بلاول بھٹو زرداری کیوں ضروری ؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کم عمری میں جو کامیابیاں سمیٹی ان کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے جیسا کہ پاکستانی میڈیا کرتا رہا اور کر رہا ہے تو بھی اس بات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک تاریخی کارنامہ سندھ میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کا ہے۔ جب تمام صوبوں نے سڑکیں بنا کر ان میں سے اربوں روپے کے کمیشن کھائے اور پڑھی لکھی کرپشن کی وہاں دوسری طرف سندھ میں صحت کی سہولیات کو ترجیح دیتے ہوئے وہاں چھوٹے سے چھوٹے شہروں میں بھی لاکھوں روپے سے ہونے والے جدید علاج بالکل مفت ہو رہے ہیں۔
جس کی ایک سادہ سی مثال گمبٹ ہسپتال ہے۔ میں فیصل آباد سے جب سندھ کی طرف اپنے کزن کو کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ کے لئے چیک کروانے کے لئے روانہ ہوا تو میں اس لئے پر سکون تھا کیونکہ میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ میرا سیاسی قبلہ بالکل درست ہے اور سیاست کے میدان میں ہم اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تیسری نسل بلاول بھٹو کی سرپرستی میں ملک و قوم کی بہتری کے لئے کی جانے والی جدوجہد میں بالکل ٹھیک سمت ہیں۔ لیکن دوسری طرف میرے ساتھ جانے والوں کے دماغ میں درجنوں سوالات اٹھ رہے تھے کہ 9 یا دس گھنٹے کا سفر کر جا رہے ہیں اگر وہاں ایسا کچھ نہ ہوا جیسا ہمیں بتایا گیا تو؟ اگر وہاں ہمیں چیک ہی نہ کیا گیا تو کیا ہو گا؟ اگر وہاں کسی نے سفارش کی ڈیمانڈ کر دی تو؟ یہ سوالات ساتھ والوں کے دماغ میں اس لئے پیدا ہو رہے تھے کیونکہ پاکستان کے میڈیا نے ہمیشہ سندھ کے حالات ایسے بتائے اور دکھائے جیسے سندھ بہت زیادہ پستی شکار ہے کیونکہ آج تک پاکستان کے میڈیا نے سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں عوام کو آگاہی نہیں دی کیونکہ سندھ ان کو اپنی مشہوری کے لئے حکومت و عوام کے خزانے سے لاکھوں کا فنڈ جاری نہیں کرتا۔
مختصر بتاتا چلوں کہ جیسے ہی سکھر موٹر وے سے اتر کر سندھ دھرتی پر پہنچے تو سب سے پہلے ہمارا استقبال پاکستان پیپلز پارٹی کے پرچم نے کیا جو صبح کی پہلی کرن میں لہراتا دکھائی دیا۔ اس پرچم کو دیکھ کر سارے سفر کی تھکاوٹ دور ہو گئی اور جیسے جیسے ہم گمبٹ کی طرف بڑھتے گئے میں پر سکون ہوتا گیا۔ صبح پونے سات کے قریب جب ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ ایک چھوٹے سے علاقے میں کافی بڑا ہسپتال بنانا سندھ حکومت کا کارنامہ تھا۔
ہسپتال میں لوگوں کا رش تھا وہ ایک لائن میں بیٹھے ٹوکن لینے کا انتظار کر رہے تھے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ 9 بجے ڈاکٹر بیٹھتے ہیں اور سات بجے کے بعد وہاں پر ٹوکن دیا جائے گا۔ سیکورٹی پر موجود لوگوں سے پوچھا تو پتہ لگا یہاں سفارش کا کوئی چکر نہیں ہے میرٹ پر ہر کسی کا علاج ہوتا ہے۔ خیر رش دیکھ رہا تھا اتنے میں ٹوکن دینے والا آدمی آیا اس نے لائن میں کھڑے سب لوگوں کو ٹوکن دیا اور چلا گیا۔ صبح 9 بجے ڈاکٹر کا وقت شروع ہوتا ہے اس حساب سے میں کوشش کی کہ رش زیادہ ہے تو دور سے آنے کی وجہ سے اگر وقت جلدی مل جائے تاکہ پریشانی میں کمی ہو۔ خیر پور سے تعلق رکھنے والے شفیق بھائی سے مسلسل رابطہ رکھنے کا یہ فائدہ ہوا کہ انہوں نے وہاں سیکورٹی پر موجود اہلکار سے بات کر کہ میرا مختصر تعارف کروایا اور جتنی زیادہ مدد یا آسانی ہمارے لئے پیدا کر سکتا ہے کرنے کی ریکویسٹ کی۔
