افسانہ: واپسی
چک مراد خان کے ریلوے اسٹیشن پہ سرد ہوائیں معمول کی رفتار سے کچھ زیادہ ہی تیز چل رہی تھیں، جس سے موسم کی خنکی میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا۔ یہ فروری کی اوائل شام کا وقت تھا، مگر گہرے سیاہ بادلوں نے سورج کو اپنی اوٹ میں اس طرح چھپا رکھا تھا، کہ آدھی رات کا سماں محسوس ہوتا تھا۔ کہنے کو تو بہار کا پرفریب موسم تھا، لیکن اس وقت کالے بادلوں کی گھنی چادر نے ریلوے اسٹیشن کی عمارت سمیت، ہر چیز کے حسن کو بے کیف اور بد رنگ کر ڈالا تھا۔ کیا گھنے بوہڑ کے درخت اور کیا چھوٹے گلاب کے پھول، ہر چیز سیاہ چادر تانے اس قدر بدنما ہو چکی تھی کہ انسان کو دیکھتے ہی خوف آتا تھا۔ سناٹے کا وہ عالم کہ دل کی دھڑکن بھی سنائی دے اور ویرانی کا ایسا منظر کہ جیسے یہ ریلوے اسٹیشن نہیں بلکہ بھوت بنگلہ ہے، جہاں اس وقت لاکھوں بھوت اور چڑیلوں کا بسیرا ہو۔
ریلوے اسٹیشن پہ اس وقت اسٹیشن ماسٹر کے علاوہ عملے کے دو افراد موجود تھے، جو کچھ ہی دیر بعد شہر سے آنے والی ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ ایک غیر آباد اسٹیشن تھا، جہاں دن میں صرف ایک بار ہی ٹرین آتی تھی۔ کیونکہ خراب موسم کی وجہ سے بجلی بند تھی، سو انہوں نے تین چار لالٹین جلا کر، اُن کو اونچی جگہ لٹکا دیا تھا، جس سے اسٹیشن پہ اتنی روشنی ہو گئی تھی، کہ ایک انسان دوسرے انسان کا چہرہ دیکھ بھی سکتا تھا اور پڑھ بھی سکتا تھا۔ ”ارے فرید خان! انگیٹھی سلگاؤ یار۔ یہ ٹھنڈ تو مار ڈالے گی“ گرم کوٹ پہنے اسٹیشن ماسٹر نے سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے فرید نامی شخص کو آواز دی اور وہ جوتے گھساتا ہوا، عمارت سے باہر پلیٹ فارم کے ساتھ لگے باغ میں چلا گیا، اور وہاں سے پھلاہی کی خشک لکڑیاں چن کر، ایک کمرے میں گھس گیا، جہاں انگیٹھی پڑی تھی۔ فرید نے نہایت چابکدستی کے ساتھ، اُن لکڑیوں کو انگیٹھی میں ڈال کے، آگ سلگائی اور جب وہ اچھی طرح سے جل اٹھیں تو انگیٹھی اٹھا کر، اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لے آیا، اور وہ تینوں اُس کے گرد بیٹھ کر، ہاتھ تاپتے ہوئے گپیں ہانکنا شروع ہو گئے۔
” اے لو! بارش شروع ہو گئی۔ اور پھر وہ تینوں لوگ وہاں سے اٹھ کر، برآمدے میں آ گئے اور کھڑے ہو کر، پھاگن کی بارش کا نظارہ کرنا شروع ہو گئے، جو اچانک اس قدر تیز ہو گئی، کہ ذرا سی دیر میں پرنالے بہہ نکلے اور اسٹیشن ایک تالاب کا منظر پیش کرنا شروع ہو گیا۔
