’بہانہ‘ نہیں صبر کا ’پیمانہ‘
کبھی خیال گزرا تھا کہ تجزیوں کے بھی تجزیے کیے جا سکتے ہیں اور کیے جانے چاہئیں۔ آج اس خیال ِنا تمام کو مہمیز دی مشہور صحافی و اینکر عاصمہ شیرازی صاحبہ کے کالم بعنوان۔ ”بجلی تو بس بہانہ ہے“ جو بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر 29 اگست 2023 ء کو لگا۔ یہ بھی محض اتفاق ہے کہ میں نے اسی دن اپنی سہیلی ارم عاصم جس کے لیے ادب پڑھنا پڑھانا آکسیجن ہے، تذکرہ کیا تو اس نے کہا کہ وہ اپنے کالج کے طالبِ علموں کوبی بی سی اردو پر لگنے والی تحریروں کو پڑھنے کی ہدایت دیتی ہے اور یہ کہ عاصمہ شیرازی کا یہ کالم اس سے پڑھا ہی نہیں گیا۔ میں نے جواب دیا کہ پڑھا تو مجھ سے بھی نہیں جا رہا تھا لیکن جب سوچا کہ اس کا جواب لکھنا ہے تو سمجھنے میں غلطی کا احتمال نہیں ہونا چاہیے، اس لیے بغور پورا دو تین بار پڑھا کہ وہی لکھا ہے جو ردّ ِ عمل میں لکھنے کے لیے اُکسا رہا ہے۔ ہمیں تنقید کا کوئی چسکا نہیں اور نہ ہی ہم ’قلم چور‘ ہیں کہ اپنا قلم خود ہی چرا لیں۔ صحافی کی آواز اگر عوام کی آواز نہیں ہے اور اس کے بر عکس عوام کی اجتماعی آواز کو توڑنے، بکھیرنے اور الجھانے کے لیے ہے تو۔ یہ میرے نزدیک ایسا ہی ہے جیسے اپنے حق کے لیے نکلنے والی ریلی یا جلوس پر پولیس آنسو گیس چلا کر اس اجتماع کو ٹکڑیوں میں تتر بتر کردے۔ عاصمہ شیرازی صاحبہ کی اس تحریر پر میرا تاثر یہی بنا۔ بصد احترام چلتے ہیں عاصمہ شیرازی صاحبہ کے کالم کی طرف:
اس کالم کا پہلا پیرا گراف علامتی بیانیہ ہے، ابہام پیدا کرنے والا علامتی بیانیہ۔ دھواں، آگ، شعلے، چنگاری۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو نہیں معلوم کہ وہ جو بجلی کے بلوں پر احتجاج کر رہے ہیں وہ اصل میں کہیں اور جمع ہوا وا غصہ بجلی کے بلوں پر اتار رہے ہیں۔ یہ آگ بجلی کے بلوں نے نہیں لگائی، چنگاریاں ماضی کی ہیں اور بجلی کے بلوں نے محض تیلی دکھانے کا کام کیا ہے۔ اسی لیے محترمہ اس کو بہانہ قرار دے رہی ہیں۔ میرے نزدیک یہ بہانہ نہیں بلکہ عوام کے برداشت اور صبر کا پیمانہ ہے جو لبریز ہو گیا ہے۔ چلیں بتائیے منتخب حکومتوں نے اپنے حلقے ہی کے غریب عوام کے لیے کیا کیا ہے؟ اسکول، اسپتال، سڑکیں، پانی؟ ہم بہ حیثیت مجموعی کسی بھی میدان میں آگے گئے ہیں یا پیچھے؟ جو بھی یہ ملک چھوڑ کر جاسکتا ہے وہ جا رہا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ سب ”بہانے“ ہیں؟