خیر مختصر یہ کہ ڈاکٹر سے جب ملاقات کا وقت آیا تو ڈاکٹر وہاب ڈوگر نے نہایت اچھے طریقے سے مریض کا چیک اپ کر کہ اس کو ٹرانسپلانٹ کروانے کا فیصلہ دیا۔ مزید یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے میں ہر طرح سے مریض کے لئے آسانی پیدا کریں گے۔ ڈاکٹر وہاب ڈوگر انڈیا سے ریسرچ مکمل کرنے کے بعد شفاء انٹرنیشنل جیسے ہسپتال میں بھی ڈیوٹی دیتے رہے ہیں اس وجہ سے ایک سوال جو مائنڈ میں آیا کہ شفاء انٹرنیشنل اسلام آباد جیسے ہسپتال کو چھوڑ کر سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر کے گمبٹ ہسپتال کو ہی کیوں ترجیح دی جس پر ان کے جواب نے لاجواب کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو باہر لائنوں میں غریب لوگ کھڑے ہیں کیا وہ اچھے اور معیاری علاج کے حق دار نہیں؟ ان کے اس جواب نے مکمل خاموش کر دیا۔ انہوں نے مزید سندھ حکومت کی اس کاوش کو سراہتے ہوتے بتایا کہ پنجاب میں جو علاج 90 لاکھ دے کر لوگ کرواتے ہیں وہ علاج سندھ کے شہر گمبٹ میں بالکل فری ہوتا ہے۔ جبکہ ٹرانسپلانٹ کی ایوریج کے حساب سے بھی سندھ 50 % سے زیادہ جبکہ پنجاب تقریباً 25 % کے قریب ہے۔
ڈاکٹر سے ملاقات کرتے وقت آفس بوائے ایک پرچی لے کر آیا جس پر کسی ایڈیشنل سیکٹری کی طرف سے مریض کو چیک کرنے کا حکم لکھا ہوا تھا جس پر ڈاکٹر نے واضح کہا کہ لائن میں لگے مریضوں کے بعد ہی ممکن ہے کیونکہ یہاں ہر دوسرا بندہ ایڈیشنل سیکٹری بنا ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے بعد اس ہسپتال کے وارڈ کی طرف رخ کیا جہاں پر مریض ایڈمٹ تھے یہ جان کر بے حد فخر ہوا کہ علاج کروانے کے لئے آنے والے تاثرات اس قدر تسلی بخش تھے مریضوں اور ساتھ آئے لوگوں کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان سے یہاں لوگ آ کر علاج کروا رہے ہیں جو بالکل فری ہے۔
ایک مریض پرپانچ پانچ ڈاکٹر ڈیوٹی دیتے دکھائی دیے۔ پورے پاکستان سے ہر نسل ہر فرقہ کے لوگوں کو وہاں علاج کرواتے دیکھا۔ بیشک پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ کارنامہ سندھ حکومت کی کارگردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کو میڈیا نے بھی اگنور کیا جبکہ میڈیا کو یہ سب دکھانے کی اس لیے ضرورت ہے کہ سندھ سے باہر رہنے والے مریض بھی اس کی جدید سہولیات جان کر یہاں سے صحت کا کامیاب علاج کروانے کا رخ کریں اور ان سب کا سہرا بیشک بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے جن کا اولین مشن عوام کو صحت کی اچھی سہولیات دینا ہے۔ پاکستان کی عوام کو چاہیے کہ پاکستان کو صحت کے معاملے میں جدید بنانے کے لئے بلاول بھٹو کا ساتھ دیں۔ اگر کسی دوست کو کسی بات پر اعتراض ہو تو میں اس کو اپنے ذاتی اخراجات پر گمبٹ کا دورہ کروانے کی دعوت دیتا ہوں۔
جئے بلاول بھٹو بینظیر

