ مردہ کو فضیلت مآب تصور کرتے ہیں، غربت کو ثروت پہ فوقیت دیتے ہیں، پرانے کو نئے پر اولیت بخشتے ہیں، رونے کو مسکرانے پر سعادت مندی خیال کرتے ہیں اور بدحالی کو خوش حالی کے مقابلے میں سادگی کا نام دیتے ہیں۔
میرے خیال میں اس کی ایک وجہ ہمارے گلی، محلے اور مساجد کا دانش ور طبقہ ہے، جس نے قنوطیت اور یاسیت کی ایک خاص فکر کو رواج دیا ہے، جس کو (کم تعلیم یافتہ) نئی نسل نے جوں کا توں جاری رکھا ہوا ہے اور وہی روایتی جملے ہر مکالمے اور ہر گفتگو کا مہمل حصہ ہوتے ہیں، معیارات کا یہ الٹا چکر در اصل سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔
خامی کو خوبی پہ مقدم رکھنے کی روش، ایک عمومی مثال سے واضح کرتا ہوں، آج کا بچہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ ذہین، ہوشیار باش اور چوکنا ہے، اس کی اس ذہانت کو پذیرائی دینے کی بجائے یہ کہا جاتا ہے کہ ”ہم تو اس کمپیوٹر چلاتے بچے کی عمر میں اپلے (خشک گوبر) اور گڑ میں تمیز نہ کر سکتے تھے آج دیکھو کیسا بے لحاظ زمانہ آ گیا ہے کہ بچہ کمپیوٹر چلا رہا ہے“ ۔ یعنی دیکھئے ہم کیسے بددیانت اور غیر حقیقی اپروچ کے مالک واقع ہوئے ہیں کہ پرانے کو نئے پہ برتری دینے کے لئے خوبی کو خامی ثابت کر رہے ہیں۔ در اصل ہم اس ذہانت سے لا شعوری طور پر خائف ہیں جو جلد یا بدیر ہماری بزرگی کا پردہ چاک کر کے صرف حقائق پہ مدار کرے گی۔ بیل کے ایک سینگ پر زمین کی ایستادگی کسی نئے آدمی کی سوچ نہیں ہو سکتی۔
اسی طرح مردہ پرستی اور زندہ کُشی کی اس سے بڑھ کر اور مثال کیا ہوگی کہ مرنے والے سے ایسی بے شمار باتیں منسوب کر دی جاتی ہیں کہ زندگی میں ان میں سے ایک خوبی بھی مرحوم میں نہیں پائی جاتی، اب اگر وہ خود دوبارہ زندہ ہو کر آ جائے اور اپنے فیوضات سن لے تو سر پکڑ کر بیٹھ جائے، اور زندہ شخص میں ہزار جوہر ہوں، انھیں اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک کہ موصوف اس دنیا سے چلا نہ جائے، پرانی کار کو دیکھتے ہی کہا جاتا ہے ”یہ ہوتا ہے خالص لوہا“ ، مگر للچائی نظروں سے نئی کار کو دیکھا جائے گا۔
مبلغین دنیا سے بے رغبتی کا درس دیتے ہیں، دولت اور دولت مندوں کے بابت منفی رائے رکھی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ”دیکھو لوٹ مار سے پلازہ کھڑا کر لیا“ ، اس عمل سے محنت کرنے کی تحریک قطعاً نہیں دی جاتی اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے کس قدر مشقت اٹھائی گئی ہے۔ دوسری طرف سخت نکمے، سست، کام چور اور غافل شخص کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ”دیکھو جی اتنا ایمان دار تھا کہ زندگی بھر ایک ذاتی مکان تک نہ بنا سکا“ ۔ کاہلی کو محنت سے بہتر قرار دیا جاتا ہے، کسی اچھے عہدے پہ براجمان شخص کی کامیابی کو بے وقعت کرنے کے لئے اس کے باپ دادا کے (چھوٹے ) پیشے کا حوالہ دیا جاتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ اس کے موجودہ مقام و مرتبہ کی بنیاد (بِلا تحقیق) سفارش یا رشوت کو قرار دے دینا بھی عمومی رویہ ہے۔
ہم احساس کمتری کا شکار ایک مسرت کُش معاشرے کے باسی ہیں۔ خوشیاں جن کی دہلیز پہ موجود ہیں مگر ایسے بدذوق واقع ہوئے ہیں کہ ان سے لذت کشید کرنے کے فن سے بے بہرہ ہیں، خوشحال شخص کو دیکھ کر ترغیب پانے کی بجائے ہمارے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، ہم مسرت کے اجتماعی تصور سے نا آشنا ہیں، ہم جلن اور حسد کا شکار ہیں جن میں اپنی ذاتی خوشیاں بھی جلا کر خاکستر کر لیتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ہمیں اپنے اس منفی، قدامت پسند اور قنوطی روئیے کو مثبت سمت دینا ہوگی، نئی چیزوں کو قبول کرنا ہو گا، محنت کی پذیرائی اور خوشحال طرزِ زندگی کی ستائش کرنا ہوگی، تبھی ہماری نسلیں آنے والی انسانی حیات کے لئے کچھ کر سکنے کے قابل ہو سکیں گی، وقت کے تقاضوں کو تسلیم کرنا ہو گا ورنہ وقت کی شدید پکڑ ہمیں اپنے ساتھ چلنے پہ مجبور کردے گی لیکن ہمیں صفِ اول میں جگہ دینے کی بجائے آخری صف میں اولین کے قدموں کی دھول پھانکنے کے لئے رکھا جائے گا، کیمرہ کے خلاف محاذ آراؤں کو وقت نے کیسے مجبور کر دیا کہ وہ وقت کے تقاضوں کو تسلیم کریں، پھر انہی لوگوں نے جو کیمرے کا نام آتے ہی آگ بگولہ ہو جایا کرتے تھے، اپنے اپنے چینل کھول لیے (خیر حال میں کیمرہ بھی ان سے چن چن کر بدلے لے رہا ہے )
ہمیں اچھائی اور برائی کے خود ساختہ معیارات پہ نظر ثانی کرنا ہوگی، پرانی چیزوں کے آسیب سے نکلنا ہو گا، نئی راہیں قائم کر کے اپنی، نئی نسل کی اور معاشرے کی بنیاد ازسرنو تشکیل دینا ہوگی، ورنہ اقوامِ عالم کے درمیان اپنا مقام تو دیکھ ہی چکے ہیں۔