”آج تو غالباً کوئی بھی سواری نہیں اترے گی اور نہ ہی کوئی جانے والا ہو گا۔ اس بارش میں کون یہاں آئے گا۔ کیوں مرید خان“ ، اسٹیشن ماسٹر سنسان برآمدے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نگاہ دوڑاتے ہوئے بولا۔ ”آپ صحیح کہتے ہیں اشفاق صاحب۔ اس بارش میں کسی کا دماغ خراب ہے جو گرم بستر اور حلوہ چائے وغیرہ چھوڑ کر، یہاں اس ٹھنڈ میں آ کر مرے“ ، مرید خان نے سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے کہا، جس کے ہونٹ اب سردی کی وجہ سے باقاعدہ بج رہے تھے۔ ”اس سرد موسم میں سوجی کا حلوہ اور گڑ کی چائے وہ بھی لکڑیوں والی۔ یار مرید خان کیا یاد کروا دیا ہے تم نے ظالم“ ، اسٹیشن ماسٹر تخیل کی دنیا میں پرواز کرتے ہوئے، اُس زمانے میں پہنچ چکا تھا، جب ایسے سرد موسم کی بارشوں میں اُس کی اماں، گھر والوں کے لئے حلوے وغیرہ کا انتظام کرتی تھی۔ اور اس بات کو یاد کر کے، وہ تینوں افسردہ ہو گئے۔
”ہیلو، ہیلو، ریلوے اسٹیشن مراد خان“ ، اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں رکھا ہوا، ریلوے کا ٹیلی فون بجا، جس کو سن کر اسٹیشن ماسٹر فوراً بھاگتا ہوا اندر گیا اور ریسیور اٹھایا۔ ”یس۔ مراد خان ریلوے اسٹیشن۔ اشفاق بات کرر ہا ہوں“ ، اسٹیشن ماسٹر کی گرجتی ہوئی آواز سنائی دی۔ ”اشفاق صاحب! موسم کی خرابی کی وجہ سے ٹرین ایک گھنٹہ لیٹ ہے۔ تمام مسافروں کو اطلاع کر دیں۔ شکریہ“ ، اور آواز بند ہو گئی۔ اسٹیشن ماسٹر نے غصے سے ریسیور واپس رکھ دیا اور گالیاں دیتے ہوئے باہر آ گیا۔ ”لو جی ایک گھنٹہ اور ٹھہرو“ ، اُس کے منہ سے یہ جملہ پورا ہونے کی دیر تھی، کہ آسمانی بجلی اس شدت سے چمکی کہ پورا اسٹیشن چمک اٹھا اور یوں محسوس ہوتا تھا، کہ اچانک کسی نے کئی ہزار بجلی کے بلب اکٹھے روشن کر دیے ہیں اور پورا شہر جگمگا اٹھا ہے۔ اور پھر اُس کے بعد بادل اس زور سے گرجے کہ تینوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، تاکہ بادلوں کے گرجنے کی آواز سنائی نہ دے۔ ”میرا خیال ہے کہ چائے بنائی جائے ٹرین تو ویسے بھی ابھی لیٹ ہے“ ، اشفاق احمد نے تجویز دی۔ ”یہ ہوئی نا بات سر۔ میں ابھی بناتا ہوں“ اور فرید خان وہاں سے بغلی کمرے میں گھس گیا، جہاں چائے کا ساز و سامان رکھا تھا۔
” اللہ ہی اللہ کیا کرو، دکھ نا کسی کو دیا کرو“ ، ارشاد سائیں کافی گاتا، بارش میں بھیگتا ہوا آیا اور برآمدے میں اُن سے قدرے فاصلے پہ کھڑا ہو گیا اور پھر اپنی ڈاڑھی کو ایک جھٹکے سے یوں ہلایا کہ سارا پانی ڈاڑھی سے نکل گیا۔ ”ارے ارشاد سائیں تم؟ تم اس بارش میں؟ خیر تو ہے؟“ ، مرید خان نے سائیں سے پوچھا۔ ”ہاں بچیا۔ آج میرا پتر نواز خان چھٹی آ رہا ہے۔ پورے دو سال بعد ۔ اسی لئے اتنی بارش میں آیا ہوں۔ وہاں گھر پہ اُس کی ماں نے سارے انتظام کر رکھے ہیں، اور مجھے زبردستی بھیجا ہے کہ جا کر، بیٹے کو لے کر آنا۔ اُس کے پاس اتنا سامان ہو گا، وہ کیسے اٹھائے گا“ ، ارشاد سائیں چہک چہک کر اُن کو بتا رہا تھا اور وہ بھی سن کر نہایت محظوظ ہو رہے تھے۔ ”کتنی دیر ہے گاڑی کے آنے میں باؤ جی“ ، ارشاد سائیں نے پوچھا۔ ”چاچا! بس کوئی چالیس منٹ“ ، اسٹیشن ماسٹر نے جواب دیا۔ ”اچھا۔ چلو میں تب تک مغرب کی نماز ادا کرتا ہوں“ ، اور پھر سائیں نے اپنی گیلی چادر جسم سے اتاری اور زمین پہ بچھا کر، نماز پڑھنا شروع ہو گیا۔ سائیں نے فرائض کے بعد نوافل کی نیت باندھ لی اور نوافل میں مشغول ہو گیا۔ ”چاچا! ویسے آج تو بہت خوش ہے“ ۔ فرید نے ارشاد سے کہا جو دعا مانگ کے ابھی ابھی فارغ ہوا تھا۔ ”تو کیا جانے پترا۔ تیری اولاد ہوتی تو جانتا، کہ پردیس سے دو سال بعد واپس آنے والے بچے کی خوشی کیا ہوتی ہے“ ۔ سائیں ارشاد کے اس جواب پر وہ لاجواب ہو گیا اور مزید کوئی بات آگے نہیں کی۔
رات کے سات بجے کا وقت تھا، جب ٹرین کے آنے کی آواز سنائی دی اور پھر فرید خان نے سگنل ڈاؤن کر دیا۔ ارشاد سائیں بارش کی پرواہ کیے بغیر کھلے آسمان تلے، ٹرین کے آنے کا بے صبری سے انتظار کرنے لگا۔ ٹرین ہارن بجاتی، دھواں نکالتی دھیرے دھیرے اسٹیشن کی طرف آتی گئی اور کچھ ہی دیر بعد پلیٹ فارم پہ آ کر رکی۔ جہاں صرف چار افراد موجود تھے۔
آج پلیٹ فارم پہ نہ تو کوئی مسافر اترا، نہ ہی کوئی مسافر سوار ہوا، بس ایک تابوت اور اُس کے ساتھ ایک وزنی صندوق تھا، جو ٹرین کے عملے نے مل کر، ٹرین سے اتارا۔ تابوت کو دیکھ کر اسٹیشن ماسٹر جلدی سے برآمدے سے نکلا اور ٹرین کے پاس آ گیا۔ ”یہ محمد نواز ولد محمد ارشاد کی لاش ہے، اور یہ اُس کا سامان“ ، عملے کے ایک شخص نے تابوت اور صندوق کے ہمراہ ایک کاغذ اسٹیشن ماسٹر کے حوالے کیا اور پھر ٹرین روانہ ہو گئی۔ اسٹیشن ماسٹر نے وہ کاغذ کھولا جس پہ لکھا تھا کہ محمد نواز ایک بلند عمارت پہ کام کرنے کے دوران، تیز جھکڑ کی وجہ سے نیچے گر کر فوت ہوا ہے۔ اسٹیشن ماسٹر نے بھیگتی آنکھوں کے ساتھ، کاغذ کو بند کر کے، ارشاد سائیں کی طرف دیکھا، جو اپنے بیٹے کے تابوت کے پاس بیٹھا بس اتنا کہہ رہا تھا ”یہ کیسی واپسی ہے میرے پتر محمد نواز۔ تم نے تو اپنی واپسی کی ساری امیدیں ہی ختم کر ڈالیں“ ۔ اسٹیشن ماسٹر سے یہ منظر برداشت نہ ہوسکا اور وہ روتا ہوا، اپنے کمرے میں چلا گیا، جبکہ فرید خان اور مرید خان وہیں ٹھہرے رہے۔ ”تیری ماں نے تیرے واپسی کی خوشی میں آج ہی نیا جوڑا پہنا ہے پتر اوئے۔ جب میں تجھے لینے آ رہا تھا، تو وہ دروازے کے ساتھ لگی بیٹھی یہ کہہ رہی تھی کہ جب تک نواز گھر نہیں آئے گا، وہ دروازے پر ہی بیٹھی رہے گی۔ بتا میں اُس کو کیا جواب دوں؟“ ۔ بارش اُسی طرح شدت سے برس رہی تھی، اور ارشاد سائیں اپنی گیلی چادر کو اپنے بیٹے کے تابوت کے اوپر ڈال کر، اُسے بارش سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، جو اب ہمیشہ کے لئے اُن کے پاس پردیس سے واپس آ چکا تھا۔