دوسرے پیراگراف میں وہ لکھ رہی ہیں کہ ”بلوں کے نام پر استحصال تو جانے کب سے ہو رہا ہے“ ۔ جانے کب سے ہو رہا ہے؟ آپ صحافی ہیں بتائیں نا کہ کب سے ہو رہا ہے؟ جانے کب سے ہو رہا ہے کیا مطلب؟ اسی پیراگراف میں آگے چل کر لکھتی ہیں کہ ”کچھ نارسائی کا کرنٹ لگا تو وہ احتجاج منظر عام پر آنے لگا جو شاید ابھی نہ آتا“ ۔ ”کچھ نا رسائی“ ، ”شاید“ ؟ کیوں نہ کے الیکٹرک کو مشورہ دیں کہ تھوڑا ہاتھ ہولا رکھیں، اگر وہ دھیرج سے چلیں تو ’شاید‘ یہ احتجاج مزید ایک دو عشروں تک موخر کیا جا سکے۔ ہمارے ہاں صورتِ حال کی عجب عجب توجیہات سننے کو ملتی ہیں۔ ایک طالب ِ علم نے نقل سے روکنے پر دوسری کلاسوں کا حوالہ دیا کہ وہاں تو نقل ہو رہی ہے، یہ کھلی نا انصافی ہے۔
تیسرے پیراگراف کے آغاز میں لکھتی ہیں کہ ”یہ جھٹکا بجلی کا نہیں حضور“ ۔ دل کا دورہ پڑنا یا دماغ کی رگ کا پھٹنا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک دم تو نہیں ہوتا جناب۔ ہاں آدمی کے لیے وہ ایک ہی جھٹکا آخری ثابت ہو سکتا ہے۔ کینسر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اگر اس کی تشخیص پہلے اسٹیج پر ہو جائے، اگر صحت کی سہولتیں ہوں، اگر علاج درست طریقے سے ہو جائے تو۔ آدمی جیتا ہے یا بے وقت بے موت مرتا ہے؟ یہاں امیر کے جینے کی تمام آسائشیں موجود ہیں اور غریب کے مرنے کے کھلے مواقع۔ ایسا کن معاشروں میں ہوتا ہے اور کن معاشروں میں نہیں ہوتا؟ مان لیتے ہیں کہ یہ یہ جھٹکا بجلی کا نہیں لیکن کیا ”کے الیکٹرک“ اپنے حصے کے عمل کی ذمہ دار نہیں؟ ان بلوں کو عوامی مسائل کی اجتماعی آواز کا نقطہ آغاز سمجھ لیتے ہیں۔ ہاں ”کے الیکٹرک“ چاہے تو عوامی آواز جگانے کا سہرا شوق سے اپنے سر باندھے، چلیں ہم ہی اس کے سر یہ سہرا باندھ دیتے ہیں حضور۔ لیکن آپ بجلی کے اس جھٹکے کو بھی کیا جھٹکا نہیں مانیں گی جو ایک لمحے میں زندگی کو موت کی آغوش میں پہنچا دیتا ہے؟ اس کا ذمہ دار کون؟
کالم میں شعر آتا ہے جو زبان زدِ خاص و عام ہے کہ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ اک دم نہیں ہوتا
کن کن صورت ِاحوال پر یہ شعر لاگو ہوتا ہے اور کہاں کہاں نہیں ہوتا؟ میں کوئی تنقید پر کمر بستہ نہیں۔ شعر کی سچائی اگر حقیقت سے روگردانی کرتی ہے تو لامحالہ ہمیں حقیقت کے ساتھ ہی جانا ہو گا۔ ”سیالکوٹ موٹر وے“ کیا تھا؟ اسے حادثے کا نام دیا جاسکتا ہے؟ متاثرہ خاتون کے لیے سانحہ، اخبار کے لیے بڑی خبر اور ریاست کی نظر میں جرم، افراد کی مجرمانہ حکمت ِ عملی کا نتیجہ ؛ حادثہ تو یہ کسی بھی پہلو سے نہیں تھا۔ حادثہ اچانک وقوع پذیر ہونے والے واقعے کو کہتے ہیں۔ موڑ کاٹتے ہوئے موٹر سائیکل سلپ ہو گئی اور راہ گیر زخمی ہو گیا، یہ سب اچانک ہو گیا، نہ موٹر سائیکل سوار کو پتا تھا نہ راہ گیر کو کہ اگلے لمحے یہ ہو جائے گا، یہ حادثہ تھا۔ لیکن وہ جس کی پرورش وقت برسوں کرے اس کے نتیجے میں جو وقوع پذیر ہو اسے حادثہ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ ایسے ہی جیسے عاصمہ شیرازی صاحبہ کے کالم میں شعر کی لاٹھی سے کہا گیا ہے۔
آگے چل کر کالم نگار وقت کی پرورش میں ”جڑانوالہ سانحے“ کی مثال دیتی ہیں۔ میرا سوال ہے کہ ”ہم بمقابلہ وہ“ تقسیم کس سطح پر ہے جو دماغ بھک سے اڑا دیتی ہے؟ یہ لسانی تکنیکات ہیں جو بیانیے کی گتھیوں کو سمجھنے اور سلجھانے کے لیے کام میں لائی جاتی ہیں، اور جب بیانیہ سمجھ میں آتا ہے تو عام آدمی کا دماغ بھک سے ہی اڑتا ہے۔ کبھی سوچیں کہ سکھوں، پٹھانوں یا کسی بھی انسانی گروہ کے لیے بنائے گئے لطیفے کیسے بنتے ہیں؟ ہاں! جب ان کی سیاسی بنیادیں سمجھ میں آتی ہیں تو واقعی دماغ بھک سے اڑ جاتا ہے، کیا خیال ہے ”بھوکا بنگالی“ کب، کس نے، کیوں کہا؟
اگلے پیراگراف میں وہ لفظ ’ریاست‘ استعمال کرتی ہیں۔ اس لفظ کے استعمال میں بڑی کاریگری پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ پیرا گراف جس کا آغاز ”ریاست اور عوام کے درمیان بظاہر تفریق“ سے ہوتا ہے، لیکن تفریق تو اشرافیہ، مقتدرہ، حکومتوں اور عوام کے درمیان ہے، یہاں لفظ ریاست سے کیا مراد ہے؟ اس پیراگراف کا اختتام بھی خوب ہے ”ہتھیاروں کے استعمال کا ہنر خود ریاست نے اپنے ہاتھوں سے دیا ہے“ ۔ یہاں لفظ ریاست کا استعمال کن معنوں میں ہے؟ لفظ بھی وہی ہے اور ریاست بھی وہی، ’ہنر‘ ہتھیاروں کے استعمال کا ہنر۔ لفظوں کے دریا بہانے کی کوشش ہے یا خیال کے؟ ”ریاست اور عوام میں تفریق بھی بظاہر ہے، ریاست نے ہی ہتھیاروں کے استعمال کا ہنر اپنے ہاتھوں سے دیا ہے“ ۔ میرا خیال ہے کہ اس صورتِ حال کا اشارہ شعر کے پہلے مصرعے میں ہے کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ یہاں وقت سے مراد وقت کے علاوہ ریاست بھی ہے (کالم کے مطابق) ۔
آگے کے پیراگرافوں کا لفظی بیانیہ ”مذہبی و سیاسی منافرت، قانون سازی، ایف آئی آر، سوشل میڈیا عفریت، مفتی، فتوے، کافر، مرتد، بارودی سرنگیں، دیاسلائی، عقب سے نقب، سمجھ میں نہ آنے والی کتھا، دلہن، گھونگھٹ، شگاف“ ۔ اگرچہ کہ کوئی فکر حرفِ آخر نہیں، ہر کہانی ادھوری، ہر بیانیہ نامکمل لیکن اخلاص سے کی جانے والی اعلیٰ کوششیں فکر کو آگے بڑھاتی ہیں، کہانی کو پورا کرتی ہیں اور بیانیے کو مکمل۔ اس میں خیال کا بھرتا، لفظوں کی چٹنی، واقعات کی کھچڑی، حقائق کا کچومر اور عوامی آواز کو چوں چوں کا مربہ نہیں گردانا جاتا۔
معذرت کے ساتھ یہ سماجی المیے حادثات کو جنم نہیں دے ر ہے۔ باشعور لوگ ”انقلاب“ کے جھوٹے سحر میں مبتلا نہیں ہوتے اور وہ پائیدار اور مستقل حل تعلیمی اصلاحات میں سمجھتے ہیں۔ وہ مجموعی آواز جو لسانی، سیاسی و فرقہ ورانہ تفریق سے بلند ہو کر عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ طور پر اٹھائی ہے، اسے سیاسی و مذہبی افتراقات کی تاریخ سے جوڑ کر توڑنے کی کوشش آپ کے کالم سے مترشح ہے۔ یہ تاریخ بنائی کس نے ہے؟ عوام کی قسمت کے فیصلے کون کرتا ہے؟ کیا یہ تقدیر کا لکھا ہوتا ہے؟
بجلی کے بلوں کے مسئلے پر وسعت اللہ صاحب کا کالم ضرور پڑھیے گا، بی بی سی اردو میں ہی لگا ہے۔


