چین امریکہ تجارتی تعلقات
گزشتہ ماہ کے آخر میں چین اور امریکہ کے وزرائے تجارت نے چین میں ملاقات کے دوران مختلف مسائل کو حل کرنے کے لئے نئے مواصلاتی ذرائع قائم کرنے کا اعلان کیا۔
چین کے وزیر اعظم لی کھیانگ نے بھی بیجنگ میں امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو سے ملاقات کی اور دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ باہمی فائدہ مند تعاون کو فروغ دیں۔
چینی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ ملاقات میں چین کی جانب سے اس کے بارے میں مختلف امریکی پالیسیوں جیسے دفعہ 301 ٹیرف، سیمی کنڈکٹر پالیسیوں، سرمایہ کاری پر پابندیوں اور چینی کمپنیوں پر پابندیوں کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسا رویہ دوطرفہ تجارت کے لیے سازگار نہیں ہے۔
نئے مواصلاتی میکانزم کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق تنازعات کو حل کرنے اور بات چیت کو بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مستحکم دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے لیے اقدامات پر واشنگٹن کی جانب سے چین کے بنیادی خدشات دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بڑے اختلافات کے حوالے سے اب تک کوئی تعمیری پیش رفت تو نہیں ہوئی ہے لیکن دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششیں مسائل کے حل میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ملاقات کے دوران دونوں جانْب کے نمائندگان خوشگوار موڈ میں نظر آئے اور مسکراہٹوں کا بھی تبادلہ ہوا۔
امریکہ سے اپنے تعلقات کے حوالے سے چین کا موقف ہے کہ وہ باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور باہمی تعاون کے اصول کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ تعلقات کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک میں کاروباری اداروں کے لئے پالیسی کا سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے اور دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ دونوں ممالک کے مابین مستحکم اقتصادی تعلقات ہوں، جو دونوں کے فائدے میں ہوں۔
دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے تجارتی حکام کے درمیان نئے مواصلاتی چینلز قائم کرنے کا اعلان کیا، جس میں چینی اور امریکی عہدیداروں اور کاروباری نمائندوں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ بھی شامل ہے جو مخصوص تجارتی امور پر حل تلاش کرے گا۔ دونوں کامرس چیفس نے باقاعدگی سے بات چیت کرنے اور سال میں کم از کم ایک بار ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ فریقین نے برآمدی کنٹرول کے لئے ایک مواصلاتی میکانزم بھی شروع کیا، اور انتظامی لائسنسنگ کے طریقہ کار کے دوران تجارتی رازوں اور خفیہ کاروباری معلومات کے تحفظ کو بڑھانے کے لئے دونوں ممالک کے ماہرین کے مابین تکنیکی مشاورت کرنے پر اتفاق کیا۔
ماہرین کے مطابق نیا ورکنگ میکانزم امریکی محکمہ تجارت کے ماتحت بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی اور چینی وزارت تجارت کے متعلقہ محکموں کے درمیان قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ امریکہ کی جانب سے مختلف علانیہ اور غیر علانیہ پابندیوں کے بارے میں واضح بات چیت ہو سکے۔ تاہم کچھ چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین سمیت تمام ممالک اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں لیکن امریکہ کی جانب سے ’قومی سلامتی‘ کے تصور کو نظر انداز کرنا شدید اختلافات کی بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔ چند ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے قومی سلامتی کا تصور معقول ہے تو چین اس سے متفق ہے اور دوطرفہ تعاون کی کافی گنجائش موجود ہے۔ تاہم، اگر امریکہ چین کی چپ صنعت اور بحیرہ جنوبی چین میں خودمختاری اور حقوق کو امریکہ کی ’قومی سلامتی‘ پر اثر انداز کرنے کے طور پر دیکھتا ہے، تو یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تنازعہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان الگ تھلگ ہونے کی بجائے تعاون کی ضرورت ہے اور خاص طور پر موجودہ بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان اس کی اہمیت زیادہ ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے چین کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب امریکی معیشت کو مسلسل بلند افراط زر اور کساد کے خطرات کا سامنا ہے۔ حال ہی میں، امریکی فیڈرل بورڈ کے عہدیداروں نے افراط زر کو ”اہم“ خطرات سے خبردار کیا ہے، جس کے لئے ممکنہ طور پر شرح سود میں مزید اضافے کی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف امریکی معیشت بلکہ مجموعی طور پر عالمی معیشت پر بھی زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔
کچھ غیر ملکی میڈیا ادارے چیلنجوں کے باوجود چینی معیشت کے بارے میں سنگین نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں، لیکن چینی پالیسی سازوں نے ترقی کو فروغ دینے کے لئے نجی معیشت، کھپت اور کیپٹل مارکیٹ جیسے شعبوں میں مختلف چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیزی سے پیش رفت کی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2023 میں چین کی معیشت میں 5.2 فیصد اضافے کی توقع ہے جبکہ امریکی جی ڈی پی میں رواں سال 1.8 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ بیجنگ کے دورے پر امریکی وزیر تجارت جینا ریمینڈو نے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا میں سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر تجارت نے کہا کہ چین اور امریکہ 700 بلین ڈالر سے زیادہ کی تجارت کا اشتراک کرتے ہیں۔ 2022 میں چین اور امریکہ کے درمیان سامان کی دوطرفہ تجارت 690.6 بلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے امریکہ نے 536.8 بلین ڈالر درآمد کیے جو دنیا بھر میں درآمدات کی کل مالیت کا تقریباً چھٹا حصہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چین 2022 میں دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ معیشت اور سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا، جس کی سالانہ مصنوعات کی برآمدات 3.59 ٹریلین ڈالر تھیں، جو عالمی قدر کا 14.4 فیصد ہے۔ اسی عرصے میں امریکی مصنوعات کی برآمدات 2.06 ٹریلین ڈالر تک پہنچیں۔ دنیا بھر میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز (آئی سی ٹی) کی بڑھتی ہوئی دستیابی کی وجہ سے خدمات کی بین الاقوامی تجارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چین اور امریکہ عالمی سپلائی چین کے حصے کے طور پر آئی سی ٹی کی برآمدات میں مرکزی ممالک ہیں۔
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعاون، سے عالمی ترقی میں 50 فیصد سے زیادہ حصے کی توقع ہے، جو موجودہ مندی کے درمیان عالمی معیشت کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔


