امڈتی انارکی۔ افواج پاکستان کی ذمہ داری
جب راجہ بھگل رام کو پتہ چلا کہ سکندر یونانی دریائے جہلم کے کنارے واقع راجہ پورس کی راجدھانی پر چڑھ آیا ہے اور اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر اسے لے لے گا۔ اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ، حواس باختہ ہو کر اہل خانہ اور عمائدین کو ساتھ لے کر راتوں رات توی اور چناب کے سنگم سے دریا پار کیا اور سیالکوٹ کے راجہ کے ہاں پناہ گزین ہو گیا۔ صبح جب پرجا بیدار ہوئی تو نہ حاکم تھا نا حکام۔ اس کی راجدھانی دریائے چناب کے مغربی کنارے کی سطح مرتفع پر واقع تھی جو آج کل جلال پورجٹاں کی ذیل ہے۔ سکندر نے آگے بڑھنے کی بجائے واپسی کی راہ لی اور بھگل رام مع خاندان و عمائدین حکومت واپس اپنی راجدھانی کو آ گیا۔ 24 سو برس بعد بھی بھگل رام پنجابی محاورے میں آج تک زندہ ہے۔ بھگل صدیوں کثرت مزاولت کی زد پر رہنے کے باعث ”پگل“ کی لفظی صورت اختیار کر گیا ہے۔ آج بھی اگرک وئی حواس باختگی کا شکار ہوتا ہے تو ہم اس سے سوال کرتے ہیں ”پگل کیوں ہو گیا ایں“۔
سپیڈ والے چھوٹے میاں مع ڈار اینڈ کمپنی پگل ہو کر ملک سے باہر جا پناہ گزین ہوئے ہیں اور بڑے میاں (المعروف پلیٹ لٹس) کے ساتھ سر جوڑ کر اپنی پھیلائی تباہی کے اثرات زائل ہونے تک وہیں انتظار کھینچیں گے اور ملک و قوم کے لوٹے خزانے پر بدنی آرام و سکون پائیں گے۔ قوم جس کے جینے کی راہیں یہ لوگ مسدود کر کے گئے ہیں، کی بددعائیں ان کا پیچھا کرتی رہیں گی۔ انہیں ذہنی اور روحانی سکون کسی مقام اور قیمت پر میسر نہیں آئے گا۔ فطرت ایک حد تک کسی کی لغزشوں، چالاکیوں اور ظلم و تعدی سے اغماض کرتی ہے لیکن جب کوئی ’ات‘ اٹھا لے تو پنجابی محاورے کے مصداق ’ات خدا دا ویر‘ بن جاتی ہے۔ فطرت کی تمام قوتیں پھر افراد اور خاندانوں کے خلاف حرکت میں آ جاتی ہیں۔
آئیے تلبیس لفظی اور اشارے کنائے کا دفتر لپیٹ کر سیدھے اصول بیانیہ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ، مقتدرہ، طاقتور حلقے اور خلائی مخلوق وغیرہ جیسے ضمیری و اشاراتی صیغے استعمال میں لانے کی بجائے سیدھا لفظ ’فوج‘ کہنا اور لکھنا سیکھیں۔ میجر عامر ایسی عجیب و غریب اور لطیف و شریف شخصیت ہیں کہ ان کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اس پر آسمانوں سے برستے کرم کا احساس ہوتا ہے۔ صحافت ہو کہ سیاست فوج ہو یا سول بیورو کریسی، زاہد ہو یا مجھ جیسا زندیق، ہر کوئی اس گھر کے مکین کی طرف کھچا آتا ہے۔ چونکہ افغانستان اب تک کسی نہ کسی حوالے سے ہمارے کرتا دھرتا اداروں کے نزدیک ’اسٹرٹیجک ڈیپتھ‘ کا موضوع چلا آ رہا ہے، میجر عامر دسمبر 1979 سے (جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا) افغان مجاہدین کی جیت اور سوویت یونین کی شکست اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل کا اہم کردار رہے ہیں۔ چونکہ طالبان کی مختلف اقسام آج بھی پاکستان کے لئے اہم مسئلہ اور سوال ہیں اور میجر عامر ان کی اولین کاشت کا پرجوش حصہ رہے ہیں لہٰذا جو بھی عسکری قیادت سنبھالتا ہے اور جو ڈی جی آئی ایس آئی کے حساس عہدے پر متمکن ہوتا ہے میجر عامر سے علم و ہدایات ضرور لیتا ہے۔ ایک سچے اور پرجوش پاکستانی کی حیثیت سے وہ میرے آئیڈیل ہیں۔ ان کی یہی حقیقت ہر حلقۂ زندگی سے متعلقہ افراد میں مسلمہ ہے۔ وہ میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں۔ اطلاع کے مطابق کہانی یوں ہے کہ 9 مئی کو پیش آنے والے واقعات سے قبل فوج کی اعلیٰ قیادت میں عمران خان کو سازش کے ذریعے نکالے جانے اور اقتدار پر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو مسلط کرنے کے معاملے پر اختلاف خوفناک واقعات کو جنم دینے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ 9 مئی کو بالخصوص جیپوں میں بیٹھے فوج کے مسلح جوانوں پر عوام کے پتھراؤ اور لاٹھی سوٹے کے استعمال اور ملک و قوم کی خاطر جان دے کر شہادت کے اصلی رتبہ پر فائز ہونے والوں کی یادگاروں کی توڑ پھوڑ اور بے حرمتی کے واقعات نے اختلاف کا شکار ہوتی اعلیٰ فوجی قیادت کو متحد کر دیا۔ داخلی تطہیر کے بعد فوج کی اعلیٰ قیادت نے پھر سے ملک کی سیاست و معیشت اور سالمیت کے تقاضوں کا سائنسی اور معروضی جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عوام اور عسکری ادارے کے درمیان دوری اور شکوہ شکایت کی وجہ ان پر شہباز شریف، فضل الرحمن اور آصف زرداری جیسے کرپٹ قرار پا چکے لوگوں کو مسلط کیا جانا ہے لہٰذا ان سے فوج نے چھتری ہٹا کر بند کر لی ہے۔ میں کیا کہوں۔ ان حالات میں فیصلہ سازوں کو خود سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کیا جائے کہ جس سے حالات کا دھارا تاریک غار سے نکال کر روشنی کی راہ پر لایا جائے۔ لہٰذا ابھی مزید سیاسی، سماجی، معاشی اور امن عامہ کی بربادی کے نامے لکھے دکھائی دے رہے ہیں۔ بھگل رام تو دم دبا کر فرار ہونے کے بعد کھسیانی بلی کی طرح واپس آ گیا تھا لیکن شریفین کی واپسی کے دروازے آسمانوں سے بند ہوئے لگ رہے ہیں۔ بھگل رام کی واپسی کی وجہ خوف کی تیز و تند آندھی سکندر یونانی کے واپس چلے جانے میں پنہاں ہے لیکن جہاں تک شریف برادران کا تعلق ہے وہ مستقبل قریب میں واپس آتے دکھائی نہیں دیتے کیونکہ جو 19 ماہ میں گل کھلا گئے ہیں اس پر سیخ پا کروڑوں عوام ان کے خلاف میمنہ و میسرہ سیدھا کیے ان کے انتظار میں چوکس و چوکنا ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو، بی بی بے نظیر شہید، میر مرتضیٰ بھٹو، شاہنواز بھٹو، عثمان غنی، ادریس طوطی، ایاز سومرو، ادریس بیگ، یعقوب چینا، جاوید اقبال معظم، یوسف خٹک اور مجھ جیسے ہزاروں جان پر کھیلنے والوں کی پیپلز پارٹی کو مار کر تابوت میں بند کرنے اور میخیں ٹھونک کر خود انا للہ و انا علیہ راجعون پڑھنے والے آصف زرداری (پی پی پی پر بھاری) نے پنجاب میں پارٹی کو چار ہندسوں تک محدود کر کے رکھ دینے کا معرکہ سر کیا ہے۔ پنجاب پارلیمانی سیاست کے حوالے سے آدھا پاکستان ہے۔ سندھ کے علاوہ باقی صوبوں اور ملحقات میں بھی صورت ایسی ہی ہے۔ لہٰذا فیصلہ سازوں نے فی الحال بلاول کارڈ کلی طور پر مسترد کر دیا ہے۔
فرانسیسی صدر ڈیگال مرحوم کو اس کے رفقائے کار نے ژاں پال سارتر کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالنے کا مشورہ دیا تو اس نے کہا ’سارتر فرانس ہے‘ یعنی میں فرانس کو کیسے قید کر سکتا ہوں۔ اس وقت عمران پاکستان ہے۔ اسے قید کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کو زیادہ عرصہ تک قید رکھنے سے ڈالر روپے کے سر چڑھتے چڑھتے عنقریب 500 کا ہونے کو ہے۔ سیاسی معاشیات کے طالبعلم کی حیثیت سے میں مسٹر ڈار کے پاکستان آ کر وزارت خزانہ پر بیٹھنے کے روز سے یہ دہائی دیتا چلا آ رہا ہوں۔ جائیے، انٹر نیٹ کھولیے، سکرین پر انگلی چلاتے چلے جائیے۔ ماسوا سرخ سطور کے آپ کو کچھ نظر نہ آوے گا۔ سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی ہے۔ مہنگائی کے جناتی لشکر بستیوں میں حیرانی اور ویرانی کے سامان کر رہے ہیں۔ پٹرول اور مسافر بسوں کا سفر عام آدمی کے امکان کی حدود سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ دال، سبزی، مسالہ جات اور خوردنی تیل 70 فیصد عوام کا منہ چڑا اور پارہ چڑھا رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں نے اچھے بھلوں کے ہوش اڑا کر رکھ دیے ہیں۔ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی روز مرہ بنیادوں پر قیمتیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ہمارے فیصلہ سازوں اور کارپردازوں کی آئی ایم ایف کے نزدیک وہی حیثیت ہے جو شیر کے بھوکے خاندان کے ہاتھ چڑھے بیچارے ہرن کی ہوتی ہے۔ بازار میں قیمتوں پر نہ نظر ہے نہ کنٹرول حالانکہ قومی خزانے سے اس مد میں تنخواہیں وصول کرنے والوں کی فوج ظفر موج غائب رہ کر پل رہی ہے۔ عوام کے اندر ریاست کے وجود اور موجود ہونے کا یقین عدم یقین کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ ونسٹن چرچل سے سوال کیا گیا کہ سیاست دان کی تعریف کیا ہے، جواب آیا، ’جو موجودہ صورت حال کی بنیاد پر مستقبل کی پیش گوئی کر سکے اور اگر ویسا نہ ہو تو بتا سکے کہ ایسا کیوں نہیں ہوا‘ ۔ خار زار سیاست کا نصف صدی سے راہرو ہونے کی وجہ سے میں مستقبل کا نقشہ پیش کر سکتا ہوں۔ چھینا جھپٹی مار دھاڑ، ڈنڈا سوٹا اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس، قانون بے بس، نافذ کنندگان غائب۔ سرکاری دفاتر عوامی حملوں کی زد پر اور سات کروڑ بپھرے اور شعلہ زن انڈر تھرٹی سڑکوں، چوکوں، چوراہوں پر قابض سب سے خوفناک پہلو فوجی جوانوں پولیس اہلکاروں دیگر سکیورٹی اداروں کے تنخواہ پر گزارا کرنے والے ملازمین کے اہل خانہ کی سڑکوں پر احتجاج کرتے جتھوں میں شمولیت اور معاشرے میں آخری درجے کی انارکی۔
محررہ بالا خوفناک منظر کو روکا اور بدلا جا سکتا ہے مگر اختیار نہ عدالت کے پاس ہے نہ سیاستدانوں اور نہ ہی موجودہ عجیب و غریب حکومت یا کسی اور شناخت کے پاس۔ یہ اختیار صرف اور صرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کے ہم خیال جنرلز کے پاس ہے کہ وہ ملک کی طرف بڑھتی بربادی کے سامنے بند باندھیں۔ گھونٹ ذرا کڑوا ہے مگر حلق سے نیچے اتارے بغیر شفا یابی ممکن نہیں۔
عمران خان سے غلطیاں سر زد ہوئی ہیں، اس امر واقعہ سے اختلاف کرنے والوں کا ذہنی معائنہ حق بنتا ہے۔ معاملات 9 مئی کے واقعات تک نہیں جانے چاہئیں تھے، ہر محب وطن کے یہ دل کی آواز ہے۔ اگر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں فوج پشاور اسکول سانحہ کے ماسٹر مائنڈ کے پہنچائے زخم بھول سکتی ہے تو عمران خان اور پی ٹی آئی کے ورکرز کو بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں راقم الحروف از خود ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ میں اس تین رکنی ٹیم کا سربراہ تھا جسے سام 6 میزائل سے جنرل ضیا الحق کا طیارہ مار گرانے کا ذمہ سونپا گیا تھا۔ تینوں میں سے اکیلا میں پکڑا گیا اور سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ اگر مجھے قومی دھارے میں راہ دینے کی بجائے پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہوتا تو آج میری 37 ویں برسی ہوتی لیکن آج بیٹھا اپنے ملک اور اس میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کی بہتری کے لیے قلم سے خدمات انجام دے رہا ہوں۔
یہ سعد ہے یا نحس، یہ ٹھیک ہے یا غلط مگر یہ بدیہی حقیقت کہ پاکستانی عوام کی غالب ترین اکثریت عمران خان کو اپنا لیڈر اور محبوب راہنما مانتی ہے۔ اسے باہر رکھ کر کوئی بھی ریاستی بندوبست جائز نہیں قرار پائے گا۔ زندگی کے ہر شعبہ میں تیزی سے پھیلتی بربادی روکنے کے لیے از حد ضروری ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں جتنی آئین شکنی ہو چکی ہے، اس پر بس کی جائے۔ بلا تاخیر منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کی پرامن فضا قائم کرنے کا جلد فیصلہ لیا جائے۔ زرداری، شریف فیملی، فضل الرحمن، عمران خان اور دیگر جماعتوں کو عوام کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ جسے عوام منتخب کریں، اسے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کا بلا قدغن موقع فراہم کیا جائے۔ یہ راستہ اختیار کرنے میں جتنی تاخیر ہو گی، نقصان اتنا ہی وسیع تر اور گہرا ہوتا چلا جائے گا۔

