تصوف کی بھینٹ چڑھائی گئی لڑکی کی کہانی: دخترِ رومی


انعام ندیم ایک عمدہ شاعر، مرتب اور مضمون نگار تو ہیں ہی لیکن گزشتہ چند برسوں میں وہ ایک مستند مترجم کے طور پر بھی ابھرے ہیں۔ ان کا پہلا ترجمہ کردہ ناول ”دوزخ نامہ“ سن دو ہزار میں چھپا اور مقبول ہوا۔ اس کے بعد ان کے کچھ اور ترجمے سامنے آئے، جن میں ”بھیشم ساہنی کی کہانیاں“ ، ربی سنکر بال کا مولانا روم پر لکھا ناول ”آئنہ سی زندگی“ اور حال ہی میں برطانوی مستشرق مینوئل موفروئے کے ایک ناول کا ترجمہ ”دختر ِرومی“ نمایاں ہیں۔ ان کے کچھ ترجموں کی اشاعت پائپ لائن میں ہے جن میں گردیال سنگھ کا ناول ”مڑھی دا دیوا“ اور عمر شاہد حامد کا ناول ”قیدی“ شامل ہیں۔

دخترِ رومی کا ترجمہ پڑھتے ہوئے مترجم کے زبان پر عبور اور اس کے اسلوب کی روانی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ نثر اتنی ہموار اور چکنی ہے کہ پڑھتے ہی چلے جائیں۔ اس ترجمے کا مطالعہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر اکساتا ہے کہ انعام اب ایک جانے مانے مترجم بن چکے ہیں اور کسی بھی طرح کے متن کوایک بہترین اسلوب میں ڈھالنا ان کے لیے آسان ہو چکا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ جتنا سہل کام لگتا ہے اتنا ہے نہیں۔ فکشن لکھنے اور اس کا ترجمہ کرنے کے معاملے میں محنت و مشقت وہی اچھی ہے، جو خود کو دوسروں سے چھپائے رکھے۔ خود کو ظاہر نہ کرے بلکہ اوجھل رہے۔ یہ خوبی دختر رومی کے ترجمے میں بہ درجہ اتم موجود ہے۔

مینوئل موفروئے کا ”دخترِ رومی“ ، ربی سنکر بال کے رومی ناول ”آئنہ سی زندگی“ سے بہتر، جامع اور مکمل محسوس ہوتا ہے۔ بنگالی ناول نگار اپنا ناول ابنِ بطوطہ سے شروع کر کے پھنس گئے۔ انہوں نے رومی اور شمس تبریز کے تعلق کے بیان کے حوالے سے بھی ٹھوکریں کھائیں۔ ان کے ناول میں کیمیا نام کی ایک نہیں دو لڑکیاں موجود تھیں لیکن وہ ایک سے بھی انصاف نہ کرپائے۔ مینوئل موفروئے نے اس ضمن میں کوئی غلطی نہیں کی۔ ان کی کہانی شروع سے آخر تک کیمیا کی محدود دنیا اور اس کے نزدیک موجود اشیا تک محدود رہتی ہے۔ وہ دخترِ رومی کی الم ناک اور حزنیہ کہانی نپے تلے انداز کے ساتھ سہج سہج سناتی ہیں۔

کیمیا ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والی غیر معمولی لڑکی تھی جسے پڑھنے اور جاننے کا شوق تھا۔ اس کی اسی لگن کی وجہ سے اسے گاؤں چھوڑ کر قونیہ شہر جانے کی بشارتیں ملتی ہیں۔ اس کے ماں باپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی ان بشارتوں کے سامنے سر نگوں ہونا پڑتا ہے۔ کیمیا کا باپ فاروق اسے قونیہ میں واقع ایک چرچ اسکول میں سسٹر اینڈریا کے پاس چھوڑنے کے لیے لے جاتا ہے لیکن سر راہ اس کی ملاقات مولانا روم سے ہوجاتی ہے جو اس کی بیٹی کو اپنی بیٹی کہتے ہیں۔ وہ فاروق کو اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ وہ مولانا کے رہن سہن اور علم کے حوالے سے ان سے متاثر ہوتا ہے اور اپنی اکلوتی بیٹی، کیمیا کو ہمیشہ کے لیے مولانا روم کے گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور کبھی پلٹ کر اس کی خبر نہیں لیتا۔

کیمیا نے تعلیم کی خاطر اپنا گاؤں چھوڑا لیکن یہاں آنے کے بعد اسے مولانا کی زوجہ کِرا خاتون کے ساتھ گھر گرہستی کے کام میں لگا دیا جاتا ہے۔ ناشتے، دوپہر یا رات کے کھانے کے دوران مولانا اپنے بچوں کو جو حکایتیں اور کہانیاں سناتے ہیں، وہ بھی سن لیتی ہے لیکن اپنی تعلیم کے حوالے سے متذبذب رہتی ہے۔ ایک روز وہ مولانا سے بات کرتی ہے تو مولانا اپنے بیٹوں ولد اور علا الدین کی طرح اسے مدرسے بھیجنے کے بجائے، یہ کہتے ہیں کہ تمہاری تعلیم جاری و ساری ہے۔ تمہیں جس تعلیم کی ضرورت ہے وہ تمہیں مل رہی ہے۔ یہ سن کر وہ مطمئن سی ہوجاتی ہے۔ وہ گھر میں رہتے ہوئے عربی اور فارسی سیکھتی ہے اور تصوف کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

شمس تبریز کی قونیہ آمد مولانا روم کی کایا کلپ کر دیتی ہے اور وہ مدرسہ اور تعلیم چھوڑ کر ہمہ وقت شمس کی صحبت سے فیض یاب ہونے لگتے ہیں۔ شمس کی وجہ سے مولانا کا مسجد و مدرسہ چھوڑ کر دیوانہ بن جانا اہل قونیہ کے لیے ناقابل برداشت ہونے لگتا ہے۔ طلبا اور لوگ شمس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اس وجہ سے شمس اچانک غائب ہو جاتے ہیں۔ وہ مولانا کے لیے کوئی مشکل کھڑی نہیں چاہتے۔

مینوئل موفروئے کے مطابق یہ شمس کا پہلا غیاب تھا۔ قونیہ والوں کو توقع تھی کہ ان کے جانے کے بعد مولانا روم پہلے کی طرح درس دینا شروع کر دیں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی ثابت ہوتی ہے۔ مولانا شمس کے ہجر میں شعر و نغمہ کا سہارا لیتے ہیں۔ اچانک انہیں خبر ملتی ہے کہ شمس کو دمشق میں دیکھا گیا ہے۔ وہ اپنے بڑے بیٹے کو روانہ کرتے ہیں کہ وہ جا کر انہیں واپس لے آئے۔

مولانا شمس کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھنے کی خاطر کیمیا خاتون سے اس کی شادی طے کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رشتہ بہت پہلے طے ہو چکا ہے۔ کیمیا بھی یہی سمجھ لیتی ہے۔ شادی کے بعد مولانا انہیں اپنے گھر کا ایک حصہ رہنے کے لیے دے دیتے ہیں۔ کیمیا اور شمس وہاں رہنے لگتے ہیں لیکن شمس کو کیمیا میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ ایک جلالی قسم کے صوفی ہیں اور ہمہ وقت تصوف کی بلندیوں پر محو پرواز رہتے ہیں۔ یہ دونوں الگ کمروں میں رہتے ہیں۔ صرف دو بار ان کے درمیان وصال ہو پاتا ہے۔ اس شادی کو ناکام ازدواج قرار دیا جاتا ہے۔ اس شادی کی طرح کچھ اور معاملات بھی پہلے طے کیے جا چکے ہیں۔ کیمیا بیمار پڑتی ہے تو اٹھنے کا نام نہیں لیتی اور بالآخر وفات پا جاتی ہے اور اس کے کچھ عرصے بعد شمس بھی غائب ہو جاتے ہیں یا قتل کر دیے جاتے ہیں۔ مولانا کی دیوانگی کم ہونے کے بجائے عشقِ حقیقی کی نئی حدوں میں داخل ہوجاتی ہے اور یوں شمس اور کیمیا کی قربانی اصل رنگ لاتی ہے کیوں کہ مولانا کے عشق کو قبولِ عام کی سند ملنی شروع ہوجاتی ہے اور ان کی نئی شہرت پھلنے لگتی ہے۔

مینوئل موفروئے نے بے کم و کاست کیمیا کی حقیقی کہانی کو اس ناول میں سمونے کی دیانت دارانہ کوشش کی ہے اور اس میں پوری طرح کامیاب دکھائی دیتی ہیں۔ کیمیا جیسی لڑکی کو اس کے ماں باپ، مولانا روم اور شمس تبریزی جس بے دردی سے اپنی اغراض کی بھینٹ چڑھاتے ہیں وہ نہ صرف الم ناک بلکہ سبق آموز بھی ہے۔ ایک زندہ وجود اپنے امکانات پورے کیے بغیر، محض دوسروں کی تکمیل کی خاطر جل کر راکھ ہو گیا۔

مجھے نجانے کیوں سندھ کے ایک قصبے رانی پور میں ایک پیر گھر آنے میں ہلاک ہو چکی ننھی فاطمہ یاد آ رہی ہے۔ اس کے ماں باپ نے بھی اسے ایک پیر کے حوالے کر دیا تھا۔ جس مقام پر یہ سب کچھ ہوا وہاں سے کچھ فاصلے پر دروازہ شریف میں شاعرِِ ہفت زبان سچل سرمست کا مزار واقع ہے۔ وہ سندھ کے ایک جانے مانے پیر اور شاعر ہیں۔ رانی پور کے پیروں کو ان سے کوئی نسبت ہے یا نہیں ہے، مجھے اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں۔ میں بس یہ سوچ رہا ہوں کہ نجانے کیا کچھ اور کتنا کچھ تصوف کی بھینٹ چڑھایا جا چکا ہے اور یہ قبیح قسم نجانے کب سے جاری ہے اور کب تک رہے گی؟ ستم کی بات یہ ہے کہ ہم نے ان رسموں کے ایجاد کنند گان کو مقدس مسندوں پر بٹھا کر ہر طرح احتساب و الزام سے بھی مبرا کر دیا ہے۔

کیا کوئی تصوف کی بھینٹ چڑھائی گئی کیمیا خاتون کی بربادی اور اس کی موت کا الزام مولانا روم اور شمس تبریز پر عائد کر سکتا ہے؟

Facebook Comments HS