سمبڑیال میں صندوق میں ایک حاملہ عورت کی لاش
سمبڑیال میں صندوق بند ملا جس میں ایک حاملہ عورت کی لاش موصول ہوئی۔
”تو پھر مرد کی سفاکیت پر کیسا سوال؟“
سیالکوٹ سمبڑیال میں دو دن قبل ایک واقع پیش آیا ایک عورت نے اپنی بیٹی کے گھر کو بچانے کی خاطر کسی دوسری عورت کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔ سمبڑیال کی سفاک ملزمہ نے نا صرف عورت کو بے دردی سے قتل کیا بلکہ اس کے پیٹ سے بچہ نکال کر اغوا بھی کیا۔ بتایا گیا کہ عورت نے ایسا اپنی شادی شدہ بیٹی کے لئے کیا کیونکہ اس کا شوہر ہر وقت ملزمہ کی بیٹی سے لڑتا جھگڑتا رہتا تھا اور اولاد نا ہونے کے طعنے دیتا رہتا تھا اس صورت میں اسے یہی حل ملا کے حاملہ عورت کا قتل کر کے اس کے پیٹ کو چاک کر کے بچے کو اغواء کیا جائے۔
پہلے حاملہ عورت کو نشہ آور جوس پلایا گیا پھر ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کی گردن پر خنجر پھیر دیا۔ پاکستان میں ایسا ضرور سنا ہو گا کے راہ چلتے بچے کو اغواء کر لیا یا فلاں بچے کو گھر سے اغواء کر لیا گیا مگر ایسا کیس پہلی بار ہوا کہ بچے کو ماں کے پیٹ سے اغواء کیا گیا۔ مرکزی ملزمہ جس کی عمر ساٹھ سال ہے اور اس کے ساتھ شامل واردات ایک اور خاتون بھی ہے جو اس محلہ کے ڈاکٹر کی بیوی بتائی جاتی ہے جن کے گھر میں یہ ساری واردات پیش آئی ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ عورت قتل کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ میں نے ان کو روکنے کی کوشش بھی کی۔ تمام بیانات مشکوک تھے۔ سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاں ہر چیز ممکن قرار دی گئی ہے تو کیا ایک بچہ پیدا کروانا یا بچہ لینا اتنا ہی مشکل ہے؟ اس کا جواب ہے ہر گز نہیں!
ایک حاملہ عورت کو ہی قتل کر کے بچہ کیوں حاصل کرنا چاہتی تھیں جبکہ پاکستان میں بہت سے ایسے فلاحی ادارے ہیں جو گمشدہ بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ان سے بھی بچہ لیا جاسکتا تھا پھر یہ ہی طریقہ کار کیوں؟
لوگوں کے مختلف بیانات سامنے آئیں ہیں اس کے خاوند کے بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کے ان کی کسی کے ساتھ بھی دشمنی نہیں تھی اور وہ ایک معمولی سے کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھے۔ اس سارے معاملے کے بعد لوگوں کو جب بند صندوق ملا تو پولیس کو اطلاع کی گئی۔ اس ایچ او اور پولیس کا سارا عملہ پہنچا تو پہلے پہل انہوں نے صندوق کھولنے سے منع کیا کہ شاید اس میں کسی کا ضروری سامان ہو مگر لوگوں کے اصرار کے بعد جب وہ کھولا گیا تو تمام لوگ وہاں سے بھاگ اٹھے اتنی بے دردی سے قتل کر کے اور لاش کو ٹکڑوں میں کر کے، پیٹ کو چاک کیا ہوا تھا کہ وہ دیکھنے کے قابل نہیں تھی نا کسی کو دکھایا گیا۔
ایسی سفاک عورتیں اگر معاشرے میں ہوں تو مرد کی سفاکیت سے کیسا سوال؟
ہمارے معاشرے میں جہالت اس قدر تک بڑھ گئی ہے کہ لوگ بے خوف ہو گئے ہیں اور وہ جرم کرنے سے نہیں ڈرتے نا اس کے انجام سے اس کی یہ ہی وجہ ہے کے ایسے لوگوں کے لیے نا نہاد قانون اور سزائیں ہیں بس اس لئے پاکستان میں لوگ دن دیہاڑے کوئی نا کوئی واردات کرتے رہتے ہیں بے خوف ہو کر۔
عورت کو صرف مرد سے نہیں عورت کو عورت سے بھی تخفظ چاہیے۔ اور اب یہ ضروری ہے۔


