لوک ورثہ
بہت عرصے بعد لوک ورثہ جانے کا اتفاق ہوا تو یاسیت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو یادوں کے دیپ جلا کر روشن کرنا پڑا۔
شکر پڑیاں کے وسط میں واقع لوک ورثہ عوام الناس کے لیے بنایا گیا تھا۔ جس کے لیے ملک کے انتہائی ذہین اور قابل شخص عکسی مفتی کا انتخاب کیا گیا۔ جگہ کا رومانس اپنی جگہ عمارت کی خوبصورتی کا بھی جواب نہیں یہاں کا میوزیم جس میں نہ صرف یہ کہ پاکستان کا فوک ورثہ محفوظ ہے بلکہ یہاں کلاسیکل رومینٹک کرداروں کے لیے بھی گوشے بنائے گئے ہیں۔ جو محبت کی دھیمی دھیمی روشنی میں شدت پسندی کے رجحان کو رد کر کے محبت کے رس بھرے ذائقے سے آشنا کرواتے ہیں۔
یقین کیجیئے اس میوزیم کو جتنی دفعہ دیکھا جائے تشنگی کا احساس رہتا ہے۔
یہاں ایک لائبریری بھی ہے جہاں کلچر اور فنون لطیفہ کے حوالے سے بے شمار قیمتی کتابیں محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پاکستان بھر کی ہاتھ سے بنی مصنوعات کی چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی سجی ہوئی ہیں۔ گو ڈیزائنرز ان خالص اور ہاتھ کی بنی ہوئی اشیاء پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ مگر پھر بھی ہمارے جیسے کچھ سر پھرے ایسے ہیں جو ایسی بیش بہا چیزوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
جب ادارے اہل لوگوں کے حوالے کیے جائیں تو اسی طرح کے شاہکار وجود میں آتے ہیں۔
شومئی قسمت میں نے عکسی مفتی کا دور نہیں دیکھا۔ صرف فوزیہ سعید کا دور دیکھا ہے۔ جب لوک ورثہ کے درو دیوار ناچتے تھے۔ جب خوشیاں مسکراہٹیں اور سرور دل کھول کر پبلک پر نچھاور ہوتا تھا۔ لوک ورثہ غمزدہ اور پریشان ہال لوگوں کی تھیراپی تھا۔ لوک ورثہ کے درخت جھومتے تھے اور پتے رقص کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لوگوں نے اپنی تہذیب اور تمدن پر فخر کرنا سیکھا۔
اسی زمانے میں فوزیہ سعید نے مجھے اوپن مائیک پروگرام کی کلی طور پر ذمہ داری دی۔ میں نے بھی اسی خلوص، محبت اور بے لوث جذبے کے ساتھ اس پروگرام کے لیے دل و جان سے محنت کی۔ پروگرام دنوں میں ہی مقبول ہو گیا فوزیہ سعید نے بھی مجھ پر اعتماد کیا اور یوں میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس پروگرام کو تقریباً تین سال چلایا۔
اس پروگرام کے لیے ہم جمعہ کو نئے گانے والوں کو پرکھتے تھے اور جو سر میں ہوتے تھے ان کے لیے ہر اتوار کو ایک عوامی پروگرام منعقد کرتے تھے۔ اس پروگرام کو ختم ہوئے بھی تقریباً تین چار سال ہو گئے ہیں۔
کل شاپنگ کے لیے لوک ورثہ گئی تو ہر دکاندار نے نہ صرف یہ کہ پہچانا بلکہ قیمتوں میں رعایت بھی دی۔
میوزیم کے سامنے گیت گانے والے جاوید اور اس کے والد نے سلام کرتے ہوئے کہا آئیے آپ کو میڈم نورجہاں کا کوئی گیت سناتا ہوں۔
دل تو چاہا شاپنگ کو چھوڑ چھاڑ کر اس باپ بیٹے کے پاس بیٹھ کر رات گئے تک گیت سنتی رہوں۔ وقت ٹھہر جائے دن شام میں اور شام رات میں ڈھل جائے اور پھر لوک ورثہ کے درو دیوار سے سرگوشیوں میں باتیں کروں۔ درختوں کی سنسناہٹ سے لطف اندوز ہوں سورج میرے سامنے ڈھلتا ہوا روپوش ہو جائے اور شام کے گہرے سائے مجھے اپنی آغوش میں لے کر میری پہچان گم کر دیں۔
ہوش میں آؤ نعیم فاطمہ ابھی بہت کام باقی ہیں۔ میرے اندر کے ناصح نے ڈانٹا۔
ایک جیولری کی دکان والا تو دیکھ کر نہال ہو گیا۔ کہنے لگا آپ ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔
میں نے کہا وہ کیسے؟
کہا آپ نے لوگوں کو جگایا۔
لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔
آپ نے خوشیاں بانٹیں۔
بہت سے لوگ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں وہ پروگرام بند کیوں ہو گیا۔
ایک شخص اکثر ملتان سے اس پروگرام کے لیے آیا کرتا تھا۔ ہماری دکانوں پر سیل بھی بہت ہونے لگی تھی۔ اس نے دکانوں سے پرے گھاس پر دو کرسیاں رکھتے ہوئے کہا لیجیے بیٹھیے اپنی یادیں تازہ کیجیئے۔ میں واقعی بیٹھ گئی کچھ دیر کے لیے عہد موجود سے کٹ گئی میرے تفکرات بھی بھک سے اڑ گئے۔ موسم برسات میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے میری قدم بوسی کی پتوں نے ہوا کے ساتھ مل کر رقص کیا اور تناور درختوں نے مجھے محبت سے مخمور ہو کر اپنی اور بلایا تو میں نے چپکے سے ان سے پوچھا۔
اوپن مائیک سے نئے گلو کاروں کی گونجتی، مہکتی آوازوں کو تم نے اپنے رگ و ریشوں میں محفوظ تو کیا ہو گا۔
انہوں نے کہا۔
ہاں
محفوظ ہیں سنو گی؟
میں نے اثبات میں سر ہلایا تو انہوں نے پوچھا
یہ تو بتاؤ
یہ ہنستی مسکراتی محفلیں یکا یک اجڑ کیوں گئیں۔
زندگی سے بھرپور قہقہوں کی دنیا کیا ہوئی۔
وہ تفکرات سے گھرے لوگوں کی امید ختم کیوں ہو گئی؟
وہ رقص کرتے نوجوانوں کے کھلتے چہروں کی خوشی کس نے چھین لی۔ خالص سستی تفریح جس نے عوامی مقبولیت کے ریکارڈ توڑے تھے اسے کس کی نظر لگ گئی۔
وہ گویے جن کے گلے راگ الاپتے تھے کہاں گئے۔
انہیں اظہار کے لیے لوک ورثہ جیسے اداروں کی سرپرستی نہ رہی تو وہ کہاں جا کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوں گے ۔
ان کا فن سسک سسک کر اظہار مانگتا ہو گا تو وہ کیا کرتے ہوں گے ۔
میں نے مسکرا کر ان کے مضبوط تنوں کو چھوا اور کہا تم تو راز دان ہو بتاؤ نا!
ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے میرے آگے سر جھکا دیا، درختوں، پتوں اور خود رو گھاس نے لہرا لہرا کر مجھ سے کہا
سب مایا ہے نعیم فاطمہ علوی سب مایا ہے


