نگران صوبائی وزیر بلوچستان، نگران وزیراعظم کا بیٹا اور سوشل میڈیا


سوشل میڈیا پر بلوچستان حکومت کے نامزد نگران وزیر کی تصویر کو اسی کیپشن کے ساتھ شیئر کیا جا رہا کہ نگران وزیراعظم انور الحق کاکڑ نے اپنے بیٹے کو وزیر کھیل بلوچستان بنایا۔

وزیر کھیل بننے والا 21، 22 سالہ جوان نگران وزیراعظم کا بیٹا نہیں بلکہ شہید سراج رئیسانی کا بیٹا ہے جو جولائی 2018 میں خودکش حملے میں مارے گئے۔ سراج رئیسانی کے انڈین جھنڈے کو زمین پر بچھا کر اس پر کھڑے ہونے کی تصویر ان کی موت کے بعد بہت وائرل ہوئی تھی اور اس کی موت کے وقت یہ بات سوشل میڈیا پر سامنے آئی کہ سراج رئیسانی خلائی مخلوق کے بہت قریبی تھے۔ رئیسانی کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں تھی شاید اس لیے خودکش دھماکے سے کام تمام ہوا۔ دوسری طرف اس جھنڈے پر کھڑے ہونے کی تصویر کو لے کر محب وطنوں کی طرف یہ دعویٰ کیا گیا کہ سراج رئیسانی انڈیا کا سخت مخالف تھا اس لیے انھوں نے اپنی خفیہ ایجنسی کے ذریعے خودکش میں مروایا لیکن یہ دلیل کسی الزام کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں۔ دونوں صورتوں میں کسی انسان کا قتل غیر انسانی کام ہے جسے کسی صورت بھی جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعے کے بعد رئیسانی کے اس نگران وزیر بنے بیٹے کا بیان آیا تھا۔ مجھے بیان کے الفاظ تو یاد نہیں لیکن وہ بھی خود کو بڑا وفادار اور انڈیا کو اس کے والد کو مارنے پر سنا رہا تھا کہ ہمارے حوصلے بلند ہے تم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد اس بچے کو ملک کے مختلف ایشوز پر کبھی ویڈیو تو کبھی ٹویٹر پر کبھی کبھی دیکھتا رہا ہوں۔ کچھ عرصے پہلے سابقہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی تصویر اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبریں آئی اور اب نگران حکومت میں صوبائی وزیر لگنے پر دیکھا اور پھر نگران وزیراعظم کا بیٹا بنانے پر سوشل میڈیا کے دوستوں کے پوسٹ دیکھے تو سوچا اس پر لکھ لوں۔

اتنی کہانی لکھنے کے دو مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ کہ اگر آپ سوشل میڈیا استعمال کر رہے اور حالات حاضرہ اور سیاست پر ہونے والے بے شمار پوسٹیں اندھوں کی طرح کاپی پوسٹ یا شیئر کرتے ہو تو آپ اس معاشرے کو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک اشتہار دینے سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے۔ آپ برسوں سے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہو تو کسی خبر کو دیکھنے پر تھوڑا دماغ پر زور ڈال کر عقل کا استعمال کریں کہ جو خبر میں پڑھ رہا ہوں اس طرح کا کچھ میں نے ماضی میں دیکھا ہے بھی یا نہیں۔ اب جنھوں نے سوشل میڈیا پر اس بچے کو نگران وزیراعظم کا بیٹا بنایا ان کے 2018 جولائی کے اپنے پوسٹس اگر دیکھے جائے تو انھوں نے اس بچے کی اپنے والد کے ساتھ تصویر شیئر کی ہوگی لیکن 6 سال بعد دماغ پر زور ڈالنے کے بجائے ایک فیک خبر کو پھلا رہے ہیں جو کسی طور پر سوشل میڈیا یوزرز اور اس معاشرے کے لئے مفید نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر فیک خبریں اور پروپیگینڈا انہی کاپی پیسٹ اور اندھے یوزرز کی وجہ سے پھیل رہا ہے اور اسی وجہ سے سوشل میڈیا کی خبروں پر لوگوں کا اعتبار ختم ہوتا جا رہا۔ لہذا سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں اور ذمہ داری کے ساتھ پوسٹ کاپی یا شیئر کریں۔

دوسرا مقصد یہ ہے کہ جس بچے کو نگران صوبائی وزیر بنایا گیا۔ آپ اسے کسی کا بیٹا بنانے کے بجائے اس پر سوال اٹھائیں کہ 21، 22 سال کا لڑکا وزیر کیسے بنا؟ وہ کون سی قابلیت ہے جو اس بچے کو نگران وزیر بنا سکے؟ نگران وزیر بنتا کیسے ہے؟ اس بچے کے کن خصوصیات کو دیکھ کر نگران وزیر بنانے کے قابل سمجھا گیا۔ بچے میں وہ کون سے لیڈنگ کوالٹیز ہیں جو اپنے عمر سے زیادہ تجربہ رکھنے والے 22 گریڈ سرکاری ملازمین کو ان کے انڈر کیے گئے؟ فیکٹری میں تیار کردہ لوگوں کو لیڈر بنا کر پیش کرنے کا کاروبار کس کا ہے؟ آخری اور سب سے اہم سوال کہ اس ملک میں فیکٹری کے تیار کردہ لیڈر کی طرح ایک غریب کو نگران حکومت کا حصہ بنانے کا موقع کیوں میسر نہیں اور کب میسر ہو گا؟

اگر ہم سوشل میڈیا پر پروپیگینڈہ پوسٹوں کے بجائے سوال اٹھائیں اور ریاست سے کو پیغام دیں کہ نگران حکومت پر انور الحق کاکڑ جیسے وفادار اور جمال رئیسانی جیسے چھوٹے بچے کی طرح ہمارا بھی ملک کے عہدوں پر اتنا ہی حق بنتا ہے اور یہ حق حاصل کرنے کے لئے ہم اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS