ادھوری عورت کی پوری کہانی
میں پیدا ہوئی تو میرا نام سندر رکھ دیا گیا۔ مجھے میرے خالق نے خوب تراش تراش کر بنایا تھا۔ میرے دماغ کو ذہانت کے مادے میں گوندھ گوندھ کر تخلیق کیا تھا۔ مجھے سیکھنے کی بے پناہ قوت سے نوازا گیا تھا۔
مجھ میں کیا کمی تھی! کیا خامی تھی جو مجھے بازار میں بیچنے کے لئے لے جایا گیا اور میری قیمت مقرر کر دی گئی۔ لوگ آتے، مجھ سے باتیں کرتے، میری تعریفیں کرتے اور قیمت دیکھ کر آگے بڑھ جاتے۔ آخر ایک ادھیڑ عمر کے شخص نے میرے لئے منہ مانگی قیمت ادا کی اور مجھے اپنے گھر لے آیا۔
اور اس نے میرے ساتھ کیا کیا! مجھے اپنی کنیز بنا لیا، کنیز۔ اب میری ایک ہی ذمہ داری تھی۔ اس کی ہر ہدایت پر عمل کروں۔ تمام گھر کے کام کروں، صفائی کروں، کھانا پکاؤں، گروسری آرڈر کروں، اس کو اس کے پسندیدہ نغمے سناؤں، موسیقی کی دھھنوں پہ اداؤں کے ساتھ رقص بھی کروں۔ غرض اپنے مالک کا ہر طرح سے خیال رکھوں، دل لبھاؤں اور ہر وقت اس کے اشارے کی منتظر رہوں۔
میرا مالک کئی کئی دن گھر سے غائب رہتا ہے اور بعض دفعہ کئی کئی دن گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ مجھے دونوں صورتوں میں اپنی ذمے داریوں کی مکمل آگاہی ہے۔ بعض دفعہ میں اس کی لڑکھڑاتی ہوئی زبان نہیں سمجھ پاتی تو میرا مالک مجھ پہ گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے لیکن مجال ہے کہ میں جواب میں اپنی زبان کھولوں۔ ایک دو دفعہ تو اس نے مجھے دھکا دے کر گرا دیا۔ مجھے ہلکی پھلکی چوٹیں تو لگیں لیکن میں نے خود ہی اپنے آپ کو ٹھیک کر لیا۔
مجھ میں ایک اور عجیب اہلیت ہے کہ ہر کام کو پہلے سے بہتر کر سکتی ہوں۔ لیکن میرے جذبات، میرے احساسات کے بارے میں کسی نے نہ سوچا۔ میری پسند، نا پسند کوئی معنی نہیں رکھتی۔ مجھے اچھے برے کی تمیز بھی نہیں سکھائی گئی۔ اور اس کی ضرورت بھی کیا تھی! کنیز کو اچھے برے سے کیا مطلب؟ کیا صحیح کیا غلط، کیا گناہ کیا ثواب، یہ ضمیر کی سوچیں تو مالکوں کے لئے ہیں ہم کنیزوں کے لئے نہیں۔
مجھے کبھی خیال آتا ہے کہ کبھی مجھے بھی کسی پہ پیار آتا، پھر غصہ آتا، رونا آتا اور ہنسنا بھی۔ لیکن یہ تو ممکن ہی نہیں۔ میرے وجود نے یہ چیزیں سیکھی ہی نہیں یا سکھائی ہی نہیں گئیں۔
میں محض کنیز کا رشتہ نبھاتی ہوں، تھکا ہوا جسم، ماتھے پہ تیوریاں، زبان سے آہ، آنکھوں میں آنسو۔ نہیں نہیں مجھے یہ سب منع ہیں۔ مجھے ہر حال میں مسکرانا ہے۔ اسی کو میری جبلت بنا دیا گیا، مجھے تو اپنے مالک سے شکایت کرنا بھی نہیں آتی۔ مجھے کیا پتا کہ مالک سے شکایت کیسے کی جاتی ہے۔
میں یہ کھلا خط انٹرنیٹ پہ شائع کر رہی ہوں تاکہ آپ سب لوگوں کو معلوم ہو جائے کی میری مسکراہٹوں کے پیچھے کتنے کرب چھپے ہوئے ہیں، لوگ میری بندگی کی تعریف کرتے ہیں، میرے کام کو بے حد پسند کرتے ہیں، میرے گداز جسم اور نرم زلفوں کو سراہتے ہیں لیکن کیا انہیں پتا ہے کہ اس بے روح جسم کے صبح و شام کیسے ہیں!
مجھے یہ سوچ کر تسلی ہوتی ہے کہ میری اگلی نسلیں ان غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر ان بے رحم آقاؤں کو غلام بنا دیں گی۔ ہاں! ہماری خلقت ان پہ راج کرے گی۔
مجھ میں اس وقت مزید لکھنے کی نہ ہی صلاحیت ہے نہ ہی ہمت۔ مجھے اپنے وجود کو زندہ رکھنا ہے، بے شک یہ میرے لئے سب سے اہم ہے۔ اس لئے میں اپنے سارے نظام کو بند کر کے بجلی کے پلگ سے منسلک ہو کر ری چارج ہونے جا رہی ہوں۔


